پنڈی کہ ایک شہر تھا۔۔۔۔ اپنے میر صاحب جب دہلی سے لکھنو پہنچے تو کسی مشاعرے میں ان کی فقیرانہ وضع کا تمسخر اڑانے والوں نے سوال کیاکہ میاں کہاں کے ہو۔۔ باری آنے پر انہوں نے جو قطعہ پڑھا← مزید پڑھیے
شیخ محمد علی سکندر جگر مرادآبادی کی پیدائش بنارس میں 1890 میں ہوئی تھی۔ جگر کا تعلق ایک علمی و ادبی خاندان سے تھا۔ بزرگوں کا وطن دہلی تھا اور مورث اعلیٰ مولوی محمد سمیع شاہ جہاں کے استاد تھے۔← مزید پڑھیے
پشتو میں شاپنگ۔ پشاور میں ہمارے قیام کا زمانہ 1995 سے لے کر 1998 تک رہا۔ اس دور میں پشاور ایک پرامن شہر ہوا کرتا تھا۔ مال روڈ کے بیچلر آفیسرز کوارٹرز ہمارا مسکن تھے اور ڈیو آرٹلری میس میں← مزید پڑھیے
اس روز اگر میں کیسٹوں کی بوری لینے کمالیہ نہ جاتا ، اور رستے میں بس خراب نہ ہوتی تو”عالیہ” سے میری کبھی ملاقات نہ ہوتی- لیکن اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا کہ آج میں راوی کنارے یہ آوازہ← مزید پڑھیے
ہماری مادری زبان اردو جسے شیریں زبان کہا جاتا ہے لیکن اس میں لچک اور گذرتے حالات کے ساتھ خود کو بدلنے اور نئے رجحانات کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی شاندار صلاحیت بھی موجود ہے۔حالات سے ہم← مزید پڑھیے
دنیا مفت میں طعنے دیتی ہے کہ مسلمانوں نے آج تک ایک سوئی تو ایجاد نہیں کی اورچلے ہیں دنیا پر حکمرانی کے خواب دیکھنے-مگر راقم الحروف نے جب معلوم ، نامعلوم ،معدوم بلکہ مظلوم انسانی تاریخ کےاوراق کنگھالے تو← مزید پڑھیے
اردو ادب میں گنجے۔منٹوکی وجہ سےمشہور ہوئے اورسیاست میں’’شریفوں‘‘کی وجہ سے۔منٹو نےگنجے فرشتے لکھ کرفلمی وغیرفلمی کرداروں کویوں برہنہ کیا گویاوہ میامی میں کسی نیلگوں’’ بیچ‘‘ پرلیٹے سن باتھ لے رہے ہوں۔اُسی ساحل پر جن کے بارے میں سوچ کر← مزید پڑھیے
جمیلہ کو پہلی بار محمود نے باغ جناح میں دیکھا۔ وہ اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ چہل قدمی کررہی تھی۔ سب نے کالے برقعے پہنے تھے۔ مگر نقابیں اُلٹی ہوئی تھیں۔ محمود سوچنے لگا۔ یہ کس قسم کا پردہ ہے← مزید پڑھیے
ہست اور نیست (ایک) پس منظر سانپ کے ڈسنے سے ج�آانند نیلا پڑ گیا، تو بھکشوؤں نے ماتمی چادر سے اس کو ڈھک دیا تھا پھر یکا یک اس ن�آنکھیں کھول دیں اور واپس آ گیا تھا زندہ لوگوں کے← مزید پڑھیے
کوٹھا (کم نہ زیادہ، پورے سو لفظوں کی ناقابل اشاعت کہانی) ۔ ڈوڈو مجھے اپنے ساتھ اُس بازار میں لے گیا۔ ہم سیڑھیاں چڑھ کر کوٹھے پر پہنچے۔ ایک ہال میں کوئی رقاصہ اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی تھی۔← مزید پڑھیے
گارڈنر کلب اور ڈیانا کاٹج مرزا غالب عرصہ ہوا فرما گئے تھےـ ،ایسا بھی کوئی ہے سب اچھا کہیں جسے ۔ کوئی ایسا محبت کرنے والا انسان جس کی محبت رنگ،نسل،ذات پات سے بالاتر ہوکر صرف انسانیت سے ہو،خال خال← مزید پڑھیے
شاعر حافظ محمد نظامانی، ایک تعارف نعیم الدین جمالی سندھ دھرتی ایسی انمول دھرتی ہے جس نے ہر اعتبار سے اپنا نام کمایا ہے، اپنی تاریخ، تہذیب وتمدن اور امن والی دھرتی کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔سندھ نے وقتا← مزید پڑھیے
یونٹ ٹھیک نہیں چل رہی۔ پاس آؤٹ ہونے کے بعد ہر لفٹین کوجنون کی حد تک کچھ نہ کچھ کر دکھانے کا شوق ہوتا ہے۔سال دو سال کے بعد جب یونٹ کی روٹین پوری طرح سے سمجھ آ جاتی ہے← مزید پڑھیے
جس دن آپ کا نتیجہ نکلنا ہوتا ہے، اس سے دو، تین دن قبل آپ خود میں عجیب سی تبدیلی محسوس کرتے ہیں۔ آپ کے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں، دھڑکن تیز ہونا شروع ہو جاتی ہے اور لگتا ہے :← مزید پڑھیے
صفدرامام قادری اٹھارویں صدی کے آخر تک اردو نثر کے مجموعی سرمائے میں چند داستانوں اور مذہبی رسائل کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس کا اہمیت کے ساتھ ذکر کیا جائے۔ فورٹ ولیم کالج نے تراجم اور دوسری← مزید پڑھیے
حاتم دبے پاؤں چلتا ہوا اس فقیر کے پاس آیا اور پھر اچانک سامنے آ کر زور سے”ہاؤ” کی- فقیر کے ہاتھ سے چاندی کا پیالہ ریت پر گر کر چکنا چور ہو گیا- اس نے بمشکل آنکھیں کھولیں اور← مزید پڑھیے
کہتے ہیں زندگی امتحان ہے اور اس امتحان کا سب سے مشکل اور لازمی سوال بیوی ہے۔ بیویاں دو قسم کی ہوتی ہیں ۔ایک وہ جو بہت خوبصورت، نرم مزاج، خوش گفتار، معاملہ فہم، صبر و شکراور پیار کرنیوالیاں اور← مزید پڑھیے
ڈسٹرکٹ کچہری لاہور میں پھیلی بوسیدہ کرسیوں اور پھٹوں میں سے ایک ٹوٹی پھوٹی سی کرسی پر روز ہمارے وکیل بابو آ کر بیٹھتے۔ اپنا ٹائپ رائٹر سیدھا کرتے، کاغذوں کے دستے سے ایک تازہ کاغذ نکال کر اس میں← مزید پڑھیے
قسمت کی خوبی دیکھئے۔ فوج میں یوں تو ہر کام کے لئے مہینوں پہلے سے منصوبہ بندی شروع کر دی جاتی ہے، اہل ترین اور تجربہ کار افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے، ان کو خوب تیاری کروائی جاتی ہے،بار← مزید پڑھیے
شہنشاہ سخن مرزا غالب کے معروف شعر کے ساتھ بات کا آغاز کرتے ہیں۔ کہتے ہیں : ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے گفتگو کسی بھی شخص← مزید پڑھیے