غالب خامہ بدست سیریز۔۔۔۔۔۔ستیہ پال آنند

تیرا انداز ِ سخن شانہ ٔ زلف ِ الہام (ایہام)
تیری رفتار ِ قلم ، جُنبش ِ بال ِ جبریل

مقطع ٔ فخریہ یا شعر فقط اپنے لیے؟
جس سے ہو اپنی ، (فقط اپنی ) بڑائی مقصود
خودہی ہو اعلی تریں، خود ہی بلند و برتر
اپنی تعریف بھی، توصیف بھی، تشہیربھی ہو

ایسا جو شخص ہے، وہ مَیں ہوں، مرے ہم نفسو
کہنے کی بات ہے، میں خود کو بھی ’’تُو‘‘ کہتا ہوں
تیرا‘‘، ’’تیری‘‘ سے جو مقصود ہے ، میں خود ہی ہوں
یہ روایت ہی رہی ہے کہ فقط عادت ہے؟
’’مَیں‘‘ کا القاب نہ ہو مقطع ٔ فخریہ میں

آئیں، دیکھیں تو ذرا، با ت کہاں پہنچے گی؟
کیا ہے ’انداز سخن‘؟ نغمگی؟ سُر تال؟
یا کلا ونت کوی کی کوئی کمپوزیشن؟
یا غزل، قافیہ، آہنگ،وزن کا ادراک؟

کیا ہے ’الہام‘؟ اسے جانچیں ذرا، پہچانیں
کوئی برجستہ و بے ساختہ ، بر وقت بدیہہ
یا کہ فی الفور کسی لہر کا اُٹھنا دل میں
یا اناجیل۔۔یا ’آکاش‘ سے ’بانی‘ کا نزول؟

اب ذرا دیکھیں تو آگے کیا ہے
(زلف الہام کی ہے ۔۔۔ مان لیا)
(’شانہ‘ انداز ِ سخن ہے۔۔۔ چلو، تسلیم کیا)
’تیرا انداز ِ سخن شانہ ٔ زلف ِ الہام‘
دعویٰ شاعر کا ہے تلطیف ِ عبارت میں درست
(منحصر دعویٰ تو البتہ اسی بات پہ ہے
شعر غالب کے ہیں الہام ، وحی یاتنزیل)

بال ِ جبرئیل *سے حاصل ہوئی ’’رفتار‘‘کی رو
کیسی تسریع ِ قلم، رفعت ِ پرواز ِ خیال
کیسا اشباع فرشتے کا۔۔۔اور کیسی تیزی
یہ بھی تسلیم کیا ہم نے جناب ِ غالب
’’تیر ی رفتار ِ قلم، جنبش ِ بال ِ جبرئیل‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنی تعریف ضروری تھی، مگر عالی جاہ
کچھ پس و پیش سے کہنے پہ ہے قاری مجبور ۔۔۔۔
’’عجز ِ شاعر‘‘ نہ تھا غالب کا کبھی طور و طریق
فخر ہی فخر تھا، مرزائی تھی یا نخوت تھی
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
راقم الحروف کے ذہن میں تھا کہ جامعہ میں ایم اے کی سطح پر انگریزی ادب پڑھاتے ہوئے اس نے بال ِ جبرئیل کا استعارہ کہیں دیکھا ہے۔ دیکھیے’’ بین المتونیت‘‘ یعنی ’’انٹر ٹیکسچویلٹی‘‘ کا کمال کہ سترھویں صدی میں ہنری کانسٹیبل نے لکھا Henry Constable(death 1613
The pen wherewith thou dost so heavenly sing
Made of a quail from an angel’s wing

چونکہ ابراہیمی سلسلے کے تینوں بڑے مذاہب فرشتوں کی صف میں جبرئیل اور اس کے وظائف کو تسلیم کرتے ہیں، اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ ہنری کانسٹیبل اور غالب نے اپنے اپنے زمان و مکان میں آزادانہ طور پر یہ استعارہ شاعر کی تحریر کے لیے استعمال کیا۔ انٹر ٹیکسچویلٹی یا بین المتونیت کا اس سے بہتر ثبوت اور کہاں ہے ؟ ہم اسے بے شک توارد یا کچھ اور کہیں ۔۔ (ستیہ پال آنند)

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *