کوٹ سارنگ۔۔علی محمد فرشی

دھوپ سے جھلسی ہوئی ویراں گلی میں
وقت اپنی سانس رو کے چپ کھڑا ہے
انتظار آنکھوں میں کنکر بھر گیا ہے

بس ابھی نٹ کھٹ ادھر سے کھلکھلاتا آئے گا
اور اس کی پشت پر چابک لگائے گا
کہانی چل پڑے گی دور تک پھیلے خلاؤں کی طرف

بانس کے پہلے سرے سے دوسرے تک
دور تک۔۔۔نیچے خلا پھیلا ہوا ہے
اک تنی رسی پہ چلتے چلتے
میرے پاؤں پتھرانے لگے ہیں
اب مرے اند رکہیں رُکنے کی خواہش
چل پڑی ہے

کوٹ سارنگ کی حویلی سے
ابھرنے والی چرخے کی صدا سننے کی خاطر
میں رکوں گا (بس صدی بھر)
گر پڑوں گا
دور تک پھیلے خلا میں
دھوپ سے جھلسی ہوئی ویراں گلی میں!

کوٹ سارنگ:ڈاکٹر ستیہ پال آنند کی جنم بھومی تحصیل تلہ گنگ، ضلع چکوال، پاکستان

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *