• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ہندی سینما کا ارتقا (ایک تجزیاتی مطالعہ)۔۔۔قسط3/ذوالفقار علی زلفی

ہندی سینما کا ارتقا (ایک تجزیاتی مطالعہ)۔۔۔قسط3/ذوالفقار علی زلفی

جہدِ آزادی

چالیس کی دہائی ایک ہنگامہ خیز دور ہے ـ 1942 کو گاندھی نے ہندوستان چھوڑ دو تحریک شروع کی ـ 1943 میں انگریزی استحصال کے باعث بنگال کو بدترین قحط کا سامنا کرنا پڑا جس نے لاکھوں افراد کی جان لے لی ـ دوسری جنگِ عظیم انسانی جانوں کا خراج لے کر اختتام پزیر ہوئی ـ ان تمام حالات و واقعات نے ہندوستان کی معیشت پر زبردست اثرات مرتب کیے ـ برصغیر کی سیاسی و سماجی زندگی میں جوہری تبدیلیاں آئیں ـ

ان تمام عوامل نے ہندی سینما کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ـ ہندی سینما میں اس دور کا اہم واقعہ 1943 کو “انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن” کا قیام تھا ـ یہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی شاخ تھی ـ ایسوسی ایشن کے نمایاں ممبران میں پرتھوی راج کپور، سلیل چوھدری، خواجہ احمد عباس، اتپل دت، بلراج ساہنی جیسے نامور نام شامل تھے ـ

ایسوسی ایشن کے اہم ترین ممبر معروف کمیونسٹ دانش ور اور ادیب خواجہ احمد عباس تھے ـ خواجہ احمد عباس نے ہندی سینما کو ایک نئی اور انقلابی سمت دی جس نے آگے چل کر ایک منفرد اسکول کی شکل اختیار کرلی ـ اس کا آغاز انہوں نے 1941 کو “نیا سنسار” فلم کا اسکرین پلے لکھ کر کیا ـ “نیا سنسار” ہندوستانی سماج اور صحافت میں انقلابی تبدیلیوں کا مارکسی تجزیہ ہے ـ اس فلم کو متوازی سینما (آرٹ فلمز) کی پہلی اینٹ قرار دیا جاسکتا ہے ـ

“نیا سنسار” کے بعد انہوں نے 1946 کو ایسوسی ایشن کے بینر تلے بلراج ساہنی کو لے کر “دھرتی کے لال” کو ہدایت دی ـ اس فلم کے اسکرین رائٹر بھی وہ خود تھے ـ یہ فلم بنگال کے خون آشام قحط کے پسِ منظر میں بنائی گئی ایک زبردست کاوش رہی ـ اسی سال انہوں نے “نیچا نگر” کا اسکرپٹ لکھا جسے مارکسی دانشور چیتن آنند نے ہدایت دی ـ “نیچا نگر” نہ صرف طبقاتی کشمکش پر مبنی پہلی ہندی فلم ہے بلکہ اگر اسے پہلی آرٹ فلم قرار دیا جائے تو شاید ہی غلط ہو ـ “نیچا نگر” کو مصالحہ فلمیں پسند کرنے والے فلم بینوں کی اکثریت نے مسترد کردیا تاہم بین الاقوامی سطح پر اس فلم کو بے حد سراہا گیا ـ آج یہ فلم ہندی سینما کی بہترین کلاسیک فلموں میں شمار کی جاتی ہے ـ

خواجہ احمد عباس، ضیا سرحدی اور دیگر مارکسی فلم ساز و اسکرین رائٹر البتہ محتاط رہے کیونکہ سرکار 1934 کو منشی پریم چند کی لکھی فلم “مزدور” پر پابندی لگا کر واضح کرچکی تھی مارکسزم کو برداشت نہیں کیا جائے گا ـ 1942 کو ہدایت کار محبوب خان کی فلم “روٹی” کو بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑا ـ “روٹی” میں محبوب خان نے سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید کرکے محنت کشوں کو ان سے روٹی چھیننے کا درس دیا ـ یہ فلم سرمایہ داریت کے ساتھ ساتھ نوآبادیاتی نظام پر بھی تنقید کرتی ہے ـ

مارکسی فلم سازوں کی احتیاط پسندی کے باعث گاندھی ازم ہندی سینما کی نظریاتی اساس بنی ـ گاندھی ہندو علامتوں کو برت کر فیوڈل ازم اور بورژوا قوم پرستی کو بڑھاوا دے رہے تھے ـ ہندی سینما کے بیشتر فلم سازوں نے گاندھی کے فلسفے کو ہی اپنایا ـ اس فلسفے کے تحت حب الوطنی، ہندو مسلم بھائی چارہ اور چھوت چھات کی مذہبی تقسیم کے حوالے سے فلمیں بنائی گئیں ـ

بمبئے ٹاکیز کی “اچھوت کنیا” ہو یا چندو لال کی “اچھوت” دونوں میں چھوت چھات کی سماجی تقسیم کی بورژوا مخالفت کے دوران اس امر کا ہر ممکن خیال رکھا گیا کہ اعلی ذات کے ہندوؤں کے احساسات مجروح نہ ہوں ـ ان فلموں میں فیوڈل دائروں میں رہنے کی بھی ہر ممکن کوشش کی گئی ـ فیوڈل دائرے نے آزادی کے بعد بھی ہندی سینما کے گرد اپنا حصار برقرار رکھا ـ پدرشاہی نفسیات کے تحت اچھوت طبقے کو “لڑکی” کا کردار دیا گیا جو سماجی سطح پر گھٹیا اور کمتر مخلوق تصور کی جاتی تھی ـ

سخت سینسر کے باعث گاندھی آئیڈیالوجی سے متاثر فلم سازوں کا آزادی کی تحریک کی کھلم کھلا حمایت کرنا ممکن نہ تھا ـ انہوں نے علامتوں اور استعاروں کے ذریعے بات پہنچانے کی کوشش شروع کردی ـ جیسے 1941 کو ہدایت کار وی شانتا رام کی “پڑوسی” جس میں دو ہندو مسلم پڑوسیوں کو باہر سے آنے والا لڑانے کی کوشش کرتا ہے ـ اس میں باہر والے سے مراد انگریز تھے ـ محبوب خان کی “عورت” اور “روٹی” کو بھی اسی زُمرے میں رکھا جاسکتا ہے لیکن محبوب خان کی فلموں کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو وہ گاندھی ازم سے زیادہ پنڈٹ نہرو کے نظریات سے قریب تر نظر آتے ہیں پھر ان پر مارکسسٹ فن کار ضیا سرحدی کے بھی اثرات تھے ـ نہرو کا سیاسی فلسفہ بھی بہرکیف آخری تجزیے میں فیوڈل ازم ہی ہے ـ نہرو کی پالیسیوں کے اثرات پر آگے چل کر بحث کریں گے تاہم یہاں محبوب خان کی نہروین تصورات پر مبنی چند ایک فلموں کا تزکرہ مناسب رہے گا ـ

محبوب خان کی 1943 کی “نجمہ” اور 1947 کے “اعلان” کو مسلم سماجی زندگی پر بنائی گئی فلموں میں امام کا درجہ حاصل ہے ـ ان فلموں میں عورتوں کی تعلیم اور ان کو سماج میں باعزت زندگی دینے کی وکالت کی گئی ہے ـ ان فلموں کے ناقدانہ جائزے سے اندازہ ہوتا ہے کہ محبوب خان عورت کی آزادی کو معاشی نظام کے تناظر میں سمجھنے میں ناکام رہے ـ وہ ایک جانب دم توڑتے جاگیردارانہ روایات اور گم گشتہ نوابی عہد کی توصیف کرتے ہیں اور دوسری جانب اسی نظام کے تحت عورت کی آزادی کا فلسفہ پیش کرتے ہیں ـ محبوب خان کی اس پر تضاد پیشکش نے آگے چل کر فیشن کا روپ اختیار کرلیا ـ نہروین عہد میں مسلم سماجی فلموں میں لکھنو کی جاگیردارانہ تہذیب اہم حیثیت اختیار کر گئی ـ نواب، گاؤ تکیہ، چوڑی دار پاجامہ، شیروانی، پان، شاعری اور جاگیردارانہ تسلیمات و آداب مسلمانوں کی فلمی زندگی کا حصہ بن گئے حالانکہ یہ نوابی شان و شوکت عرصہ زوال پزیر تھی اور مسلمانوں کی زندگی ان کے ہندو پڑوسیوں سے چنداں مختلف نہیں تھی ـ

مسلم سماج سے تعلق اور مارکسی فلسفے سے آگاہی رکھنے کے باعث محبوب خان سے اس قسم کی نظریاتی غلطی کی امید نہیں تھی ـ ہوسکتا ہے اس دوران وہ نہرو فلاسفی کو مکمل طور پر اپنا چکے تھے یا یہ بھی ہوسکتا ہے ہندوستان کی تقسیم کے شدت پسند نعروں کو مدِ نظر رکھ کر انہوں نے مسلم سماج میں کسی انقلابی تصور کا پروپیگنڈہ کرنا مناسب نہ سمجھا ـ وجہ کچھ بھی ہو محبوب خان جیسے بڑے ہدایت کار کی اس غلط اینٹ پر بعد میں پوری عمارت کھڑی ہوگئی جس نے مسلم سماج کی فلمی پیشکش کو سخت زک پہنچایا ـ

جاری ہے

Avatar
ذوالفقارزلفی
ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *