قصہ حاتم طائی جدید۔قسط10

حاتم دبے پاؤں چلتا ہوا اس فقیر کے پاس آیا اور پھر اچانک سامنے آ کر زور سے”ہاؤ” کی- فقیر کے ہاتھ سے چاندی کا پیالہ ریت پر گر کر چکنا چور ہو گیا- اس نے بمشکل آنکھیں کھولیں اور کہا: فقیر کی آخری پونجی برباد کر دی … اس پیالے میں بھنگ تھی !
حاتم نے کہا:بے فکر ہو جا … جب تک اس ملک میں جمہوریت کا کھیت سلامت ہے بھنگ اگتی رہے گی …. مجھے اپنی کہانی سنا … بدلے میں بھنگ کا پورا ٹرک بھجوا دوں گا-
فقیر گویا ہوا: سُن اے حاتم …. !یہاں سے بہت دور ، راوی کنارے” مُلاں پور” نامی ایک قصبہ ہے یہ گاؤں حکومتی غفلت سے ہر سال سیلاب کی نظر ہو جاتا ہے اور حکومتی غفلت سے دوبارہ آباد بھی ہو جاتا ہے- وجہ اس کی یہ ہے کہ یہاں کے لوگ پرلے درجے کے اناڑی اور خطرناک حد تک پٹواری ہیں۔
حاتم نے کہا:اے دِیدہ ور … حکومتی وعدوں اور ساون بھادوں پر اعتبار کر کے بندہ اپنا ہی تکّیہ بھگوتا ہے اور جو سرکاری امداد پہ تکیہ کر لے ، وہ انسان نہیں ، کھوتا ہے !

فقیر نے کہا: ہفت اقلیم کی پادشاھی اس قوم پر قربان جو برسات میں ڈوب جائے اور گرمی میں سوکھ جائے ، پھر بھی زندہ باد کے نعرے لگائے ، خیر کھسماں نوں کھائے …. میرا نام صلاح الدین ہے- ذات کا کمھار ہوں-
بچپن ہی سے لمبے اور بے ڈھنگے قد اور گھنگریالی زلفوں کے سبب”سائیں صلّو” کے نام سے چہاردانگ شہرت پائی- ماں باپ پیدائش سے پہلے ہی دغا دے چکے تھے ، بس دور پار کے ایک چچا تھے جنہوں نے روکھی سوکھی کھلا کر کفالت کا بیڑا غرق کیا-
اوائل عمری سے ہی مجھے پیراکی کا شوق تھا- ڈبکی ایسی لگاتا کہ راوی کی مچھلیاں تک ورطہء حیرت میں ڈوب جاتیں- کنارے سے لوگ چونیاں اٹھنیاں پھینکتے اور میں غوطے مار مار کے انہیں نکالتا رہتا- بڑے بوڑھے خوب داد دیتے اور کہتے”شاوا ڈڈو دیا پُترا” .۔۔ اور یہ فقیر خوشی سے پھولے نہ سماتا- بڑے ہو کر قصد کاروبار کا کیا- کمالیہ سے ٹوبہ جانیوالی لاریوں میں جس جس نے بھی سفر کیا ، سائیں کا سرمہ ضرور خریدا- کمال کا سُرمہ تھا ، ایک”خوراک” لیتے ہی آنکھیں سائیں سائیں کرنے لگتی تھیں- فقیر تو کچھ روز یہ دھندا کر کے واپس گاؤں لوٹ آیا مگر کمالیہ والے ابھی تک آنکھوں کے”ککرے” صاف کرتے ہیں-

گاؤں آکر”لکڑی کا کاروبار”شروع کیا- دن بھر کیکر کی مسکواکیں لئے”چِٹّی مسیت” کے سامنے کھڑا رہتا ، مگر دال کھانے والی قوم نے مسواک کا کیا کرنا تھا ، سو یہ دھندہ بھی چوپٹ ہوا۔کچھ روز مسجد کے سامنے ٹوپیاں ، تسبیحاں بھی سجائیں مگر مسیت میں پڑا”کھجّی ٹوپیوں والا ڈبّہ” کاروبار میں ہمیشہ رکاوٹ بنا رہا-
سال بعد مسجد کے ساتھ والا”اسلامی کیسٹ ھاؤس” خالی ہوا تو میری قسمت نے یاوری کی-

ملاں پور میں 5 مساجد تھیں اور چھٹّی زیر تعمیر – ہر طرف چندے اور بندے اکٹھے کرنے کا رجحان تھا- جمعہ کے دن یہاں کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی- اس کے باوجود ہر مولوی کو شُبہ تھا کہ آوازِ حق ، خلقِ خُدا تک پہنچنے سے پہلے ہی فرقہء باطلہ کا لاؤڈ اسپیکر لے اڑتا ہے-میری مذہبی تعلیم اگرچہ صفر تھی مگر اسلامی کیسٹوں کا کاروبار خوب راس آیا- باتونی شروع سے ہی تھا- کاروباری نزاکتوں کے پیش نظر داڑھی بھی رکھ لی ، انداز بھی خطیبانہ سا ہو گیا اور مجمع لگانے میں لطف آنے لگا-دور سے ہی گاہک کے فرقے کا اندازہ لگانا ، شیلف سے جھاڑ پھونک کر مطلوبہ کیسٹ اُٹھانا اور خطیب کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملانا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا-
جاری ہے ۔
قسط9 کا لنک۔
https://mukaalma.com/article/ZAFARGEE/3957

Avatar
ظفرجی
جب تحریر پڑھ کر آپ کی ایک آنکھ روئے اور دوسری ھنسے تو سمجھ لیں یہ ظفرجی کی تحریر ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *