مہدی حسن،احمد رشدی،ایم کلیم،حبیب ولی محمد۔۔۔شکور پٹھان

نغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کو۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــکسی سیانے سے پوچھا گیا کہ موسیقی حلال ہے یا حرام۔ اس مرد دانا نے جواب دیا کہ جو اس کا اہل ہے اس کے لئے حلال ہے اور جو اس کا اہل نہیں اس کے لئے حرام۔ ایسے ہی کسی مرد درویش نے کہا کہ یہ ایک دہکتی ہوئی انگیٹھی ہے اب یہ پکانے والے کی مرضی اور صلاحیت پر ہے کہ وہ اس پر خوش ذائقہ غذا پکاتا ہے   یا بد مزہ کھانا۔
غنا کی حلت و حرمت کے قضیے کو ایک طرف رکھیں۔ اپنا تو حال یہ ہے کہ

گناہگار ہوں کافر نہیں ہوں میں۔۔

اور میں یا کوئی اور بھی اس سے بچے کیسے۔ یہ ساری کائنات کسی نہ کسی دھن پر جھوم رہی ہے۔۔۔۔
عالم تمام حلقئہ دام خیال ہے۔

آپ اپنے آس پاس بکھرے ہوئے سنگیت سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ یہ دل جو ہر وقت دھڑکتا رہتا ہے اسکی بھی تو اپنی ایک دھن ہے۔ مرزا نوشہ ہی تو کہہ   گئے ہیں

نغمہ ہائے زندگی ہی کو غنیمت جانیے
بے صدا ہوجائے گا یہ ساز ہستی ایکدن

سرسنگیت کا اپنا ایک قانون ہے، دستور ہے۔ اس سے بغاوت بد ذوقی پیدا کرتی ہے، فساد بپا کرتی ہے۔ اور یہ سرآپ کے اندر سے پیدا ہوتے ہیں اور جب یہ خارج کے تاروں سے مل جاتے ہیں تو سنگیت کے جلترنگ بج اٹھتے ہیں۔
کبھی لوہار کی ٹھن ٹھن سنیے ، روئی دھنکنے والے کی ٹنگ ٹنگ پر کان لگائیے، پکی سڑک پر دوڑتے ہوئے گھوڑے کی ٹاپ، صحرا میں گذرتے قافلے کے اونٹوں کے گلے کی بجتی گھنٹیان، ریل کے انجن کی چھکاچھک، گھڑیال کی ٹک ٹک، صبح دم چڑیوں کا چہچہانا، کوئل کی کوک، پپیہے کی پی ہو پی ہو اور تیتر کا حق ہو، سمندر کی لہروں کا شور، سرسراتے پتوں کی آوازیں، ٹین کی چھت پر بارش کی ٹپاٹپ گرتی بوندیں، کیا یہ سب آپ کے دل کے تاروں کو نہیں چھیڑتے۔
وہ کوئی بہت ہی کٹھور گوش ( یہ میرا اپنا لفظ ہے) ہوگا جو خمیسو خان کے الغوزے پر نہ جھومے ۔عالم لوہار کے چمٹے پر نہ تھرکے، استاد ولی افغانی کا رباب اسے مسحور نہ کرے یا فیض محمد بلوچ کی سارنگی، اللہ رکھا کا طبلہ، بسم اللہ خان کی شہنائی اور روی شنکر کا ستار جس کے اندر کے تاروں کو نہ چھیڑ سکے۔
سر، تال، لے اور بولوں کا سنگم جب سلیقے سے ترتیب پاتا ہے تو سنگیت جنم لیتا ہے۔ سنگیت جو من کو پنکھ لگاتا ہے، جو انسان بنا دیتا ہے، جو رحمان ملا دیتا ہے۔

آپ نے رات کے سناٹے میں کبھی بانسری کی آواز سنی ہے، کبھی پہاڑی مزدوروں کے ڈیرہ پر رباب سنا ہے، کہیں کسی خانقاہ پر ہارمونیم او ڈھول پر قوالیاں یا کافیاں سنی ہیں۔ کہیں ستار اور طبلے کی جگل بندی دیکھی ہے اور یقیناـ ً سنی ہوں گی۔ تو اس موسیقی، اس غنا سے بھاگ کر کوئی کہاں جائے گا۔۔
موسیقی کے اپنے رنگ ، اپنے مطالب ہوتے ہیں صوفیانہ یا عارفانہ کلام قلب میں پاکیزگی لاتا ہے تو رزمیہ نغمے مردانگی پر ابھارتے ہیں، لوک گیت ، مٹی اور دھرتی سے جوڑے رکھتے ہیں تو رومانی گیت دل مین چھپے ہوئے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ آج کل کی دھوم دھڑکے والی پوپ میوزک بھی، جسے بہت سے لوگ پاپ میوزک بھی کہتے ہیں، اتنی بیکار شے نہیں۔

مجھے موسیقی کے سر پیر کا نہیں پتہ۔ میں نہیں جانتا کہ مالکوس، بھیرویں، ایمن اور اساوری میں کتنے سر ہوتے ہیں۔ ٹھمری اور دادرا اور میاں کی ٹوری کیا ہوتے ہیں اور ملہار اور دیپک راگ کیا اثر ڈالتے ہیں۔۔
لیکن میں ظلعت محمود کے سریلے پن، محمد رفیع کی آواز کی مٹھاس، نورجہاں کے ترنم، لتا کی مدھرتا آشا کی شوخی اور شمشاد بیگم کی ٓواز کے الھڑپن کا مزہ لینا جانتا ہوں۔
میرے ملک کو جہاں خدا نے اور بے بہا نعمتیں عطا کی ہیں وہیں ایسی ایسی آوازیں، اور ایسے کمال کے شاعر اور موسیقار دیے کہ ایک سے بڑھ کر ایک لعل یمن۔
ملکہ ترنم نورجہان، ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم،ملکہ پکھراج، بلبل صحرا ریشماں، فریدہ خانم، اقبال بانو، زبیدہ خانم، نسیم بیگم، مالا، ناہید نیازی، نجمہ نیازی، کوثر پروین، آئرین پروین، منور سلطانہ، طاہرہ سید، نیرہ نور، ٹینا ثانی، منی بیگم، عابدہ پروین، مہناز، ناہید اختر، استاد برکت علیخان، نزاکت علی، سلامت علی، امانت علی، فتح علی، غلام علی، شوکت علی، رجب علی، نصرت فتح علی خان، سلیم رضا، منیر حسین، مسعود رانا، عنایت حسین بھٹی، تاج ملتانی، موسیقار خورشید انور، فیروز نظامی، رشید عطرے، ماسٹر عنایت، باباچشتی، نثار بزمی، ناشاد، سہیل رعنا اور نجانے کتنے ستارے آسمان موسیقی پر جگمگ جگمگ کر رہے ہیں۔

میرا شہر تو پھر میرا شہر ہے۔ وہ کب کسی سے پیچھے رہا ہے بلکہ سب سے آگے ہی رہا ہے۔ یہاں ایس بی جون، سلیم شہزاد، مجیب عالم، اخلاق احمد، عالمگیر، شہکی، رونا لیلیٰ، شہناز بیگم اور ایسے کئی ایک فنکار رہے ہیں جنکا کوئی ثانی نہیں۔
آج جنکی یاد میں آپ کے ساتھ بانٹ رہا ہوں ، ٓاپ بھی کہیں گے کہ واہ۔۔!!!
یہ میرے شہر ہی نہیں بلکہ میرے ملک کا سرمایہ ہیں اور فن کی دنیا کے اثاثے ہیں۔ میرے شہر کی خوش نصیبی کہ یہ اس کے حصے میں آئے۔

خان صاحب


میں شاید چوتھی یا پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا اور اتنا چھوٹا تھا کہ فلم صرف گھر والوں کے ساتھ ہی دیکھ سکتا تھا۔ چنانچہ اہل خانہ کے ساتھ ایک فلم دیکھی (اس زمانے میں دیکھ سکتے تھے۔۔گھر والوں کیساتھ)۔ فلم تھی، گہرا داغ، جسمیں نیلو اور اعجاز تھے۔ فلم تو یاد نہیں رہی لیکن اسکا ایک گیت اس وقت سے اب تک میرا پسندیدہ ہے

گر تم حسین نہ ہوتے
ہم مہرباں نہ ہوتے

ان دنوں سلیم رضا، منیر حسین اور عنایت حسین بھٹی کا طوطی بولتا تھا لیکن یہ آواز بالکل الگ سی محسوس ہوئی، مجھے تو سلیم رضا وغیرہ کے بھی نام نہیں پتہ تھے کہ اس وقت ان چیزوں میں کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی۔ اس آواز پر بھی کوئی دھیان نہ دیا۔ البتی یہ آواز صبح سویرے ریڈیو پر بھی سنائی دیتی،

وہ شمع اجالا جس نے کیا
دوسرا کون ہے جہاں تو ہے
شافع روز جزا اللہ اکبر آگیا۔

یہ ایسی پرسوز  آواز تھی کہ سیدھی دل میں اترتی تھی۔

پھر ستمبر سن پینسٹھ میں جنگ چھڑ گئی اور صدر ایوب کی تاریخی تقریر کے بعد کراچی ریڈیو سے ایک نغمہ گونجا

اللہ کے وعدے پہ مجاہد کو یقیں ہے
اب فتح مبیں،فتح مبیں ، فتح مبیں ہے۔

پھر تو ہر روز ہی یہ آواز سنائی دیتی۔

خطہ لاہور تیرے جاں نثاروں کو سلام
اے شہر لاہور اے ارض لاہور، داتا کی نگری اے شہر لاہور
حیات تازہ کی اس زندہ یاد گار کو دیکھ ، سیالکوٹ کے میدان کارزار کو دیکھ
اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں۔۔قوم کے مرد مجاہد تجھے کیا پیش کروں

اب مجھ سمیت پورا ملک جان گیا تھا کہ مہدی حسن کون ہے۔ جنگ کا میدان سرد پڑا اور زندگی اپنے رنگ پر واپس آگئی۔ آہستہ آہستہ ریڈیو پر فلمی گیت بھی واپس آگئے۔ ان دنوں ایک غزل نے بڑی دھوم مچائی ہوئی تھی

گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے

اب مہدی حسن کا ایک اور ہی روپ سامنے آرہا تھا۔ پھر شاید سن 67 میں ایک فلم تھی ،جاگ اٹھا انسان، اس کا ایک گیت۔۔

، دنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں

، ہر وقت کانوں میں رس گھولتا رہتا۔
یہ اعلان تھا کہ شہنشاہ سوز، بادشاہ غزل، خانصاحب مہدی حسن تشریف لاچکے ہیں۔
مہدی حسن نے غزل گائیکی کو ایک نیا انداز دیا اور طے یہ پایا کہ غزل دراصل ایسے ہی گائی جانی چاہیے ۔
ان کے گلے کا سوز، ترنم، آواز کی گرج اور بولوں کی ادائیگی وغیرہ کے بارے میں، میں کیا کہوں ، اور مجھے کچھ کہنے کی ضرورت بھی نہیں ہے،
آفتاب آمد دلیل آفتاب است
دنیا نے مان لیا کہ غزل گائیکی میں اگر کوئی نشان راہ ہے تو وہ مہدی حسن ہیں اور ان سے بڑھ کر کوئی نام نہیں۔
دروغ بر گردنِ شمع نئی دہلی، ستر کی دہائی کی بات ہے شمع میں ایک خبر چھپی کہ مشہور اداکار، آنجہانی سنیل دت کے بازو میں حادثاتی طور پر گولی لگ گئی۔ ڈاکٹروں نے جب گولی نکالنے کیلئے سنیل دت کو بے ہوشی کا انجکشن دینا چاہا تو انھوں نے روک دیا اور فرمائش کی کہ بس میرے سرہانے مہدی حسن کی غزلوں کے کیسٹ لگادو۔
ڈاکٹروں نے ان کی بات مانی یا نہیں۔ آپ یقیناَ اسے مبالغہ سمجھ رہے ہوں گے۔ میں بھی یونہی سمجھتا تھا۔لیکن جب بعد میں مہدی حسن کو بہت فرصت سے سنا تو ایک اور ہی کیفیت سے آشنا ہوا۔ آپ بھی ایک تجربہ کرکے دیکھیں اور آپ کو سنیل دت کے نسخے کے کارآمد ہونے کا اندازہ ہو جائے گا۔
رات ڈھلے، کسی خاموش سے کمرے میں جہاں آپ تنہا ہوں، کمرے میں ہلکی سی ملگجی سی روشنی ہو۔ آپ اپنے پسندیدہ مشروب، یا سگریٹ یا سگار سے لطف اندوز ہو رہے ہوں تو اپنے میوزک سسٹم پر، درمیانی آواز میں مہدی حسن کی گائی ہوئی یہ پانچ غزلیں یکے بعد دیگرے سنیں۔
۱۔ ۔گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
۲۔ ناوک انداز جدھر دیدہ جاناں ہوں گے
۳۔ دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے ، یہ دھواں سا کہاں   سے اٹھتا ہے
۴۔ پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
۵۔ کیسے چھپاوْں راز غم، دیدہ تر کو کیا کروں

آپ جان جائینگے کہ آواز کے سحر میں جکڑ جانا کسے کہتے ہیں اورآپ یہ بھی مان جائیں گے کہ سنیل دت نے کیا بہترین نسخہ سوچا تھااپنے لئے ۔

گول گپے والا


ان دنوں ہم زندگی کے تاروپود قائم رکھنے کیلئے ہاتھ پیر مار رہے تھے اور ریڈیو جیسی  عیاشی ہمیں میسر نہیں تھی لیکن نجانے کب سے ایک گیت ہر وقت زبان پر رہتا

پاکستان میں کراچی جیسے پان میں الائچی
بندر روڈ سے کیماڑی میری چلی رے گھوڑا گاڑی، بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر

پھر ایک گیت جو گلی گلی سنائی دیتا تھا

، گول گپے والا آیا گول گپے لایا،

ہم ان گانوں کا لطف لیتے لیکن یہ ہوش نہیں تھا کہ یہ گایا کس نے ہے۔ ذرا ہوش سنبھالا تو اسی آواز میں ایک اور نغمہ سنائی دیا

، چاند سا مکھڑا گورا بدن،

اب سمجھ میں آنے لگا یہ کہ یہ خوبصورت آواز کس کی ہے۔ احمد رشدی کی آواز نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئی۔ پھر جب پہلے کمال اور زیبا اور بعد ازاں زیبا اور وحید مراد کی جوڑی نے فلموں میں دھوم مچانا شروع کی   تو محسوس ہوا کہ پاکستان میں ایک ہی مردانہ آواز ہے جو سلیم رضا، منیر حسین وغیرہ سے بالکل مختلف ہے۔
رشدی کی آواز ایک مکمل پیکیج تھی۔ آواز کی جس خوبی کا نام لیا جائے وہ اس میں موجود تھی۔ آواز کا مردانہ پن، ساتھ ہی سریلا پن۔ متنوع کیفیت کے گیت، کبھی سنجیدہ رومانی گیت(کسی چمن میں رہو تم بہار بن کے رہو) کبھی ناکام عاشق کی آواز(جب پیار میں دو دل ملتے ہیں میں سوچتا ہوں) کبھی ایک شوخ نوجوان کی مستی(کیا ہے جو پیار تو پڑےگا نبھانا) اور سب سے بڑھ کر پاکستان کا شاید پہلا پوپ گیت ، کو کو کورینا، نے تو گویا ہلچل مچادی۔ لیکن ساتھ ہی اکیلے نہ جانا، جب رات ڈھلی تم یاد آئے، رات سلونی آئی بات انوکھی لائی، رات چلی ہے جھوم کے، کیا ہے جو پیار تو پڑے گا نبھانا جیسے سریلے گیت کانوں میں رس انڈیلتے۔
برصغیر میں اگر محمد رفیع کے بعد کوئی آواز ہر طرح کے گانے پر قادر تھی تو وہ رشدی کی آواز تھی اور جس طرح رفیع صاحب کو کمال حاصل تھا کہ وہ جس اداکار کیلئے گاتے اس کا سراپا نظروں میں گھوم جاتا اسی طرح رشدی اپنی آواز کو اداکار کی شخصیت سے ہم آہنگ کردیتے۔ کسی چمن میں رہو تم (درپن) تجھے اپنے دل سے میں کیسے بھلادوں  (کمال) بھابی میری بھابی (وحید مراد)کاش کوئی مجھ کو سمجھاتا(ندیم) اور، لئے آنکھوں میں غرور ایسے بیٹھے ہیں حضور(محمد علی) اسکی چند مثالیں ہیں۔
رشدی کی روایت کو عالمگیر اور شہکی جیسوں نے آگے بڑھایا مگر ایسا کہانں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے۔

ناکام رہے میرے گیت

یہ سن 68 کی بات ہے ۔ ہمارے گھر میں ایک ریکارڈ پلئیر آیا جو کہ اس زمانے میں خاصی عیاشی سمجھا جاتا تھا۔ اسکے ساتھ جو بہت سے ریکارڈز آئے اس میں ایک بڑا ،توا، (ایل پی) فلم شاہجہان کا تھا۔ کے ایل سہگل کی ٓاواز پہلی بار اطمینان سے بار بار سننے ملی۔ یہ آواز میرے کزنز کو پسند نہیں تھی لیکن مجھے نجانے کیوں، غم دیے  مستقل کتنا نازک ہے دل ۔ اور ،جب دل ہی ٹوٹ گیا،  جیسے گیت مسحور کئے دیتے تھے۔ پاکستان میں ایسی کوئی آواز سننے میں نہیں آتی یا شاید میں نے نہیں سنی تھی کہ ایک دن ریڈیو پر ایک گیت سنا

،مورا من پاپی، پاپی من مورا،

اس زمانے میں ریڈیو پر ہندوستانی گیت نشر نہیں ہوتے تھے۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کی یہ کیسی اور کس کی آواز ہے۔ پھر ایک دن ریڈیو کے پروگرام سال بہ سال میں ایک نغمہ سنا

آئی جو ان کی یاد تو آتی چلی گئی
ہر نقش ماسوا کو مٹاتی چلی گئی

میں  اس  آواز کا اسیر ہوگیا۔ پھر ریڈیو پر غالب کی غزل ۔ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ تواتر سے نشر ہونے لگی۔ معلوم ہوا کہ یہ مدھر آواز ،ایم کلیم کی ہے۔ اب تو ایم کلیم میرے پسندیدہ گلوکار بن گئے۔ میرے ہم عمر دوست میری اس پسند کا مذاق اڑاتے تھے کہ یہ تو نصف صدی پہلے کے گلوکاروں کا انداز ہے۔ کبھی سہگل، سی ایچ آتما اور پنکج ملک وغیرہ اس طرح گاتے تھے۔ لیکن جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ جب ایم کلیم کا ،

ناکام رہے میرے گیت بدنام ہوامیرا پیار
میری وینا کے کچھ ایسے ٹوٹے تار

ریڈیو پرآتا تو  ہر  کوئی اس میں کھو سا جاتا۔ پھر جب میرے شہر میں ٹی وی کی آمد ہوئی اور ایم کلیم جب،

گوری گھونگٹ میں شرمائے

سناتے تو انکی شرمائی شرمائی سی شریر سی مسکراہٹ گیت کا لطف دوبالا کردیتی۔
استاد بڑے غلام علی جب پاکستان آنے لگے تو سنا ہے پنڈت نہرو نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ لیکن نجانے کب ایم کلیم ن نے رخت سفر باندھا اور کب پاکستان سے رخصت ہوئے اور کب اس دنیا سے ہی رخصت ہوگئے کہ ہمارے یہاں فنکاروں کا یہی مقام ہے۔ شاید اسی لئے ایم کلیم نے کہا تھا

ناکام رہے میرے گیت

آج جانے کی ضد نہ کرو


مجھے شعر وشاعری کا کچھ خاص نہیں پتہ۔ نہ مجھے شعر یاد رہتے ہیں نہ موقع محل کے مطابق شعر سنانے آتے ہیں۔ لیکن اچھے شعر، اچھا کلام بہر حال دل کو بھاتا ہے اور مجھے اس کا لطف لینا آتا ہے۔
ریڈیو پر ایک غزل اکثر سنائی دیتی

میرا جو حال ہو سو ہو برق نظر گرئے جا
میں یونہی نالہ کش رہوں تو یونہی مسکرائے جا

اور کچھ نہ سمجھنے کے باوجود میں یہ غزل پوری سنا کرتا۔ اس غزل کے گائیک کو اس وقت تک قبول عام کی سند حاصل
نہ ہوئی تھی حالانکہ وہ اس سے پہلے بمبئی میں

تصویر بناتا ہوں تیری خون جگر سے
دیکھا ہے تجھے میں نے محبت کی نظر سے

جیسے خوبصورت گانے گا چکا تھا۔ پھر جب اس آواز نے بہادر شاہ ظفر کی ، لگتا نہیں ہے جی مرا اجڑے دیار میں، گائی تو مخصوص لوگوں میں حبیب ولی محمد کا نام جانا جانے لگا گو کہ عوامی پذیرائی انہیں حاصل نہیں تھی۔
1970 میں جب کہ زیادہ تر بلیک اینڈ وہائٹ  فلمیں بنا  کرتی تھیں، ایک رنگین فلم نے اپنی آمد سے پہلے ہی دھوم مچادی۔ اس فلم میں نہ صرف ایک نئی ہیروئین کی آمد کی نوید دی گئی تھی بلکہ  اس زمانے کے دو سپر اسٹارز، محمد علی اور ندیم، ایک ساتھ جلوہ گر ہو  رہے تھے۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر فلم کے ۲ گانے تھے جنہوں نے مقبولیت میں تمام گیتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

آشیاں جل گیا، گلستاں لٹ گیا
ہم قفس سے نکل کر کدھر جائینگے
اور
راتیں تھی چاندنی جوبن پہ تھی بہار

یہ ایسے گیت تھے کہ شائقین کو انتظار تھا کہ کب یہ فلم آئے اور وہ دیکھیں کہ یہ گانے کس طرح فلمبند ہوئے ہیں۔
ان دو گیتوں نے حبیب ولی محمد کو راتوں رات شہرت کی بلندی پر پہنچادیا جہانں سے انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
انہوں نے جو غزل، گیت، نغمہ گایا کمال کا گایا۔ ان کا گایا ہوا ہر نغمہ مقبول ترین ہوتا۔ انہوں نے کبھی کوئی معمولی چیز یا ہلکی چیز گائی ہی نہیں۔ ذرا چند ایک نمونے ملاحظہ کیجئے۔

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں جینے کی تمنا کون  کرے
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیں
آج جانے کی ضد نہ کرو
کجرا بنا کے لےآ  مالنیا
شمشیر برہنہ مانگ غضب
گئے دنوں کا سراغ لیکر کہاں سے ٓایا کدھر گیا وہ
چل ری دلہنیا ساجن کے دوارے
ایسی بھیگی سہانی رات میں
اک شمع جلتی ہی رہی پروانہ آیا ہی نہیں
گوری کرت سنگھار
لا فتح الا علی لا سیف الا ذوالفقار
اے نگار وطن تو سلامت رہے
اب آپ ہی کہیے ان میں سے کوئی ایک بھی نغمہ ایسا ہے جسے آپ معمولی کہہ سکیں۔ ہر ایک گیت اپنی جگہ بھاری بھر کم ہے۔

اور یہ ساری میٹھی، سریلی، مدھ بھری، محبت بھری آوازیں اور یہ سارے گلوکار میرے شہر کے تھے۔ اب نہ وہ آوازیں رہیں نہ ویسے سننے والے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ

لگتا نہیں ہے جی میرا اجڑے دیار میں۔

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *