ذوالفقارزلفی کی تحاریر
ذوالفقارزلفی
ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے

گوادر تحریک پر سوالات ۔۔ ذوالفقار علی زلفی

مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں اس وقت گوادر میں ایک عوامی تحریک جاری ہے،ـ اس سے پہلے کہ اس تحریک پر بات کی جائے آئیے ماضی میں چلتے ہیں۔ ـ یہ نومبر 2006 ہے ـ بلوچ رہنما سردار اختر←  مزید پڑھیے

(Gett: The trial of Viviane Amsalem)اسرائیلی فلم/تبصرہ:ذوالفقار علی زلفی

“میں تیرے حمل کی تکلیف کو بہت بڑھاؤں گا۔ تو درد کے ساتھ بچے جنے گی، تیری توجہ اپنے شوہر کی جانب ہوگی اور وہ تجھ پر حکمرانی کرے گا” (توریت) یہودیت، مردانہ برتری پر قائم خانہ بدوش قبائلی نظام←  مزید پڑھیے

ایرانی فلم انڈسٹری، ایک تعارف۔۔ذوالفقار علی زلفی

ایران میں فلم سازی کا آغاز 30 کی دہائی سے شروع ہوا ـ پہلی متکلم فارسی فلم 1933 کو “دخترِ لُر” کے نام سے بمبئی میں بنائی گئی جس کے ہدایت کار ہمارے خطے کے عظیم فلمی ذہن جناب اردشیر←  مزید پڑھیے

ہزارہ نسل کشی پر مکالمہ۔۔ذوالفقار علی زلفی

یہ مکالمہ نہیں دراصل مارکسی تجزیہ کار محمد عامر حسینی سے میری بات چیت ہے بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا  کہ میرے سوالات پر محمد عامر حسینی کے تفصیلی اور پُر مغز جوابات ہیں ـ ،مارکسسٹ و لینن←  مزید پڑھیے

ہندی فلم: کھل نائیک۔۔ذوالفقار علی زلفی

راج کپور کے بعد ہندی سینما کے دوسرے سب سے بڑے شومین کا خطاب ہدایت کار سبھاش گئی کو دیا جاتا ہے ـ تاہم یہ دونوں فن کار نظریاتی لحاظ سے یکسر مختلف بلکہ متضاد ہیں ـ راج کپور کی←  مزید پڑھیے

سانحہ ڈنک نوآبادیاتی پالیسی کا تسلسل ۔۔ذوالفقار علی زلفی

جنرل پرویز مشرف کے دور میں جدید بلوچ تحریک کو پاکستان کی عسکری اسٹبلشمنٹ محض تین سرداروں نواب اکبر خان بگٹی، نواب خیر بخش مری اور سردار عطا اللہ مینگل کی ہٹ دھرمی سے تعبیر کرتی تھی ـ ،عسکری اسٹبلشمنٹ←  مزید پڑھیے

ہندی فلموں میں جاگیردارانہ محبت۔۔ذوالفقار علی زلفی

ہندی سینما میں پچاس اور ساٹھ کی دہائی کی فلموں میں مرد و عورت کے تعلقات پر جاگیردارانہ روایات و اقدار کے اثرات حاوی نظر آتے ہیں ـ جاگیردارانہ سماج میں ذرائع پیداوار پر ایک مخصوص بالائی طاقت کا قبضہ←  مزید پڑھیے

رشی کپور۔۔ذوالفقار علی زلفی

ہندی سینما کی تاریخ کپور خاندان کے بغیر ادھوری ہے ـ پرتھوی راج کپور سے لے کر رنبیر کپور و ارجن کپور تک اس خاندان نے سینما کو ایک سے ایک ہیرے دیے ـ انہی ہیروں میں ایک ہیں جناب←  مزید پڑھیے

ساجد حسین کون ہیں؟۔۔ذوالفقار علی زلفی

کراچی میں ایک علاقہ ہے جہانگیر روڈ، وہاں ایک بلوچ محلہ ہے، کراچی کے قدیم بلوچ اسے “کیاماسری” کے نام سے یاد کرتے ہیں ـ کہا جاتا ہے پہلے یہ علاقہ وہاں آباد تھا جہاں آج بانیِ پاکستان کا مزار←  مزید پڑھیے

مسحور کن آنکھوں والی، نِمّی۔۔ذوالفقار علی زلفی

مایہ ناز ہدایت کار و اداکار راج کپور کی فلم “برسات” ہندی سینما کی ناقابلِ فراموش فلموں میں سے ایک ہےـ اس فلم نے ہندی سینما کو پانچ انمول فن کاروں سے نوازاـ نامور موسیقار جوڑی شنکر اور جے کشن،←  مزید پڑھیے

ہندی فلم: گھوسٹ سٹوریز۔۔۔۔ذوالفقار علی زلفی

بھارت کی ہندی سینما میں anthology فلموں (فلموں کا گلدستہ) کی روایت نئی ہے ـ “بمبئے ٹاکیز” (2013) اور “لَسٹ اسٹوریز” (2018) کے بعد غالباً “گھوسٹ اسٹوریز” (2020) اس سلسلے کی تیسری اہم کوشش ہے ـ یہ چار کہانیوں پر←  مزید پڑھیے

وبا اور عقیدے کا معاملہ۔۔ذوالفقار علی زلفی

قریب سو سال پہلے، 1918 کو دنیا پہلی عالمی جنگ کے نقصانات سے ابھی سنھبل نہیں پائی تھی کہ ایک اور افتاد آن پڑی ـ اس آفت کو “ہسپانوی فلو” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ـ ہسپانوی فلو←  مزید پڑھیے

دستاویزی فلم : Who killed Malcolm X۔۔۔۔ذوالفقار زلفی

21 فروری 1965، سیاہ فام رہنما مالکوم ایکس درجنوں افراد کی موجودگی میں قتل کردیے گئے ـ تین افراد گرفتار ہوئے ـ کیس چلا، تینوں جرم ثابت ہونے پر سزا کے مستحق قرار پائے ـ اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے←  مزید پڑھیے

ہندو توا نظریے پر مبنی ہندی فلم “تن حاجی”۔۔۔ذوالفقار علی زلفی

1992 کو بابری مسجد پر ہندو انتہا پسندوں کے حملوں نے جہاں بھارت کی سیکولر شناخت کو مسخ کردیا وہاں ہندی سینما پر بھی اس سانحے نے گہرے منفی اثرات مرتب کیے ـ ہندی فلموں کا وہ مسلمان جو پہلے←  مزید پڑھیے

کیا سینما غیرسیاسی ہے؟۔۔ذوالفقار علی زلفی

پاکستان کی پنجابی فلم “چوڑیاں” پر میرا فلمی تبصرہ فیس بک کے سب سے بڑے فلمی گروپ نے شیئر کرنے سے انکار کردیا ـ موویز پلینٹ گروپ کی انتظامیہ کے مطابق چونکہ تبصرے میں پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیاالحق←  مزید پڑھیے

ہندی سینما کا ارتقا (ایک تجزیاتی مطالعہ)۔۔۔قسط5/ذوالفقار علی زلفی

ما بعد آزادی اگست 1947 میں ہندوستان کی تقسیم ہر لحاظ سے ایک ڈراؤنا واقعہ تھا۔قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوا، عصمتیں لٹیں، انسانوں کو جانوروں کے ریوڑ کی طرح ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف زبردستی←  مزید پڑھیے

ہندی سینما کا ارتقا (ایک تجزیاتی مطالعہ)۔۔۔قسط4/ذوالفقار علی زلفی

نوآبادیاتی عہد کا کُلی جائزہ ہندی سینما نے اوائل میں ہندو مائتھالوجی کو اپنا نظریاتی ہتھیار بنایاـ مائتھالوجی کا مقصد مغربی ثقافتی یلغار کا مقابلہ کرنا تھاـ گوکہ اس میں ہندوستانی نیشنلزم کی آمیزش بھی تھی لیکن ہندو مسلم مناقشہ←  مزید پڑھیے

ہندی سینما کا ارتقا (ایک تجزیاتی مطالعہ)۔۔۔قسط3/ذوالفقار علی زلفی

جہدِ آزادی چالیس کی دہائی ایک ہنگامہ خیز دور ہے ـ 1942 کو گاندھی نے ہندوستان چھوڑ دو تحریک شروع کی ـ 1943 میں انگریزی استحصال کے باعث بنگال کو بدترین قحط کا سامنا کرنا پڑا جس نے لاکھوں افراد←  مزید پڑھیے

ہندی سینما کا ارتقا (ایک تجزیاتی مطالعہ)۔۔۔قسط2/ذوالفقار علی زلفی

خاموش فلمیں بول پڑیں مغربی ممالک میں سینما کے آغاز سے ہی اسے آواز دینے کی کوششیں شروع ہوگئیں ـ اس حوالے سے امریکی سائنسدان ایڈیسن کی کوششیں قابلِ ذکر ہیں تاہم یہ تمام کوششیں ناکام رہیں ـ مسلسل کوششوں←  مزید پڑھیے

ہندی سینما کا ارتقا (ایک تجزیاتی مطالعہ)۔۔۔قسط1/ذوالفقار علی زلفی

سینما دیگر فنون کے مقابلے میں نسبتاً جدید اور موثر ترین فن ہے ـ سینما کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ مختلف فنون جیسے ادب، شاعری، موسیقی ، مصوری، مجسمہ سازی اور فوٹو گرافی کا مرکب ہے←  مزید پڑھیے