کتھا چار جنموں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 13

میں پہلے کئی ابواب میں دو سینئر قلمکاروں سے اپنے تعلقات کا ذکر کر چکا ہوں۔ احمد ندیم قاسمی اور ڈاکٹر وزیر آغا دونوں عمر میں اور اپنے ادبی قد کاٹھ میں مجھ سے بڑے تھے۔ صرف بڑے ہی نہیں تھے، بہت بڑے تھے۔ البتہ مجھ سے ان کا سلوک ہمیشہ دوستانہ رہا۔ یہاں تک کہ کئی بار کسی ایسے موضوع کے بارے میں جو باہر کی دنیا سے متعلق ہوں  یا جس میں ہندو یا ہندوی متعلقات کی بحث ہو اور جس پر انہیں اپنی گرفت مضبوط دکھائی نہ دیتی ہو، وہ مجھ سے استفسار کرنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے بارے میں تو میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں اور ابھی شاید اور بھی بہت کچھ لکھنا ہے لیکن احمد ندیم قاسمی صاحب کے بارے میں بھی میری یاداشتوں کے بریف کیس میں بہت کچھ بھرا ہوا ہے۔

میری ان سے خط و کتابت میرے سعودی عرب کے قیام کے دنوں میں (1972-74) میں شروع ہوئی اور ان کی وفات تک برابر جاری رہی۔ دیگر موضوعات کے علاوہ سنسکرت کاویہ شاستر (بوطیقا) میں رس تھیوری کی بابت انہوں نے مجھ سے استفسار کیا۔ میں نے انہیں تجویز دی کہ انڈیا میں جمالیات کی مختلف شاخوں کے تناظر میں ”سِنگھار رس“ پر ڈاکٹر شکیل الرحمن نے کچھ کام کیا ہے اور وہ اس موضوع کے لیے موزوں اسکالر ہیں۔ کچھ ہفتوں کے بعد مجھے پھر ان کا ایک مکتوب موصول ہوا کہ ڈاکٹر شکیل الرحمن بہار سے دہلی کے ایک نواحی قصبے گڑگاؤں میں منتقل ہو چکے ہیں اور اپنے بجائے انہوں نے میرا نام ہی تجویز کیا ہے۔ مرحوم قاسمی صاحب نے فرمائش کی کہ میں صرف سنگھار رس پر ہی نہیں، بلکہ جمالیات کے زمرے میں سنسکرت میں صدیوں سے چلی آ رہی ”رس تھیوری“ پر ایک سیر حاصل مضمون لکھوں، جس میں سنگھار کا عنصر بھی شامل ہو۔

یہ ایک دوسری داستان ہے کہ میں نے یہ مضمون لکھا اور وہ ”فنون“ میں شامل اشاعت ہوا لیکن بقول ان کے پاکستانی قارئین کی طرف سے بہت کم رد عمل دیکھنے میں آیا۔ ایک دو خطوط کے علاوہ کسی نے اس موضوع کی طرف توجہ نہیں دی۔ ”لوگ ہندو، ہندی اور ہندوی تہذیب سے دامن بچا کر چلنا چاہتے ہیں۔۔“ یا کچھ ایسے ہی الفاظ مرحوم نے تحریر کیے۔جو اس زمانے کے سیاسی حالات کے تناظر میں صحیح تھے۔

ڈاکٹر شکیل الرحمن سے میرے دوستانہ تعلقات ساٹھ کی دہائی سے برابر چلے آ رہے تھے۔ ان میں کچھ رخنہ میرے پے در پے کئی اسفار اور بیرونی ملکوں میں قیام کے دوران آتا رہا،لیکن ان کے ساتھ گرمجوشی میں کوئی کمی نہیں آئی۔یا جب وہ صوبہ بہار میں صوبائی وزیر کے طور پر اپنے فرائض نبھا رہے تھے، تب ان کی طرف سے کچھ خطوط سے صرف ِ نظر ہوا، لیکن ایک بار پھر میں جب امریکہ  سے دہلی گیا تو ٹیکسی لے کر گڑگاؤں میں ان کے در دولت پر حاضر ہوا، وہاں لنچ کے دوران ان کی دونوں بیٹیوں سے ملاقات ہوئی اور یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ صحت کی خرابی کے باوجود وہ ایک بار پھر شد و مد سے لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اس ملاقات کے دوران میں نے ان سے غالب پر اپنے کام کے بارے میں ذکر کیا تو ایک بار پھر احمد ندیم قاسمی صاحب کا ذکر خیر چھڑ گیا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب انہوں نے قاسمی صاحب کو غالب پر اپنی دو کتابیں بھیجیں تو ان کے ساتھ کئی خطوط کا تبادلہ ہوا۔ (ان دو کتابوں کی ایک ایک جلد انہوں نے مجھے بھی دی۔ یہ تھیں: ”رقص ِ بُتان آذری“ اور ”مرزا غالب اور ہند مغل جمالیات“۔جو اس وقت میرے سامنے ہیں)

غالب سے احمد ندیم قاسمی مرحوم کی عقیدت لا مثال تھی۔ لاہور میں کچھ ادبی ”غنڈوں“ نے جب غالب کے نام کو برباد کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کی بھرپور مخالفت کی۔ ڈاکٹر شکیل الرحمن نے مجھے ان کا ایک طویل خط دکھایا، جس کا کچھ حصہ ان کی اجازت سے میں نے نقل کر لیا اور اس وقت میری ڈائری میں میرے سامنے موجود ہے۔

قاسمی مرحوم ڈاکٹر شکیل الرحمن کے نام اپنے خط میں لکھتے ہیں: ”شاید آپ کو علم نہیں کہ یہاں لاہور میں ایک صاحب نے غالب کی غزلوں کی ”مرمت“ شروع کر رکھی ہے۔ جی ہاں، مرمت! وہ یہاں ایک ہفت روزہ ”زندگی“ میں باقاعدگی سے ”دیوانِ غالب ۔ مرمت شدہ“ کے عنوان سے غالب کی غزلوں کی ہتک کرتے رہتے ہیں اور مصرعوں کی یوں مرمت کرتے ہیں کہ پڑھنے والا اپنا سر پیٹ کے رہ جاتا ہے “ (اس کے بعد کچھ اس ”مرمت“ کے نمونے تھے جو میں نے فضول سمجھ کر نقل نہیں کیے)۔۔۔”یہ سلسلہ کئی ہفتوں سے چل رہا تھا کہ یکا یک اسی ادارے کے ایک رکن اختر شیخ ان کے مقابلے میں اترے اور ”مرمت شدہ دیوان ِ غالب کی مرمت“ کے عنوان سے جوابی تنقید شروع کر دی۔ غالب کی مرمت کرنے والے شاعر ظفر اقبال ہیں،جن کا فن کب کا پٹڑی سے اتر چکا ہے۔ وہ شمس الرحمن فاروقی صاحب کے قریبی احباب میں شامل ہیں۔ اختر شیخ نے انہیں ایک طرح سے بھگا دیا ہے اور اب انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اب میں غالب کی مرمت کا یہ سلسلہ الہ آباد کے”شب خون“ میں شروع کروں گا۔ اب دیکھیں وہ وہاں کیا گل کھلاتے ہیں۔اب کے میں نے ”فنون“ کا اداریہ غالب پر ان بد ذوقوں کی اس یلغار کے سلسلے میں لکھا ہے اور مولانا حالی کے مرثیہ غالب کے چند بند پیش کیے ہیں کہ لوگو اصلی غالب تو یہ تھا جس پر آج بالشتیے فقرے کس رہے ہیں۔“(احمد ندیم قاسمی بنام شکیل الرحمن)

یہ نوشتہ مکمل کرنے سے پہلے میں ایک بار پھر احمد ندیم قاسمی(مرحوم) کی طرف مراجعت کرتا ہوں۔ یہ 1966ء کا زمانہ تھا اور مجھ سے ابھی ان کے تعلقات اس حد تک استوار نہیں ہوئے تھے کہ میں ان سے باقاعدگی کے ساتھ خط و کتابت کر سکوں۔ میں پنجاب یونیورسٹی (چنڈی گڑھ) کے شعبہٗ ادبیات انگریزی میں لیکچرار تھا۔ شعبہ کے سر براہ ڈاکٹر راج کمار تھے جو اپنے لاہور کے زمانے سے غالب پر جان چھڑکتے تھے۔ اردو شاعر ہونے کے طور پر مجھ سے بہت شفقت سے پیش آتے تھے۔ میری تجویز پر ہم غالب کی یک صد سالہ برسی منانے کے لیے تیار ہوئے۔ اس وقت تک پنجاب یونیورسٹی میں اردو کا شعبہ قائم نہیں ہوا تھا۔ مجھے یہ کام سونپا گیا کہ میں جلسے اور سیمینارکا انتظام کروں۔ خیر کام تو ہم استاد لوگ اپنے طلبا سے ہی کرواتے ہیں۔ کام ہو گیا۔ بلکہ غالب کی ایک یادگار پینٹنگ ہم نے دہلی کے نامی گرامی آرٹسٹ اور میرے دوست جسونت سنگھ صاحب سے بھی معقول معاوضہ پر بنوا لی، جس کی نقاب کشائی وائس چانسلر نے کی۔ اس یک روزہ پروگرام کی روداد جن نامور شعرا کو بھیجی گئی، ان میں قاسمی صاحب بھیء شامل تھے۔ کچھ دنوں کے بعد جب ان کا خط ملا تو اس کے ساتھ ان کے ایک مضمون کا تراشہ بھی منسلک تھا۔ اس کا عنوان تھا۔ ”غالب ِ خستہ کے بغیر“ اور ایک اخباری کالم ”غالب کی صد سالہ برسی“۔۔۔۔ اس میں اُس ”غالب دشمن“ طبقے کی بات کہی گئی تھی جس کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔ مختصر اً کچھ مندرجات حسب ذیل ہیں۔

”اس طبقے کا کہنا ہے کہ

1۔غالب کے کلام میں آمد کم اور اورد رزیادہ ہے۔

2۔ غالب نثر میں سوچتا ہے اس لیے سپاٹ رہ جاتا ہے۔

3۔ غالب سے تو داغؔ بہترہے جو بے تکلفی سے شعر کہتا ہے اور غالب کی طرح سوتے میں محبوب کے پاؤں کا بوسہ لینے کے بجائے جاگتے میں اس کا منہ چوم لینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا۔ اس لیے داغ نڈر شاعر ہے اور غالب جھینپو ہے۔

غالب کی برسی پر لاہور کے ادیبوں نے غالب فراموشی کا بد تر نمونہ پیش کیا۔ اخباروں نے بھی جیسے غالب کو یکسر فراموش کر دیا۔ اس کے برعکس کراچی کے 27 فروری کے اخبارات میں غالب کا خوب چرچا رہا۔ دراصل غالب فراموشی کا پچھتر فیصد الزام لاہور کے ان علمی و ادبی سرکاری نیم سرکاری اور غیر سرکاری اداروں پر عائد ہونا چاہیے، جو خدا کا دیا غالب اور اقبال کی سی شخصیتوں کے توسط سے کھاتے ہیں۔ ان اداروں میں ایسے ایسے محققین و نقاد موجود ہیں، جنہوں نے اس نوع کے امور کی تحقیق  پر اپنی عمروں کے کتنے قیمتی برس ضائع کیے کہ غالب کو دالوں میں سے کون سی دال پسند تھی، یا جب ان  کا انتقال ہوا تھا تو ان کے سر کے نیچے ایک تکیہ تھا یا دو تھے  اور پھر غالب تو ہمارا اپنا ہے۔ اقبال سے لے کر اب تک پوری اردو اور علاقائی زبانوں کی شاعری اور نثر میں اپنے تاثرات کی ہمہ گیری کا اعلان کر رہا ہے۔ وہ تو ہماری تہذیب، ثقافت اور معاثرت میں، ہماری موسیقی اور مصورّی میں، ہماری روز مرہ کی گفتگو تک میں سانس لے رہا ہے، وہ تو ہماری نفسیات میں رچا ہوا ہے، وہ تو ہمارے خون میں رواں ہے۔“ (احمد ندیم قاسمی: ”غالب کی صد سالہ برسی“)

ایک اور مضمون میں قاسمی (مرحوم) نے تحریر کیا:
”شعر و فن اور علم و ادب کے سلسلے میں ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے اور ان بزرگوں کے بزرگوں نے جتنا کچھ غالب سے پایا وہ کسی دوسری شخصیت سے نہیں پایا۔ غالب کی نظم اور نثٖر بر صغیر پاکستان و ہند کے مسلمانوں کے فکر و فن کا نقطہ  عروج ہے۔ غالب ہم سے چھن جائے تو  ہم سب کتنے غبی دکھائی دیں گے۔“ (”پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے؟“)
ان الفاظ پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ بتائیں گے کیا خود کو غالبؔ اور میرؔ سے بڑا سمجھنے والے لاہوری شاعر؟

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *