مکڑی صفت۔۔مریم مجید ڈار

مین ہٹن کے نواحی قصبے میں یہ ایک بادلوں سے گھری صبح کا آغاز تھا۔گھنے بادل برسنے کو تیار نظر آتے تھے۔۔
مسلسل بجتے الارم نے گہری نیند سوئی ہوئی پاؤلا کو گویا جھنجھوڑ کر اٹھا دیا ۔ اس نے نیند سے میچی آنکھوں کو بمشکل کھولتے ہوئے سرہانے پڑے لیمپ کے سوئچ کو چھوا اور روشنی کا ایک محدود دائرہ کمرے کی ملگجی فضا کو نیم روشن کرنے لگا۔ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس نے الارم کلاک بند کیا اور وقت دیکھا تو بند آنکھیں اور حواس ایک جھٹکے سے بیدار ہو گئے۔”اوہ خدایا! سات بج رہے ہیں ۔” وہ اپنے معمول سے آدھا گھنٹہ دیر سے اٹھی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کل تقریباً  نصف شب تک وہ سبزیوں کی پنیری کو بڑے بکسوں میں منتقل کرتی رہی تھی۔۔ آٹھ بجے اسے اپنی ملازمت پر پہنچنا ہوتا تھا اور اپنے معمولات نمٹانے کے لیے اسے کم سے کم ڈیڑھ گھنٹہ درکار ہوتا تھا۔

باتھ روم کی جانب بڑھتے ہوئے اس نے کمرے میں ہی رکھی کافی مشین اور ٹوسڑ کو آن کیا اور دس منٹ بعد جب وہ باہر نکلی تو کمرے کی محدود فضا میں کافی کی مہک اور سینکے ہوئے ٹوسٹ کی مخصوص خوشبو پھیلی تھی۔۔
کافی کو مگ میں انڈیل کر اس نے ایک ٹوسٹ ہاتھ میں اٹھایا اور تیز قدموں سے گھر کے عقبی سمت بنے ایک چھوٹے اور قدرے لمبوترے کمرے کی طرف چل دی۔۔
“اف!!! سب بھوکے ہوں گے۔”وہ افسوس سے خود کلامی کر رہی تھی۔کمرے کا دروازہ مقفل تھا اور اس کا تالا کسی چابی کے بجائے مخصوص کوڈ سے کھلتا تھا۔ٹوسٹ کا نصف حصہ وہ کھا چکی تھی۔بقیہ نصف کو عجلت سے منہ میں ٹھونس کر اس نے قفل کھولا اور اندر داخل ہو گئی۔

کمرے میں دھیمی روشنی تھی۔اس نے تیز روشنی والا بلب جلایا اور کمرے میں ایک ترتیب سے بنے شیشے کے شفاف کاؤنٹرز اور چھوٹے بڑے مختلف بکس اور جارز کی جانب لپکی۔”اوہ میرے بچو!! تم سب بہت بھوکے ہو گے ناں!امید کرتی ہوں مجھے زیادہ دیر نہیں ہوئی ہو گی” تیز رفتاری سے وہ ہر کاؤنٹر کا جائزہ لے رہی تھی ۔۔ہر بکس،جار اور کاؤنٹر میں مکڑیاں رینگ رہی تھیں ۔۔چھوٹی۔۔بڑی۔۔۔سیاہ ۔۔بھوری ۔۔مختلف رنگوں اور نسل کی مکڑیاں! !! مکڑیاں جو پاؤلا کو دنیا جہاں کی ہر شے سے عزیز تھیں ۔

اس نے نچلی شیلف سے ایک دراز  باہر کھینچا اور دو تین باکس نکال لیے۔ساتھ ہی ایک چمٹی بھی اٹھائی اور پھر ایک ایک کاؤنٹر کے قریب جا کر وہ باکس کھولتی کلبلاتی ہوئی سنڈیوں کو مناسب مقدار میں باکس سے نکال کر مکڑیوں کے کاؤنٹر میں ڈالتی۔بھوکی مکڑیاں آن واحد میں خوراک پر پل پڑتیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سنڈیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہو جاتے ۔ مکڑیاں زندہ خوراک کھاتی تھیں ۔وہ دائیں گوشے میں رکھے شیشے کے کچھ مرتبانوں کے پاس پہنچی تو اب اس کے ہاتھ میں مکھیوں سے بھرا بھنبھناتا ڈبا تھا ۔اس نے مرتبانوں کے ڈھکن اٹھا کر مکھیوں کو اس میں انڈیلنا شروع کیا ۔یہ بڑی جسامت کی مخصوص افریقی مکڑیاں تھیں جن کی ٹانگوں پر بال تھے اور ان کی جسامت تقریباً  انسانی ہتھیلی کے برابر تھی اور وہ صرف مکھیوں کو اپنی خوراک بناتی تھیں ۔

تیسرے مرتبان کے قریب پہنچ کر وہ ٹھٹھک گئی ۔مکڑی بے حد سست تھی اور مرتبان کی دیوار سے ساکت چپکی ہوئی تھی۔پاؤلا نے خوراک ڈالی مگر مکڑی نے کوئی ردعمل نہ دکھایا ۔”اوہ! ہنی!! کیا تم ٹھیک ہو؟؟’پاؤلا بہت پُر تشویش ہو رہی تھی۔اس نے قدرے قریب سے جھک کر مرتبان کا جائزہ لیا ۔”اوہ!!” وہ گہری سانس لے کر سیدھی ہوئی۔مرتبان کے پیندے میں نر مکڑا مردہ پڑا تھا اور مکڑی کا ٹکیا کی مانند گول پیٹ قدرے ابھرا ہوا تھا۔اسے بات سمجھ میں آ گئی تھی۔۔مکڑی بارآور ہو چکی تھی اور انڈوں کا ذخیرہ پیٹ میں سنبھالے اسے تب تک سست ہی رہنا تھا جب تک وہ انہیں کسی مقام پر چپکا نہیں دیتی جہاں سے پندرہ سے اٹھارہ دنوں تک ننھے مکڑے نکل آتے ۔یہ کوئی پُر تشویش بات نہیں تھی ۔۔آخری مرتبان میں خوراک ڈال کر اس نے باہر کا رخ کیا اور دروازے کو دوبارہ مقفل کر کے رہائشی حصے کی جانب آ گئی اس دوران اس کی کافی بھی ختم ہو چکی تھی اور ساڑھے سات ہو رہے تھے۔اس نے جلدی جلدی لباس بدلا، کوٹ پہن کر چھتری اٹھائی اور گھر مقفل کر کے باہر نکل آئی ۔۔

پاؤلا نوادرات کی جس دکان میں کام کرتی تھی وہ قصبے کے وسط میں واقع تھی اور عام طور پر وہ پیدل ہی چل کر جانا پسند کرتی تھی مگر آج موسم کے تیوروں کے ساتھ ساتھ ہونے والی تاخیر کے باعث اس نے مقامی بس کو ترجیح دی اور لپک کر اس میں سوار ہو گئی ۔باہر بادل اب پوری شدت سے برس رہے تھے۔اس نے اپنے فیصلے کو سراہا اور بس کے شفاف شیشوں پر لڑھکتے بارش کے قطرے دیکھنے لگی ۔۔بس نے اسے دس منٹ کے مختصر وقت میں اپنے مطلوبہ سٹاپ تک پہنچا دیا تھا۔وہ چھتری سنبھال کر نیچے اتری اور بارش کی تیز بوچھاڑ سے خود کو بچاتی ہوئی نوادرات کی دکان میں داخل ہو گئی جہاں وہ کاؤنٹر گرل کے طور پہ کام کرتی تھی۔
دکان کا مالک موٹا بوڑھا جرمن،فرینک اسے آتے دیکھ کر خیر سگالی کے طور پر مسکرایا “ارے مکڑیوں کی ماں!!! آج تم پورے پندرہ منٹ دیر سے آئی ہو” وہ اسے اکثر مکڑیوں کی ماں کہہ کر چڑایا کرتا تھا ۔۔

پاؤلا نے چھتری سٹینڈ میں اٹکائی اور کاؤنٹر کی طرف بڑھتے ہوئے بولی” مجھے امید ہے ابھی کوئی گاہک تمہاری چرب زبانی کا شکار ہونے نہیں پہنچا ہو گا فرینک! دراصل رات میں کافی دیر تک سبزیوں کی پنیری منتقل کرتی رہی تھی اس لیے کچھ تاخیر ہو گئی ” وہ اب اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ کر دراز سے رجسٹر نکال رہی تھی جس میں خریدے اور بیچے جانے والے نوادرات کا اندراج کیا جاتا تھا۔فہرست کے مطابق آج کی تاریخ میں کوئی چیز بیچی نہیں گئی تھی مگر خریدی ہوئی اشیاء کی فہرست میں ایک شے کا اندراج ہوا تھا ” ملکہ مصر کا مرتبان ” اس نے جھک کر پڑھا “فرینک یہ کیا شے ہے اور کب خریدی گئی “؟؟؟اس نے فرینک سے استفسار کیا جو اب نوادرات کی جھاڑ پونچھ میں مصروف تھا۔۔

“اوہ ہاں! ! آج صبح ہی ایک گاہک یہ بیچنے آیا تھا۔اس کے بقول یہ مرتبان اس کے پردادا کا تھا اور دیگر قدیم اشیا کے ساتھ یہ مرتبان بھی وہ فروخت کر کے کچھ رقم حاصل کرنا چاہتا تھا ” فرینک جھاڑن پھینک کر اس کی طرف چلا آیا۔” اس کا کہنا تھا کہ یہ ایک مصری ملکہ کا مرتبان ہے اور اس سے ایک عجیب کہانی بھی جڑی ہے ” اس نے کاؤنٹر کے نچلے حصے سے ایک مرتبان نکالا اور اسے پاؤلا کے سامنے رکھ دیا ۔” کہانی؟؟؟ کیسی کہانی؟ ” اس نے مرتبان کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا ۔

یہ ایک درمیانے حجم کا موٹے شیشے کا مرتبان تھا جس کے دہانے پر کچھ سنہری خطوط سے بنے تھے جو بہت مدھم ہو چکےتھے۔وہ میلا اور کناروں سے چٹخا ہوا ایک عام اور بھدا سا مرتبان تھا۔’کوئی ملکہ ایسا فضول مرتبان رکھنا کیوں پسند کرے گی بھلا “؟؟ اس نے سوچا ۔فرینک کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی

” اس گاہک کا کہنا تھا کہ مصر کی ملکہ نے اس مرتبان میں ایک زہریلی مکڑی پال رکھی تھی۔”۔۔وہ چونکی ” مکڑی”!!! ” ملکہ کو اپنے اکلوتے بھائی سے بہت محبت تھی۔۔مگر ملکہ کے شوہر نے اسے اپنے لیے خطرہ جانا اور قتل کروا دیا “فرینک نے مرتبان پھر سے کاؤنٹر میں رکھ دیا۔” جب ملکہ اپنے بھائی کی لاش پر ماتم کر رہی تھی تو اس نے ایک چھوٹی سی مکڑی کو اس کے سینے پر بیٹھے دیکھا ۔اس نے خادموں کو حکم دیا کہ اس مکڑی کو ایک مرتبان میں بند کر کے اس کی خواب گاہ میں رکھوا دیا جائے ۔حکم کی تعمیل کی گئی۔ملکہ جانتی تھی کہ مکڑی زہریلی ہے اس نے قسم کھائی کہ وہ قاتل کو ڈھونڈ نکالے گی اور اس مکڑی سے ڈسوا کر اسے موت کے گھاٹ اتارے گی “فرینک کی داستان ہنوز جاری تھی،وہ دم بخود سی اسے سن رہی تھی “پھر تحقیقات ہوئیں اور ملکہ کا شوہر مجرم ثابت ہو گیا ۔ملکہ نے قسم پوری کی اور ایک رات جب اس کا شوہر سو رہا تھا، اسے مکڑی سے ڈسوا کر مار ڈالا۔ گاہک کا کہنا تھا کہ یہ وہی مرتبان ہے جس میں ملکہ نے مکڑی کو قید کیا تھا۔'” فرینک کی گفتگو جانے کب تک جاری رہتی مگر اسی اثنا میں کچھ گاہک دکان میں داخل ہوئے اور وہ دونوں ان کے ساتھ مصروف ہو گئے۔

دوپہر کے کھانے کے وقفے تک پاؤلا کئی بار جھانک کر مرتبان کو دیکھ چکی تھی اور ایک عجیب سنسنی اس کی ریڑھ کی ہڈی میں ارتعاش پیدا کر دیتی جب وہ اس سے جڑی کہانی کے بارے میں سوچتی۔”ہاں! !انتقام کو ہمیشہ غیر جانبدار ہونا چاہیے ” وہ دھیمے سے بڑبڑائی اور پر خیال انداز میں اپنا سینڈوچ چبانے لگی ۔

اڑتیس سالہ پاؤلا کی زندگی نوادرات کی دکان کے علاوہ مکڑیوں کے گرد گھومتی تھی اسے مکڑیوں سے اتنا لگاؤ تھا کہ بستر کی چادروں،پردوں، تکیوں اور تصویروں کے علاوہ اس نے اپنے جسم کے مختلف حصوں پر بھی مکڑیاں گدوا رکھی تھیں ۔خصوصاً کمر،گردن اور کولہے پر گدی ہوئی مکڑی اسے بے حد پسند تھی ۔وہ ایک بے کشش اور مرجھائی ہوئی عورت تھی درمیانے قد کاٹھ کے ساتھ میلی سی سفید رنگت کے علاوہ دونوں رخساروں پر بھوری تتلی کے پروں کی مانند چھائیوں کے نشانات اسے ایک غیر دلچسپ شخصیت بناتے تھے خصوصا جنس مخالف کے لیے وہ بالکل بے رس، پھیکی اور بھدی عورت تھی۔

ایک مدت تک تنہائی کی زندگی بسر کرنے والی پاؤلا کی واحد دم ساز اس کی پالتو مکڑیاں تھیں ۔نوادرات کی دکان میں کام کرنے کے بعد فارغ اوقات میں وہ قصبے کی لائبریری میں چلی جاتی اور مکڑیوں کی اقسام، عادات و خواص اور ان کو پروان چڑھانے کے طریقوں پر مبنی کتابیں کھنگالتی رہتی۔کچھ عرصہ قبل اس کی بہن پامیلا بھی اس کے ساتھ رہتی تھی تو وہ کچھ جلدی گھر آ جاتی تھی مگر تین سال پہلے اسے قسمت بدلنے کا موقع مل گیا اور وہ ایک سستے سے فیشن میگزین کے لیے فوٹو گرافی کروانے لگی۔جلد ہی فوٹو گرافر سے اس کا معاشقہ چل پڑا اور صرف تین مہینوں کے مختصر تعلقات کے بعد وہ اس کے ساتھ نیویارک چلی گئی تھی۔شروع کے ہفتوں میں اکا دکا فون آ جاتے تو پاؤلا کو اس کی خیریت معلوم ہو جاتی مگر گزشتہ دو سال سے یہ سلسلہ بھی بند تھا اور پاؤلا صحیح معنوں میں بالکل تنہا تھی۔

فرینک کی نوادرات کی دکان چار بجے بند ہو جاتی تھی اور اس کے بعد اس کا زیادہ وقت لائبریری اور اپنے مختصر باغیچے میں مختلف اقسام کی سبزیاں اگاتے گزرتا تھا ۔آج کل اسے کھمبیاں اگانے میں دلچسپی ہو رہی تھی اور آج اس کا ارادہ تھا کہ وہ کھمبیوں کے بارے میں کچھ جامع کتابچے لیتی آئے گی تاکہ کامیاب طور پر انہیں اگا سکے۔
دکان بند ہونے تک بارش جو دوپہر کو کچھ گھنٹوں کے لیے رکی تھی، اس کا موسلا دھار سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا تھا۔پاؤلا نے کوٹ پہنا اور چھتری تان کر مرکزی سڑک سے بائیں جانب ایک چھوٹی ذیلی سڑک پر چلنے لگی جو لائبریری کو جاتی تھی۔
راستے میں اس نے کافی کا ایک کاغذی کپ خریدا اور مزید ایک موڑ مڑنے کے بعد وہ لائبریری کے مرکزی دروازے کے سامنے موجود تھی ۔

اس وقت موسم کی شدت کے باعث لوگ نہ ہونے کے برابر تھے۔چند میزوں پر کچھ بوڑھے اخبار پڑھ رہے تھے یا اکا دکا نوجوان لڑکیاں جو شاید بارش رکنے کے انتظار میں وہاں ٹھہر گئی تھیں ۔باہر کی نسبت اندر خنکی خاصی کم تھی۔
وہ اپنی مخصوص میز کی جانب بڑھی اور کوٹ کرسی پر رکھ کر نگران کے کیبن کی طرف چل دی تا کہ حیوانات و نباتات والی کیبنٹ کی چابیاں لے سکے ۔۔
“ہیلو میتھیو! ! مجھے پانچ سو بیس نمبر کیبنٹ کی چابیاں دے دو۔” اس نے اندراج کا رجسٹر گھسیٹتے ہوئے نگران کو مخاطب کیا جو اسکی طرف پشت کیے کچھ فائلیں دیوار میں نصب الماری میں ترتیب سے رکھ رہا تھا ۔پاؤلا کی آواز پر وہ مڑا تو وہ الجھن آمیز نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔وہ میتھیو نہیں تھا ۔

“ہیلو!!مجھے جیمس کہتے ہیں “وہ مسکرا کر بولا ۔” مجھے دو دن پہلے ہی میتھیو کی جگہ لینے بھیجا گیا ہے اور میں اس لائبریری کا نیا منتظم ہوں ۔۔آپ سے مل کر خوشی ہوئی”۔۔پاؤلا جواب دئیے بغیر اسے دیکھتی رہی۔وہ تیس پینتیس کے پیٹے میں تھا۔خوش شکل اور سلیقے سے جمائے ہوئے بال اسے مجموعی طور پر ایک اچھی شخصیت کا مالک بنا رہے تھے۔وہ ایک بار پھر مسکرایا اور بورڈ پر لٹکتی متعدد چابیوں میں سے پاؤلا کی متعلقہ چابی اتار کر اس کے سامنے رکھ دی۔”امید ہے آپ میری کارکردگی سے مطمئن ہوں گی مس۔۔۔۔؟؟؟” وہ استفہامیہ انداز میں جملہ ادھورا چھوڑ کر اسے دیکھنے لگا۔اس نے چابی اٹھائی اور دھیرے سے بولی” میں ۔۔میں پاؤلا ہوں ” اور باہر نکل کر اپنے مطلوبہ حصے کی طرف آ گئی۔

اس نے کچھ کتابیں منتخب کیں اور اپنی میز پر آ کر کافی کے گھونٹ بھرتے ہوئے وہ مطالعے میں منہمک ہو گئی۔اس کے پاس ایک مختصر ڈائری بھی تھی جس میں وہ ضروری اور اہم نکات لکھتی جا رہی تھی۔۔۔کچھ نکات اتنے دلچسپ تھے کہ ان کی تفصیلات پڑھتے پڑھتے اسے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا ۔ لکھتے لکھتے اسے روشنی کے راستے میں کچھ رکاوٹ محسوس ہوئی تو اس نے ہاتھ روک کر نظراٹھائی ۔جیمس اس کے سامنے اپنا کوٹ اٹھائے کھڑا تھا اور لمبے شیشوں والی کھڑکیوں سے موسلا دھار بارش برستی نظر آ رہی تھئ۔” معذرت چاہتا ہوں مس پاؤلا ۔۔مگر لائبریری کا وقت ختم ہوئے بیس منٹ گزر چکے ہیں ۔” وہ کچھ خفت زدہ سے انداز میں اس سے مخاطب ہوا ۔۔”

اوہ اسے اتنی دیر ہو گئی تھی۔؟ پاؤلا نے اپنی کلائی کی گھڑی پر نظر ڈالی تو وہ شام کے سات بجے کا وقت بتا رہی تھی۔۔آج تو اسے سچ مچ بہت دیر ہو گئی تھی۔” اوہ!! معاف کیجیے گا۔۔شاید میں اپنے مطالعے میں اتنی منہمک ہو گئی تھی کہ مجھے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا ” اس نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا اور اپنے میز سے اپنی چیزیں سمیٹنے لگی ۔” جی ہاں! ! یقیناً  ایسا ہی ہوا ہو گا۔ورنہ اطلاعاتی الارم دو بار بجایا گیا تھا۔ خیر! یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے مس پاؤلا ” جیمس نے مسکراتے ہوئے کہا اور پاؤلا کے دماغ میں ایک جھماکہ سا ہوا ۔جیمس کی مسکراہٹ! !! ایک یخ بستہ لہر اس کے جسم میں پھیل گئی۔وہ عجیب سی مسکراہٹ تھی جیسے اس نے اپنے چہرے پر کوئی بے حد باریک ماسک چڑھا رکھا ہو اور مسکراتے ہوئے وہ کھنچ کر جھریوں زدہ ہونے لگے۔” ایسی مسکراہٹ تو۔۔۔شاید جنونی قاتلوں کی ہوتی ہے۔” پاؤلا کو پہلی بار معاملے کی سنگینی کا ادراک ہوا۔وہ لائبریری میں بالکل تنہا تھی۔مسلسل برستی بارش میں اس بات کا امکان بہت کم تھا کہ کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں وہ چلا کر مدد حاصل کر سکتی تھی۔۔لائبریری ذیلی سڑک پر واقع تھی اور یہاں ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوا کرتی تھی ۔اس خراب موسم میں تو یہ بعید از قیاس ہی تھا کہ کوئی مسافر اس طرف سے گزرتا۔

وہ تنے ہوئے اعصاب کے ساتھ کرسی کی پشت کو مضبوطی سے جکڑے کھڑی تھی جب جیمس نے کنکھار کر اسے متوجہ کیا۔” مس پاؤلا! مجھے لائبریری بند کرنی ہے۔” اب کی بار اس نے قدرے سپاٹ لہجے میں کہا۔وہ دل ہی دل میں اس غبی عورت پر جھنجلا رہا تھا جس کی وجہ سے اسے آدھے گھنٹے کی تاخیر ہو چکی تھی۔
پاؤلا اپنے خیالوں سے ٹھٹھک کر ابھری ” اوہ!! ” معاف کیجیے گا۔۔وہ تیزی سے اس کے قریب سے گزری اور مرکزی ہال سے نکل کر باہر آ گئی ۔بارش اپنے پورے زور پر تھی اور وقفے وقفے سے چمکنے والی آسمانی بجلی ماحول کو عجیب پرہیبت بنا رہی تھی۔اسی اثنا میں جیمس بھی لائبریری بند کر کے باہر نکل آیا ۔” معاف کیجیے گا محترمہ” وہ پختہ روش پر تیزی سے چل رہی تھی جب اس نے اپنے عقب میں جیمس کی بلند آواز سنی۔۔وہ چونک کر پلٹی تو دیکھا کہ جیمس تیز تیز قدم اٹھاتا اس کی طرف چلا آ رہا تھا۔” کیا آپ کے پاس اپنی کار ہے “؟؟ اس نے پاؤلا سے دریافت کیا۔

” جی نہیں! !!! میں یہاں قریب ہی رہتی ہوں ۔۔میں پیدل ہی آتی جاتی ہوں ” پاؤلا جواب دے کر پھر چلنے لگی۔۔” سنیے مس! موسم ایسا نہیں کہ آپ چہل قدمی کرتے ہوئے گھر پہنچ سکیں ۔” وہ تیز قدموں سے اس کے برابر میں چلنے لگا۔۔میرے پاس اپنی کار ہے میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں ۔” پاؤلا نے انکار کرنے کا سوچا مگر حقیقت یہی تھی کہ ایسے موسم میں پیدل چل کر گھر پہنچنے میں اسے ایک ڈیڑھ گھنٹہ لگ سکتا تھا۔” کیا مجھے جیمس کی پیشکش قبول کر لینی چاہیے ” اس نے چند لمحے سوچا ۔۔لائبریری سے اس کے گھر کا فاصلہ کار پر صرف بیس منٹ میں طے ہو سکتا تھا۔” کسی ناخوشگوار واقعے کے لیے بیس منٹ کافی نہیں ہوں گے، اور پھر مرکزی سڑک پر کچھ نہ کچھ ٹریفک تو ضرور ہو گا۔ایسے میں جیمس کے ارادے اگر خراب ہوئے بھی تو اس سے نمٹا جا سکتا ہے” دل ہی دل میں جوڑ توڑ کرنے کے بعد اس نے آمادگی ظاہر کر دی اور وہ دونوں پارکنگ ایریا میں کھڑی جیمس کی پرانی سرخ فئییٹ کی طرف بڑھ گئے۔
اندر بیٹھ کر جیمس نے ہیٹر چلا دیا اور تھوڑی ہی دیر میں اندر کا ماحول خوشگوار حدت سے بھر گیا۔
وہ خاموشی سے پاؤلا کے بتائے ہوئے راستے پر کار چلا رہا تھا۔۔وہ وقفے وقفے سے ایک نظر اس پر ڈال لیتی ۔کچھ ہی دیر میں اس کے اعصاب پر چھایا تناؤ دور ہونے لگا۔” شاید میں کچھ زیادہ ہی غلط سوچ رہی تھی۔۔ یہ تو ایک ہمدرد انسان معلوم ہوتا ہے ” وہ اپنے کچھ دیر پہلے کے تجزیے کو غلط قرار دیتے ہوئے زیرلب مسکرا دی۔
پاؤلا کے گھر پہنچنے تک وہ مکمل طور پر پرسکون ہو چکی تھی اور اب اسے اپنی مکڑیوں کی فکر ستائے جا رہی تھی۔

جیمس نے اسے گھر کے دروازے پر اتارا تو شکریے کے الفاظ کے ساتھ پاؤلا نے اسے ایک ڈرنک کی آفر بھی کر دی” بہت شکریہ مس پاؤلا مگر مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کی یہ پیشکش قبول نہیں کر سکوں گا۔مجھے کچھ نجی نوعیت کے کام نمٹانے کے بعد اپنے لیے کچھ کھانے کو بھی خریدنا ہے۔امید ہے ہم پھر ملاقات کریں گے” جیمس نے معذرت خواہانہ انداز میں انکار کرتے ہوئے کہا تو پاؤلا کے ذہن میں جو اس کا پہلا تاثر بنا تھا وہ یکسر بدل گیا۔ اب وہ اسے ایک قابل بھروسہ اور مہذب انسان کے طور پر سمجھ رہی تھی ۔رسمی کلمات کی ادائیگی کے بعد جیمس اپنی کار کی طرف بڑھ گیا اور پاؤلا نے اندر داخل ہو کر دروازہ بند کر دیا۔
اپنے معمولات نمٹاتے ہوئے بھی وہ جیمس اور اس ملاقات کے بارے میں سوچتی رہی ۔وہ دل ہی دل میں اپنے خیالات پر شرمندہ بھی تھی۔ وہ ایک مہربان انسان تھا ” شاید تنہائی کی زندگی بسر کرتے کرتے مجھے انسانوں کی پہچان میں بھی دشواری ہونے لگی ہے” وہ مکڑیوں کے کمرے کی طرف جاتے ہوئے سوچ رہی تھی۔وہ بھوکی تھیں اور بے تابی سے اپنے کاؤنٹرز اور مرتبانوں میں منڈلا رہی تھیں ۔۔اس نے انہیں خوراک ڈالی اور شب خوابی کا لباس بدل کر اپنے بستر پر آ گئی۔
نیند کی وادی میں اترتے ہوئے بھی اس کے ذہن میں جیمس کا ہی خیال تھا۔

اگلی صبح موسم بے حد خوشگوار تھا ۔ بادل چھٹ چکے تھے اور چمکیلی دھوپ ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔وہ اپنے آپ کو بہت تروتازہ اور چست محسوس کر رہی تھی ۔ ۔
آج اس نے اپنے بہترین لباس کا انتخاب کیا تھا اور بالوں کو عمدگی سے جمائے وہ اب فرینک کی دکان کی سمت بڑھ رہی تھی۔۔ چمکیلی دھوپ کی حدت نے اس کے بدن میں ایک توانائی سی بھر دی تھی۔
وہ دکان پر پہنچی تو فرینک کو ایک اونی ٹوپی میں منہ چھپائے بیٹھے دیکھا ۔
“ارے کیا ہوا فرینک؟ ؟؟ تم ٹھیک تو ہو” پاؤلا نے تشویش سے پوچھا۔۔جواب میں فرینک نے دو تین زوردار چھینکوں کے وقفے میں اسے بتایا کہ کل رات سے وہ زکام کا شکار ہے۔
” اوہ!! یہ تو برا ہوا۔۔۔خیر! اگر تم چاہو تو آرام کر سکتے ہو ۔۔میں دکان سنبھال لوں گی” اس نے ہمدردانہ لہجے میں فرینک سے کہا۔” ہاں! ! مجھے بھی ایسا لگتا ہے کہ مجھے آرام کرنا چاہیے۔”وہ زکام زدہ آواز میں کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ پاؤلا ایک قابل بھروسہ ورکر تھی اور اس نے آج تک کبھی فرینک کو شکایت کا موقع نہیں دیا تھا نہ ہی اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی تھی۔لہذا وہ مطمئن ہو کر چند ضروری ہدایات کے بعد دکان اس کے حوالے کر کے گھر چلا گیا ۔

وہ بہت ہی مصروفیت بھرا دن تھا اور آج بکنے والے نوادرات میں ملکہ مصر کا مرتبان بھی شامل تھا۔ جب پاؤلا گاہک کو اس سے جڑی کہانی سنا رہی تھی تو وہ ہنس دیا۔” مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ یہ واقعی ایک ملکہ کا مرتبان ہے یا نہیں ۔۔مگر مجھے کہانی اچھی لگی” اس نے ضروری کاغذی کارروائی پر دستخط کرتے ہوئے کہا اور مرتبان احتیاط سے اٹھائے دکان سے نکل گیا۔
وہ تادیر اس کہانی کے بارے میں سوچتی رہی۔۔۔”اگر میں اس ملکہ کی جگہ ہوتی۔۔۔تو۔۔۔” وہ دھیمے سے بڑبڑائی ۔۔” ہاں میں بھی یہی کرتی مگر شاید کسی مختلف انداز میں ۔۔دھوکہ دینے والوں کو سب سے کڑی سزا دینی چاہیے ” کچھ مزید گاہکوں کی آمد سے اس کے خیالوں کا ارتکاز ٹوٹ گیا اور وہ کام میں مصروف ہو گئی ۔۔
شام ہوتے ہوتے وہ اس قدر تھک چکی تھی کہ اس نے لائبریری جانے کا خیال ترک کر دیا اور قصبے کے بازار سے کچھ ضروری سامان جن میں مکڑیوں کی خوراک بھی شامل تھی خریدنے کے بعد گھر چلی آئی۔
جب وہ شب خوابی کا لباس پہنے گھر کے دروازے اور کھڑکیوں کا جائزہ لے کر ان کے بند ہونے کا اطمینان کر رہی تھی تبھی اس کی اطلاعی گھنٹی گونج اٹھی۔۔پاؤلا نے حیران ہوتے ہوئے دیوار گیر گھڑی کی جانب دیکھا جو رات کے سوا نو بجا رہی تھی۔۔اس وقت کسی کے آنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔پڑوسیوں سے اس کے تعلقات نہ ہونے کے برابر تھے اور نہ ہی پاؤلا کا کوئی حلقہ احباب تھا۔تو پھر یہ گھنٹی۔۔؟؟؟ وہ محتاط قدموں سے چلتی ہوئی مرکزی دروازے پر آئی اور دروازے پر بنی جھری سے باہر جھانکنے لگی۔ ہلکی زرد لیمپ پوسٹ کی روشنی میں اسے جیمس کی سرخ فئییٹ اور منتظر کھڑے جیمس کو جھلک نے خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔
اس نے جلدی سے دروازہ کھولا اور جیمس دو قدم آگے بڑھ کر اس کے مقابل آ گیا۔ ” ہیلو پاؤلا! امید ہے میں نے پریشان نہیں کیا ہو گا۔” وہ مہذب انداز میں اس سے مخاطب ہوا۔”نہیں بالکل نہیں! ! اندر آ جائیں ۔” وہ ایک طرف ہو کر اسے راستہ دیتے ہوئےبولی ۔ جیمس گھر میں داخل ہوا تو اس نے دروازہ بند کر دیا اور اسے مختصر سے لاؤنج میں لے آئی جہاں ایک طرف چھوٹا سا بار اور کاؤنٹر کچن بھی تھا۔
جیمس کو بٹھا کر اس نے دو جام تیار کیے اور ہاتھ میں لیے لاؤنج میں آ گئی۔ جیمس نے شکر گزار ہوتے ہوئے ڈرنک تھام لی اور پاؤلا سامنے بیٹھ کر اس کی آمد کا موجب پوچھنے لگی ۔

” دراصل پاؤلا ۔ ۔ آپ کل شاید جلدی میں لائبریری سے نکلتے ہوئے اپنی ڈائری میز پر بھول آئی تھیں ۔میں نے بھی دھیان نہ دیا۔ آج صبح جب میں لائبریری پہنچا تو یہ مجھے مل گئی۔ ” اس نے بولنے کے دوران پاؤلا کی بھوری چرمی جلد والی ڈائری اس کے سامنے رکھ دی ۔” میں نے اسے سنبھال لیا اور میرا ارادہ تھا کہ آج آپ کے آنے پر اسے آپ کے حوالے کر دوں گا لیکن آپ آج نہیں آئیں تو میں یہ سوچ کر چلا آیا کہ شاید آپ کو تاحال ڈائری کے گمشدہ ہونے کا علم نہیں ہوا ہے” اس نے تفصیلی جواب دیتے ہوئے ڈرنک کا آخری گھونٹ بھرا۔

“ارے ہاں! مجھے واقعی ڈائری کی گمشدگی کی خبر نہیں ہو سکی۔۔دراصل آج کا دن اس قدر مصروفیت بھرا تھا کہ مجھے اپنے مشاغل کے لیے بالکل بھی وقت نہیں ملا۔”پاؤلا نے ممنونیت سے لبریز مسکراہٹ سے کہا۔ جیمس اب گردوپیش کا جائزہ لے رہا تھا ۔لاؤنج میں لگے پردوں، تصویروں اور مینٹل پیس پر رکھی آرائشی اشیا میں ایک شے یکساں تھی ۔مکڑی!! اس کی آنکھوں میں الجھن سی تیر گئی اور پاؤلا اسے محسوس کر کے زیرلب مسکرا دی۔ اس کے شوق سے ناواقف لوگ عموماً  یونہی حیران ہوا کرتے تھے۔ جیمس نے پاؤلا کی طرف دیکھا جو ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے یوں بیٹھی تھی کہ داہنی پنڈلی پر گدی مکڑی جو ایک نر مکڑے کو اپنے شکنجے میں دبوچے ہوئے تھی، بالکل واضح نظر آ رہی تھی۔ وہ اس عجیب سی عورت اور پراسرار سے ماحول میں سخت بے چینی و بے آرامی محسوس کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ ” میرا خیال ہے مجھے چلنا چاہیے ، کل لائبریری میں ملاقات ہو گی” وہ اپنی کار کی چابیاں اور پرانا بھدا سا موبائل فون اٹھاتے ہوئے بولا۔ پاؤلا بھی کاوچ سے اٹھی اور جیمس کے ساتھ چلنے لگی۔ اس نے ایک بار پھر جیمس کا شکریہ ادا کیا اور اس کے جانے کے بعد بتیاں بجھا کر بستر پہ آ گئی۔ لاشعوری طور پر وہ جیمس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ اسے جیمس کا آنا اچھا لگا تھا ۔۔

اگلی سہ پہر لائبریری جانے سے پہلے اس نے ایک چھوٹا سا گلدستہ خریدا اور تہنیتی رقعے کے ہمراہ جیمس کے ڈیسک پر رکھ آئی۔ آج اسے مطالعے میں خاطر خواہ دلچسپی محسوس نہیں ہو رہی تھی اور اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ جیمس سے کچھ گفتگو کرے۔ اس نے آج جان بوجھ کر لائبریری سے اٹھنے میں تاخیر کی اور جیمس بھی کچھ جلدی فراغت پا کر اس کی میز پر چلا آیا۔ گفتگو کا سلسلہ آہستہ آہستہ چل نکلا اب وہ قدرے بے تکلفانہ انداز میں باتیں کر رہے تھے جبھی جیمس کو کچھ خیال آیا ” ارے!! مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی ۔ تمہارے گھر میں ہر جگہ مکڑیوں کی تصاویر کا کوئی خاص مقصد ہے؟؟ ” اس نے متجسس انداز میں پوچھا۔ ” میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگ مکڑیوں کو اچھے شگون اور نیک روحوں کی علامت کے طور پر پسند کرتے ہیں ” وہ زیرلب مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا۔

پاؤلا اس کی بات سن کر حزن آمیز انداز میں مسکرا دی اور کچھ توقف کے بعد دھیرے سے گویا ہوئی ” نہیں جیمس!!! مجھے ایسے کسی عقیدے پر یقین نہیں ۔۔دراصل میری زندگی میں سوائے مکڑیوں کے کسی کا ساتھ نہیں ۔میں کام کے بعد کا سارا وقت اپنی پالتو مکڑیوں کے ساتھ ہی گزارتی ہوں ۔۔بس اسی لیے۔۔۔۔۔” وہ بات ادھوری چھوڑ کر ڈائری پر بے مقصد لکیریں کھینچنے لگی۔
“ٹھیک ہے!! لوگ تنہائی سے اکتا کر پالتو جانور رکھ لیتے ہیں مگر وہ عام طور پر بلیاں کتے خرگوش وغیرہ ہوتے ہیں ۔ مکڑیاں تو۔۔۔۔” اس نے حیرت سے کہتے ہوئے پاؤلا کی طرف دیکھا ۔
پاؤلا نے سرد آہ بھر کر اسے دیکھا۔” تم نہیں سمجھ سکتے جیمس کہ مجھے ان سے اتنی محبت کیوں ہے۔ ” جیمس ذرا سا آگے جھک آیا ” اگر تم بتانا پسند کرو تو مجھے بے حد خوشی ہو گی پاؤلا ” ۔پاؤلا کا دل جیمس کے ہمدردانہ انداز سے بھر سا آیا اور وہ آہستہ آہستہ اپنی داستان جیمس کے گوش گزار کرنے لگی۔۔ ” جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے علاوہ اپنی چھوٹی بہن پامیلا اور ماں روزا کے چہروں سے ہی شناسائی حاصل کی۔۔ ماں ایک نائٹ کلب میں ویٹرس تھی اور باپ “!! وہ تلخی سے ہنسی ۔ ” وہ پاملا کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی میری ماں کو چھوڑ چکا تھا۔” جیمس پوری دلجمعئ سے اس کی داستان سن رہا تھا۔ ” ہم ایک نہایت ہی بوسیدہ اور غلیظ فلیٹ میں رہا کرتے تھے جہاں ہر طرف چوہوں اور دوسرے کیڑے مکوڑوں کی بھرمار تھی ” وہ کھوئے کھوئے انداز میں خلا میں تکتی ہوئی بولے جا رہی تھی گویا تلخ ماضی اس کی آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی مانند چل رہا ہو۔ ۔

” میں ان دنوں چار یا پانچ سال کی رہی ہوں گی۔۔ماں نائٹ کلب کی نوکری کے علاوہ ایک مقامی لانڈری میں کپڑوں کی دھلائی پر بھی مامور تھی اور وہ اتنی محنت اس لیے کر رہی تھی تا کہ ہم کسی اچھے علاقے میں اپنا چھوٹا سا ٹھکانہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں ۔” پاؤلا کی آواز سنسان لائبریری میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔” میں بچپن میں بہت ضدی اور بدمزاج بچی ہوا کرتی تھی ۔مجھے نصف رات تک اندھیرے اور غلیظ گھر میں تنہا رہنے کے خیال سے اتنی دہشت ہوا کرتی تھی کہ جب ماں کے کام پہ جانے کا وقت ہوتا تو میں چلا چلا کر آسمان سر پر اٹھا لیتی ۔میں چاہتی تھی کہ ماں مجھے اپنے ساتھ لے جائے اور مجھے تنہائی کے اس عفریت سے جنگ نہ کرنی پڑے لیکن ظاہر ہے کلب کی انتظامیہ ایسی کسی صورتحال کو قبول نہیں کر سکتی تھی اور ماں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کہ وہ کسی کیئر ٹیکر کا انتظام کر سکے تو میرے رونے چلانے پر وہ مجھے اور پامیلا کو اس چھوٹے سے کمرے میں بند کر دیتی تھی جسے ہم سٹور روم کہتے تھے اور اس میں کاٹھ کباڑ اور ناکارہ اشیا کا انبار لگا رہتا تھا۔ کچھ پانی، بسکٹوں اور ایک پرانے فوم کے گدے کے ساتھ ہمیں بند کر دیا جاتا تھا ” پاؤلا کی آواز میں لرزش آنے لگی تھی اور اپنے ماضی کی پرتیں کھولتے ہوئے وہ اس وقت کی اذیت کو شاید پھر سے محسوس کر رہی تھی تبھی اس کے چہرے کے عضلات کھنچ چکے تھے۔جیمس نے نرمی سے اسکا ہاتھ تھپکا اور پانی کی چھوٹی سی بوتل کھول کر اس کی طرف بڑھا دی۔ پاؤلا نے مشکور ہوتے ہوئے دو گھونٹ بھرے اور شعوری کوشش سے خود پر قابو پا کر پرسکون نظر آنے کی سعی کرنے لگی۔

جیمس اس کی ادھوری داستان جاننے کو بے چین تھا مگر پاؤلا کی جذباتی حالت کے پیش نظر اس نے کوئی سوال کرنے سے گریز کیا اور خاموشی سے پاؤلا کے بولنے کا انتظار کرنے لگا۔ پاؤلا کچھ دیر اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم ملائے خاموشی سے میز کی سطح کو گھورتی رہی پھر دھیرے دھیرے اس نے ٹوٹا ہوا سلسلہ کلام جوڑا “پاملا ایک ہوشیار اور نسبتا چالاک بچی تھی ۔بند کیے جانے پر وہ گلا پھاڑ پھاڑ کر چلانے کے بجائے آرام سے بسکٹ وغیرہ کھاتی اور پھر مزے سے فوم کے گدے پر ٹانگیں پسار کر لیٹی رہتی یا سٹور میں موجود کاٹھ کباڑ سے کھیلتی رہتی ۔۔جبکہ میں “!! اس نے ایک خفیف سی جھرجھری لی۔” مجھے سٹور میں موجود مکڑیوں سے بے انتہا خوف آتا تھا۔۔میں صرف اس خوف سے جاگتی رہتی کہ میرے سونے کے دوران کوئی مکڑی میرے جسم پہ نہ رینگنے لگے۔ بار بار میں اپنے کپڑے جھٹکتی رہتی اور ماں کے آنے تک یہ اذیت مجھے مسلسل برداشت کرنا ہوتی تھی۔” پاؤلا کی آواز تھرتھرا رہی تھی۔۔۔”مجھے بے خوف سوئی ہوئی پاملا پہ رشک آتا اور مارے بے بسی کے میں گھٹتی آواز سے سسکتی رہتی۔۔اور پھر ایک دن۔۔۔” اس نے ایک طویل سانس لیا۔۔۔”اور پھر ایک دن وہ جادوئی پل میری زندگی میں در آیا جس نے مجھے مکڑیوں کے خوف سے آزاد کر کے ان کی محبت میں مبتلا کر دیا۔”جیمس سانس روکے اس کی داستان سن رہا تھا۔۔” اس دن پاملا کو بخار تھا۔۔اور ماں اسے اپنے ساتھ لے گئی تھی تا کہ لانڈری سے واپسی پر وہ اسے ڈاکٹر کے ہاں لے جا سکے۔۔ماں کا ارادہ تھا کہ نائٹ کلب جانے سے پہلے وہ اسے واپس گھر چھوڑ جائے گی۔۔اور وہ چند گھنٹے میری زندگی کی کایا پلٹ گئے جب میں صحیح معنوں میں اس نیم تاریک سٹور میں بالکل تنہا تھی۔” ۔پاؤلا دھیرے دھیرے بول رہی تھی۔

” میں فوم کے گدے پر ٹانگیں سمیٹے اور دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں کے گرد لپیٹے دہشت سے نیم جان ہو رہی تھی اور تبھی۔۔۔تبھی ایک بڑی سی مکڑی جانے کیسے گدے پر آ گئی وہ میرے پاؤں کے انگوٹھے سے کچھ انچ کے فاصلے پر ساکت بیٹھی تھی ۔۔خوف کی شدت نے مجھے ٹھٹھرا دیا تھا۔۔اتنا کہ میں اپنی آنکھیں بھی مکڑی سے ہٹا نہیں پا رہی تھی۔۔” پاؤلا کی داستان سنسنی خیز مقام پر پہنچ چکی تھی۔”اور پھر جانے کیسے ۔۔؟؟اس پہ نظر جمائے ہوئے میرا خوف دھیرے دھیرے زائل ہونے لگا۔۔مکڑی آہستہ آہستہ رینگتی ہوئی گدے سے اتری اور دیوار کے کونے میں جا کر چپک گئی۔۔میں آہستہ سے اس جانب کھسکی اور پھر میں نے خود کو “ہیلو” کہتے ہوئے سنا۔۔!! کیا تم اندازہ کر سکتے ہو جیمس؟ میں مکڑی کو ہیلو کہہ رہی تھی۔ مجھے ایسے لگا جیسے اس تنہائی کے عقوبت خانے میں یہ مکڑی میری رفیق۔۔میری ساتھی ہے۔۔میں دھیرے دھیرے مکڑی سے باتیں کرنے لگی۔۔اور وہ واضح طور پر میری ہر بات کے جواب میں ذرا سی حرکت کر رہی تھی۔۔مجھے یقین ہو گیا کہ وہ میری بات سن اور سمجھ رہی ہے۔۔اور ماں اور پاملا کے آنے تک میرا خوف مکمل طور پر غائب ہو چکا تھا۔۔اتنے سالوں میں وہ واحد دن تھا جب مجھے مکڑیوں سے۔۔تنہائی سے اور سٹور کے اندھیرے سے خوف نہیں آیا تھا ۔

اور پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ میری محبت مکڑیوں سے بڑھتی گئی۔۔حتی کہ ماں اب ہمیں سٹور میں بند کرنا چھوڑ چکی تھی مگر پھر بھی میں گھنٹوں سٹور روم میں بیٹھی مکڑیاں تلاش کرتی رہتی۔۔ان سے مخاطب ہونا میری واحد تفریح تھی۔۔وہ ماں کی طرح مجھے درشتی سے خاموش ہونے کا نہیں کہتی تھیں ۔۔نہ ہی پاملا کی طرح میری باتوں کا مذاق اڑا کر مجھے احمق غبی اور گاودی قرار دیتی تھیں ۔۔” باہر رات اب گہری ہو چکی تھی۔”پاؤلا میرا خیال ہے اب ہمیں چلنا چاہیے ” جیمس نے اسے دھیرے سے مخاطب کیا۔۔

” اوہ! ہاں۔۔وہ زبردستی کی بشاشت خود پہ طاری کرتی ہوئی اٹھی کھڑی ہوئی ۔آج جیمس کے کہے بغیر ہی وہ اس کے ساتھ اس کی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔۔ پاؤلا کے گھر تک کا راستہ دونوں نے خاموشی سے طے کیا اور جیمس نے جب اسے اس کے دروازے پر اتارا تو جانے کس جذبے کے تحت پاؤلا نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔التجا۔۔۔جذبات یا خوف”!! جانے اس کی آنکھوں میں کیا تھا۔؟ جیمس فیصلہ نہ کر سکا اور اس کے ساتھ اندر چلا آیا۔۔
اس رات پاؤلا پر آشکار ہوا کہ زندگی محض مکڑیوں سے محبت کرنے کے لیے نہیں بنی۔۔ایک ساتھی۔۔مکڑیوں سے زیادہ اہم ہوا کرتا ہے۔صبح جب وہ جیمس کے بازو سے لپٹی ہوئی بستر پر لیٹی تھی تو جیمس کو جانے کیا خیال آیا۔” پاؤلا ۔۔تمہاری داستان تو ہنوز ادھوری ہے ۔۔مکڑیوں سے محبت والی ” وہ شرارت سے مسکرایا تو پاؤلا بھی ہنس دی۔۔۔اس نے جیمس کے بازو کے حلقے سے خود کو آزاد کیا اور بال سمیٹتے ہوئی بولی” داستان کچھ خاص نہیں ۔۔کچھ عرصہ بعد ماں نے یہ مکان خرید لیا جس میں، میں آج رہ رہی ہوں اور ہمیں یہاں آئے ہوئے سات ماہ گزرے تھے۔کہ نائٹ کلب میں ہونے والا ایک معمولی جھگڑا سنگین نوعیت اختیار کر گیا ۔۔فائرنگ کے نتیجے میں جو تین لوگ مرے ان میں ایک میری ماں بھی تھی ۔۔میں تب تک ہائی سکول ختم کر چکی تھی اور ایک گروسری سٹور میں کام کیا کرتی تھی۔پاملا بھی جلد ہی ایک گیس اسٹیشن کی ٹک شاپ پر کام کرنے لگی۔۔یوں ہم زندگی کی گاڑی کو مشکل سے ہی سہی، مگر کھینچنے لگے۔۔اور پھر کچھ عرصے بعد میں فرینک کی نوادرات کی دکان پر کام کرنے لگی ۔فرینک اچھا انسان ہے لہذا اب میں مستقل اسی کے ساتھ کام کرتی ہوں ۔اور رہی پاملا تو وہ ایک فیشن فوٹوگرافر کے ساتھ اپنا مستقبل بنانے نیو یارک چلی گئی۔۔اب اس گھر میں، میں اپنی مکڑیوں کے ساتھ رہتی ہوں جو میں اپنی تنخواہ کی بچت سے خریدتی رہتی ہوں ۔

” پاؤلا اپنی داستان سمیٹ کر بستر سے اتر گئی اور جیمس دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھے پرسوچ انداز میں چھت کمرے کی چھت کو گھورنے لگا۔۔
آنے والے دنوں میں پاؤلا اور جیمس بہت تیزی سے ایک دوسرے کے نزدیک آئے تھے۔اب اکثر پاؤلا اپنی نوکری کے اوقات ختم ہونے کے بعد جیمس کے ساتھ سینیما،تھیٹر یا اسی نوعیت کی دیگر تفریحات کے لیے چلی جاتی اور جیمس کی راتیں بھی کثرت سے پاؤلا کے مکان پر ہی گزرنے لگیں ۔پاؤلا جیمس کے اس التفات سے اکثر حیران ہو کر اس سے وجہ پوچھ لیتی کہ اسے اپنی شخصیت کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہیں تھی۔وہ جانتی تھی کہ وہ ایک بے کشش اور پھیکی عورت ہے مگر جیمس اس کو والہانہ انداز میں لپٹا لیتا اور اس کے کانوں میں محبت بھری سرگوشیوں میں بتانے لگتا کہ وہ پاؤلا کی ہمدرد فطرت اور سادہ طبع کا دل سے معترف ہو چکا ہے۔ غرضیکہ پاؤلا کی زندگی پھولوں کی سی سبک گزر رہی تھی۔اب پاؤلا دل ہی دل میں اس دن کی منتظر تھی جب جیمس اس کے ہاتھ میں شادی کی انگوٹھی پہناتا۔۔اب تو اکثر فرینک بھی اسے جیمس کے حوالے سے چھیڑتا رہتا تھا اور وہ مسکرا کر سر جھکا لیتی۔اس کی دلچسپی اب مکڑیوں میں خاطر خواہ حد تک کم ہو چکی تھی ۔وہ اب نئے دیدہ زیب ملبوسات اور سامان آرائش کی خریداری بھی کرنے لگی تھی۔دراصل وہ جیمس کو اچھی لگنا چاہتی تھی اور اس کے لیے وہ ہر ممکن کوشش بھی کر رہی تھی۔ اکثر خیالوں ہی خیالوں میں وہ جیمس کے ہمراہ خوبصورت ساحلوں اور انوکھے جزیروں کی سیر کر رہی ہوتی اور حقیقت کی دنیا میں آنے کے بعد بھی وہ اپنے من پسند تصورات سے محظوظ ہوتی رہتی۔

یہ پاؤلا اور جیمس کے تعلقات کے قائم ہونے کے چار ماہ بعد کی شام تھی۔ دو دن سے جاری بوندا باندی نے موسلا دھار بارش کا روپ دھار لیا تھا ۔ دکان بند ہونے کے بعد موسم کی صورتحال دیکھتے ہوئے اس نے لائبریری جانے کا ارادہ ترک کر دیا مگر پھر اسے یاد آیا کہ وہ آج رات کے کھانے پر جیمس کو مدعو کر چکی ہے اور انہوں نے طے کیا تھا کہ وہ لائبریری سے اکٹھے ہی چلیں گے ۔ بادل نخواستہ وہ پیدل ہی لائبریری کی طرف چل پڑی ۔بارش کی تیز بوچھاڑ نے اسے خاصا بھگو دیا تھا ۔ وہ جیمس کے کیبن میں داخل ہونے ہی والی تھی کہ اسے اندر سے آتی باتوں کی آواز نے چونکا دیا۔جیمس کسی سے فون پہ بات کر رہا تھا۔ پاؤلا کچھ دیر خاموش کھڑی رہی اور پھر چند منٹ کے انتظار کے بعد اس نے دروازے کی ناب گھمائی ۔ وہ اس کی توقع کے عین مطابق بند تھا ۔۔اس نے ہلکا سا دباؤ ڈالا تو جیمس جو اب اپنا کام سمیٹ رہا تھا ، اسے پاؤلا کی آمد کا خیال آیا۔ اس نے جھٹ سے دروازہ کھولا ” ارے تم کب آئیں! “؟؟ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا مگر جانے کیوں پاؤلا کو اس کا لہجہ کھوکھلا سا لگا۔ ” بس ابھی ہی ۔۔اور سیدھی تمہارے پاس چلی آئی۔۔میرا خیال ہے اب ہمیں چلنا چاہیے ۔۔” پاؤلا نے مسکرا کر جیمس کی کہنی تھام لی۔اور چہرہ تقریباً  اس کے کندھے میں گھسائے چلنے لگی۔۔جیمس نے لائبریری بند کی اور کار کی نشست پر بیٹھنے تک وہ پاؤلا کی عجیب سی جذباتی کیفیت کی وجہ سمجھنے سے قاصر تھا۔ وہ اس سے شدت سے لپٹی جا رہی تھی یہاں تک کہ اس نے کار چلاتے جیمس کا ہاتھ دبوچ کر اپنے چہرے سے لگا لیا۔ اس موقع پر جیمس کو مداخلت کرنا پڑی ” ارے پاؤلا !! سٹیرنگ بہک رہا ہے۔۔خود پر قابو رکھو۔۔۔ہم بس پہنچ ہی رہے ہیں ” اس نے اپنی ازلی نرم دلی سے اسے مزید پیش رفت سے روکا اور کچھ ہی دیر میں وہ گھر پہنچ چکے تھے۔۔جیمس نے کوٹ اتارا اور آتش دان سلگانے لگا جبکہ پاؤلا ایک ٹرے میں وہسکی اور دیگر لوازمات لے آئی ۔ اس نے ٹرے درمیانے میز پر رکھ دی اور خود جیمس کی کمر سے آ لپٹی۔۔ جیمس نے اسے نرمی سے علیحدہ کیا اور ڈرنک بنانے لگا۔۔

وہ آپس میں محبت بھری شرارتیں کرتے ہوئے پی رہے تھے جب پاؤلا نے گھڑی پر نظر ڈالی اور جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ “ارے ! اتنا وقت گزر گیا اور مجھے ابھی ڈنر کے لیے  سوپ بھی تیار کرنا ہے۔ ” اس نے خالی گلاس ٹرے میں رکھا اور معذرت خواہانہ انداز میں جیمس سے مخاطب ہوئی ” میں آج کھمبیوں اور بطخ کے گوشت کا سوپ بناؤں گی۔۔میں اپنی کھمبیاں لے آتی ہوں ۔امید ہے تم ان کا ذائقہ پسند کرو گے” اس نے مسکراتے ہوئے جیمس کی ناک دبائی اور باہر کی جانب چل دی۔
جیمس آرام دہ انداز میں پاؤں پسارے بیٹھا تھا ۔ تقریبا آدھا گھنٹہ گزر گیا تھا مگر پاؤلا ابھی تک باغیچے سے کھمبیاں لے کر واپس نہیں آئی تھی۔ وہ ابھی اس کے پاس جانے کا سوچ ہی رہا تھا جب پاؤلا کا مسکراتا ہوا چہرہ نمودار ہوا۔ اس کے ہاتھوں میں کھمبیوں سے بھری ایک ٹوکری تھی ” امید ہے مجھے زیادہ دیر نہیں ہوئی ہو گی۔ ۔میں کچن میں جا رہی ہوں ۔۔تم چاہو تو ٹی وی آن کر لو” ۔وہ محبت بھرے انداز میں اس سے مخاطب ہوئی اور پھر کچن کی طرف چل دی۔

جیمس کچھ دیر تو ٹیلی ویژن سے دل بہلاتا رہا پھر اکتا کر پاؤلا کے پاس کچن میں چلا آیا۔ وہ کھانا پکانے میں مگن تھی اور کچن میں اشتہا آمیز مہک پھیل رہی تھی۔ یقینا وہ ایک پرتکلف ڈنر تیار کر رہی تھی۔ جیمس نے ایک کرسی سنبھال لی اور سلاد کی سبزیاں اٹھا کر سلاد بنانے لگا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں اور ہنسی مذاق کے دوران ہی کھانا تیار ہو گیا جو دونوں نے مل کر میز پہ لگا دیا۔ جیمس نے ماحول مزید خوابناک بنانے کی خاطر روشنیاں گل کر کے میز پہ رکھی شمعیں روشن کر دیں

“پاؤلا! میں آج تمہیں ایک سر پرائز دینا چاہتا ہوں ۔۔مگر ڈنر کے بعد” جیمس نے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ پاؤلا ہنس پڑی اور جیمس کے پیالے میں سوپ ڈالتے ہوئے بولی” جیمس! میرے پاس بھی ایک سر پرائز ہے ۔۔۔مگر وہ تمہارے سرپرائز کے بعد ” اس نے کندھے اچکائے اور کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا ۔ کھانا بے حد لذیذ بنا تھا خاص طور پر بھنی ہوئی ٹرکی اور بطخ کے گوشت اور کھمبیوں سے بنا سوپ بے حد لاجواب تھا .۔ جیمس بے حد رغبت سے کھا رہا تھا جب اسکی نظر پاؤلا کی پلیٹ پر پڑی ۔وہ تھوڑی سی سلاد کو کانٹے سے آگے پیچھے کر رہی تھی اور اتنے لذیذ کھانے سے بے رغبت نظر آ رہی تھی ۔

” ارے پاؤلا! تم ٹھیک سے کھانا کیوں نہیں کھا رہیں؟ یہ سوپ تو بہت عمدہ ہے۔۔۔” جیمس نے استفسار کرتے ہوئے پاؤلا کی پلیٹ میں ٹرکی کا ایک ٹکڑا رکھ دیا۔ اب وہ اس کی جانب سوپ کا پیالہ بڑھا رہا تھا مگر پاؤلا نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔ ” نہیں جیمس!! دراصل آج دوپہر سے میرے پیٹ میں کچھ درد ہے۔۔شاید معدہ ٹھیک سے خوراک ہضم نہیں کر پا رہا۔۔سو اس وقت مجھے طلب نہیں ہو رہی “،” وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ کھانا بہت لذیذ تھا اور جیمس شاید ضرورت سے زیادہ ہی کھا چکا تھا تبھی اس کی آنکھیں نیند کے خمار اور آسودگی سے بوجھل ہو رہی تھیں ۔ وہ کھانے کی میز سے اٹھ کر لاؤنج میں آ بیٹھے اور چھوٹی چھوٹی خوبصورت باتوں اور مستقبل کی منصوبہ بندیوں میں انہیں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔۔ باہر رات دھیرے دھیرے اپنا سفر طے کر رہی تھی ۔

اگلی صبح پاؤلا کی آنکھ کسی الارم سے نہیں بلکہ دروازے پر ہونے والی مستقل گھنٹی اور پے در پے دستکوں سے کھلی تھی۔ ۔اس نے تھکن زدہ انداز میں آنکھیں مسل کر وقت دیکھا تو دن کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ وہ شب خوابی کے لباس کی ڈوریاں کستی ہوئی مرکزی دروازے کی طرف بڑھی اور دروازہ کھول دیا۔ باہر ایک پولیس کار کھڑی تھی جس کی نیلی اور لال بتیاں جل بجھ رہی تھیں اور شیرف ایک سارجنٹ کے ساتھ پاؤلا کے دروازے پر کھڑا تھا۔

” ہیلو مس پاؤلا! شیرف پیٹرک! ” اس نے اپنا پولیس بیج پاؤلا کو دکھاتے ہوئے اپنا تعارف کروایا۔ ” جی ! کہیے! میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں آفیسر؟ ؟” پاؤلا نے حیرت آمیز الجھن سے کہا ۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ پولیس اس کے دروازے پر کیوں آئی ہے ۔وہ دل ہی دل میں یاد کرنے کی کوشش کرنے لگی کہ کہیں اس نے کوئی ایسے نوادرات تو نہیں خریدے یا بیچے جن کی قانونی حیثیت مشکوک ہو مگر اسے  ذہن پر بہت زور دینے پر بھی یاد نہ آیا ۔ فرینک ویسے بھی ان معاملات میں بے حد احتیاط پسند تھا اور اس بات کا امکان کم ہی تھا کہ وہ چوری شدہ سامان خریدے یا فروخت کرے ۔ تبھی شیرف نے اسے اس الجھن سے نکالتے ہوئے اپنی بات کا آغاز کیا

” مس پاؤلا! دراصل ہمارے پاس ایک بری خبر ہے! ” ،”بری خبر! ؟؟ میں کچھ سمجھی نہیں آفیسر ” ؟وہ حیران نظروں سے پیٹرک کو دیکھ رہی تھی۔ “کیا آپ جیمس ڈاونزے کو جانتی ہیں “؟؟ شیرف اپنی عقابی نگاہیں اس کے چہرے پہ جمائے پوچھ رہا تھا ” جیمس!! ” وہ بڑبڑائی ۔۔ “”جی ہاں! ! میں اور جیمس اچھے دوست ہیں آفیسر!! مگر۔۔ ہوا کیا ہے؟؟ جیمس ٹھیک تو ہے !؟ ” وہ متفکر نظر آ رہی تھی۔ سارجنٹ اور شیرف کی نگاہیں چار ہوئیں اور چند لمحوں کی خاموشی کے بعد شیرف نے ہلکا سا کنکھار کر بات کا آغاز کیا۔ ” مجھے بہت افسوس سے اطلاع دینی پڑ رہی ہے مس پاؤلا ۔۔کہ شاید آپ کے دوست کے ساتھ کوئی جان لیوا حادثہ پیش آ گیا ہے۔ ” وہ اب چھڑی ہاتھ میں گھماتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا اور پاؤلا کا رنگ زرد ہو چکا تھا اس کے لب تھرتھرا رہے تھے۔ ” حادثہ! ! کیسا حادثہ! ؟؟ آفیسر میرے اعصاب کا امتحان نہ لو اور مجھے بتاؤ کہ جیمس کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا ہے ! ” وہ گھٹی ہوئی چیخ کی مانند آواز میں بولی اور سہارے کے لیے دروازے کو مضبوطی سے تھام لیا۔

” دراصل! ہماری پیٹرولنگ کار کو حادثے کا شکار ہوئی ایک سرخ فئییٹ برساتی نالے میں پڑی نظر آئی تھی۔ یہ آج صبح پانچ بجے کا واقعہ ہے ۔ جب ہم جائے حادثہ پر پہنچے اور بری طرح سے پچکی ہوئی کار کا جائزہ لیا جو آدھی کیچڑ اور پانی میں دھنسی ہوئی تھی تو ہمیں ایسے کاغذات ملے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ جیمس ڈاونزے کی ملکیت ہے۔ ۔ اور اس کے علاوہ۔۔ ” وہ رکا اور جیب سے شفاف پلاسٹک میں لپٹا ایک کارڈ اور انگوٹھی کی ڈبیا نکال لی۔ ” یہ اشیا ہمیں کار کے ڈیش بورڈ سے ملی ہیں اور غالبا ً اس نوادرات کی دکان کا کارڈ ہے جہاں آپ کاؤنٹر گرل کے طور پر کام کرتی ہیں ” آفیسر اسے تفصیلات سے آگاہ کر رہا تھا اور پاؤلا کو دنیا میں صرف اندھیرا نظر آ رہا تھا ۔وہ اب دونوں ہاتھ منہ پر رکھے دھیرے دھیرے سسکیاں لے رہی تھی ۔ ” جیمس!! آہ۔ یہ سب کیا ہو گیا۔۔ ” وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ ۔ شیرف نے اسے ایک نظر دیکھا اور بولا” مس پاؤلا! مجھے آپ پر گزرے اس صدمے کی شدت کا اندازہ ہے مگر مجھے پیشہ وارانہ ذمہ داری بھی پوری کرنی ہے۔ میں جیمس کے حادثے کے سلسلے میں تفتیش کر رہا ہوں اور اس کے لیے آپ کو ہمارے ساتھ پولیس سٹیشن چلنا ہو گا۔ آپ کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا کیونکہ کل آخری مرتبہ جیمس کو آپ کے ساتھ دیکھا گیا تھا ۔ ” پاؤلا نے دھیرے سے سر ہلایا اور بولی” ضرور آفیسر!! کیا آپ مجھے اتنی مہلت دیں گے کہ میں لباس بدل لوں “؟ وہ بے حد مضحمل دکھائی دے رہی تھی ۔ ” ضرور!! میں کار میں آپکا انتظار کر رہا ہوں ” وہ کہہ کر کار میں جا بیٹھا ۔

پاؤلا نے اندر آ کر منہ پر دو چار پانی کے چھینٹے مارے اور عجلت میں الماری سے جو لباس ہاتھ لگا وہ پہن کر اس نے گھر مقفل کیا اور پولیس کار میں آن بیٹھی۔ آفیسر اسی کا منتظر تھا جلد ہی وہ پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔ پاؤلا تمام راستے سسکتی اور رومال سے آنسو پونچھتی رہی تھی۔
پولیس سٹیشن پہنچ کر شیرف پیٹرک نے اسے ایک کمرے میں بٹھایا اور تفتیش کا آغاز کیا۔ ” مس پاؤلا! آپ جیمس ڈاونزے کو کب سے جانتی ہیں “؟؟ پاؤلا نے گہری سانس لی اور دھیرے دھیرے اسے جیمس سے ہوئی پہلی ملاقات، ان کے مابین بنتے ہوئے نئے تعلق اور دوستی کی بابت بتانے لگی” ہم نے کل رات کا کھانا اکٹھے، میرے گھر پہ کھایا تھا اور پھر تقریبا ساڑھے دس بجے جیمس نے یہ کہتے ہوئے واپسی کا ارادہ ظاہر کیا کہ اسے لائبریری میں آنے والے کتابوں کے عطیے کی فہرست تیار کرنی ہے اور کل پہلی فرصت میں اسے لائبریری کے رجسٹر میں ان کا اندراج اور تعداد میں ہوئے اضافے کو قلمبند کرنا ہے ۔ میں نے اسے روکنے کی کوشش کی ۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس قدر طوفانی بارش میں کار چلائے جبکہ وہ پئیے ہوئے بھی تھا۔ مگر۔۔۔وہ نہیں مانا اور دس بج کر پینتالیس منٹ پر میں نے اسے الوداع کہا۔۔۔” پاؤلا نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں اپنی بات کا اختتام کیا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔۔” ہم شادی کرنے والے تھے آفیسر۔۔۔۔آہ! میرے سب خواب بکھر گئے اور وہ بھی تب۔۔۔جب میں ماں بننے والی ہوں ۔۔میں کل رات جیمس کو یہ خبر سنانا چاہتی تھی مگر۔۔۔۔۔مجھے موقع ہی نہیں ملا۔۔۔آہ جیمس! ! وہ ہچکیوں کے درمیان کہہ رہی تھی۔ ۔

آفیسر نے ہمدردانہ انداز میں اس کا ہاتھ تھپکا اور خود پر قابو پانے کا مشورہ دے کر وہ اس کا بیان ریکارڈ کرنے لگا۔ جب وہ بیان ریکارڈ کروا چکی تو اس کے ذہن میں ایک خیال آیا ” آفیسر!! کیا میں ۔۔میں جیمس کی ۔۔۔میرا مطلب ہے کیا میں جیمس کو دیکھ سکتی ہوں ” وہ ہچکچاہٹ آمیز انداز میں کہہ رہی تھی۔ ” مس پاؤلا میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کی یہ خواہش فی الحال پوری نہیں کی جا سکتی کیونکہ ہمیں تاحال جیمس کی لاش نہیں ملی۔ متواتر بارشوں سے نالے میں طغیانی ہے اور ہمارا خیال ہے کہ پانی کے طاقتور تھپیڑوں نے جیمس کی لاش کو بہا دیا ہے۔ بہرحال ہماری ٹیم پوری تندہی سے اسے تلاش کر رہی ہے۔امید ہے جلد ہی ہم کسی نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ ” پیٹرک نے اسے تفصیلات سے آگاہ کیا ۔ اس دوران وہ پولیس سٹیشن سے ہی فرینک کو فون کر کے اس سانحے کے بارے میں بتا چکی تھی اور فرینک نے اسے پرسکون رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے جلد پولیس اسٹیشن پہنچنے کی یقین دہانی کرائی تھی ۔ ۔

ابتدائی دھچکے سے نکلنے کے بعد پاؤلا اب قدرے بہتر نظر آ رہی تھی۔ خاموشی سے دونوں ہاتھ گود میں رکھے اب وہ فرینک کی منتظر تھی۔ جلد ہی فرینک بھی آن پہنچا اور ضروری کارروائی کے بعد وہ پاؤلا کو اپنے ساتھ لے گیا۔ شیرف نے پاؤلا کو تحقیقات مکمل ہونے تک شہر سے باہر نہ جانے کی تنبیہہ کی اور پاؤلا اسے یقین دہانی کروا کر فرینک کے ساتھ اپنے گھر آ گئی ۔
اگلے دو ہفتوں تک بھی جیمس کی تلاش ناکامی کا شکار رہی شواہد اسے ایک حادثہ ثابت کرتے تھے کیونکہ جہاں سے کار حادثے کا شکار ہوئی تھی وہ ایک اندھا موڑ تھا۔ حفاظتی جنگلا بھی ٹوٹا ہوا تھا اور سڑک پر کار کے ٹائروں کے نشانات سے اندازہ ہوتا تھا کہ جیمس نے بریک لگانے کی بھرپور کوشش کی تھی ۔ غالبا فئییٹ کے بریک فیل ہو گئے تھے۔ ۔ اس دوران پاؤلا متعدد بار پولیس سٹیشن جانے کے علاوہ پولیس کو اپنے گھر کا جائزہ بھی دلوا چکی تھی اور کوئی بھی قابل گرفت بات نظر نہیں آئی تھی۔ یہ ایک سیدھا سادہ حادثے کا کیس تھا جو غالبا جیمس کے نشے میں ہونے اور کار کی بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی تھی کہ فئییٹ کی بریک خراب تھی۔
زندگی آہستہ آہستہ اپنی ڈگر پہ واپس آ رہی تھی۔

اس شام وہ طبیعت کی ناسازی کی بنا پر فرینک سے معذرت کر کے جلدی گھر آ گئی تھی اور اب آرام دہ لباس میں اپنی مکڑیوں کی خبر گیری کے لیے ان کے کمرے میں موجود تھی۔ اس سارے جھنجھٹ میں وہ ان سے بڑی حد تک غفلت برت رہی تھی اور دل ہی دل میں پشیمان ہونے کے بعد اس کا ارادہ تھا کہ وہ مکڑیوں کے جارز اور کاؤنٹر خوب اچھی طرح صاف کرے گی۔
کافی دیر وہ اس کام میں مصروف رہی پھر وہ کمرے میں موجود دیوار گیر شیلف کو دیکھنے لگی جس میں مکڑیوں کے جار رکھے تھے ۔ اس نے شیلف کے سب سے نچلے خانے میں رکھے ہوئے دو مرتبان ہٹائے اور شیلف کی لکڑی کی درز میں اپنی ایک انگلی پھیری ۔ وہاں ایک چھپا ہوا بٹن تھا ۔ وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر آہستگی سے باہر نکل آئی۔

کچھ دیر بعد وہ دوبارہ کمرے میں داخل ہوئی تو اس کے ہاتھوں میں دستانے اور منہ پر ایسا ماسک تھا جو ڈاکٹر آپریشن کے دوران پہنتے ہیں ۔ ایک ہاتھ میں اس نے ایک بند بوتل تھام رکھی تھی جو بالکل خالی تھی۔ اس نے بٹن کو چھوا ایک ۔دو۔۔تین بار ۔۔اور شیلف ہلکی سی آواز کے ساتھ اپنی جگہ سے سرکنے لگی۔ پاؤلا نے ٹارچ تھامی اور اس چھوٹے سے خلا سے اندر داخل ہو گئی۔ وہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اتنا چھوٹا کہ ایک انسان کو اس میں کھڑا ہونے کے لیے کمر تھوڑی جھکانی پڑتی تھی۔ ۔ وہ ٹارچ کی روشنی کے محدود دائرے کو کونے میں پڑی پلاسٹک شیٹ میں لپٹی کسی شے پر گھمانے لگی۔۔کمرے کی گھٹن زدہ فضا میں ایک گھناؤنی بو رچی ہوئی تھی۔ پاؤلا کچھ لمحے ساکت کھڑی رہی پھر وہ آگے بڑھی اور پلاسٹک میں لپٹی اس شے کے قریب پہنچ کر شیٹ کھولنے لگی۔ ۔بدبو شدید ہوتی جا رہی تھی اور پھر آخری تہہ کھول کر پاؤلا پیچھے ہٹی اور ٹارچ کی روشنی میں جیمس کا نیلا اور پھولا ہوا چہرہ نظر آیا۔ وہ ایک بھیانک منظر تھا ۔

جیمس کی آنکھیں حلقوں سے باہر تھیں اور سڑتے ہوئے گوشت کو لاتعداد سفید سنڈیوں نے بری طرح ڈھانپ رکھا تھا۔ پاؤلا بے تاثر نگاہوں سے جیمس کی لاش کو دیکھتی رہی پھر آگے بڑھ کر اس نے سنڈیوں کو خالی بوتل میں بھرنا شروع کیا۔ جب بوتل بھر چکی تو وہ جانے کے لیے پلٹی۔ پھر اسے جانے کیا خیال آیا۔ وہ جیمس کے نزدیک آئی اور پنجوں کے بل اس کے قریب بیٹھ گئی۔ ” ہیلو جیمس!!! وہ نفرت سے پھنکاری۔۔ امید ہے جہنم میں تم بہت اچھا محسوس کر رہے ہو گے۔ تم نے مجھے ایک دیو قامت مکڑی سے تشبیہ دی تھی۔۔ اب جانا؟ مکڑی کا انتقام کیسا ہوتا ہے۔۔؟

وہ جنونی انداز میں اس کی لاش پر ٹھوکریں مار رہی تھی۔۔۔چار ہفتے پہلے کی وہ شام اس کی یادداشت میں آج بھی ویسے ہی محفوظ تھی جب وہ برستی بارش میں جیمس کے ساتھ جانے کے لیے لائیبریری پہنچی تھی۔۔ اسے دو دن پہلے ہی اپنے حاملہ ہونے کا پتہ چلا تھا اور اس کا خیال تھا کہ وہ ایک پرتکلف ڈنر کے بعد جیمس کو یہ خوشخبری سنائے گی۔ ۔
عین اس وقت جب وہ جیمس کے کیبن میں داخل ہونے کے لیے دروازے کے ہینڈل کی طرف ہاتھ بڑھا رہی تھی ، جیمس کے قہقہے کی آواز پر چونک گئی جو فون پر کسی سے گفتگو کرتے ہوئے پاؤلا کا ذکر کر رہا تھا۔ ” ارے ! پاؤلا ایک آسان شکار ہے وہ بالکل تنہا ہے اور جس گھر میں وہ رہتی ہے اس کی تنہا مالک ہے ۔تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ مجھے اس سے کتنا فائدہ ہونے والا ہے۔

اور۔۔یوں بھی جو مکڑیاں اس نے پال رکھی ہیں، ان میں سے اکثر زہریلی ہیں اور اگر مکڑی کسی کو ” غلطی” سے ڈس لے تو ظاہر ہے ہم اسے حادثہ ہی کہیں گے۔۔ ” وہ شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے غلطی پر زور دے کر کہہ رہا تھا۔ باہر کھڑی پاؤلا کے خوابوں، امیدوں اور جذبات کی دھجیاں اڑ رہی تھیں اور وہ سکتے کی سی حالت میں تھی جب جیمس کی آواز پھر سے اس کے کانوں سے ٹکرائی ” ارے! تمہیں کیا خبر! اس عورت کی قربت کو برداشت کرنا کس قدر مشکل امر ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے مانو کوئی دیو قامت مکڑی تم پر اپنے مکروہ پیروں سے رینگ رہی ہے۔ ” اس کی آواز کے تمسخر نے پاؤلا پر اذیت کا ایک نیا در وا کر دیا تھا۔ اس کی خوش فہمیاں بری طرح اس کا منہ چڑا رہی تھیں ۔ جیمس کے کیبن میں داخل ہونے تک اس نے سوچ لیا تھا کہ جیمس کو اپنے ان ارادوں کا تاوان ضرور بھرنا ہو گا۔ ۔

تمام راستے وہ انتقام کے مختلف طریقوں پر غور کرتی رہی تھی ۔ ۔” انتقام کو غیر جانبدار ہونا چاہیے ” اس نے دل ہی دل میں دہرایا ۔ ملکہ مصر کے انتقام کی داستان اس کے ذہن کے پردے پر روشن ہو گئی تھی ۔
گھر پہنچنے اور ڈنر کی تیاری کے دوران بھی وہ مستقل بدلہ لینے کا طریقہ کار سوچتی رہی اور تبھی اس کے دماغ میں کچھ نیلی اور سرخ شے ایک جھماکے سے روشن ہو گئی۔۔ککر متے! اس کے کھمبیوں والے بکسوں میں جانے کیسے زہریلی کھمبیاں اگ آئی تھیں ۔ شاید اس نے جہاں سے کھمبیوں کے بیجوں والا پاؤڈر لیا تھا ان میں ککر متوں کے بیج بھی شامل ہو گئے تھے۔ ککر متے سرخ اور نیلی کھمبیاں تھیں جو زہریلی ہوتی ہیں اور ان کو کھانے والا پہلے گہری نیند میں چلا جاتا ہے اور پھر اسی دوران اس کا دل، گردے اور پھیپھڑے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ وہ انہیں تلف کرنا چاہتی تھی مگر مصروفیت کی بنا پر کر نہیں سکی تھی۔ اور اب وہی ککر متے اس کے انتقام کی ایک کڑی بننے جا رہے تھے۔

جیمس کو بالکل بھی شبہ نہیں ہوا تھا اور نصف رات کو جب وہ اس کی لاش کو ٹھکانے لگانے کے بارے میں سوچ رہی تھی تو اس کے ذہن میں ایک اچھوتا خیال آیا۔ وہ جیمس کی لاش کو استعمال کر سکتی تھی ۔ اس کی مکڑیاں! جنہیں پچھلے کچھ عرصے سے وہ جیمس کی وجہ سے نظرانداز کر رہی تھی ان کی خوراک کیا ہوتی تھی؟ سنڈیاں! وہ تیزی سے اپنے منصوبے پر عمل کرنے لگی۔ شیلف کے پیچھے موجود خفیہ جگہ ایک بہترین ٹھکانہ تھی اور اسے یقین تھا کہ پولیس وہاں اسے تلاش نہیں کر سکتی تھی اس نے جیمس کی لاش کو ایک بڑی پلاسٹک کی شیٹ میں اچھی طرح لپیٹا اور اس چھوٹے سے خفیہ کمرے میں لے آئی۔ وہ بہت سرعت سے کام کر رہی تھی ۔ اس نے بھنبھناتی ہوئی مکھیوں سے بھری بوتل اٹھائی اور ڈھکن کھول دیا ۔مکھیاں کمرے میں اڑنے لگیں ۔ یہ وہ مکھیاں تھیں جن کے لاروے یعنی سنڈیاں گوشت پر پلتی تھیں ۔ اب وہ جیمس کی لاش پر انڈے دیں گی اور کچھ ہی دنوں میں سنڈیاں جیمس کو چٹ کرنے لگیں گی۔ وہ آسودگی سے مسکرائی اور باہر نکل کر منصوبے کے دوسرے حصے پر عمل کرنے لگی۔

اس نے زہریلا سوپ تلف کرنے کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر برتنوں کو بھی توڑ کر کچرے میں ڈال دیا ۔ اب مسئلہ جیمس کی کار کا تھا۔ باہر بارش پوری شدت سے برس رہی تھی ۔ اس نے جیمس کی کار سٹارٹ کی اور اندھے موڑ کے قریب اس نے پوری شدت سے کار کو گھمانا شروع کیا۔ وہ وحشیانہ انداز میں کار کو آگے پیچھے کر رہی تھی اور تبھی اس کو اندازہ ہوا کہ وہ یہاں سے بآسانی کار کو برساتی نالے کی طرف دھکیل سکتی تھی۔ اس نے کچھ سوچا اور باہر نکل آئی۔ اس نے ایک بڑا پتھر تلاش کیا۔ کار کی بریک کو معمولی نقصان پہنچانے کے بعد اس نے اسے بالکل جنگلے کے قریب لا کھڑا کیا ۔ وہ بے خوفی سے اپنا کام کر رہی تھی کہ اس طوفانی رات میں اس چھوٹے سے قصبے میں مداخلت کا کوئی امکان نہیں تھا ۔ تھوڑی سی جدوجہد کے بعد وہ اسے دھکیلنے میں کامیاب ہو گئی تھی ۔کار ایک مہیب آواز کے ساتھ کھائی  کی نذر ہو گئی برساتی نالے کے ٹھاٹھیں مارتے پانیوں میں ایک چھپاکا ہوا اور پاؤلا کے دل میں سکون کی لہر پھیل گئی ۔ واپسی کے لیے اس نے سڑک کے بجائے پگڈنڈیوں کا راستہ اختیار کیا تھا۔ ۔

وہ جانتی تھی کہ پولیس اس سے پوچھ گچھ کرنے ضرور آئے گی مگر وہ مطمئن تھی ۔ جیمس کو تلاش کرنا ہرگز بھی آسان نہیں تھا اور اسے اس بات کی بھی پرواہ نہیں تھی کہ وہ پکڑی جائے گی۔ اس کے نزدیک اس کی زندگی کا مقصد جیمس سے انتقام لینے کے بعد پورا ہو چکا تھا۔
وہ واپسی کے لیے مڑی اور ایک مخصوص کیمیکل سپرے کرنے لگی جس نے کمرے میں پھیلی بدبو کو دبا دیا ۔ لاش پھر سے پلاسٹک میں لپیٹ دی گئی تھی ۔ اس نے اندازہ لگایا مزید دو سے تین ماہ میں سنڈیاں اسے مکمل ڈھانچے میں بدل دیں گی۔ ” گڈ نائٹ جیمس! وہ وحشیانہ انداز میں ہنسی اور باہر نکل آئی ۔ کیبنٹ کو لاک کرنے کے بعد اس نے ہاتھ میں پکڑی بوتل کھولی اور گنگناتے ہوئے مکڑیوں کے کاؤنٹرز اور جارز میں کلبلاتی ہوئی سنڈیاں ڈالنے لگی!

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مکڑی صفت۔۔مریم مجید ڈار

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *