شاعر : ابن عربی/ ترجمہ احمد تراث

جب سے وہ میری نظروں سے

اوجھل ہوئے ہیں

صبر و قرار نے بھی

منہ پھیر لیا ہے

باوجود اس کے

کہ وہ فقط

نظر سے اوجھل ہوئے ہیں

اور دل کے نہاں خانے میں بدستور مکیں ہیں

میں نے اپنی

چشمِ ظاہر کو

تسکین دلانے کی خاطر

کسی سے ان کا پتا پوچھا

تو معلوم ہوا

کہ نظر جہاں بھی شوق و اشتیاق و جستجو کا

الاؤ روشن کرے گی

ان کو وہیں دیکھ لے گی

ظاہر ہے

اس جواب کو

پوری طرح نباہ پانا

مجھ سے کہاں تک

ممکن ہو سکتا تھا

ناچار میں نے

ہوا سے مدد مانگ لی

اور عرض گزار ہوا

کہ اے ہوا

مجھے ان سے ملوا دے

ان کا پتا

جس کا کچھ اندازہ

مجھے ہو چلا ہے

کہ وہ جو ایک پاکیزگی کی علامت

پیلھوں کا درخت ہے

جس کی شاخوں سے بننے والی مسواک

منہ کی بدبو اور گندگی کو دور کر دیتی ہے

وہ اسی پیلھوں کی

ٹھنڈی چھاؤں میں ملیں گے

اگر مجھے اڑا کر

وہاں تک لیجانا

  تیرے لیے ممکن نہ ہو

توان سے

یہی کہہ دینا

کہ ایک رنج و الم کا مارا ہوا

جس کے دل میں ،

کسی کے ہجر میں

زخم ہی زخم ہو گئے ہیں

سلام کہہ رہا تھا!!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *