چلے تھے دیو سائی۔ جاویدخان/سفر نامہ۔قسط15

دوسرے پہاڑ سے ایک ندی لڑکھڑا تی اُتر رہی تھی اُس کا بجتاترنم سُنائی دے رہا تھا۔لُولُوسَر نَدی کامیدان اَورپہاڑ کِسی قدیم آبی گُزر گاہ کا پتہ دے رہے تھے۔چندقدم آگے تقریباً دس فُٹ اُونچا پتھروں کامینار کھڑا تھا۔ہم نے مینار کے اَطراف کھڑے ہو کر تصاویر بنوائیں۔یہ مینار اُن چرواہوں کا شُغل ہو سکتا ہے جو یہاں اپنی بکریوں کے ساتھ اَکثر آتے ہوں گے۔اِس مینار سے بابُو سَر کی بلندی میں چندفُٹ کا اضافہ ہو گیا تھا۔
عمران رزاق اور طاہر یوسف بھی اَب آہستہ آہستہ اُوپر آرہے تھے۔اِک خاموشی سی ہر طرف پھیلی تھی۔چوٹی کی نوک پہ چہل قدمی کے بعد میں واپس ہوٹل کی طرف روانہ ہوا راحیل اور اَصغر اکرم صاحب وہی کھڑے عمران اور طاہر کا انتظار کرنے لگے۔نصف سفر کے بعد اک جگہ بیٹھا تو غنودگی سوار ہونے لگی۔رات کو پوری طرح سو نہ سکاتھا۔نیند کا خمار باقی تھا۔دھوپ نے چادر کے اندر گرمی دی تو خواب آور کفیت میں چلا گیا۔قدموں کی چاپ پہ آنکھیں کھولیں تو اُس شخص کو پایا جس نے نانگا پربت اور تُرشون کی پہچان کروائی تھی۔
تُم ادھر کیوں سوگیا؟،بیمار ہے؟۔

یہ بھی پڑھیں : چلے تھے دیوسائی۔ ۔ جاویدخان/قسط14
”ہاں بیمار بھی ہوں اور نیند بھی پوری نہیں کر سکا“
اچھا اچھا آرام کر و۔کیا وہ تمھارے ساتھی ہیں؟۔
جی ہاں وہ میرے ساتھی ہیں۔
توٹھیک ہے۔اُدھر زیادہ دُور نہیں جانا۔اپنے دوستوں کو بتا دو۔

راکھے (گاہیڈ) کی چاپ پہ جب چادر ہٹائی تھی تو غنودگی بھی ہٹ گئی۔میں لیٹ کر نیلے شفاف آسمان کو دیکھنے لگا۔سورج کی دُھوپ چادر میں مزا دے رہی تھی مگر زمین ٹھنڈی تھی اُس پر زیادہ دیر لیٹا نہ جاسکا۔ہوٹل پہنچا تو شفقت صحن میں بچھی چارپائی پربیٹھے تھے۔گُڈو اور عاصم نواز صاحب تیاری میں مصروف تھے۔بازار ابھی پوری طرح بیدار نہ ہوا تھا۔فقط اِک دو ہوٹلوں کا عملہ جاگا ہواتھا۔شفقت تِلمِلا رہے تھے کہ باقی لوگ ابھی اُوپر کیوں ہیں۔جلد پہنچیں تاکہ آگے چلیں۔اُنھیں زیادہ دیر تکلیف سے نہ گزرنا پڑا۔ باقی ماندہ لوگ اَب واپس آنے لگے تھے۔شاکر بھائی اپنے کام میں مصروف تھے۔پشاور کے نوجوان ابھی نہ اُٹھے تھے۔سڑک کھُل گئی تھی۔جب باقی لوگ پہنچ گئے تو سب منہ  ہاتھ دھونے لگے۔تیار ہوئے لوگوں نے سامان گاڑیوں میں رکھا۔تب تک شاکر بھائی ناشتہ تیار کرچکے تھے۔تلے ہوئے انڈے،رات کی بچی چپاتیاں،پراٹھے اور چائے۔

یہاں چشمے کا پانی یاتو دستیاب نہیں یا پھر سیاحوں کو رَاس نہیں آتا۔پانی خرید کر پینا پڑتا ہے فی بوتل کے حساب سے۔شاکر بھائی نے جگ میں پانی نیم گر م دیا۔کہنے کو تو وہ نیم گرم تھا مگر َاصلاً کچھ بھی نہ تھا۔ناشتے کے بعد ہم شاکر بھائی اور عملے سے ملے،عاصم صاحب نے اپنا کارڈ دیا جب کبھی راولاکوٹ آئے تو ملنا۔گاڑیوں میں بیٹھے او ر بابو سر گاؤں کی طرف اُترنے لگے۔سڑک تازہ تارکول پہ اِترا رہی تھی۔بازار سے گاؤں میں اُترتے ہوئے کافی سارے موڑوں سے واسطہ پڑتا ہے۔جو سب کہ سب خطرناک ہیں۔جیسے کسی بڑے پیالے کی یک رُخی دیورار پہ چکر کاٹ کاٹ کر پیندے میں اُتر نا ہو ایسے ہی موڑ کاٹ کاٹ کر گاؤں میں اُترتے ہیں۔یہاں اِطلاعی کتبے محکمہ شاہرات کی طرف سے لگے تھے۔”آہستہ چلیں ورنہ حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں“۔

جاری ہے۔۔

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”چلے تھے دیو سائی۔ جاویدخان/سفر نامہ۔قسط15

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *