شکیلہ رفیق اور شاعری کی پگڈنڈی….ڈاکٹر خالد سہیل

شکیلہ رفیق ایک طویل عرصے سے اردو افسانہ نگاری کی شاہراہ پر چل رہی تھیں پھر نجانےان کے جی میں کیا آئی کہ وہ افسانوں کی شاہراہ چھوڑ کر شاعری کی پگڈنڈی پر چل پڑیں۔ انہوں نے کچھ غزلیں لکھیں ,کچھ نظمیں رقم کیں۔ ان غزلوں اور نظموں میں ان کی سوچ’ ان کی فکر اور ان کی شخصیت کے مختلف رنگ بکھرے نظر آتے ہیں۔
ان کی شاعری میں ایک رنگ رومانویت کا رنگ ہے جو اردو غزل کا کلاسیکی رنگ ہے۔ایک الھڑ دوشیزہ کی محبت اور چاہت کا رنگ۔ اس کے نازک جذبات اور کومل احساسات کا رنگ ۔ملاحظہ ہو
؎ ستارو ! چال کیسی چل رہے ہو
وہ میرے پاس تنہا آ گیا ہے
علامت عشق کی شاید یہی ہے
اسے بننا سنورنا آ گیا ہے

شکیلہ رفیق کی شاعری میں جہاں ایک رنگ رومانویت کا ہے تو ایک اور رنگ روحانیت کا ہے جو کسی سنت سادھو اور صوفی کی شخصیت میں دکھائی دیتا ہے اور اس سے کیسی کیس کرامتیں کرواتا ہے
؎ مرا رستہ نہیں روکے گا دریا
مجھے پانی پہ چلنا آ گیا ہے
شکیلہ رفیق کی شاعری میں مشرقی عورت کے دکھوں اور سکھوں ’ امتحانوں اور آزمائشوں کے رنگ بھی نطر آتے ہیں۔ مشرقی عورت چونکہ ایک منافق معاشرے میں زندگی گزارتی ہے اس لیے اپنے سچ کے اظہار سے کتراتی ہے گھبراتی ہے۔ اسے یہ فکر دامنگیر رہتی ہے کہ اس کے ارد گرد کے ‘لوگ کیا کہیں گے’۔
؎ جی میں آتا ہے حجابوں سے میں نکلوں لیکن
کیا کروں مجھ کو زمانے کا خیال آتا ہے
اسی لیے وہ بہت سی باتیں چھپ کر کرتی ہے۔ اپنے محبوب سے چھپ کر ملتی ہے لیکن وہ یہ بھی جانتی ہے کہ
؎ روز آتا ہے ملنے چھپ چھپ کے
بات پھر بھی چھپی نہیں رہتی
شکیلہ رفیق اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ محبت مختلف کیفیات کا نام ہے کبھی ہجر ’کبھی وصال’ کبھی قربتیں ’کبھی دوریاں’ کبھی عنایتیں’ کبھی شکایتیں۔ وہ ان کیفیات کو اپنی شاعری میں اس طرح پیش کرتی ہیں
؎ وہ میرا ہے بھی اور نہیں بھی ہے
بے یقینی بھی ہے یقیں بھی ہے
مل بھی جاتا ہے کھو بھی جاتا ہے
دور ہے اور یہیں کہیں بھی ہے
شکیلہ رفیق کی شاعری میں عشق مجازی اور عشق حقیقی آپس میں بغلگیر ہو جاتے ہیں۔
شکیلہ رفیق اپنی زندگی کے تجربات اور مشاہدات سے اس مقام پر پہنچ جاتی ہیں جہاں وہ جانتی ہیں کہ زندگی کی ایک بڑی سچائی تنہائی ہے۔ بہت سے لوگ اس تنہائی سے نبھاہ نہیں کر پاتے اور پریشان ہو جاتے ہیں بعض اتنے گھبرا جاتے ہیں کہ ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔
لیکن جو لوگ اپنی تنہائی سے دوستی کر لیتے ہیں وہ جان جاتے ہیں تنہائی کا خاموشی اور دانائی سے گہرا رشتہ ہے کیونکہ تنہائی خاموشی اور دانائی پرانی سہیلیاں ہیں۔شکیلہ رفیق تنہائی اور دانائی کے رازوں سے واقف ہو گئی ہیں ورنہ وہ یہ نظم نہ لکھ پاتیں
تنہائی
جب وہ کہتے ہیں
تنہائی سے سمجھوتہ نہیں ہوتا
تب میں
ہنستی ہوں
کیسے نہیں ہوتا
یہ
تنہائی ہی تو ہے
جو ہمیشہ ساتھ دیتی ہے
باقی کون ہے
جو ساتھ دے
تنہائی کا ساتھ بھی چھوٹ گیا
تب کیا ہوگا
یہ اس کو
کون بتائے
جس کے بعد اک سناٹا ہے
اور اک
چپ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکیلہ رفیق نے شاعری کی پگڈنڈی پر چلتے چلتے چند غزلوں اور نظموں کے حسیں اور معنی خیز پھول چنے ہیں اور اپنے قارئین کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیے ہیں۔
میری شکیلہ رفیق سے پرانی اور پکی دوستی ہے۔میں نے اس دوستی سے تنہائی سچائی اور دانائی کے کئی راز جانے ہیں۔ میں ان کی دل کی گہرائیوں سے قدر کرتا ہوں۔ جس کا اظہار میں نے ان کے حوالے سے مرتب کی ہوئی اپنی کتاب SHAKILA RAFIQ’S LEGACY میں کیا ہے۔ مجھے ان کی دوستی پر فخر ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”شکیلہ رفیق اور شاعری کی پگڈنڈی….ڈاکٹر خالد سہیل

  1. شکیلہ رفیق صاحبہ کہنہ مشق افسانہ نگار بھی ہیں اور شاعرہ بھی، ایسی نابغۂ روزگار ادیب کے بارے میں تحریر پڑھ کر بہت اچھا لگا، بہت شکریہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *