غزل پلس(13)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بول کر سب کو سنا، اے ستیہ پال آنند! بول
اپنی رامائن کتھا، اے ستیہ پال آنند ! بول

تو کہ کامل تھا کبھی، اب نصف سے کم رہ گیا
دیکھ اپنا آئنہ ، اے ستیہ پال آنند ! بول

ایسے گم صم مار مت کھا،اٹھ کھڑا ہو، دے جواب
تان مُکّا، غُل مچا، اے ستیہ پال آنند ! بول

کیا خموشی کی رِدا اوڑھے ہوئے مر جائے گا؟
سیکھ لے اب بولنا، اے ستیہ پال آنند ! بول

شہر ہے سوداگروں کا اورتو پتّھر کا بُت
بول کر قیمت بتا، اے ستیہ پال آنند ! بول

جنّت و دوزخ تو اب ابلیس کی جاگیر ہیں
کس جگہ تو جاے گاِ ؟ اے ستیہ پال آنند ! بول

ابن ِ مُلجِم پھر کوئی آنے نہ پائے اس جگہ
کربلا کو کر بلا ، اے ستیہ پال آنند ! بول

پڑھنے والوں کا اُجَـڈ پن اور نقّادوں کی ڈِینگ
تیری اب قیمت ہے کیا؟ اے ستیہ پال آنند ! بول

شعر کہنا سنگ برداری سے بڑھ کر کچھ نہیں
سِسّی فُس کو بھول جا ، اے ستیہ پال آنند ! بول٭

صرف مُردوں کو ہی ملتی ہے خموشی کی سزا
لب بکف ہو، ہاتھ اُٹھا، اے ستیہ پال آنند ! بول

Advertisements
julia rana solicitors

سب زبانوں پر ہیں پہرے، شہر اب خاموش ہے
گُنگ ہے ساری فضا، اے ستیہ پال آنند ! بول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭ سسی فُس۔legendary king of Corinth condemned eternally to repeat the cycle of rolling a heavy stone up a hill and when it nears the top, it rolls down again. He has been repeating the process of rolling it up again. His name is a symbol of wasted human effort (Greek mythology).

Facebook Comments

ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply