وہ اگر چاہتا تو بہت آسان موت مر سکتا تھا، ہاتھ کی رگ کاٹ کر دھیرے دھیرے موت کو محسوس کر سکتا تھا یا پھر پسٹل کی ایک گولی، دھماکے کی گونج، لال چھینٹے اور ابدی سکون، لیکن خود کشی← مزید پڑھیے
اردو کے ایک فرزانہ و دیوانہ کی کتھا! میں جب واشنگٹن ڈی سی کے ایک نواحی قصبے آرلنگٹن میں اقامت پذیر ہو گیا تو اردو کے جن احباب سے میری ملاقات سب سے پہلے ہوئی ان میں دس بارہ کی← مزید پڑھیے
یہ قصہ آ ج سے کئی سال پہلے شروع ہوا۔ شہری آ بادی سے دور پسماندہ گاؤں سے بخشو نامی آ دمی نے روزگار کے لیے شہر کا رخ کیا۔ ارادہ تھا کہ شہر میں محنت مزدوری کر کے اپنے← مزید پڑھیے
اس لڑکی کو کس نے ہائر کیا؟ سر آپ چھٹی پر تھے، آپ کی دی ہوئی اتھارٹی کو استعمال کرتے ہوئے میں نے آفر لیٹر سائن کیا تھا۔ سر آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ آپ کی← مزید پڑھیے
ہمارے ہاں شکوہ، جواب شکوہ کا بڑا تذکرہ ہوتا ہے اور اس پہ کوئی شاعر کو ‘کافر’ کہتا ہے تو کوئی اس کو جرات رندانہ رکھنے والا مرد قلندر کہتا ہے۔ ایسا ہی ایک شاعر ادھر احمد آباد (گجرات-انڈیا) میں← مزید پڑھیے
ہر بندہ کچھ نہ کچھ دور کی سوچتا ہے لیکن مطلوب صاحب کچھ زیادہ ہی دور کی سوچتے ہیں۔ پچھلے دنوں ان کے گھر جانا ہوا تو مزدوروں کو لگے دیکھ کر حیرت ہوئی۔ پتا چلا کہ مطلوب صاحب اپنے← مزید پڑھیے
حیات سیفی فریدآبادی! آپ کا اصل نام علامہ سید مکرم علی شاہ نقوی ہے۔ آپ نومبر 1894ء بمقام فریدآباد، ضلع گڑ گاواں، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حکیم سید امتیاز علی چشتی صابری المتخلص سیماب متھراوی اپنے← مزید پڑھیے
چنوا کالا کلوٹ تھا۔ اور لگائی غزال چشم تھی۔ سرو جیسا قد.سڈول بازو ….. بال کمر تک لہراتے ہوئے اور جامنی کساوٹ سے بھرپور لب و رخسار۔ غریب کا حسن سماج کی آنکھوں میں چبھتا ہے۔ حسن طبقہ اشرافیہ کے← مزید پڑھیے
جب وہ ہسپتال سے باہر نکلا تو اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور اس کا سارا جسم بھیگی ہوئی روئی کا بنا معلوم ہوتا تھا اور اس کا جی چلنے کو نہیں چاہتا تھا وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ← مزید پڑھیے
آج ہماری شادی کو پچیس برس ہو گئے۔ تم کچھ نہیں کہو گی، ہماری بیتی زندگی کے بارے میں ۔۔۔۔۔کچھ تو بولو؟ ہوں ۔۔۔۔۔۔ہاں۔ کیا ہوا تمھیں؟ ایک منٹ ، میری آنکھ میں شاید کوئی تنکا چلا گیا ہے۔۔۔ Save← مزید پڑھیے
نومبر کی وہ وحشت نا ک شام اس کے لا شعور میں کائی کی طرح جم چکی تھی ۔ اسے اپنے ہاتھ لال اور ہرے رنگ کا ایک شاہکار دکھائی دیتے تھے. جیسے کسی آرٹسٹ نے اپنے دل کے رنگین← مزید پڑھیے
عرشے پر بجھے بجھے بلب کی روشنی میں چار شخص بیٹھے تھے۔ ایک بھورے بالوں والی خاتون ایک قصاب جس سے کچے گوشت کی بساند آ رہی تھی ایک گنجے سر والا پروفیسر منہ میں پائپ تھامے ایک گورا چٹا← مزید پڑھیے
مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے ملک میں صرف سینئر ہوتے ہیں‘ جونیئر کوئی نہیں ہوتا۔آپ نے کبھی کسی صحافی کے وزیٹنگ کارڈ پر جونیئر صحافی لکھا نہیں دیکھا ہوگا۔سیاسی تجزیہ نگار بھی سینئر ہوتے ہیں۔ لفظ سینئر ایسا سابقہ← مزید پڑھیے
پرانے وقتوں کی بات ہے۔۔کتنی پرانی؟؟ اب یہ کیا معلوم مگر اتنا جان لو کہ تب خدا کو مظاہر میں تلاش کیا جاتا تھا۔ کبھی سورج تو کبھی چاند ،کبھی آگ تو کبھی پانی! کیا کہا؟؟خدا کو تلاش ہی کیوں← مزید پڑھیے
قصہ ڈاکٹر وزیر آغا کو نوبیل پرائز نہ ملنے کا! سکینڈے نیویا کے چھ ملک اور ان کے کلچر کا مرکز سویڈن! جو شخص سویڈن نہیں گیا اور یورپ کا چکر لگا کر واپس آ گیا، تو سمجھیے اس← مزید پڑھیے
میں ان دنوں میٹرک کے امتحانات دے کر گاؤں سے تازہ تازہ اسلام آباد میں وارد ہوا تھا۔ فراغت ہی فراغت تھی، اس لیے شہر بھر میں پیدل پھرنا سب سے من بھاتا مشغلہ ٹھہرا۔ شکرپڑیاں سے فیصل مسجد اور← مزید پڑھیے
دوسرے پہاڑ سے ایک ندی لڑکھڑا تی اُتر رہی تھی اُس کا بجتاترنم سُنائی دے رہا تھا۔لُولُوسَر نَدی کامیدان اَورپہاڑ کِسی قدیم آبی گُزر گاہ کا پتہ دے رہے تھے۔چندقدم آگے تقریباً دس فُٹ اُونچا پتھروں کامینار کھڑا تھا۔ہم نے← مزید پڑھیے
بوریت میلے میں باپ کی انگلی پکڑے گھومتا ہوا بچہ ، سر کے بل کھڑے ہو کر رسی پر بائسیکل چلانے والے مداری، سانپ کے دھڑ اور انسان کے منہ والی لڑکی اور شیر کے منہ میں سر ڈالے ← مزید پڑھیے
مفتی ممتاز حسین 11 ستمبر1905ءبمقام بٹالہ (ضلع گورداسپور) پنجاب میں مفتی محمد حسین کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم امرتسر ، میانوالی ، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں پائی، میٹر ک ڈیرہ غازی خان سے اور ایف اے امرتسر← مزید پڑھیے
شادی کے ایک مہینہ بعدہی ارشد دبئی چلا گیا۔ اس کے چلے جانے کے بعد سیما کو تھک کر سونا ہی بھلا لگتا تھا، ویسے نیند کہا ں آتی تھی۔ وہ سارا دن خو د کو گھر کے کاموں میں← مزید پڑھیے