پُراسرار رات۔۔عاطف ملک

کسی نے پیر پر ٹھڈا مارا اور کہا، ” اٹھ عثمان اٹھ، باقی لوگ پہنچ رہے ہیں، اٹھ ابھی اگلا سفر پڑا ہے، اور دیکھ سڑک کے ایک طرف ہو کر لیٹا کر، کسی گاڑی کے نیچے آکر مارا جائے گا”۔ مجھے علم نہیں ہے کہ کتنے ٹھڈے مارے گئے تھے، اور کون تھا جس نے ٹھڈے مارے تھے۔ یہ جو ڈائریکٹلی مولڈیڈ سول جوتے جنہیں عام زبان میں ڈی-ایم-ایس شوز کہتے ہیں، انکا سول اتنا موٹا ہوتا ہے کہ ان پر ٹھڈے مارو بھی تو کوئی فرق نہیں پڑتا، نہ مارنے والے کو اور نہ ہی جسے مارا جاتا ہے۔ سونے والا سویا ہی رہتا ہے۔ سنا تھا کہ کھال موٹی ہو تو کسی بھی چیز کا اثر نہیں ہوتا، یہ ڈی-ایم-ایس موٹی کھال کے جوتے ہیں۔
میں اٹھ گیا تھا، مگر شاید نہیں اٹھا تھا، یا شاید جھٹ اٹھ پڑا تھا۔ جب پتہ ہو کہ سفر ابھی باقی ہے تو سویا ہوا بھی جاگا ہی ہوتا ہے۔ مگر جاگ کر بھی مجھے لگ رہا تھا کہ میں سویا ہوا ہوں۔ خواب اور حقیقت کے درمیان کہیں لٹکا ہوا ہوں۔

میرے پیروں کو ڈی-ایم-ایس جوتوں کی عادت ہوگئی تھی، کسی ناخوشگوار ساتھ کی مانند جس سے چھٹکارا نہ پایا جاسکے اور پھر کچھ عرصے بعد بک بک جھک جھک کی عادت ہو جاتی ہے۔ یہ تقریباً ایک فٹ کے لمبے سخت چمڑے کے جوتے ٹخنوں سے اوپر تک آتے ہیں۔ نیچے ٹائر کا ڈھائی انچ موٹائی کا کٹ لگا سول، اگلا پنجہ ہموار چمڑے کا بنا ہوا جو کہ پیر کی انگلیوں کے بعد ایک دوسری قسم کے دانے دار چمڑے سے جڑا ہوتا ہے۔ پنجے کے چمڑے کے اوپر دانے دار چمڑے کی دو پرتیں پیر کو جکڑنے کے لیے نو سوراخوں سے گزرتے دو فٹی تسمے سے منہ کو جکڑتی ہیں۔ آخر میں جوتے کی پشت پر ایک انچ کی پٹی جڑی ہے جس میں سے بچا ہوا تسمہ لگاتار گھوم کر ٹخنے کے اوپری حصے کو جکڑ لیتا ہے۔ جب میں نے یہ جوتے پہننے شروع کیے تھے تو گرمیوں کے دن ہونے کے باوجود گرم اونی جرابیں پہنی تھیں، پھر بھی پیروں پر ورم آگئی  تھی ، جابجا چھالے بن گئے تھے۔ کچھ عرصے بعد چھالے خشک ہوگئے، نشان گرچہ باقی رہے اور اونی جرابیں کچھ ایسے  ساتھ  ہوئیں  کہ گرمی سردی سے قطع نظر ڈی-ایم-ایس جوتوں کے لیے انہی  کا ساتھ رہ گیا۔ زندگی پر نظر ڈالی تو پتہ لگا کہ کئی چھالوں کی تکلیف ختم ہوگئی، مگر نشان اپنی جگہ پر گھوڑے کی پشت پر گرم سلاخ سے لگائے گئے علامتی نشان کی مانند قائم ہیں۔ غور کیا تو پتہ لگا کہ یہی نشان پہچان ٹھہرے ہیں۔

آرڈیننس فیکٹری کی بنی جی تھری رائفل میرے گلے میں لٹکی تھی۔ اس کا پٹہ میں نے لمبا کرلیا تھا، اتنا جتنا ہو سکتا تھا اور اسے دائیں کاندھے کے اوپر سے گزار کر بائیں بغل کے نیچے سے لے جاکر پانچ کلو کی رائفل کو کمر کے پیچھے کر دیا تھا۔ اب رائفل کی سنگین میرے دائیں کاندھے کے پیچھے سے نکلی ہوئی تھی۔ کتنی دفعہ میں نے سنگین کی دھار پر انگلی پھیر کر اس کی تیزی محسوس کی تھی، وہ ہمیشہ مجھے کند ہی لگی تھی۔ کند چاقو، ٹوٹے سکے کی پنسل، گھبرائی لڑکی سب ہی مجھے ناپسند ہیں۔ سنگین کے اوپر کور تھا۔ کند چیزوں کی اہمیت کور سے ہی قائم رہتی ہے۔ رائفل کا میگزین خالی تھا۔ پانچ گھنٹے پیدل چلتے ہو گئے تھے، پانی کی چھاگل خالی ہونے والی تھی ،مگر رات ابھی جوان تھی۔ بھنے چنے اور گڑ کے ٹکڑے دو الگ الگ لفافوں میں لپٹے میری ڈانگری کی اوپر کی جیبوں میں الگ الگ پڑے تھے۔
ڈانگری بھی عجب لباس ہے، لباس ہے کہ کھال ہے کہ جسم پر منڈ دی جاتی ہے، بوری ہے کہ جسم اس میں باندھ دیا جاتا ہے۔ یک جزو  کے کھردرے کپڑے میں ایک زپ کا کنڈا سامنے گردن سے نیچے کو جاتا ہے، دوسرا کنڈا دونوں ٹانگوں کے ملاپ سے اوپر کو آرہا ہوتا ہے۔ بوری ریس کی بوری کی مانند  ڈانگری کی ٹانگوں میں اتر جاؤ  اور پھر اس کی لٹکتی کمر کو اٹھا کر اپنی کمر کو ڈھانپتے دونوں بازو اس کے بے جان بازوں میں ڈال کر سامنی زپ کو اوپرکھنیچ لو۔ بیلٹ کے طور پر ایک چوڑے چپکنے والے کپڑے کی لمبائی کو کس کر صابر ہو جاو۔ سینے پر دونوں جانب بڑی بڑی زپ لگی جیبیں اور استعداد بڑھانے کو مزید دونوں گھٹنوں پر زپ لگی جیبیں ہوتی ہیں۔ ڈانگری آدمی کوپُرسکون کردیتی ہے، زمین پر بے غم ہو کر لیٹ جاو، اور گرمیوں کی اس رات چوا سیدن شاہ سے چکوال جاتی سڑک پر میں ڈانگری پہنے لیٹا سو رہا تھا، جب کسی نے مجھے ٹھڈا مار کرجگایا تھا۔ میں اٹھ گیا تھا، مگر شاید نہیں اٹھا تھا، یا شاید جھٹ اٹھ پڑا تھا۔ میں آج تک اس سوال سے نہیں نکل سکا کہ اُس رات کیا ہوا تھا ؟
وہ رات گرمیوں کی ایک سیاہ رات تھی۔ ہمارے دستے نے چوا سیدن شاہ سے چکوال کے قریب کی چھاونی تک نائیٹ مارچ کرنا تھا۔ یہ چھوٹی پہاڑیوں کا اترائی اور چڑھائی میں تقریباً پچاس کلومیٹر کا پیدل سفر تھا۔ مغرب کے بعد ہم نے پیدل چلنا شروع کیا۔ کچھ دیر میں ہم چکوال روڈ پرتھے، ہوا بند تھی، شہر کی روشنیاں اوجھل ہوگئیں اور آسمان صاف تھا۔ صاف آسمان، ایسا صاف کہ سر کے اوپر پھیلی چادر کا ہر تارہ بے داغ نظر آرہا تھا، اجلا، صاف ستھرا ایسا کہ رائفل کی سنگین کی سطح پر اس کی چمک منعکس ہو جائے۔

سڑک گھومتی تھی، اوپر نیچے جارہی تھی۔ یہ پوٹھوہار کا علاقہ ہے، چھوٹی چھوٹی بنجر پہاڑیاں، چھوٹے درخت اور جابجا بکھری جھاڑیاں، جھاڑیاں جن کی شاخیں دو انگل موٹائی کے خشک تنے سے نکل کر اوپر کو جاتیں مسلسل دو شاخی ہوتی چلی جاتی ہیں کہ آخر میں بال بکھرے اورکھڑے کسی کنفیوز پروفیسر کے سر کا منظر ہوتا ہے۔ مجھے تو یہ جھاڑیاں دیکھ کر غلہ منڈی میں بھاری بوجھ دھکیلتے  دُبلے پتلے  مزدور یاد آجاتے ہیں، دبلے  پتلے  کسی ماس بوٹی کے بغیر، جن کی پسلیوں کی ہڈیاں آپ گن سکتے ہیں، جن کے چہرے کے نقوش کا تعین ان کے گال نہیں بلکہ گال کی ہڈیاں کرتی ہیں اور جن کی آنکھیں بہت گہری ہیں۔ گہری، پوٹھوہار میں بہتے ندی نالوں کی مانند گہری، زمین برابر چلتے یک دم گہرائی میں اتر جاتی ہے، گہرا گھاو، ایسی گہرائی کہ راہی گرے تو ہمیشہ کے لیے گم ہوجائے، کبھی نہ اٹھنے کے لیے اور اگر برسات ہو تو برساتی نالے کا پانی ایسے بہا لے جائے کہ کچھ بھی باقی نہ رہے۔ میں نے سوچا کہ یاد کا پانی زور مارتا ہے تو کچھ نہیں بچتا۔

چوا سیدن شاہ سے آگے چکوال روڈ پر میں نے زندگی کا ایک عجیب ترین منظر دیکھا۔ ایسا منظرکہ ذہن پر نقش ہے،عرصہ گزرنے کے باوجود وہ منظر اُس رات کے تاروں کی مانند آج بھی اجلا ہے، ایسا کہ بھول کی گرد اس پرنہیں پڑسکی۔اُس اندھیری رات پیدل چل  رہے تھے، ہوا بند تھی، جھاڑیاں اور درخت ساکت تھے۔ اوپر نیچے جاتی چارکول سڑک کی سیاہی راہ بتاتی تھی۔ ایسے میں جو سڑک نے بل کھایا تو پورا دستہ ششدر رہ گیا۔ عجب منظر تھا، حُسنِ بے پروا نے اپنی بے حجابی کے لیے ویرانہ چنا تھا۔ کیا رات تھی، خاموش، اپنی خاموشی سے بولتی، صاف آسمان، بے بہا چمکتے ستارے اور سڑک کے دائیں بائیں جھاڑیاں جگنوؤں سے بھری تھیں، ہزاروں، لا کھوں، کروڑوں جگنو، جلتے بجھتے، بجھتے جلتے، اپنی جگہوں پر بیٹھے اور اُڑتے۔ ہر جھاڑی کی خشک شاخ جھلمل تھی، کئی روشنیاں بے ترتیبی سے جلتی تھیں، بند ہو جاتی تھیں پھر جل اٹھتی تھیں، جلتے بجھتے ساکت اور اڑتے نقطے ہر جانب تھے۔ ایک شاخ سے منظر بڑھا تو جھاڑی جگمگاتی تھی، ایک جھاڑی سے منظر نکلا تو حدِ نظر جھاڑیاں جگمگاتی تھیں۔ فوجی دستے کی ساری ٹریننگ ترتیب کی تھی، بے ترتیبی کے حُسن نے انہیں گھائل کر دیا۔ ایسا گھائل کہ یاد کے پانی نے زور مارا تو اُن میں سے ایک برسہا برس کے بعد یہ منظر لکھنے بیٹھ گیا۔ حُسن کی مار کون سہہ سکتا ہے۔

حسن جیسا بھی ہو، وقت بہتا ہے۔ فوجی دستہ چلتا رہا اور اس منظر سے آگے نکل گیا۔ رائفل، پانی کی چھاگل، خاکی موٹے کپڑے کا کھردار رک سیک اٹھائے اور فوجی ٹوپی پہنے زیر تربیت دستے کے افراد اُس اندھیری رات چل  میں رہے تھے۔ مجھے ایک دم سخت نیند آنے لگ گئی، مگر نیند لینے کا کوئی موقع نہ تھا۔ اچانک ایک خیال آیا۔ انسانی ذہن حل ڈھونڈنے میں ماہر ہے۔ میں نے اپنے ساتھی کو بتلایا کہ میں دستے سے آگے جارہا ہوں اور جب وہ آگے پہنچے تو دیکھتے  رہے کہ میں سڑک پر سویا پڑا ہونگا، مجھے وہاں جگا دینا اور سفر پھر اکٹھے شروع ہو جائے گا۔ اس کے بعد میری رفتار تیز ہوگئی، جب اترائی آتی تو میں دوڑںے لگ جاتا، جب چڑھائی آتی تو میں تیز چلنے لگ جاتا۔ کچھ دیر میں دستہ پیچھے رہ گیا اور میں اکیلا سڑک پر دوڑتا، چلتا جا رہا تھا۔ تقریباً ایک گھنٹے کے اکیلے سفر کے بعد غالباً رات کے ایک بج رہے تھے کہ میں سڑک پر ایک جانب سونے کے لیے لیٹ گیا۔ پٹے کو لمبا کرکے رائفل کو جسم کے ساتھ چپکایا، رک سیک کو اتار کر سرہانے کے طور پر سر کے نیچے رکھا اور سونے کے لیے آنکھیں بند کرلیں۔ جگ مگ کرتی جھاڑیوں کا خیال ساتھ آکر لیٹ گیا تھا، میرے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ سڑک سخت تھی، مگر نیند اس سے بھی زیادہ سخت تھی۔

آنکھیں بند ہی کی تھیں کہ ایسا محسوس ہوا کہ ہاتھ پر کچھ گیلا سا لگا، ساتھ ہی عجب سا احساس تھا کہ لمس انسانی نہ تھا۔ آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ ایک شاندار مینڈھا ساتھ بیٹھا تھا جو اپنے منہ سے میرے ہاتھ کو چھو رہا تھا۔ یہ ایک اڑیال تھا اور کیا وجیہہ اور شاندار جانور تھا، جسم بھرا ہوا، ہلکا بھورا رنگ، سرتوازن کے ساتھ اٹھا ہوا، آنکھوں میں چمک، سر پر دو سینگ جو شروع میں ایک ہاتھ کی موٹائی رکھتے تھے اور بعد میں بل کھاتے ایک نصف دائرے کی شکل کے بعد پتلے ہوتے نوک کی صورت میں سامنے اوپر اٹھ آئے تھے۔ ان سینگوں پر مسلسل باریک کٹاو سے نقش بنے تھے۔ اڑیال کے پورے جسم پر بھورے رنگ کے چھوٹے بال تھے سوائے تھوڑی کے نیچے جہاں سنہری، بھورے بالوں کا لمبا گچھا تھا۔ حیرت انگیز طور پرمجھے کوئی خوف محسوس نہیں ہوا، میری نیند اڑ گئی تھی۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور ڈانگری کی اوپر کی جیبوں سے اپنے سفر کے لیے رکھے چنے اور گڑ نکالا اور اپنے ہاتھ پر رکھ کر اس وجیہہ جانور کی طرف بڑھا دیا۔ اس کا سانس میرے ہاتھ سے ٹکرا رہا تھا۔ اس اندھیری رات چواسیدن شاہ سے نکلتی چکوال روڈ کی ایک منزل پر دو مسافر اپنے اپنے جہان سے نکل کر ایک حیرت انگیز ملاقات کر رہے تھے۔ اچانک پاس سے دو خرگوش نکلے، ایک نے میرے دائیں جانب چھلانگ لگائی اور بھاگتا گز گیا، شاید نیند کی جلدی میں ہو۔ میں نے سوچا کہ یہ بھی کیا اسرار بھری رات ہے۔

اڑیال اٹھا اور اس کے ساتھ میں بھی اٹھ پڑا۔ ہم میں ایک نامعلوم سی دوستی ہوگئی تھی، ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ اچھا لگ رہا تھا۔ ہم دونوں چل پڑے، سڑک سے اترے اور چلتے چلتے کچھ دیر بعد ایک قریبی آبادی میں داخل ہو گئے۔ آبادی کے باہر ایک پرانا مندر تھا جو دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ اس کے قریب ہی ایک پھیلا برگد کا درخت تھا جس کی شاخیں لٹک کر زمین کو چھو رہی تھیں، ہم اس کے نیچے سے گزر کر آبادی میں داخل ہوگئے۔ کہیں کہیں ٹمٹماتے بلب کی روشنی تھی۔ ہر طرف خاموشی تھی جو اُس اندھیری رات میں اور بھی گہری ہوگئی تھی۔ ہم چلتے چلتے ایک پرانی اینٹوں کی حویلی کے سامنے آگئے۔ حویلی سامنے سے پھیلی ہوئی تھی، مرکزی دروازے کے ساتھ دو بڑی لکڑی کی کھڑکیاں تھیں جن پر باریک جالی لگی تھی اور اوپر قوس شکل میں اینٹوں پر بارش سے بچاو کے لیے پرانا ٹین لگا تھا۔ یہ مرکزی حصہ تین منزلہ تھا جبکہ دائیں بائیں کی پرانی تعمیر دو منزلہ تھی۔ عین دروازے کے اوپر تیسری منزل پر ایک گول چھجا باہر نکلا تھا، اس کے دائیں اور بائیں بڑی کھڑکیاں تھیں جن میں لوہے کی سلاخیں لگی تھیں۔ ہر منزل کے روشندانوں میں تین سلاخیں آر پار لگی تھیں جن میں اکثر کی درمیانی سلاخ پر لکڑی کا ایک چوکٹھا آدھا کھلا تھا۔ ہم حویلی کے مرکزی دروازے کے سامنے آن کھڑے ہوئے۔ لکڑی کے دو پٹوں کے دروازے پر ڈبہ دار ابھرا ڈیزائن بنا تھا۔ دروازے کے دائیں اور بائیں دو اینٹوں کے ستون بنائے گئے تھے۔ دائیں دروازے کے عین درمیان میں ایک گول لوہے کا کنڈا لگا تھا جبکہ اسی دروازے کے اوپری حد پر ایک لوہے کی کنڈی لٹک رہی تھی۔ ہم دونوں دروازے کے سامنے کھڑے تھے، اڑیال نے اپنے سر سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوگیا۔ اس اندھیری رات کی خاموشی میں دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی کوئی آواز نہ آئی۔ اب میں وہاں اکیلا کھڑا تھا۔ میں نے دروازے کے درمیان گول کنڈے کی جانب ہچکچاتے ہاتھ بڑھایا کہ دستک دوں یا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو جاؤں کہ اُسی وقت کسی نے پیر پر ٹھڈا مارا اور کہا ” اٹھ عثمان اٹھ، باقی لوگ پہنچ رہے ہیں، اٹھ ابھی اگلا سفر پڑا ہے، اور دیکھ سڑک کے ایک طرف ہو کر لیٹا کر، کسی گاڑی کے نیچے آکر مارا جائے گا”۔

میں اٹھ گیا تھا، مگر شاید نہیں اٹھا تھا، یا شاید جھٹ اٹھ پڑا تھا، مگر کیا میں جاگ گیا تھا؟ میں آج تک اس سوال سے نہیں نکل سکا کہ اُس رات کیا ہوا تھا، بس یہ جانتا ہوں کہ وہ سیاہ رات بڑی پراسرار تھی ۔ میں نے اپنی ڈانگری کی جیبوں میں چنے اور گڑ کے لفافوں کو ٹٹولا۔ جیبیں خالی تھیں۔

اگلے سال میں ئایرفورس کی اکیڈمی میں پائلٹ کی ٹریننگ کر رہا تھا۔ اس ٹریننگ کے دور میں پہلی سولو فلائیٹ بہت اہم سمجھی جاتی ہے کہ جب طالبعلم پائلٹ پہلی دفعہ جہاز کو اکیلے لے کر اڑتا ہے۔ یہ بلوغت کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔ جب میں نے سولو فلائیٹ اپنے ساتھیوں کی نسبت پہلے مکمل کی تو میرا انسٹرکٹر پائلٹ بہت خوش ہوا۔ اگلے دن ٹریننگ کے لیے اکٹھے جاتے میرے استاد نے پوچھا، ” عثمان، تیری کل کی سولو فلائیٹ کی خوشی میں آج تیرے پسند کے سرکٹ میں اڑیں گے۔ بتا کدھر جانا ہے؟ اُدھر جدھر تیری کوئی یادیں ہوں، بچپن کا محلہ، کوئی قصبہ، کوئی شہر، کوئی سر اٹھاتی محبت کا کوچہ، کوئی استوار ہوتا رشتہ، بتا کدھر کو جانا ہے؟”۔ میں نے تو کب سے نقشے میں چواسیدن شاہ سے جاتی چکوال روڈ کے ساتھ کی تمام آبادیوں پر نشان لگائے ہوئے تھے، سلطان پور، کھجولا، جسوال، شاہ سید بلہو، دھیدوال۔ مجھے پتا تھا کہ مجھے کس جگہ پر اڑنا ہے۔

ہم چواسیدن شاہ کے اوپر اڑ رہے تھے۔ سلطانپور، کھجولا کے اوپر سے گزر کر جب جسوال پہنچے تو مجھے آبادی سے باہر ہندو مندر نظر آگیا، اس کے ساتھ ہی برگد کا ایک پھیلا درخت تھا۔ آبادی کے اوپر سے گزرے تو گھروں میں ایک پرانی حویلی اپنی پہچان لیے الگ کھڑی تھی۔ جہاز کے تھروٹل کو حرکت دیتے میں سوچ رہا تھا کہ اُس رات کیا ہوا تھا ؟ کیا میں سو رہا تھا یا جاگ رہا تھا ؟
میں آج تک اس سوال سے نہیں نکل سکا کہ اُس رات کیا ہوا تھا، بس یہ جانتا ہوں کہ وہ جگنوں سے بھری سیاہ رات بڑی پُراسرار تھی۔

عاطف ملک
عاطف ملک
عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینرنگ میں ماسڑز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے شعبہ کمپیوٹر سائنس میں پڑھاتے ہیں۔ پڑھانے، ادب، کھیل ، موسیقی اور فلاحی کاموں میں دلچسپی ہے، اور آس پاس بکھری کہانیوں کو تحیر کی آنکھ سے دیکھتے اور پھر لکھتےہیں۔ یہ تحاریر ان کے ذاتی بلاگ پر بھی پڑھی جاسکتی ہیں www.aatifmalikk.blogspot.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *