چلے تھے دیوسائی ۔۔جاویدخان/سفر نامہ/قسط 13

عظیم ہمالیہ کے حضور:
وقت کافی بیت چکا تھا۔درہ بابو سر کی بلندیوں پر گہری اور گاڑھی چاندنی نے سُنہری ملمع کاری کردی تھی۔سُنہری رنگ دُور پاربرفیلی چوٹیوں پہ چڑھ گیاتھا۔ہر شے سُنہری شعاعوں میں نہا رہی تھی۔سارے پربتوں نے سُنہرے کمبل اُوڑھ رکھے تھے۔گہری رات کے گہرے سناٹوں میں صرف زمستانی ہواجاگ رہی تھی۔سناٹے گہرے ہونے لگے،اور گہرے پھر اور گہرے۔میں آہستہ آہستہ ان گہرائیوں میں اُترنے لگا۔معلوم نہیں کب میرا سارا وجود گہرے سناٹوں میں  چھپ  گیا ۔ان سناٹوں میں برفیلی سرگوشیاں ہو رہی تھیں۔ہمالیہ،قراقرم اور ہندوکُش کی سرگوشیاں۔ان سرگوشیوں میں کروڑوں سال پہلے کی داستانیں تھیں۔میرا لاشعو ر ان سرگوشیوں کے ساتھ جا بیٹھا۔اس نے بھی سنہرا کمبل اُوڑھ لیا۔سارے پربت سر جوڑے بیٹھے تھے اور ہمالیہ انھیں داستان اُس وقت کی (جب ہمالیہ کا جنم ہوا) سُنا رہا تھا۔

بزرگ ہمالیہ جو ان سب میں بزرگ ہے۔سفید ریش،مکمل سفید لبادہ،لمبا چوڑ ا ور دراز قد۔اُس کے ہرانگ سے بزرگی ٹپک رہی تھی۔سر سے پاؤں تک سفید لبادہ اوڑھے ہمالیہ   گویا ہوا۔کروڑوں سال پہلے کی بات ہے۔یہ سارا علاقہ ایسا نہ تھا یہاں عظیم سمندر تھا۔گہرا سمندر جس کی گہرائیوں میں سب کچھ ڈوبا ہوا تھا۔اس جگہ کی یہ جغرافیائی شکل نہ تھی جو آج ہے۔برصغیر کے اس ٹکڑے نے،جس پر آج کئی ممالک کھڑے ہیں براعظم ا یشیا سے ملنے کے لیے2000کلومیڑ کا سفر طے کیا۔یہ تقریباً ستر لاکھ سال پرانی واردات ہے۔ملن کی یہ واردات دنوں میں نہیں لاکھوں سالوں میں ظہور پذیر ہوئی۔زمینی ٹکڑوں کی تہیں (پلیٹیں) سرکتی ہوئی آپس میں ٹکرائیں تو بھونچال آیا۔ایک عظیم بھونچال،تہوں کے اندر کھولتے لاوے نے انگڑائی لی تو میرا (ہمالیہ) جنم ہوا۔میرے ساتھ اس ہندوکُش کا اور اس قراقر م کا بھی۔

ہندوککش اور قراقرم اَدب سے دَم سادھے عظیم ہمالیہ کے دربار میں کھڑے تھے۔اور داستان اُس وقت کی سُن رہے تھے۔ہمالیہ نے کہا اس سطح زمین پر دیگر حیات کے ساتھ حضرت آدم ؑ کا ظہو ر بھی ہوا۔آدم میں دَم آیا او وہ اشرف تر ہوتا گیا۔وہ آج ہماری صدیوں کی اس داستان کو جانتا ہے۔میں نے اپنے قدموں میں بکھرے ان دروں میں اولاد آدم کو سرکشی کرتے،لڑتے،مرتے اور پھر سے اُبھرتے دیکھاہے۔

ہندوکش نے بااَدب سرگوشی کی،چار ہزار سال سے زاہد تو ہمارے قدموں میں بکھری ان وادیوں میں ہندوؤں نے حکومت کی۔پھر پانچ سو قبل مسیح میں بدھا نے جیون سُکھ کا پھریرا لہرایا۔اچانک بزرگ ہمالیہ کی جلالی آواز ابھری۔ میرے ہندوکُش بچے!میرے بازو اور قراقرم! یہ چار ہزار سال تو کل کی بات بھی نہیں اور یہ بُدھا کا نروان؟۔ ہمارا جنم ہوئے تو کروڑوں لاکھوں سال بیت چکے۔تُم صدیاں گن رہے ہو بھلا وہ کس شمار میں ہیں۔ ایسی سینکڑوں صدیوں کا تو میں چشم دید گواہ ہوں۔تُم مجھے یونان کا اَرسطو،افلاطون اور فاتح سکندر بھی بتانے لگو گے۔سکندر جو کبھی ہمارے اِن برفانی دروں میں اپنی سپاہ کے ساتھ مارا مارا ٹِھٹھَر تا پھرا تھا۔ہمارے درے اُسی شان سے کھڑے ہیں،میں کھڑا ہوں۔قراقر م اور ہندوکُش اپنی بلندیوں سمیت کھڑے ہیں۔کہاں ہے سکندر۔۔؟

ایسے کئی ٹھِٹھرتے بچے ہماری صدیوں تلے دبے تاریخ کے تاریک غاروں میں سسک رہے ہیں۔میں بیک وقت جوان بھی ہوں اور بزرگ بھی۔میرا وجود آج بھی لرزتا ہے۔میں ہی نہیں ہندوکُش اور قراقرم بھی لرزتے ہیں۔ایشیا اور برصغیر کی سب سے بڑی اَرضیاتی کشمکش ہمارے پاؤں تلے دبی تڑپ رہی ہے۔فطرت نے ہمیں اِن پہ پاؤں رکھ کر کھڑا رہنے کا حکم دیا ہے۔ہم اُس کے پابند ہیں۔یہ لاوے،یہ ارضیاتی کشمکش (پلیٹوں کا ٹکراؤ)،یہ زمینیں،یہ میدان ہمارے قدموں تلے کسمسا کر رہ جاتے ہیں اور اُٹھ نہیں پاتے۔ان میں اتنی ہمت ہی نہیں۔

ہمالیہ کا سفید جلالی پیکر چمکنے لگا۔سفید بزرگانہ روپ،جسے چاند سنہری دھاروں سے وضو کرا رہا تھا۔قمر پھر پھر کر ہمالیہ پہ چاندنی اُنڈیل رہا تھا۔اُس کا برفیلہ اور بزرگانہ جلالی پیکرچاندنی میں مزید نکھر گیا تھا۔سناٹوں میں لپٹی جلالی،برفانی سرگوشیاں جاری تھیں۔میں ان سرگوشیوں سے آہستہ آہستہ باہر آیا۔رات دُور تک آگے آچکی تھی۔درہ بابو سر خاموش کھڑا تھا۔ہندوکُش کا ایک سرد درہ جس پہ میں اپنے چند فُٹ وُجود کو حرارت دینے کے لیے مجبور ہو گیا تھا۔ہمالیائی مجلس جاری تھی۔۔بزرگ ہمالیہ کے وجود میں کبھی کبھی رعشہ آجاتا ہے اس کا اعتراف اُس نے خود کیا تھا۔

ہمالیہ کا واعظ جلالی تھا اور وہ روز اپنی داستان سناتا ہے۔سرشام ہی اُس کا برفیلہ دربار شروع ہو جاتا ہے۔وہ پربتوں کی دُنیا کا بادشاہ اکبر ہے۔قراقرم اور ہندوکُش اُس کے وزیر خاص ہیں۔ہمالیہ کے درباری ہونے پر انھیں فخر ہے۔رات پہ سناٹوں کا پہرا تھا۔اور ان سناٹوں میں جمالیاتی دنیا سنہری چاندنی میں ڈوبی ہوئی تھی۔چاندنی کی سنہری دھاریں ان پر بہہ رہی تھیں۔ان سناٹوں کی نہاتی اس رات میں کنہار ندی،پولو میدان اوران کے سر ے پر پڑا ٹھنڈا سفید گلیشر چاندنی رات کا مزا لے رہے تھے۔چرواہوں کی سَونی بستی کو نیند کی ہمالیائی پری نے اپنے بازوں میں لے رکھا تھا۔

جاری ہے!

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”چلے تھے دیوسائی ۔۔جاویدخان/سفر نامہ/قسط 13

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *