• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ہندی سینما کا ارتقا (ایک تجزیاتی مطالعہ)۔۔۔قسط2/ذوالفقار علی زلفی

ہندی سینما کا ارتقا (ایک تجزیاتی مطالعہ)۔۔۔قسط2/ذوالفقار علی زلفی

خاموش فلمیں بول پڑیں

مغربی ممالک میں سینما کے آغاز سے ہی اسے آواز دینے کی کوششیں شروع ہوگئیں ـ اس حوالے سے امریکی سائنسدان ایڈیسن کی کوششیں قابلِ ذکر ہیں تاہم یہ تمام کوششیں ناکام رہیں ـ مسلسل کوششوں کے بعد 1927 کو فلموں میں کسی حد تک آواز شامل کرلی گئی ـ 1929 کو برطانوی ہدایت کار الفرڈ ہچکاک نے بولتی فلم “بلیک میل” بنا کر ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا ـ فرانس اور جرمنی نے بھی فلموں کو گویائی دے دی ـ

ہندوستانی فلم ساز بھی گویائی کے لیے بے چین تھے ـ ہندوستان کے ذہین فن کار پارسی نژاد اردشیر ایرانی یورپ کی کامیابی کی خبر سن کر لندن چلے گئے ـ ضروری تربیت لے کر وہ واپس آئے اور انہوں نے اپنی فلم کمپنی “ایمپیریل فلمز” کے بینر تلے 1931 کو پہلی بولتی فلم “عالم آرا” پیش کی ـ

“عالم آرا” مسلم سماج کے پسِ منظر میں بنائی گئی ایک رومانٹک فلم ہے ـ فلم شاہی خاندان کے لڑکے اور خانہ بدوش لڑکی کے درمیان محبت کی کہانی ہے ـ یہ فلم اس دور کی بلاک بسٹر ثابت ہوئی ـ وجہ یہ نہیں تھی کہ فلم اچھی ہے بلکہ کامیابی کی وجہ اس کا بولنا تھا ـ اس دور میں چلتی پھرتی تصویروں کا بولنا کسی عجوبے سے کم نہ تھا ـ

“عالم آرا” نے ہندی سینما پر انمٹ نقوش چھوڑے ـ فلم کی کہانی ایک پارسی تھیٹر سے لی گئی تھی جسے مزید تراش خراش کے عمل سے گزار کر فلم کے قالب میں ڈھالا گیا ـ اس نے دیگر فلم سازوں کو بھی اس جانب توجہ دینے پر اکسایا ـ اس کے بعد “لیلی مجنوں” ، “شیریں فرھاد” ، “انارکلی” ، “ہیر رانجھا” سمیت متعدد کلاسیک رومانی داستانوں کو فلم کے قالب میں ڈھالنے کا سلسلہ شروع ہوا ـ “عالم آرا” میں گانے کا بھی تجربہ کیا گیا جو اس حد تک کامیاب رہا کہ آج تک برصغیر کی فلمیں گانوں کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہیں ـ

30 کی دہائی میں ہندی سینما کا رویہ ملا جلا سا رہا ـ اس دور میں معروف تصوراتی داستانوں جیسے “الہ دین” ، “علی بابا چالیس چور” ، “گُل بکاؤلی” ، “الف لیلہ” وغیرہ جیسی فلمیں بھی بنائی گئیں اور ہندو مائتھالوجی کا دامن بھی نہ چھوڑا گیا اور ساتھ ساتھ سماجی مسائل کو بھی فلمایا گیا ـ

تیس کی دہائی ہندی سینما کے سیاسی و سماجی شعور کا نکتہِ آغاز ہے ـ اس شعور کے پسِ منظر میں گاندھی کی سیاسی فعالیت تھی ـ 1920 کو گاندھی نے کانگریس کی سربراہی سنبھال کر سماجی تحریک شروع کردی جس کا عروج 1930 کی سول نافرمانی ثابت ہوئی ـ گاندھی کے اثرات سینما انڈسٹری پر بھی مرتب ہوئے ـ ہندی سینما نے شعوری یا لاشعوری طور پر خود کو اس تحریک کے ساتھ جوڑ دیا ـ ہدایت کار وی شانتا رام کی “پربھات فلمز” اور خاتونِ اول دیویکا رانی کی “بمبئے ٹاکیز” اس دور کے اہم واقعات ہیں ـ

وی شانتا رام نے گاندھی کی تعلیمات کو سینما کے ذریعے عوام تک پہنچانے کے لیے 1935 کو “مہاتما” بنائی ـ اس فلم میں انگریزوں کو کھلم کھلا چیلنج کیا گیا تھا ، سینسر بورڈ نے نمائش کی اجازت دینے سے انکار کردیا ـ وی شانتا رام نے بعض “قابلِ اعتراض” سینز کٹ کرکے فلم کا نام “دھرماتما” رکھ دیا ـ 1935 کو ہی “امر جیوتی” میں ہندوستانی سماج میں خواتین کی معاشی و سماجی آزادی کا معاملہ اٹھایا ـ وومن امپاورمنٹ کے لحاظ سے یہ ایک شاندار تخلیق ہے ـ 1937 کی فلم “دنیا نہ مانے” میں وہ کم عمری کی شادی کے خلاف آواز بلند کرتے نظر آئے ـ انہوں نے اس فلم میں کمسن ہندو لڑکیوں کی بڑی عمر کی مردوں سے شادی، عورتوں کے ساتھ سماجی ناانصافی کو نہایت ہی پر اثر انداز میں فلمایا ـ ایک قدم آگے بڑھ کر 1939 کی فلم “آدمی” میں طوائف کی زہر ناک زندگی کا خاکہ کھینچا ـ “آدمی” وہ پہلی فلم ہے جس میں طوائف کا ایک عورت کی حیثیت سے تجزیہ کیا گیا اور اسے سماج میں باعزت مقام دینے کی وکالت کی گئی ـ

“بمبئے ٹاکیز” دانش ور طبقے کا ادارہ تھا ـ بنیادی طور پر سروجنی نائیڈو کے نظریات سے متاثر ـ اس ادارے نے سماجی معاملات کا بھی دانشورانہ انداز میں تجزیہ کیا ـ بمبے ٹاکیز کی فلموں پر مغربی تصورات کے اثرات کا مشاہدہ بھی کیا جاسکتا ہے ـ 1935 کی فلم “کرما” میں طویل کسنگ سین شامل کرکے انہوں نے بوسہ بازی کو ہندی سینما کا حصہ بنانے کی کوشش کی وہاں 1936 کی فلم “اچھوت کنیا” میں انہوں نے ذات پات کی سماجی و مذہبی تقسیم پر سوال کھڑے کیے ـ مغربی تعلیم و تمدن کی وجہ سے بمبے ٹاکیز کا تجزیہ البتہ اورینٹلزم کا شکار رہا ـ اورینٹلسٹ اپروچ سے قطعِ نظر اس میں کوئی شک نہیں دیویکا رانی نے ہندی سینما کو اعلی اذہان سے نوازا جنہوں نے بعد میں سینما کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ـ بمبے ٹاکیز کے برعکس “پربھات فلمز” کا رویہ ہندوستانیت میں گندھا ہوا تھا ـ

بولتی فلموں کے آغاز کے ساتھ تھیٹر کے فن کار سھراب مودی نے بھی فلموں کا رخ کیا ـ انہوں نے بھی سماج کو ہی اپنا موضوع بنایا ـ سھراب مودی کا مزاج تجزیاتی کی بجائے اصلاحی تھا جس کا مشاہدہ ان کی فلموں “میٹھا زہر” اور “پکار” میں کیا جاسکتا ہے ـ سھراب مودی نے “پکار” کے کامیاب تجربے کے بعد تاریخی فکشن کے ژنر کو آگے بڑھایا ـ

تیس کی دہائی میں ہی ایک اور نظریے نے بھی ہندوستانی سینما کے دروازے پر دستک دی ـ یہ ضیا سرحدی تھے ـ ضیا سرحدی نے مارکسی نظریات متعارف کرائے ـ ضیا سرحدی بیک وقت ہدایت کار، اسکرین رائٹر اور نغمہ نگار تھے تینوں شعبوں میں انہوں نے جدلیاتی مادیت کے اصولوں کو سینما میں استعمال کیا ـ انہوں نے معروف بنگالی ناول “دیوداس” کا اسکرپٹ لکھا جسے محبوب خان نے 1936 کو “منموہن” کے نام سے ہدایات دیں لیکن انہوں نے دیوداس کے کردار کو جاگیردار خاندان کے انا پرست بیٹے کی بجائے ایک محنت کش کی صورت دکھایا ـ یہ ایک نیا تجربہ تھا ـ انہوں نے فلم “جاگیردار” کے لیے جو گیت لکھے انہیں بعد ازاں مجروح سلطانپوری اور ساحر لدھیانوی نے اوج پر پہنچایا ـ ان کا ایک گیت تو محنت کش طبقے کا ترانہ بن گیا “دینی تھی اگر ہمیں حور و جنت تو یہاں دیتے” ـ

تیس کی دہائی کے سماجی شعور کو مضبوط قرار دینا مشکل ہے لیکن مشاہدہ بتاتا ہے اس دہائی میں سینما اور سماج کے درمیان تعلق کی ابتدا ہوگئی تھی ـ فلم کو اب محض تفریح کا ذریعہ نہیں سمجھا جارہا تھا بلکہ اسے سماج کے آئینے کے طور پر برتا جارہا تھا ـ فیمینزم، سوشلزم، لبرل ازم حتی کہ فرائیڈین نظریات بھی سینما کا حصہ بن رہے تھے ـ

یہ وہ دور تھا جب ہندوستان میں انگریز کی سازشوں کے باعث اردو – ہندی جھگڑے کی شروعات بھی ہوچکی تھی ـ ایسے میں بعض فلم سازوں نے فارسی، عربی اور قدیم سنسکرت کے الفاظ پر مشتمل زبان کو ہندوستان کی یکجہتی کے طور پر برتنا شروع کردیا ـ جیسے “عالم آرا” کی نمائش سے قبل ہدایت کار اردشیر ایرانی نے سینما میں تقریر کرتے کہا یہ فلم نہ اردو زبان میں ہے اور نہ ہی ہندی میں بلکہ یہ ہندوستانی زبان پر مبنی ہے ـ وی شانتا رام نے بھی فلموں میں یکجہتی دکھانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے ـ جہاں فلم ساز یکجہتی کی کوششیں کررہے تھے وہاں سیاست تقسیم کو بڑھاوا دے رہی تھی ـ بیشتر فلم سازوں کے اس رویے کے پسِ پشت معاشی مفادات بھی کارفرما تھے ـ فلم بینوں کی ایک بڑی تعداد مسلم مڈل کلاس طبقے پر مشتمل تھی ـ فریق بننے کی صورت میں مسلم طبقے کی ناراضی کا خدشہ تھا جو سراسر گھاٹے کا سودا تھا ـ

چالیس کی دہائی شروع ہوتے ہی ہندوستان کے سیاسی حالات نے بھی کروٹ لینی شروع کردی ـ 1942 کو گاندھی نے بھارت چھوڑ دو تحریک کا آغاز کیا ـ اس صورتحال نے فلم انڈسٹری پر بھی اثرات مرتب کیے ـ فلم سازوں کا رجحان بتدریج سیاسی ہوتا گیا ـ

جاری ہے ………….

Avatar
ذوالفقارزلفی
ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *