گمشدہ خدا۔۔۔مریم مجید ڈار/افسانہ

پرانے وقتوں کی بات ہے۔۔کتنی پرانی؟؟ اب یہ کیا معلوم مگر اتنا جان لو کہ تب خدا کو مظاہر میں تلاش کیا جاتا تھا۔ کبھی سورج تو کبھی چاند ،کبھی آگ تو کبھی پانی!
کیا کہا؟؟خدا کو تلاش ہی کیوں کیا جاتا تھا؟؟
ارے احمق!! خدا کی تلاش بشر کے خمیر میں ڈال دی گئی ہے۔ اور اسے اپنے خدا کو ڈھونڈنا ہی ہوتا ہے تبھی تو اچھے برے عمل اور ان کے نتائج کے فیصلے ہوتے ہیں ۔ اگر بشر اپنا خدا نہ ڈھونڈ پائے تو کون فیصلہ کرے گا کہ اس کا عمل نیکی ہے یا بدی؟ ؟
تم ایسے سوال مت کرو سنا ہے ایسے سوالوں سے خدا ناراض ہو کر بشر سے کھو جاتا ہے ،اوجھل ہو جاتا یے۔ تم قصہ سنو!

ہوا کچھ یوں کہ ایک دور دراز علاقے میں ایک گڈریا رہتا تھا ۔ بھیڑ بکریاں پالنا اور ان کے دودھ گوشت کھال سے اپنی زندگی کی ضروریات مہیا کرنے کا سامان کیا کرتا تھا۔ چھوٹے سے گھاس پھونس کے جھونپڑے میں وہ بے حد خوشی اور سکون سے زندگی جینے میں مگن تھا۔صبح سویرے ریوڑ لے کر نکل پڑتا اور اونچی نیچی زمین پر، چٹانوں اور پتھروں کے درمیان اگے سبزے سے اس کے جانور ہر دن اپنا پیٹ بھرا کرتے تھے ۔ شام کو جب وہ انہیں واپس لے جانے کے لیے جمع کرتا تو ان کے شکم پر ہوتے تھے ۔عجیب بات تھی ناں؟۔۔۔۔ ہر روز سبزہ کھایا جاتا تھا مگر پھر بھی جانوروں کے پیٹ روز سیر ہوتے تھے۔ گڈریا بھی عجیب تھا اس کو بس اپنے جانوروں کے بھرے پیٹ سے مطلب ہوتا تھا، موجود، حاصل اور محصول کے فلسفہ کی گتھی سلجھانے کی کوشش نہ کرتا تھا نہ ہی اسے ان سب کو جاننے کا اشتیاق تھا۔ وہ تو بس ریوڑ چراتے ہوئے زندگی بسر کر رہا تھا ۔دن گزرتے،موسم بدلتے جا رہے تھے ،گڈریا اور بھیڑیں دونوں ہی زندگی جیے جا رہے تھے ۔

ایک جاڑے کی دھند آلود صبح جب گڈریا اپنے ریوڑ کو چرانے نکلا تو اس نے بھربھری بھوری چٹانوں کے درمیان کسی کو دیکھا۔
پہلے تو وہ گھبرا گیا کہ شاید صحرائی قزاقوں کے کسی گروہ کا رکن ہے اور اس کا ریوڑ چھیننے آیا ہے ۔وہ ایک بڑی جھاڑی کی اوٹ میں ہو کر اس شخص کو دیکھنے لگا جو چٹانوں کے بیچ دراڑوں سوراخوں اور درزوں میں جھانکنے اور اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے جب گڈریے کی آس پاس چرتی بھیڑوں پر کوئی توجہ نہیں دی تو گڈریے کو تھوڑا سا اطمینان ہوا۔ “شاید کوئی دیوانہ ہے ” اس نے سوچا اور جھاڑی سے نکل کر اس عجیب شخص کی طرف بڑھا ۔عجیب سی ہئیت کذائی لیے وہ دیوانہ معلوم ہوتا شخص اب تھک کر چٹانوں کے قریب پتھریلی زمین پر دونوں گھٹنے سینے سے لگائے بیٹھ گیا تھا اور بے حد مایوس اور دکھی نظر آتا تھا۔

“اے! کون ہو تم ۔۔؟ کہاں سے آئے ہو؟ قافلے سے بچھڑ گئے ہو کیا”؟؟ گڈریے نے اسے مخاطب کیا تو وہ اچھل پڑا اور تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ گڈریے نے دیکھا کہ اس کا لباس کئی جگہوں سے چیتھڑوں میں بدل چکا تھا۔جوتوں کے تلوے جدا ہو چکے تھے،سر اور بے ہنگم بڑھی ہوئی داڑھی گرد آلود تھے۔ چہرے پر کئی خراشیں بھی تھیں جن سے لہو رس کر خشک ہو چکا تھا۔ اس بدحالی کو بھی مات دیتی ہوئی اس کی آنکھوں کی وہ وحشت تھی جیسے اس نے کائنات کے اس بھید تک رسائی حاصل کر لی ہو جو اس کے لیے تھا ہی نہیں ۔ جیسے اس نے غلطی سے عرش معلی اور کرہ ارض کا نظارہ کر لیا ہو ۔

“کون ہو ” ؟ جب تادیر اس نے کوئی جواب نہ دیا تو گڈریے نے اپنا سوال دہرایا۔ “معلوم نہیں! میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں ۔۔تم نے اسے دیکھا ہے ؟؟؟وہ۔۔وہ مجھ سے بھاگ رہا ہے۔ ۔۔۔ان چٹانوں میں چھپ گیا ہے مگر۔۔ مگر میں یہیں بیٹھا رہوں گا وہ ۔۔جب باہر آئے گا تو۔۔۔تو میں اسے پا لوں گا ” اجنبی عجیب وحشت بھرے انداز میں بے ربط جملے کہے جا رہا تھا۔

اب گڈریے کو اس کے دیوانہ ہونے میں کوئی شک نہ رہا۔ اس نے واپسی کو قدم بڑھائے ۔ کچھ دور جا کر اسے خیال آیا کہ جانے یہ دیوانہ کب سے بھوکا پیاسا بھٹک رہا ہے ۔ “اس کے ناتواں بدن کو طاقت کی ضرورت ہے” اس نے سوچا اور اپنے چرمی تھیلے سے کچھ خشک پنیر کے ٹکڑے اور روٹی نکالی۔،قریب چرتی ہوئی ایک بھیڑ کا دودھ اپنے پانی کے کوزے میں دوہا اور اسے لیکر اجنبی کی طرف بڑھا جو اب زمین پر دراز ہو چکا تھا۔
اس نے قریب پہنچ کر خوراک اس کی طرف بڑھائی تو اس نے تیزی سے روٹی جھپٹ لی اور جلدی جلدی کھانے کی کوشش میں نوالے نگلنے لگا۔ روٹی جلد ہی ختم ہو گئی تو اس نے دودھ کے پیالے کو منہ سے لگا لیا ۔ بے ہنگم انداز میں پینے کی وجہ سے دودھ اس کی بانچھوں سے بہتے ہوئے گردن پر دھاریاں بنا رہا تھا۔
گڈریا اسے دیکھتا رہا اور جب اس نے دودھ ختم کر لیا تو اپنا پیالہ اٹھا کر واپسی کو چل دیا۔

ابھی کچھ دور ہی گیا تھا کہ اجنبی نے اسے پکار لیا” سنو!” وہ پلٹا اور اجنبی کو دیکھنے لگا جس کے حواس اب پہلے کی نسبت یکجا نظر آتے تھے۔ “کیا تم میری بات سنو گے؟؟ ” گڈریے نے دیکھا سائے ابھی مختصر ہی تھے یعنی اس کے پاس سائے لمبے ہونے تک کا وقت تو میسر تھا ہی تو کیوں نہ اجنبی کی بات ہی سن لی جائے؟؟ اس نے سوچا اور قریب چرتے ریوڑ پر ایک نظر ڈال کر اس کی طرف بڑھ گیا۔ اجنبی کے قریب پتھریلی زمین پر بیٹھتے ہوئے اس نے اپنا چمڑے کا تھیلا کندھے سے اتار کر ایک طرف رکھا اور اجنبی کی طرف دیکھا “کہو اجنبی! کیا کہنا چاہتے ہو۔کس کے پیچھے بھاگ رہے ہو”؟؟ گڈریے کے سوال کے جواب میں اجنبی ،جو پہلے سر جھکائے انگشت شہادت سے مٹی پر لکیریں کھینچ رہا تھا،چونک کر اسے دیکھنے لگا۔۔”خدا۔۔۔!! میرا خدا مجھ سے بھاگ رہا ہے ۔۔چھپ رہا ہے۔” اس کی آواز میں ہدی خوانوں کا سا درد سمٹ آیا تھا۔ اور احساس شکست اور ناکامی چہرے پر دراڑوں کی صورت ابھر آئے تھے ۔

“خدا”؟؟؟ لاعلم گڈریا بڑبڑایا ۔۔”کیا وہ تمہارا کوئی ساتھی ہے ؟؟؟ ” اس نے اجنبی سے پوچھا ۔
“نہیں “!! کم عقل گڈریے”! وہ یکدم طیش میں آ کر چلانے لگا۔۔ “خدا” جو بشر کے لیے ضروری ہے بشر کے ہونے کا ثبوت ہے ۔۔جو حقیقت ہے اور جو بشر کا مقدر اس کی منزل طے کرتا ہے وہ خدا ”
بات کے اختتام تک اجنبی کا طیش بھی مدھم پڑ گیا۔

گڈریے کو اس دیوانے کی کوئی بات سمجھ نہ آ رہی تھی کہ اس کی ساری زندگی میں خدا کبھی آیا ہی نہ تھا۔ نہ اسکی ملاقات ہوئی تھی نہ اس کے اجداد نے ہی کبھی کسی ایسی ہستی کے بارے میں آگاہی دی تھی جس کا ہونا بشر کے لیے ضروری ہوتا۔ وہ تو بس ریوڑ چراتے ہوئے نسل در نسل بھیڑوں بکریوں کا علم ہی منتقل کیا کرتے تھے۔ وہ خاموش بیٹھا اس بدحال دیوانے کو دیکھتا رہا جو اب پھر سے اپنی انگلیاں خاک آلودہ کرتے ہوئے جانے کس کی صورت ڈھال رہا تھا۔
خاموشی کے اس وقفے میں بس صحرائی ہوا کو ہی اذن گویائی تھا۔
جانے کتنی دیر گزری اور اجنبی نے سر اٹھا کر گڈریے کو دیکھا۔” تمہاری بھیڑیں ” ۔۔وہ بڑبڑایا ۔۔”تم انہیں کس طرح شناخت کرتے ہو؟ ؟ کھو جاتی ہیں تو کیسے تلاش کرتے ہو؟؟ کیسے جان جاتے ہو کہ کوئی بھیڑ بچہ جننے والی ہے یا کوئی بیمار ہے ۔۔۔؟؟”
وہ یکے بعد دیگرے سوال گڈریے سے سوال کرتا گیا۔

گڈریا مسکرا دیا۔ ان سوالوں کے جواب بہت آسان تھے مگر وہ یہ سمجھ نہیں پایا کہ خدا سے شروع ہونے والی بات کا بھیڑوں سے کیا تعلق ہو سکتا ہے؟؟
“میں منتظر ہوں “اجنبی نے یہ لفظ ٹھہر ٹھہر کر ادا کیے اور اس کی طرف دیکھنے لگا۔
“دیکھو اجنبی! میں جب پیدا ہوا تو ریوڑ موجود تھا۔ میں بڑا ہوتا گیا اور جانور بھی بڑھتے گھٹتے رہے۔۔باپ نے شناخت کے اصول، تلاش کے قواعد ،بیماری کی پکڑ اور علاج کے ٹوٹکے سکھا دیے ۔”
تمہارے پاس ابھی کتنی بھیڑیں ہیں؟؟اجنبی نے پوچھا۔۔۔
“اتنی کہ میرے جھونپڑے میں سما جاتی ہیں ۔”اس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر جواب دیا “مگر ! جانوروں کی پیدائش بھی تو ہوتی ہے۔نسل بڑھتی ہے اور جھونپڑا چھوٹا پڑ سکتا ہے ۔۔تو پھر تم کیا کرو گے”؟؟اجنبی نے چٹان کے ساتھ ٹیک لگا کر پاؤں پھیلا لئے۔۔

گڈریے نے ایک نظر سایوں پر ڈالی۔۔وہ قدرے دراز ہونے لگے تھے۔۔”تب میں بوڑھی، دودھ اور اون نہ دے سکنے والی بھیڑوں کو گلے سے الگ چھانٹ لیتا ہوں، ان کو ٹیلے کے دوسری طرف لے جا کر صحرائی زیتون کی ٹہنیاں اور میٹھے پھول کھلاتا ہوں ۔اور ان کے سامنے بیٹھ کر اس سارے دودھ اور اون کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو انہوں نے مجھے دیا اور پھر۔۔میں انہیں پیلی جڑیں کھلا دیتا ہوں ۔۔وہ دھیرے دھیرے سو جاتی ہیں ۔۔کبھی نہ جاگنے کے لیے۔۔۔پھر کچھ کی کھال اتار کر ان کا گوشت کھانے کے لیے جمع کرتا ہوں اور کچھ صحرائی بھیڑیوں کی مدارات اور خوشی کے لیے چھوڑ آتا ہوں ۔یوں میرے جھونپڑے میں ہمیشہ بھیڑیں ایک سی رہتی ہیں “۔ اس نے اجنبی کو تفضیل سے جواب دیتے ہوئے کہا۔
اجنبی خالی اور بے تاثر نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا۔

“پہچان کیسے ہوتی ہے”؟؟ کیسے جان جاتے ہو کہ ریوڑر سے کون سی بھیڑ کم ہے؟” اجنبی نے کھوئے ہوئے لہجے میں پوچھا۔وہ اپنی داڑھی کے بالوں کے ایک گچھے کو اضطراری کیفیت میں مستقل اپنی شہادت کی انگلی پہ لپیٹ رہا تھا۔
“میں ان کے خواص سے ان کی پہچان کرتا ہوں۔ بظاہر سب بھیڑیں ایک سی نظر آتی ہیں مگر ان کے خواص الگ الگ ہیں۔ کچھ چارے اور پتوں کو بے ڈھنگے پن سے کھاتی ہیں اور کچھ بے حد خوبی اور صفائی سے۔ اسی طرح چلنے کے انداز بھی جدا جدا ہیں۔ میری ایک بھیڑ کی پچھلی ٹانگ میں معمولی سا لنگ ہے میں اس کے کھروں سے بننے والے نشانات سے بھانپ جاتا ہوں کہ وہ کس سمت گئی ہے۔ اسی طرح ایک بھیڑ کی دم کٹی ہوئی ہے اور وہ جب فضلہ گراتی ہے تو وہ ایک مخصوص ترتیب میں ہوتا ہے۔ میں گرے ہوئے فضلے کا پیچھا کرتے ہوئے اسے پا لیتا ہوں ۔ مجھے اپنی بھیڑ پہچاننے میں کبھی دشواری نہیں ہوئی۔”
گڈرئیے نے اپنے تجربات پر فخر کرتے ہوئے اس دیوانے نظر آتے اجنبی کو جواب دیا ۔

اجنبی کچھ دیر خاموش اور بیگانہ رہا، اتنا کہ گڈریا اپنا تھیلا اٹھا کر کھڑا ہو گیا ۔ سائے اب کافی طویل ہو گئے تھے ۔ کچھ دیر جاتی کہ وہ پھر سے گھٹنے لگتے، اور اس عرصے میں اسے ریوڑ کو اکٹھا کرنا تھا۔۔
وہ چلنے کو تھا کہ اجنبی نے اسے ایک بار پھر روک لیا۔ ۔
“سنو اے خوش قسمت گڈرئیے!! اب میری بات بھی سنتے جاؤ، ممکن ہے تمہیں اس راز سے آگاہی نہ ہو مگر نوع بشر کامقصد حیات محض گلہ بانی اور بھیڑوں کا علم نہیں ہے۔” اجنبی کے لہجے میں بھید بھری گہرائی تھی جس نے گڈرئیے کو مضطرب کر دیا۔ نوع بشر کا مقصد حیات جو بھی ہوتا، اگر اس نے اپنی بھیڑیوں کو جمع نہیں کیا تو عنقریب ڈھلنے والا سورج انہیں گمشدہ کر دے گا،اس نے سوچااور اجنبی کی بات کا اثر زائل کرنے کو اپنے قدم بڑھا دیے۔

بدحال اجنبی نے اب کے اسے روکا نہیں اور خاموش ویران نگاہوں سے اسے جاتے دیکھتا رہا۔ سائے اب سمٹ رہے تھے اور ڈھلتے سورج کی تیز نارنجی و احمریں کرنیں صحرا کو سلگتے ہوئے بحر بیکراں میں بدل رہی تھیں۔
گڈرئیے نے ریوڑ کو اکھٹا کرنے کے لیے ایک مخصوص آواز نکالنی شروع کی ہی تھی کہ فضا میں ایک انوکھی صدائے جرس گونجنے لگی۔۔ وہ ایسی دلکش آواز تھی معلوم ہوتا تھا ریت کا ذرہ ذرہ عالم وجد میں آ کر رقصاں ہونے کو ہے ۔
گڈرئیے نے اچنبھے ، استعجاب اور خوف سے مغلوب ہوتے ہوئے آواز کا منبع تلاشنا چاہا تو یہ دیکھ کر اسکی حیرت کی کوئی حد نہ رہی کہ اجنبی کے ہاتھ میں ایک بڑی کوڑی تھی اور وہ اس میں صحرا کی ریت بھرے اسے کچھ یوں حرکت دئیے ہوئے تھا کہ ایک آفاقی اور سحر طاری کر دینے والی نوائے جرس صحرا کو حیرت کدہ بنائے ہوئے تھی۔

اجنبی گڈریئے کی جانب سے مکمل بیگانہ نظر آتا تھا۔ وہ آنکھیں بند کیے جرس بجا رہا تھا اور تبھی گڈریئے نے اپنی پہلی بھیڑ کو آتے دیکھا وہ کسی سحر زدہ کی طرح ایک ایک قدم اٹھاتی چلی آ رہی تھی۔ اور پھر دوسری اور پھر تیسری۔۔۔۔ اور ایک ایک کر کے وہ خاموشی سے آتی گئیں ۔ اجنبی ہنوز اس کوڑی سے وہ پراسرار آواز بلند کر رہا تھا اور جب آخری بھیڑ بھی گلے میں شامل ہو چکی تو اس نے حرکت روک دی اور آنکھیں کھول کر گڈرئیے کو دیکھا جو حیرت کی زیادتی سے ریت کا بت بن چکا تھا۔

“یقیناً یہ کوئی ساحر ہے” گڈریئے نے خوف سے لرز کر سوچا اور سہمی ہوئی نگاہوں سے اجنبی کو دیکھنے لگا ۔ شام کا گلابی پن رات کی سیاہی میں ڈھل رہا تھا۔
“کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ نوع بشر کا مقصد حیات کچھ اور ہے”؟؟ اس نے گڈرئیے کی آنکھوں میں اپنی نوکیلی تیز نگاہ گاڑ دی اور ریت کی مانند سرسراتی آواز میں پوچھا۔
“اور وہ کیا ہے اے اجنبی”؟؟ الفاظ اس کے حلق سے بمشکل نکل سکے تھے۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اس نے یہ اپنی رضا سے کہا تھا یا اجنبی نے کسی اور سحر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے یہ لفظ کہلوائے تھے۔

“تلاش!!! خدا کی تلاش” اس نے ٹھہر ٹھہر کر یہ الفاظ ادا کیے اور گڈریئے کو ساکت ہوئی بھیڑیں سمیٹنے کا اشارہ کرتے ہوئے آنکھیں موند کر اور ٹانگیں سمیٹ کر لیٹ رہا۔
سادہ لوح اور لاعلمی کی دولت سے مالامال گڈرئیے پر تجسس، کھوج اور محصول کھوج نے اپنا شکنجہ کسنے کا آغاز کیا اگرچہ وہ شعوری طور پر ہنوز نابلد دکھائی پڑتا تھا۔

اس نے بھیڑوں کو لیے ہوئے واپسی کے راستے کی جانب قدم بڑھائے تو اس کی موجودہ حیات میں یہ وہ پہلی شام تھی جب پھونس کے جھونپڑے کی جانب لوٹتے ہوئے اس کی زبان پہ صحرائی نغمے نہ تھے بلکہ ذہن سمجھ نہ آنے والی گتھیوں سے اٹا پڑا تھا ۔ خالی پن کی طمانیت کے بجائے سوالات، سوچ کی ہلکی ہلکی بڑبڑاہٹیں پیدا ہو رہی تھیں۔
جھونپڑے میں پیال کے فرش پہ دراز ہوتے ہوئے بھی وہ اجنبی اس کے حواس پہ سوار رہا جسے وہ بھوری چٹانوں کے پاس چھوڑ آیا تھا۔ ۔ رات کا پہلا حصہ اس نے کروٹیں بدلتے ہوئے تمام کیا، صحرا کی ہوا کے دوش پہ کسی بھیڑئیے کی غراہٹ اس کے کانوں تک پہنچتی تو وہ بے چین ہو اٹھتا” اجنبی بے سائبان ہے”وہ سوچتا۔۔” اور صحرا زندہ ہے، سردی کی شدت سے مقابلہ کر بھی لیا تو بھیڑئیے اسے پھاڑ کھائیں گے، اس کا لباس صحرا کی شدت کا مقابلہ کرنے کے لئیے ناکافی ہے ۔ ” وہ اجنبی کے خیال کو ذہن سے جھٹک نہیں پا رہا تھا- اور آخر کوئی چارہ نہ پا کر اس نے جھونپڑے کے ایک طاقچے میں جلتی مشعل اٹھائی ، بھیڑ کی کھال سے بنے موٹے لباس کو اچھی طرح لپیٹا اور باہر نکل آیا۔

صحرا کی کاٹ دار ہوا نے ایک بار تو اسے اپنے جھونپڑے کی راحت میں لوٹ جانے کے لیے اکسایا مگر پھر اجنبی کی درماندگی اور ژولیدہ حالی کے خیال نے اسے اپنے ارادے پر ڈٹے رہنے کی قوت فراہم کی اور وہ تیز قدموں سے چٹانوں کی جانب چل دیا۔

مشعل کی نارنجی لو کی مدد سے اس نے جلد ہی اجنبی کو پا لیا، وہ اسی جگہ چٹان سے ٹیک لگائے ،گھٹنوں کو بانہوں کے حلقے میں سمیٹے کسی بت کی مانند بے حس و حرکت بیٹھا تھا۔ ۔پہلی نظر میں تو گڈرئیے کو گمان ہوا کہ وہ سردی کی شدت کی تاب نہ لاتے ہوئے مر چکا ہے مگر قریب آنے پر اسے اس کی حرکت کرتی شہہ رگ نظر آ گئی۔ وہ اتنی دیر سے آنکھیں موندے بیٹھا تھا کہ اس کے مژگاں صحرا کی ریت سے اٹے ہوئے تھے۔.

اس نے اجنبی کے قریب بیٹھ کر روشن مشعل ریت میں گاڑ دی اور جھک کر اس کا شانہ ہلایا۔ ۔
“سنو!! آنکھیں کھولو اجنبی۔۔۔” گڈرئیے کی پرتشویش پکار پہ اس نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں ۔ اس کے لب یخ بستگی کی وجہ سے نیلاہٹ کی جانب مائل تھے۔
“شب کے اس پہر ، اگر تم میرے سامنے موجودہو تو یقیناً تمہیں تجسس اور نامعلوم کے راز سے آگاہی کی طلب یہاں لے آئی ہے” اس نے گڈرئیے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ۔وہ جھلا گیا”نہیں اے اجنبی!! مجھے تمہاری خستہ حالی اور صحرا کی شب میں بے یارومددگار ہونے کا خیال ستاتا رہا۔میں تمہیں اپنے ساتھ لے جانے آیا ہوں، چلو ! میرے جھونپڑے میں حدت ،راحت اور عافیت ہے۔ تم نرم پیال پہ باآسانی اپنے نڈھال بدن کو آرام دے سکو گے اور جھونپڑے کا درازہ ہمیں ہوا اور بھیڑیوں سے بچائے گا” اس نے فراخ دلی اور مہمان نوازی کے گہرے احساسات کے ساتھ اجنبی کو مدعو کیا اور سہارا دینے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔

“نہیں!!! میں یہاں سے کہیں نہیں جا سکتا!! اگر میں غافل ہو گیا تو وہ ۔۔جو مجھے یقین ہے چٹانوں میں چھپا بیٹھا ہے ،وہ یہاں سے بھاگ کھڑا ہو گا۔۔۔میں ایک عرصہ دراز سے اس کے تعاقب میں ہوں، اب چوک گیا تو جو گنوا چکا، وہ بے سود رہے گا۔۔ تم جاو!! میں نہیں آوں گا” اس نے چٹانی آہنگ کے ساتھ سادہ لوح گڈریئے کی میزبانی قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس کا بڑھا ہوا ہاتھ جھٹک دیا۔

گڈرئیے کو اس سرد رات میں کی گئی اپنی ریاضت کے اکارت جانے کا افسوس تو ضرور ہوا، تاہم وہ اجنبی سے کسی بھی طرح اپنی بات منوا نہ سکتا تھا لہذا اسے اس کے حال پہ چھوڑ دینے کا ارادہ کرتے ہوئے اس نے اپنے اطمینان کے لیے قریب بکھری چھوٹی بڑی خشک لکڑیاں جمع کیں اور اپنی مشعل کے شعلے سے ایک چھوٹا سا الاو روشن کر دیا۔ “جب تک یہ روشن رہے گا، اجنبی کا انتظار قدرے راحت بخش ہو گا” اس نے آگ بھڑکاتے ہوئے سوچا۔ یہ وہ آخری ممکن بھلائی تھی جو وہ اس ضدی سرپھرے اور پراسرار شخص کے ساتھ کر سکتا تھا۔ رات اب بھیگ رہی تھی اور بھیڑیوں کی بے چین صداوں میں بھی وقفہ کم ہو رہا تھا ۔ وہ اپنی مشعل تھام کر واپس ہوا ۔ ہوا کی کاٹ میں مزید شدت آ رہی تھی۔ چند ہی قدم چلا ہو گا کہ جانے کس خیال کے تحت اس نے پیچھے مڑ کر دیکھ لیا ۔۔اور یہ اس کی زندگی کی وہ فاش کوتاہی تھی جس کا تاوان اسے تاحیات چکانا تھا۔

اس نے الاؤ کی روشنی میں اجنبی کو اپنی ہتھیلی پہ جلتے انگارے لیے بیٹھے دیکھا اور وہ انہیں ایسے چھو رہا تھا جیسے لعل و جواہر کو پرکھ رہا ہو۔ گڈرئیے کے حواس مختل ہو گئے۔ وہ اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس بھاگا اور اجنبی کا ہاتھ پکڑ کر انگارے جھٹک دئیے مگر یہ دیکھ کر اس کے استعجاب کا کوئی عالم نہ رہا کہ اسکی کھال بالکل درست حالت میں تھی اور جلنےکا کوئی نشان تک نہ تھا۔
“اے اجنبی!! یہ کیا کر رہے تھے تم؟؟ اور۔۔اور تمہارا ہاتھ؟؟ یہ آگ کی تپش سے محفوظ کیونکر رہا جبکہ آگ کی فطرت ہے کہ یہ جلاتی ہے”؟؟ مجھے بتاؤ!! کیا تم کوئی ساحر ہو؟؟اس کا ہاتھ تھامے وہ پھولے سانس کے ساتھ بے ربط جملے بولتا رہا۔۔یہ عجیب و غریب اجنبی اب اسکو بھی اپنی دیوانگی کے دائرے میں گھسیٹ لینے کو تھا۔

“جس کے قلب میں ناموجود کو عین عالم وجود میں ڈھال لینے اور لاحاصل تجسس کے محصول کا شرر بھڑک اٹھے، اسے آگ جلا نہیں سکتی ۔۔وہ ققنس کی مانند صرف اپنی تلاش کی لو سے بھسم ہوتا ہے” وہ گڈرئیے کی کھلی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سحر پھونک رہا تھا ۔۔

“میری داستان کھوج سے شروع ہوئی تھی اور کھوج بھی کس کی؟ اس کی!! جس کا ہونا بشر کی تقدیر کے لیے لازم ہے۔۔ ۔بالکل ویسے ہی، جیسے بھیڑوں کے گلے کا تصور گڈرئیے کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ جیسے تمہاری بظاہر ایک سی دکھنے والی بھیڑوں کے خواص الگ ہیں بالکل ویسے ہی ایک سی ماہئیت کے بشر بھی الگ الگ تقدیر رکھتے ہیں۔۔ نیکی کیا ہے؟ گناہ کس کو کہتے ہیں اور کب کس نے گناہ کرنا ہے یا نیکی کرنی ہے؟ یہ سب خدا طے کرتا ہے اے چرواہے!! اور نوع بشر کیا کرے ؟؟ اگر وہ خدا کو نہ کھوجے تو بغیر گڈرئیے کی بھیڑ کی مانند بھٹکتا ہوا مر جائے اور یہ بشر کی افضلیت پہ بڑا دھبہ ہے کہ وہ اپنا خدا نہ کھوج پائے”!!! اجنبی سانس لینے کو رکا ۔گڈرئیے کے صاف اور کورے ذہن پہ فلسفہ موجودات کی پہلی گہری ضرب اس قدر شدید تھی کہ وہ پلکوں کی حرکت کو بھی ساکت کئیے اجنبی کی باتیں سن رہا تھا۔ الاو ابھی بھڑک رہا تھا۔ ۔

“میں ہمیشہ سے صحرا نورد دیوانہ نہیں ہوا کرتا تھا چرواہے!! ۔
نجدان کا ہرا بھرا نخلستان میرا وطن تھا جہاں نعمتوں،میووں اور بھرے تھنوں والے جانوروں کی فراوانی تھی ۔وہ ایک چھوٹا سا شہر تھا مگر حیات کی مسرتوں کے خنک سوتے اس زرخیز زرد زمین سے یوں پھوٹتے تھے جیسے طفل کے دہن سے شیریں بے فکر تبسم اور جیسے گل دم کے چہچہے ۔ ۔زندگی اپنی تمام تر مہربانیوں اور شفقتوں کے ساتھ اپنا سرسبز ابر باذل مجھ پہ تانے ہوئے تھی۔ ۔” اور اے چرواہے، میں وہاں کا سب سے ماہر قالین باف تھا، میرے ہاتھوں سے ڈھلنے والے پھول، شگوفے،معبد اور گھوڑے قالین کے موٹے دھاگوں میں امر ہوتے تھے۔۔
میرے پاس نتھنوں سے بھاپ اڑاتے، طاقت کا احساس دلاتے بدخشانی گھوڑے تھے، اور شیریں رس ٹپکاتے کجھوروں کے خوشوں سےلدے نخلستان تھے اور جب ان سے شراب کشید کی جاتی تھی تو اڑتے پرندے اس کی مہک سے مدہوش ہو کر گر پڑتے تھے۔۔میں اپنی ملکیتوں پر نگاہ کرتا تھا تو سوا کیف و انبساط کے اور کچھ نہ پاتا تھا۔۔
مگر تب تک، جب تک وہ شخص مجھ سے ملا نہ تھا جو شہر کے قہوہ خانے میں “ابن سکیت” کے نام سے جانا جاتا تھا۔”۔۔

گڈریا دم بخود اجنبی کی باتیں سن رہا تھا۔ لکڑیاں تیزی سے راکھ میں تبدیل ہو رہی تھیں اور الاو کی حدت اب کم ہو چکی تھی۔ مگر گڈرئیے کے استغراق کا یہ عالم تھا کہ اسے خود پہ پڑی بھیڑ کی کھال کے سرک کر ریت پہ گر جانے کا ادراک بھی نہ ہوا۔
“وہ ایک حسین خوش شکل اور جادو بیان خرقہ پوش تھا، جانے کہاں سے آیا تھا مگر نجدان کے باسیوں نے بہت جلد اسے مسافر سے مقیم بنا دیا۔اس کا نام تو کسی کو بھی معلوم نہیں تھا مگر اس کی گفتگو اس قدر شیریں اور دل کو ٹھنڈک دینے والی ہوا کرتی تھی کہ حزین سے حزین قلب بھی تسکین اور اطمینان پانے لگتا لہزا سب اسے “ابن سکیت” کے نام سے پکارنے لگے۔

وہ دن بھر شہر میں بے پرواہ بھٹکتا رہتا، لوگ اسے قہوہ خانے میں لے جاتے اور اسے کجھوروں، قہوے اور گرم خمیری روٹیوں کی تواضع سے سیر کرنے کے بعد اسے بولنے کو کہتے۔۔ وہ بولتا اور پرندے قطار اندر قطار زمین پہ اتر آتے، ہوا کی نبض تھم جاتی اور آفتاب عالم تاب بھی جانے میں جلدی نہ کرتا تھا۔ ۔۔ وہ صرف سحر انگیز خطیب ہی نہ تھا بلکہ بہت سے انوکھے علوم سے واقفیت رکھتا تھا ۔۔ وہ بند آنکھوں سے ایک جگہ پر انگلی رکھتا اور لوگوں کو کھدائی کرنے کو کہتا تو اس خطے سے میٹھا پانی ابلنے لگتا۔ اس کے پاس دو خشک ٹہنیاں تھیں، وہ ان سے زمین پہ کچھ ناقابل فہم سے نقشے بناتا اور آنے والے دنوں کے موسم، بادوباراں اور حرارت کے متعلق پیش گوئیاں کرتا جو حرف بحرف درست ثابت ہوتی تھیں ۔”

“آگ بجھ رہی ہے ، میرا خیال ہے اس میں کچھ مزید لکڑیاں ڈالنی چاہئیں” اس نے داستان سناتے سناتے گڈرئیے کو مخاطب کیا جو انسان کم اور پتھر کی مورت زیادہ دکھائی پڑتا تھا ۔وہ یوں چونکا جیسے گہری نیند سے جاگا ہو ۔ “اوہ! میں ابھی آتا ہوں۔ ” وہ جلدی سے اٹھا اور کچھ دیر بعد جب وہ واپس آیا تو اس کے ہاتھوں میں بہت سے ٹہنیاں اور چھوٹی جھاڑیاں تھیں
اس نے بجھتے الاو میں لکڑیاں ڈالیں تو کچھ ہی دیر میں نارنجی شرارے پھوٹنے لگے اور آگ پھر سے بھڑک اٹھی۔

“اپنی داستان جاری رکھو اے اجنبی” ! اس نے اسے مخاطب کرتے ہوئے الاو کے نزدیک بیٹھتے ہوئے کہا۔ صحرا کی شب میں جاڑے کا تھکا تھکا اور منجمند چاند پھیکی روشنی سے مقدور بھر اجالا کرنے کی تگ و دو میں تھا۔
اجنبی نے نشست تبدیل کی اور الاو کے قریب سرک آیا۔ ایک لکڑی سے کچھ دیر راکھ کریدتا رہا اور پھر گہری سانس لے کر سلسلہ کلام دوبارہ جوڑا” نجدان کے باشندے اسے زمان الوہی کا انعام جاری سمجھتے تھے کہ اس کے ہونے سے ان کے شب و روز خوش ماجرا اور شاد و خرم تھے۔
ایک روز جبکہ میں اپنے نفیس و دبیز قالینوں کو گھوڑوں پر بندھوا کر تجارتی قافلے کے ساتھ بھیجنے کی تیاری میں تھا، تو میں نے ابن سکیت کو آتے دیکھا۔ اس کا چہرہ بلاشبہ ماہتاب کو شرماتا تھا اور نیلگوں آنکھوں کے اکناف میں اسرار جہاں محسوس ہوتے تھے۔ ۔
وہ مجھے دیکھتا رہا اور قافلہ کب رخصت ہوا مجھے اس کی خبر نہ ہو سکی۔ وہ میرے قریب ہوا اور ایک کوزہ پانی پینے کی اجازت چاہی ۔ میں اس کے سحر سے، اس کے رعب حسن و دلکشی سے گنگ تھا ۔”کیوں نہیں اے ابن سکیت!! آؤ اندر چھاؤں اور فرحت میں چلے آؤ” میں نے اسے اپنے قالین کے کارخانہ میں بلایا اور ٹھنڈے راحت بخش پانی کا کوزہ اسے پیش کیا۔ وہ ایک ایک گھونٹ پیتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوا” اے قالین باف!! تمہارے ہاتھ ایک زندہ معجزہ ہیں! تم چاہو تو یہ گل و شگوفے، یہ دلکش و توانا گھوڑے اور معبد ان دھاگوں کے جال سے نکل کر زندہ جاوید ہو سکتے ہیں” وہ میرے قالینوں کو دیکھتے ہوئے گویا ہوا۔ “میں تمہاری بات نہیں سمجھا ابن سکیت” ۔۔مجھے اس کی بات بالکل بھی سمجھ نہ آئی تھی۔ یہ سب تو میرے قالینوں کی ماہئیت تھی اور یہ متنفس کیسے ہو سکتے تھے؟؟ ۔

وہ مسکرایا ۔۔اور بخدا اس کی مسکراہٹ جگر کو پاش پاش کر دینے کی صیلاحیت سے مالامال تھی۔ “ہر شے اپنی ماہیئت میں ایک الگ کائنات ہے قالین باف!! جیسے خدا!! وہ جو بشر کے درون رہتا ہے اور وہ جو درون ذات سے نکل کر اس لیئے لامحدود ہوتا ہے کہ بشر اسے ڈھونڈتا پھرے، ٹھیک اسی طرح یہ شگوفے اور گھوڑے بھی قالین کی ماہیئت سے نکل کر متنفس ہو سکتے ہیں”۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بول رہا تھا اور یہ وہ پہلا لمحہ تھا جب میں نے موجود و لاموجود کی بھول بھلیوں میں پہلا قدم رکھا تھا۔ “اجنبی اب بول بول کر ہانپ رہا تھا اور شب تیزی سے مائل بہ اختتام تھی۔ گڈریئے کے بدن میں کاٹو تو لہو نہ تھا ۔ وہ اب آگہی کے جہیم میں گلنے سڑنے کے لئے ہمہ تن گوش تھا۔

“اس روز ابن سکیت نے مجھے آگاہ کیا کہ بشر میں ایک خوابیدہ کائناتی قوت کا بسیرا ہے، جو اس کی تقدیر، اس کے درجات اور اسکی اعمال کی درستگی و نا درستگی کا فیصلہ کرتا ہے ۔ اور آدم کی تخلیق کا مقصد بجز اس کے کچھ نہیں کہ وہ خدا کو درون زات سے نکالے اور بیرون زات ہمکلام ہو، مکالمہ کرے۔۔”ابن سکیت جو آنکھوں میں دیکھ کر ماہئیت و واردات قلب سے آگاہ ہو جاتا تھا، وہ فریب کار،جو صحرائی ریت میں انگلیاں پھیرتا تو خلائے بسیط کے راز کھلنے لگتے، اس نے اس شام مجھے اس دھوکے کے کھلے منہ میں دھکیل دیا، جس کا پیچھا کرتے کرتے میں ان حالوں کو آن پہنچا ہوں، اس نے خدا کو میرے درون سے کشید کر کے میرے روبرو کر دیا۔۔۔وہ جو نامعلوم تھا، معلوم ہوتے ہی گمشدہ ہو گیا۔ ۔

میں نے اس کے بعد اشیائے موجود کے مابین ماہئیت نامعلوم پر تفکر شروع کر دیا۔ ۔قالینوں کے دھاگوں کے اندر موجود خلا مجھے لامحدود نظر آنے لگے اور ریت کے ذروں نے جب اپنا باطن منکشف کرنا شروع کیا تو ہر ایک کی الگ ہیئت تھی، ہر ایک کی الگ تقدیر تھی اور وہ سب مجھے نگلنے کو بے تاب نظر آتے تھے۔ ۔
رفتہ رفتہ میرے قالینوں کو ریت نے ڈھانپ لیا، میری کھڈیوں کو دیمک نے چاٹ لیا اور میرے گھوڑے، میرا کجھوروں کا باغ میری بے انت کھوج کی دیوانگی کا شکار ہو گئے۔ میری حالت کچھ ایسی تھی کہ میں دن بھر چوراہے پر بیٹھا ریت چھانتا اور ذروں کے درون خلا کو کھوجتے ہوئے رات کر دیتا۔ ۔اسی دوران مجھے ذروں نے اس جرس تک رسائی دی جو تمہاری بھیڑوں کو کھینچ لائی تھی۔۔۔

دیوانگی روز افزوں بڑھ رہی تھی اور قریب تھا کہ میرا مغز ان گہرے بھیدوں کی تاب نہ لاتے ہوئے پگھل کر میرے کانوں سے بہہ نکلتا ، ایک روز میں چوراہے پر حسب معمول ریت چھان رہا تھا کہ ایک آئینہ فروش وہاں آن نکلا۔ وہ میرے قریب بیٹھ کر سستا رہا تھا اور تبھی سورج کی ایک نوکیلی کرن آئینے سے منعکس ہو کر میری وحشت زدہ آنکھوں سے ٹکرائی۔ میری آنکھیں اس کی چمک سے چندھیا گئیں اور میں نے غیر ارادی طور پر آئینے کی جانب دیکھا اور اے گڈریئے!! کیا تم اندازہ کر سکتے ہو کہ میں نے آئینے میں کیا دیکھا؟؟؟” اجنبی نے لہجہ پراسرار بناتے ہوئے گڈرئیے کو مخاطب کیا جو مکمل مجسمہ دکھائی دے رہا تھا۔ اجنبی نے راکھ کریدی ” آئینے میں دو صورتیں تھیں اے چرواہے!! میرے بالکل پاس میں خود بیٹھا تھا۔ ۔میں دم بخود رہ گیا۔۔”کیا مجھے کھوج کا حاصل مل گیا تھا”؟؟ خدا درون ذات سے نکل آیا تھا؟؟میں نے ڈرتے ڈرتے اپنی شبیہہ کو مخاطب کیا” کیا تم،میں ہو”؟؟ شبیہہ نے مجھے دیکھا”نہیں!! میں وہ ہوں جو تم میں تھا ،خوابیدہ مگر موجود۔۔اور اب موجود و لاموجود کی وہ لکیر تم نے عبور کر لی اور مجھے خود سے نکال کر سامنے لا بٹھایا” وہ شبیہہ ابن سکیت کی مانند گفتگو کر رہی تھی۔

“کیا تم خدا ہو”؟؟ مجھے صبر کا اب یارا نہ رہا تھا لہذا میں نے خوف و استعجاب سے لرزتے ہوئے اس سے دریافت کر لیا۔ وہ مسکرانے لگا اور بولا” بشر کو وہ ملتا ہے جو قضاو قدر سے طے ہو اور خدا کی کھوج اس کی جرات کا آخری پیمانہ ہے ۔۔اسے کھوجنا بھی ہے اور ناکام بھی رہنا ہے ۔تم نے ظاہر سے باطن جدا کر دیا اور ناگاہی و آگاہی کی ملفوف پوتھیوں میں تفکر سے چھید کیے۔۔لو ! اب ان کا خمیازہ بھی بھگتو! یہ کہہ کر وہ اٹھا اور بھاگ کھڑا ہوا۔۔۔میں نے سب گنوا کر اسے جگایا تھا، اب کیسے اسے کھو سکتا تھا جبکہ میرے سوال تشنہ تھے اور جواب ندارد۔ ؟ میں بھی اس کا پیچھا کرنے لگا۔۔ کرتا رہا ، کرتا رہا۔۔بیابانوں، ویرانوں میں، جنگلوں گھاٹیوں اور دریاوں کی متروک گزرگاہوں پر۔۔وہ مجھ سے بھاگ رہا ہے اور مجھے اسے پانا ہے۔۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ جب میں تھک کر، ہار کر اور بے بس ہو کر اسے ایک واہمہ قرار دینے لگتا ہوں، تبھی وہ مسکراتا ہوا میرے قریب آ بیٹھتا ہے اور میرا واہمہ پھر سے ایقان میں بدل جاتا ہے میں اسکی جانب ہاتھ بڑھاتا ہوں مگر وہ پھر سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔۔۔ابھی بھی وہ ان چٹانوں میں روپوش ہو گیا ہے مگر!! اس بار مجھے یقین ہے میں اسے حاصل کر لوں گا۔۔” اجنبی نے داستان تمام کی اور تھک کر سرد ریت پر لیٹ گیا۔ ۔

الاؤ اب مکمل سرد تھا اور دم توڑتی شب سانس لیتی صبح میں بدل رہی تھی۔ ۔ چرواہے کی لاعلمی کی شبنم آگہی کی تپش نے چوس لی تھی اور اب اسکی آنکھوں میں کھوج کے شعلے نار جہنم کا سا منظر پیش کر رہے تھے۔۔سرد ہوا کی کاٹ خنجر کی مانند تھی مگر دونوں اس سے بے نیاز نظر آتے تھے۔ ۔۔ریت کے ذروں کی مانند گھڑیاں گزرتی گئیں ۔۔۔گزرتی گئیں ۔ اور زرد آفتاب افق کے مشرقی کنارے سے جھلکنے لگا۔ ۔۔۔مکمل خاموشی کے اس بحر بیکراں میں دفعتا اجنبی کی آواز کسی پتھر کی ضرب کی طرح گونج اٹھی” وہ رہا!! وہ اس صحرائی زیتون کے پاس بیٹھا ہے!! وہ رہا۔۔۔اب میں اسے پا لوں گا۔
۔سنو!! رکو۔” وہ اچھل کر کھڑا ہو گیا اور اندھا دھند ایک سمت کو بھاگنے لگا، اس کے پیروں سے ریت اڑ رہی تھی اور وحشت کے عالم میں گرتا پڑتا وہ دیوانہ وار آگے بڑھ رہا تھا۔ ۔۔گڈرئیے نے آنکھیں مل کر دیکھا تو اسے زیتون کے پاس دو مبہم، دھندلے خاکے نظر آئے جو موجود بھی تھے اور لا موجود بھی۔۔۔۔جو ہو کر بھی نہیں تھے اور نہ ہو کر بھی ان کا ہونا عین ثابت تھا۔۔ بشر کا مقدر!!مقصد نوع بشر!! وہ اپنے خدا کو کیسے جانے دیتا؟؟؟آگہی کی قیمت چکانے کے بعد دیوانگی کا سودا اتنی آسانی سے چھوڑا نہیں جا سکتا تھا۔۔

اور پھر اے سامع!! صحرا کی وسعتوں نے دو دیوانوں کو بھٹکتے اور گرد اڑاتے دیکھا۔۔بیابانوں کے ہر خار کی زباں پر ان کے لہو کا ذائقہ ہے جو ان کے درماندہ پیروں سے پھوٹتا تھا۔۔۔ جنگل کی فرش پر ان کے بدنوں کے چیتھڑے ہیں جو اسرار خداوندی کی لاحاصل کھوج کا شکار ہوئے اور اے سامع!! اب وہ دو نہیں ،کئی ہیں ۔۔ابن سکیت ہر دور میں دھوکے سے انہیں لوٹتا رہا ہے ، یقین و گمان کے بین ایک ابدی اذیت میں دھکیلتا آیا ہے ۔۔ وہ معصوم خوابیدہ چرواہوں ، قالین بافوں اور ظروف سازوں کو ہلاہل پلاتا رہا ہے، وہ منصور سے انالحق بھی کہلواتا ہے اور اسے دار پہ ٹانگ کر گویا سوال کو موت دیتا ہے ۔ وہ فریب کار ابن سکیت !! جو خدا کی حقیقت کو جان چکا مگر بشر کو بھٹکانے کا لطف اسے نچلا بیٹھنے نہیں دیتا۔۔۔ وہ بشر کو راز ہستی کھوج لینے کی ترغیب بھی دیتا ہے ۔وہ ماہیئت ارضی، نظام شمسی و کائناتی رازوں سے پردہ بھی اٹھواتا ہے اور اٹھانے والوں کو کانسی کے بیلوں میں قید کروا کر زندہ بھوننے والوں کے ساتھ بیٹھ کر لطف اندوز بھی ہوتا ہے ۔۔ ۔۔بشر ابن سکیت کے شکار ہیں اور وہ غارت گر، فریب کار قالینوں، بھیڑوں اور ظروف خانوں پر اڑتی گرد دیکھ کر الوہی گیت گاتا ہے۔۔ ”

“تو پھر اے داستان گو!!! اصل بھید کیا ہے؟؟ بشر کا مقدر کیا ہے اور قضا و قدر کے جھگڑے کیا ہیں؟؟”
سنو اے سامع!!! یہ نوائے درونی ہی بتا سکتی ہے “اور نوائے درونی کا کہنا ہے ۔۔بشر کا بھٹکنا قدر ہے۔۔۔۔۔بشر کھوج کا کشٹ اٹھائے گا، موجود و لاموجود کے بین جو خلائے بسیط سی بے یقینی ہے،وہاں بشریت اور ابدیت سے سر ٹکرائے گا۔۔ابن سکیت کے فریب کا شکار ہو گا۔
اور خدا ہمیشہ آسودہ رہے گا!!!

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *