خوابیدہ حقیقت۔۔حیدر چاچک

“میں کہاں ہوں؟” وہ بولا
“تم۔۔دنیا ہائے دنیا میں ہو” آواز آئی-

“دنیا ہائے دنیا! …یہ کون سی جگہ ہے؟کیا یہ کوئی خواب ہے؟”

“اس کا فیصلہ تو تم پر ہے” آواز گونجی-
مجھ پر۔۔کیوں؟
میں یہاں آیا کیسے؟۔

“وہ خمدار بوڑھا دیکھ رہے ہو۔۔تم اسی کی ریڑھی پر پڑے تھے”

“بوڑھا۔۔تو پھر اسے ضرور پتہ ہوگا کہ میں یہاں کیسے آیا!”

“ہوسکتا ہے” پھر آواز آئی-

وہ بوڑھے کے پیچھے بھاگا۔۔.بوڑھا اپنی کمزور ہڈیوں سے ریڑھی کو گھسیٹنے کی تگ و دو میں لگا تھا

بابا۔۔رکو بابا۔۔۔

بوڑھے نے مڑ کر پیچھے دیکھا

“بابا!!مجھے جانتے ہو؟ تمھیں ضرور پتہ ہوگا کہ میں یہاں کیسے آیا۔۔مجھے بس اتنا بتادو کہ میں یہاں آیا کیسے؟”

“تم کون ہو ؟” بوڑھا نحیف آواز میں بولا

“بابا۔۔وہ کہہ رہا ہے کہ تم مجھے یہاں لائے ہو ،اپنی اس ریڑھی پر_____” وہ رک گیا

ریڑھی پر کوئی اوندھے منہ پڑا تھا،اس نے آگے بڑھ کر اسے سیدھا کیا

“یہ___تو____یہ تو میں ہوں بابا” وہ چیخا

اسے لگا وہ مر چکا ہے۔۔اس نے زار و قطار رونا شروع کر دیا،اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنی جلدی موت کی آغوش میں جا سکتا ہے

“نہیں یہ میں نہیں ہو سکتا۔۔ہ جھوٹ ہے”
اس نے آنسوؤں کی اوٹ میں ایک دفعہ پھر خود کو دیکھا۔۔یہ وہی تھا

اس نے غور سے دیکھا اس کے سر کا حصہ غائب ہو رہا تھا..وہ ڈر کر پیچھے ہٹا
اپنے سر پر ہاتھ لگایا ۔اسے اپنا سر محسوس ہو رہا تھا  لیکن ریڑھی پر موجود اس کا وجود سر کے اوپری حصے کے بغیر پڑا تھا۔

وہ چیخا !!
“یہ کیا معاملہ ہے۔۔یہ کیا ہے۔۔ خواب ہے۔۔حقیقت ہے۔۔یا عذاب۔۔کیا ہورہا ہے میرے ساتھ”۔

“یہ جو بھی ہے تمھارا ہے” ایک دفعہ پھر آواز آئی-

“تم ہو کون؟کہاں سے بول رہے ہو.؟۔۔سامنے آؤ!!”

میں؟؟۔۔تم نے غور نہیں کیا؟۔۔میں تم ہی تو ہوں۔۔میں۔۔ تم ہوں۔
آواز گونجی اور پھر مدھم ہوتی ہوئی رک گئی

آواز رکی تو اسے محسوس ہوا جیسے وہ جانتا ہے یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے۔۔گتھی آہستہ آہستہ سلجھنے لگی۔

لیکن آنسوؤں کا وزن سنبھالنا مشکل ہورہا تھا۔۔آنکھیں بند ہورہی تھی۔
راز کی آخری گانٹھ کھلنے کو تھی کہ تھکاوٹ نے اعصاب پر قابو پا لیا۔۔۔ذہن اچانک بوجھل ہوگیا ۔۔اور آنکھیں بند ہوگئیں۔

کچھ دیر بعد اس کی آنکھ کھلی۔۔وہ ایک ریڑھی پر لیٹا تھا اور اس کے سامنے اس کا عکس چیخ رہا تھا۔
” یہ کیا معاملہ ہے۔۔خواب ہے۔۔حقیقت۔۔یا عذاب؟”
اس نے دیکھا عکس کے سر کا حصہ غائب تھا!

ابنِ حیدر
ابنِ حیدر
سوچنے، محسوس کرنے، جاننے اور جستجو کےخبط میں مبتلا ایک طالبِ علم ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *