سادگی بہت سال پہلے ہمارا ایک بیٹ مین بشیر ہوا کرتا تھا جو کہ سادگی میں اپنی مثال آپ تھا۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ہماری یونٹ ایک طویل جنگی مشق کے سلسلے میں کھاریاں کے قریب ایک علاقے← مزید پڑھیے
عظیم ہمالیہ کے حضور: وقت کافی بیت چکا تھا۔درہ بابو سر کی بلندیوں پر گہری اور گاڑھی چاندنی نے سُنہری ملمع کاری کردی تھی۔سُنہری رنگ دُور پاربرفیلی چوٹیوں پہ چڑھ گیاتھا۔ہر شے سُنہری شعاعوں میں نہا رہی تھی۔سارے پربتوں نے← مزید پڑھیے
انتساب: یووجینا گریگوریونا لیوٹیسکایا (۱۹۰۳ سے سی پی ایس یُو ممبر) کے نام۔۔۔ دُوسری جنگِ عظیم ختم ہوئے ایک سال ہوا تھا اور دریائے ڈان کے کنارے موسمِ بہار میں گاڑی لے جانا مشکل ہو گیا تھا کیونکہ مارچ کے← مزید پڑھیے
مین ہٹن کے نواحی قصبے میں یہ ایک بادلوں سے گھری صبح کا آغاز تھا۔گھنے بادل برسنے کو تیار نظر آتے تھے۔۔ مسلسل بجتے الارم نے گہری نیند سوئی ہوئی پاؤلا کو گویا جھنجھوڑ کر اٹھا دیا ۔ اس نے← مزید پڑھیے
اَج تک میرے گھر وِچ چانن اِک وی جھات نہ ماری آن رکی نئیں اِک پل اُوتھے سورج دی اسواری ڈوریاں کندھاں گونگے بوہے چپ راہواں، بند باری جوکاں بن کے خون نچوڑن بے رونق دُکھ میرے اِک میں سو← مزید پڑھیے
۰”ادیب کا عندیہ سوائے تخلیق کرنے کے اور کچھ نہیں ہے!“ ۰تخلیقی قوت کی کارکردگی اور خلق ہوتی ہوئی ’اندر کی آوازیں‘ ڈاکٹر وزیر آغا (مرحوم) سے لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر 1999ء چار دنوں کی بات چیت← مزید پڑھیے
چاندہمسایہ تھا: رات کو تقریباً ڈیڑھ بجے آنکھ کُھلی،کمرے میں خراٹے اور سوئی ہوئی سانسوں کی آوازیں تھیں۔میں نے چادر لپیٹی،دروازہ کھولا، پاؤں میں جوگرز پہنے اور باہر نکل آیا۔سُنہری چاندنی میں سارا پہاڑی منظر نہا رہا تھا۔شما ل← مزید پڑھیے
یہ کہکشائیں سب نجوم ماہتاب چھین لو خدائے تیرگی سے اپنا آفتاب چھین لو یہ گلتی پستکوں کےحرف کھوجنے سےفائدہ؟ ورق ورق جو زندگی ہے وہ کتاب چھین لو قرن قرن جو لکھ چکے ہیں تلخیاں جہان کی کتابِ زندگی ← مزید پڑھیے
پریم وار برٹنی کا نام سنا تھا۔ ان کی نظمیں بھی پڑھی تھیں۔ رومانی، سیاسی، سماجی۔ پُر گو شاعر تھے، لیکن مالیرکوٹلہ کے اتنے قریب ہونے کے باوجود ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ امرت لال عشرتؔ (جو بعد میں← مزید پڑھیے
آؤ بیٹیاں جلا دیں ! کہ شاید پھر انصاف ہو جائے! میں اپنی مریم جلاتا ہوں تم اپنی ماریہ جلا ڈالو! بدن کو خاک کر ڈالو! ناموس بچانی ہے یا انصاف چاہتے ہو؟ لختِ جگر کو بھول نہیں سکتے تو← مزید پڑھیے
جب سے سڑک سامنے کی سڑک بنناشروع ہوئی تھی ۔ گاڑیوں کی آمد و رفت بہت کم رہ گئی تھی۔ رانی چادر پر پڑے اپنے تینوں بچوں کو دیکھ دیکھ کے سوچ رہی تھی ان کمبختوں میں اضافہ ہی نہ← مزید پڑھیے
نجم الحسن جب دیوکارانی کو لے اڑا۔ تو بمبئی ٹاکیز میں افراتفری پھیل گئی۔ فلم کا آغاز ہو چکا تھا۔ چند مناظر کی شوٹنگ پایہ تکمیل کو پہنچ چکی تھی کہ نجم الحسن اپنی ہیروئن کو سلولائڈ کی دنیا سے← مزید پڑھیے
میری شلوار قمیض سے کبھی بنی نہیں ۔ بیگم گوجرانوالہ کی خالص، بٹنی اور قومی لباس کی شیدا۔ مگر ہماری خوش لباسی جینز،شرٹ، سے آگے نہ بڑھی ۔ اور تو اور ناڑا باندھنا بھی نہیں آتا، لہذا ٹراؤزر کے← مزید پڑھیے
“میں کہاں ہوں؟” وہ بولا “تم۔۔دنیا ہائے دنیا میں ہو” آواز آئی- “دنیا ہائے دنیا! …یہ کون سی جگہ ہے؟کیا یہ کوئی خواب ہے؟” “اس کا فیصلہ تو تم پر ہے” آواز گونجی- مجھ پر۔۔کیوں؟ میں یہاں آیا کیسے؟۔ “وہ← مزید پڑھیے
میں پہلے کئی ابواب میں دو سینئر قلمکاروں سے اپنے تعلقات کا ذکر کر چکا ہوں۔ احمد ندیم قاسمی اور ڈاکٹر وزیر آغا دونوں عمر میں اور اپنے ادبی قد کاٹھ میں مجھ سے بڑے تھے۔ صرف بڑے ہی نہیں← مزید پڑھیے
یہ ساحرؔ کی میت اُٹھنے سے پہلے کی بات ہے۔ میں بات جادو کی سنا رہا ہوں اور ذکر ساحرؔ لدھیانوی کا۔ جادواور ساحرؔ کا رشتہ بڑا عجیب تھا۔ جادو، جاوید اختر کا نک نام ہے( لاڈکا نام)مزاج شاعرانہ بھی← مزید پڑھیے
گیٹ ٹو گَیدر گیٹ ٹو گَیدر یعنی میل ملاقات فوجی زندگی کا خاصہ ہے۔ سیاچن کی برف پوش چوٹیاں ہوں، کوئٹہ کے سنگلاخ پہاڑ ہوں، چولستان اور تھر کا صحرا ہو یا پنجاب کے میدانی علاقے، فوجی چاہے کہیں بھی← مزید پڑھیے
ہم نے جیسے ہی دنیا میں آنکھ کھولی، اپنے دائیں بائیں خالاؤں ، نانی اور پھوپھیوں کو پایا۔ جب بھی ہماری آنکھ کھلتی، ہمیں انہی شخصیات میں سے کوئی نہ کوئی اپنے دائیں، بائیں دکھائی دیتی۔گھر میں خالائیں ہمیں یوں← مزید پڑھیے
کہتے ہیں کہ قدیم زمانہ میں بحیرہ عرب کے کنارے غریب مزدوروں کی ایک بستی آباد تھی۔ بستی کے زیادہ تر افراد قریب کے شہر محنت مزدوری کرنے جایا کرتے تھے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ محنت اور گدھوں کا← مزید پڑھیے