کیا سینما غیرسیاسی ہے؟۔۔ذوالفقار علی زلفی

پاکستان کی پنجابی فلم “چوڑیاں” پر میرا فلمی تبصرہ فیس بک کے سب سے بڑے فلمی گروپ نے شیئر کرنے سے انکار کردیا ـ موویز پلینٹ گروپ کی انتظامیہ کے مطابق چونکہ تبصرے میں پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیاالحق کی سیاسی پالیسیوں کا ذکر کیا گیا ہے اس لیے یہ نزاع کا باعث بن سکتا ہے ـ انتظامیہ کے ایک رکن نے سوال اٹھایا کہ فلمی ناقد کو چاہیے کہ وہ خود کو فلم تک محدود رکھے، فلم کا بھلا سیاست سے کیا تعلق؟ ـ

سوال یہ ہے کیا واقعی فلم غیر سیاسی ہوتی ہے؟ ـ چونکہ سیاست کا تعلق انسانی سماج سے ہے اس لیے بہتر سوال یوں ہوگا کیا فلم کا سماج سے کوئی تعلق نہیں ہوتا؟ ـ کوشش کریں گے اس موضوع کو ایک مکالمے کی شکل دے کر بات کو آگے بڑھائیں ـ

پاکستان میں تاحال سینما کو ایک غیرسنجیدہ شعبہ سمجھا جاتا ہےـ اس کی ایک وجہ غالباً مولوی کا اسلام ہے جو سینما کو غیر اسلامی اور حرام تصور کرتا ہے ـ ابھی چند ہفتے قبل پاکستان کے ایک نوجوان ہدایت کار نے فلم کو حرام قرار دے کر فرمایا کہ یہ میرا شوق ہے لیکن میں تسلیم کرتا ہوں یہ حرام ہےـ حرام کاری کے اس کاذب تصور کے باعث پاکستان میں سینما تاحال سنجیدہ حلقوں کے نزدیک محض وقت گزاری کا مشغلہ ہےـ اردو زبان میں اداکاروں کے اسکینڈلز، فلموں کے بزنس اور چٹخارے دار تبصروں کو ہی فلمی تنقید نگاری سمجھا جاتا ہےـ ایسے میں اگر کوئی اٹھ کر کہہ دے فلم غیرسیاسی شعبہ ہے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے ـ

فلم سازوں کی اکثریت کا ماننا ہے کہ فلم سماج کا آئینہ ہوتا ہے، فلم میں وہی کچھ دکھایا جاتا ہے جو سماج میں موجود ہوتا ہے ـ بھارت کے معروف فلمی ناقد ایم مادھوا پرساد (M madhava parsad) فلم سازوں کی اس رائے سے اتفاق نہیں کرتےـ ان کے مطابق سماج کے اس نام نہاد آئینے پر مختلف سیاسی نظریات کا ملمع چڑھا ہوتا ہےـ وہ بالاصرار لکھتے ہیں کہ نیولبرلزم، سینما سے وابستہ سرمایہ داروں کی زائد منافع خوری، عالمی سرمایہ داریت کے پیش کردہ پروپیگنڈے، نوآبادیاتی نظام، جاگیردارانہ ثقافت اور کسی بھی ریاست کے ایلیٹ کلاس مفادات فلم سازی پر اثرانداز ہوکر ہمیں وہ دکھاتے ہیں جو درحقیقت سماج میں موجود ہی نہیں ہوتاـ وہ مزید لکھتے ہیں کہ بیشتر فلموں میں وہ سب چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے جو سماج میں وجود رکھتے ہیں ـ

اسی طرح معروف فیمنسٹ فلمی ناقد شوما چٹرجی نے ہندی سینما کے حوالے سے اپنی تحقیق میں موقف اپنایا کہ ہندی سینما میں شعوری طور پر اس عورت کو غائب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو بھارتی سماج کا اہم ترین حصہ ہےـ شوما چٹرجی کے مطابق ایک فلمی ناقد کو نہایت ہی احتیاط کے ساتھ فلموں کا تجزیہ کرکے وہ پہلو سامنے لانے چاہئیں جو مختلف سیاسی و معاشی ضرورتوں کے تحت دانستہ غائب رکھے گئے ہیں ـ

ہمارے خطے کے ان دو معتبر ناقدین کی رائے کو اگر سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ فلم اپنی ساخت میں سیاسی ہی ہوتی ہےـ اپنی بات کو مزید واضح کرنے کے لیے میں سینما کے عظیم استاد جناب سرگئی آئزینسٹائن (Sergei Eisenstein) کی مثال دینا چاہوں گا ـ سرگئی آئزنسٹائن سابق سوویت یونین کے عظیم فلمی اذہان میں سے ایک تھے ـ انہوں نے تدوین کے شعبے میں مونتاژ تھیوری پیش کرکے سینما کے شعبے میں انقلاب بپا کردیاـ ان کے مطابق چونکہ فلم سیاسی پروپیگنڈے کا موثر ترین ہتھیار ہے تو کیوں نہ اس ہتھیار کو جبر و استحصال کے خلاف استعمال کیا جائےـ

کمیونسٹ رہنما جوزف اسٹالن نے ان سے درخواست کی کہ ایسی فلمیں بنائی جائیں جن میں محنت کش طبقے کو مرکز میں دکھایا جائےـ سرگئی نے اپنی مونتاژ تھیوری کو استعمال کرکے 1925 کو شہرہ آفاق فلم “Battleship Potemkin” کو ہدایات دیںـ اس فلم میں مونتاژ تدوین کے ذریعے ظلم و جبر کے خلاف محنت کش قوت کو نہایت ہی پراثر انداز میں دکھایا گیا ـ اس فلم کے گہرے تاثر سے گھبرا کر اسٹالن نے فوراً اس پر پابندی عائد کردی ـ یورپی ریاستیں بھی گھبرا گئیں، انہوں نے بھی اس فلم پر سینما کے دروازے بند کردیے ـ یہ غالباً سینما کی تاریخ کی وہ پہلی فلم ہے جس نے نہ صرف سماجی تضادات کو اپنا موضوع بنایا بلکہ سماج کے اہم ترین کردار محنت کش کو مرکز میں رکھ کر اسے تبدیلی کے محرک کے طور پر دکھایاـ اپنی اس خصوصیت کے باعث وہ لبرل اور کمیونسٹ دونوں حکومتوں کی نگاہ میں خطرناک ٹھہراـ

درج بالا مثالوں سے کم از کم یہ تو واضح ہوجاتا ہے کہ سینما مختلف سیاسی و معاشی نظریات سے متاثر ہوتا ہےـ نظریات و مفادات سینما کا راستہ متعین کرکے فلمی موضوعات پر اثرانداز ہوتے ہیں ـ جیسے پچاس کی دہائی کی ہندی فلمیں پنڈت نہرو کے سیاسی نظریات کے تابع ہوا کرتی تھیں ـ ان فلموں میں محنت کش کرداروں کو مرکز میں رکھ کر انہیں سرمایہ داروں کے خلاف جدوجہد کرتے یا ان کے ہاتھوں ظلم سہتے دکھایا جاتا تھا ـ جبکہ آج کی فلموں میں ہندو قوم پرستی کو مرکز میں رکھ کر میرا بھارت مہان کا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے جو بلاشبہ نریندر مودی کی پالیسیوں کا فلمی اظہار ہےـ

باریکی سے دیکھا جائے تو یہ نرسہماراؤ کی نیولبرل پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس کا پہلا اظہار “ہم آپ کے ہیں کون” کے ذریعے ہوا جس میں رام و لکشمن کی اساطیر کو نہ صرف غیرعوامی نکتہِ نظر سے بیان کیا گیا بلکہ ایلیٹ کلاس ہندو خاندان کی شادی کی رسموں کو بھی خوش کن طریقے سے دکھایا گیا ـ بعد ازاں “دل والے دلہنیا لے جائیں گے” کی صورت مغرب میں مقیم خوش حال بھارتی شہریوں کو سامنے رکھ کر بھارتی قوم پرستی دکھائی گئی ـ

نرسہماراؤ کی نیولبرل پالیسی کی وجہ سے متوازی ہندی سینما کا بھی گلا گھونٹا گیا ـ قبل ازیں اندرا گاندھی پالیسی کی وجہ سے متوازی سینما کو سرکاری خزانے سے سہارا دیا جاتا تھاـ اس پالیسی کے باعث مرکزی سینما میں نہ سہی کم از کم متوازی سینما میں سماج اور اس کے حقیقی تضادات کو موضوع بنایا جاتا تھا ـ نام نہاد آزادانہ مقابلے کے نظریے نے عوام کو غائب کرکے “راج” (شاہ رخ خان) کے تصور کو ابھارا جو بالائی طبقے کا رکن ہے اور شیفون کی ساڑھیوں میں ملبوس خوش حال خواتین سے عشق کرتا ہے ـ

پاکستانی سینما کا بھی اگر تجزیہ کیا جائے تو مختلف سیاسی نظریات کا پروپیگنڈہ صاف نظر آتا ہےـ جیسے جنرل پرویز مشرف کے جعلی Enlightened moderation کو سہارا دینے کے لیے شعیب منصور نے “خدا کےلیے” کو ہدایات دیں جس میں سابقہ جہادی نظریات سے انحراف کیا گیا اور پشتونوں کی اسٹیریو ٹائپ شبیہہ پیش کی گئی ـ

میری نگاہ میں ہر فلمی ناقد کو فلم کے کسی نہ کسی پہلو پر لازماً سنجیدگی سے بحث کرنی چاہیےـ فلم کو صرف ایک “فلم” سمجھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا ـ فلموں کا سیاسی، نفسیاتی، تانیثی، مارکسی الغرض ہر قسم کے نکتہِ نظر سے تجزیہ کیا جانا چاہیےـ سنجیدہ فلمی مباحث اور مکالمے ہی سینمائی شعور پیدا کرسکتے ہیں ـ وگرنہ ہم محض یہی کہتے رہ جائیں گے فلاں کے فلاں کے ساتھ تعلقات ہیں، فلاں نے فلاں جگہ فلاں کے ساتھ منہ کالا کیاـ فلاں ہیروئن خوب صورت ہے اور فلاں ہیرو زیادہ اسمارٹ ہے ـ اس قسم کی تحریریں وقتی لذت تو فراہم کرسکتی ہیں لیکن سینما کو سمجھنے و سمجھانے میں ہرگز معاون نہ ہوں گی ـ

Avatar
ذوالفقارزلفی
ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *