ہزارہ نسل کشی پر مکالمہ۔۔ذوالفقار علی زلفی

یہ مکالمہ نہیں دراصل مارکسی تجزیہ کار محمد عامر حسینی سے میری بات چیت ہے بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا  کہ میرے سوالات پر محمد عامر حسینی کے تفصیلی اور پُر مغز جوابات ہیں ـ ،مارکسسٹ و لینن اسٹ عامر حسینی اپنے آپ کو ایک ایسا اردو  سپیکنگ – سرائیکی سمجھتے ہیں جو پیپلز پارٹی کا شدت سے حامی ہے، ـ پی پی کے ایسے جیالے آج کل کمیاب ہیں۔ ـ پیش خدمت ہے بات چیت کا مکمل متن! ـ

 ذوالفقار علی زلفی: ہزارہ شیعہ بلوچستان میں صرف کوئٹہ میں رہتے ہیں، ـ کوئٹہ میں بھی ان کی تعداد سنی مسلک کے مقابلے میں انتہائی قلیل ہے، ـ دوسری جانب شیعہ کی سب سے بڑی تعداد پنجاب میں رہتی ہے ـ پھر کیا وجہ ہے کہ پنجابی شیعہ کی نسبت ہزارہ شیعہ کا قتل زیادہ ہوتا ہے؟ ـ یا آپ کے اعداد و شمار میرے اس مفروضے سے الٹ ہیں؟ ـ
سوشل میڈیا پر ایک موقف یہ ہے کہ ہزارہ قتل کا مقصد بلوچستان میں فرقہ وارانہ فساد کروانا ہے۔ ـ مجھے سمجھ نہیں آرہا ـ ،ایک اقلیتی قوم کو بھلا کس طرح فساد پر اکسایا جاسکتا ہے ـ مہلک حملوں نے تو الٹا ان کو محدود سے محدود تر کردیا ہے۔ ـ
محمد عامر حسینی: اس کو اگر آپ کرانیکل اعتبار سے دیکھیں تو آپ کو سمجھ آئے گی۔ ـ
اسی اور نوے کی دہائی میں شیعہ کلنگ کی شدت کے مراکز گلگت بلتستان، کرم ایجنسی، اورکزئی، کے پی ، پنجاب اور کراچی تھے اور اُس وقت دو بڑے فیکٹر اس طرح کی کلنگ کو ممکن بنارہے تھے ۔ایک تھا جہادِ کشمیر جب ہماری اسٹبلشمنٹ نے سپاہ صحابہ پاکستان سے حرکت الانصار پھر جیش محمد کو اپنی نمبر ون تنظیم قرار دیا ، پنجاب اور کراچی کے دیوبندی مدارس جہاد کشمیر کی بھرتی کا مرکز بن گئے ـ دوسرا فیکٹر جنرل ضیاء الحق کا سعودی عرب کا عالمی وہابی ازم کا شراکت دار بننا تھا جس کا ایک جزو ایرانی انقلاب کا اثر کم کرنا تھا، اس کام میں اہلِ حدیث (احسان الہی ظہیر) اور دیوبندی مولوی جیسے (مفتی نظام الدین شامزئی، جھنگوی وغیرہ) جونئیر سٹریٹجک پارٹنر بنے ـ ۔ہماری اسٹبلشمنٹ نے تکفیری دیوبندی کشمیر جہاد کے پروجیکٹ چلانے والوں اور اینٹی ایران ، سعودی نواز دیوبندی تزویراتی شراکت داروں کو کھلی چھٹی دے ڈالی اور یہ سرپرستی ان تکفیری جہادیوں کی طرف سے اسی اور نوے کی دہائی میں بڑے پیمانے پر شیعہ کلنگ کی صورت میں نکلی، زیادہ شدت پنجاب ، گلگت بلتستان، پارہ چنار، ڈیرہ اسماعیل خان میں نظر آئی ـ۔

tripako tours pakistan

افغان طالبان کا ہزارہ سے برتاؤ(احمد رشید، خالد احمد)۔۔حمزہ ابراہیم

شیعہ کلنگ کا 90ء میں زیادہ زور دار سپیل طالبان کے ابھرنے اور کابل پہ قبضے کے بعد آیا، جب لشکر جھنگوی اور جیش محمد کے دہشت گردوں کے روابط القاعدہ جیسی تنظیم سے ہوئے، ـ ازبک، چیچن، عرب مجاہدین جن میں اینٹی شیعہ اور اینٹی صوفی رجحان بہت شدید تھا ـ، ہم نے دیکھا کہ مشرف سے پہلے ہی اسٹبلشمنٹ نے ایک موقع پر یہ دیکھ لیا کہ پنجاب اور کراچی میں بریلوی مارجنلائزیشن اور شیعہ مارجنلائزیشن کا ردعمل پیدا ہورہا ہے، تو انھوں نے سُنی تحریک اور سپاہ محمد جیسے فکشن بنائے، ـ سُنی تحریک کو کراچی میں  ڈھائی ہزار سے زائد مساجد کا قبضہ دیوبندی سپاہ صحابہ سے چھڑانے میں مدد کی اور سُنی تحریک کو مشرف دور میں جب تک ایم کیو ایم سے مشرف کا سمجھوتہ نہ ہوگیا، تب تک ایم کیو ایم کے مقابلے میں استعمال کیا گیا، ـ اُس زمانے میں ہم نے کراچی سمیت کئی علاقوں میں ایم کیو ایم، سَنی تحریک، حقیقی اور سپاہ صحابہ کے درمیان خون ریزی اور ٹارگٹ کلنگ بھی دیکھی۔ ـ
جنرل مشرف کے زمانے میں نائن الیون نے معاملہ خاصا تبدیل کیا ـ ،جہاد کشمیر بیک فٹ پہ چلا گیا ،ـ عسکریت پسندی اب تک فرنٹ فٹ پہ نہیں آئی تھی ، جیش محمد اور لشکر طیبہ دونوں پر سخت پابندی لگانا پڑی ، جہادی تنظیمیں یک دم علامتی رہ گئیں ـ پنجاب میں جو سپاہ صحابہ کا اینٹی شیعہ محاذ تھا وہ بالوجہ پنجاب سے کراچی لانڈھی (اورنگ زیب فاروقی)، اندرون سندھ (علی شیر حیدری) خاص طور پر بلوچ سندھی علاقے جو بلوچستان اور پنجاب سرحد سے ملحق ہیں منتقل ہوا ،اس کے ساتھ ساتھ وہ سابق فاٹا کی جانب بھی گیا ،خاص طور پر ہنگو، کوہاٹ وغیرہ ـ بلوچستان میں یہ اُن علاقوں میں خاص طور پر ابھرا جہاں بلوچ قومی تحریک عروج پہ تھی اور ایسے ہی براہوی  سپیکنگ لوگوں کے ہاں۔۔ ـ
ہم دیکھ سکتے ہیں کہ بلوچستان میں پنجابی شیعہ نشانہ بہت کم بنے ہیں، اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ شیعہ نسل کُشی کا ایک بڑا تعلق جیو پالیٹکس اور عسکری اسٹبلشمنٹ کی تزویراتی پالیسی اور اس کے شدت کے مرکز سے بھی ہے ـ۔

ذوالفقار علی زلفی: بلوچستان میں ہزارہ شیعہ نسل کشی پر آپ کے خیالات زیادہ تفصیل سے جاننا چاہوں گا ـ
محمد عامر حسینی: آپ کو یاد ہوگا کل میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ ہزارہ برادری پر دہشت گردانہ حملے کب شروع ہوئے ،تو آپ کا جواب تھا ،یہ حملے 2002ء سے شروع ہوئے اور مشرف کے پورے دور میں یہ عروج پر پہنچ گئے ـ، دیکھا جائے تو پرویز مشرف کے دور میں بلوچ قومی تحریک کا پھر ابھار ہوا ،اور پانچواں بڑا فوجی آپریشن شروع ہوا – پاکستان نے افغان طالبان شوریٰ کو بلوچستان میں پناہ دی اور یہی وہ دور ہے جس میں سپاہ صحابہ پاکستان بلوچستان کا سربراہ رمضان مینگل ، ظہور شاہوانی سامنے آئے اور سپاہ صحابہ بلوچ علاقوں میں دیوبندی تکفیری بلوچ ریڈیکل کی شکل میں سامنے آئی – جیسے جیسے بلوچوں پہ جبر اور ظلم منظم ہوا ویسے ویسے سپاہ صحابہ بلوچستان میں مضبوط ہوتی گئی ـ اس کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے ڈیتھ اسکواڈ بھی سامنے آئے ـ یہ ایسے بلوچ تھے جو دیوبندی تکفیری شناخت کے ساتھ سامنے آئے ـ۔

اسی دور میں امریکہ اور اس کے اتحادی رجیم چینج کے حوالے سے وہابی-دیوبندی پراکسیز کو سپورٹ کرنے لگے اور داعش کے نام سے اُن کو عراق اور شام کے بڑے حصے پر قابض کروایا گیا، ـ ان کا ہدف آگے روس ، وسط ایشیائی ریاستوں اورچینی ترکستان تھا جسے روکنے کے لیے ایران اور روس میدان میں اتر پڑے ـ سعودی عرب نے اس دوران بڑے پیمانے پر سرمایہ دے کر جہادی ہائر کیے ـ، پاکستان کی سرحدوں سے بھی ایسی لانچنگ کرنے کی کوشش ہوئی ، پہلے مشرف اور بعد ازاں نواز شریف کو سعودیہ نے رام کرنا چاہا ،ایسا شاید ہوبھی جاتا کہ جتنی شدت سے پاکستان نے طالبان پروجیکٹ چلایا تھا وہ ایران کے خلاف بھی سعودی پروجیکٹ شدت سےچلا لیتا ،لیکن سی پیک آیا اور چینی آڑے آگئے ـ ،ایران سے معاملات مکمل دشمنی کی طرف نہیں جاسکے۔ ـ
اب یہاں پر بلوچ قومی تحریک ایک ایسا چیلنج ہے جسے پاکستانی اسٹبلشمنٹ جہادی پراکسیز کے ذریعے کمزور کرنا چاہتی ہے۔ ـ وہ بلوچستان کے تین بڑے فریق پشتون، بلوچ اور ہزارہ کے درمیان خانہ جنگی چاہتی ہے اور ساتھ ساتھ وہ ہزارہ کو یہ پیغام دے رہی ہے اگر وہ نسلی تصادم میں اُن کی خواہش کے مطابق کام نہیں کریں گے تو وہ جہادی پراکسیز کے ہاتھوں مارے جائیں گے۔

ذوالفقار علی زلفی:    کیا اس پورے معاملے کو افغان پاکستان کشمکش سے جوڑ کر بھی دیکھا جاسکتا ہے ،جس میں پاکستانی اسٹبلشمنٹ خود کو اہم ترین فریق سمجھتی ہے؟ ـ
محمد عامر حسینی: پنجاب ، کے پی ، سندھ اور بلوچستان میں بڑے پیمانے پر مزارات اور صوفی سُنی پیروں پر حملے اس وقت شروع ہوئے جب پاکستانی اسٹبلشمنٹ نے سابق فاٹا، سندھ اور پنجاب کے شہروں میں افغانستان سے آئے طالبان کو پناہ گاہیں فراہم کیں اور پاکستان میں افغانستان پر حملوں کے لیے بیس کیمپ قائم کیے، ـ حقانی نیٹ ورک کو کرم ایجنسی اور ہنگو وغیرہ کے قریب تحفظ دیا گیا تو وہاں پر شیعہ آبادی پر حملوں میں تیزی آگئی ـ۔
عارف جمال سمیت کئی صحافی مشرف دور میں یہ کہنے لگے تھے کہ پاکستان دیوبندستان بننے جارہا ہے اور مارجنلائزڈ شیعہ ہی نہیں بلکہ بریلوی بھی ہورہے ہیں۔ ـ
پنجاب میں اسٹبلشمنٹ کو چیلنج نواز شریف اینڈ کمپنی کی طرف سے آیا ـ ،نواز شریف کی پنجاب میں سب سے زیادہ سپورٹ بریلوی ووٹر ہے اور پھر اس کے پاس ایسا بااثر ووٹر بھی تھا جو سپاہ صحابہ جیسی ذہنیت رکھتا تھا۔ ـ نواز شریف کے ووٹ بینک کو کم کرنے کے لیے بریلوی تنظیم لبیک سامنے آئی اور دوسری جانب پنجاب میں نواز شریف کا مقابلہ کرنے کے لیے طارق جمیل کو لیا گیا، ـ طاہر اشرفی وغیرہ کو اور خیبرایجنسی کے سابق جے یو پی والے صاحبزادہ نورالحق قادری وزیر مذہبی امور بنائے گئے ـ پنجاب میں بلاسفیمی کارڈ، ختم نبوت کارڈ ، کرپشن کارڈ اس طرح کے دیگر کارڈز استعمال کیے گئے ـ
پنجاب سے پھر بہت بڑی تعداد میں شیعہ اور بریلوی فوج میں بھی ہیں اور شیعہ فوجی افسران تو باہم مربوط بھی بہت ہیں، ـ اس تناظر میں پنجاب میں تکفیری شیعہ مخالف مہم ٹھنڈی  کرنا بنتا بھی تھا۔ ـ

ذوالفقار علی زلفی: عامر بھائی! میں ایک دفعہ پھر ہزارہ نسل کشی کی طرف آنا چاہوں گا ـ ہمیں ہزارہ کا بحیثیتِ قوم بھی تجزیہ کرنا چاہیے تاکہ معاملے کے دیگر پہلو بھی زیرِ بحث لائے جاسکیں ـ
اگر ہم 70 , 80 اور 90 کی دہائیوں میں دیکھیں تو ہمیں ہزارہ پوزیشن مختلف بلکہ بعض صورتوں میں متضاد نظر آتی ہے ـ 70 اور 80 کی دہائی کا ہزارہ بلوچستان کے معاشرے کا مضبوط کردار ہے ـ وہ ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی صورت سیاسی لحاظ سے منظم بھی ہے اور پشتون بلوچ طلبا تنظیموں کے ساتھ گاہے اشتراک اور گاہے تضاد میں نظر آتا ہے، لیکن مذہبی تقسیم دور دور تک نہیں ہے ـ
90 کی دہائی میں ہزارہ کی افغانستان سے ایک اور ہجرت ہوتی ہے ـ ان نئے مہاجرین کے لیے بلوچستان نہ صرف ایک نئی جگہ ہوتی ہے بلکہ وہ پشتون بلوچ کے حوالے سے جارحانہ اور توسیع پسندانہ رویہ بھی رکھتے ہیں ـ ان نئے مہاجرین کی وجہ سے خود ہزارہ میں بھی نئے پرانے کا تضاد پیدا ہوتا ہے ـ اس کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟ ـ

کوئٹہ اور افغانستان کے ہزارہ کون ہیں؟ تاریخ، نژاد اورمذہب(حصہ اوّل)۔۔۔حمزہ ابراہیم
 محمد عامر حسینی: میرے خیال سے ان میں ایسے ہزارہ تھے جن پر حزب وحدت اسلامی افغانستان کا بہت اثر ہوتا ہے ـ یہ گلوبل شیعی جہادی روایت کے زیر اثر تھے ـ اس میں پاکستان کی عسکری اسٹبلشمنت، ایرانی مذہبی اسٹبلشمنٹ اور اُن کے تنخواہ داروں کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ـ
ذوالفقار علی زلفی: حسین علی یوسفی آپ کو یاد ہوں گے؟
 محمد عامر حسینی: جی بالکل یاد ہیں ـ
* ذوالفقار علی زلفی: یوسفی صاحب مارکسسٹ رجحان رکھنے والے ہزارہ قوم پرست تھے ـ آپ کے خیال سے 2009 کو ان کا قتل پھر ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کا اسٹبلشمنٹ کی بی ٹیم بننا ایک ہی سلسلے کی کڑیاں نہیں ہیں؟ ـ ابھی گزشتہ الیکشن میں ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کا جیتا ہوا امیدوار افغان مہاجر نکلا جس کی شناختی کارڈ بھی جعلی نکلی ـ جب تک یوسفی صاحب پارٹی کو لیڈ کرتے رہے پارٹی شناخت ایک لیفٹ اسٹ قوم پرست کی رہی ـ ان کے قتل کے بعد عبدالخالق ہزارہ جام جمالی کے ہمنوا بن گئے ـ پارٹی آج باپ کی اتحادی ہے ۔ـ

محمد عامر حسینی: صرف یہ نہیں مارکسی، پیپلزپارٹی واد، نیپ کی باقیات کا اخراج اور ان کی آوازوں کو بھی خاموش کرایا گیا اور یوں ہزارہ کو مزید تنہا کردیا گیا ـ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی حقیقی لیفٹ اور ترقی پسند قوم پرستوں سے خالی ہوگئی ہے ـ جعلی ہزارہ قوم پرست اور جعلی شیعہ ملا یہ وہ عناصر ہیں جنھوں نے ہزارہ برادری کو گھیٹوز کا شکار بنایا ہے ـ

ذوالفقار علی زلفی: معروف سماجی کارکن جلیلہ حیدر ان پر سخت تنقید کرتی ہیں ، طاہر ہزارہ بھی سخت تنقید کرتے ہیں ـ دیکھا گیا ہے ایچ ڈی پی کے حلقے ان دونوں کو ہزارہ قوم کا غدار قرار دیتی ہیں ـ
 محمد عامر حسینی: ہزارہ میں یہ جو جلیلہ حیدر ، طاہر ہزارہ ، نوشاد ہزارہ سمیت اور لوگ ہیں یہ ہزارہ میں لبرل لیفٹ اور ترقی پسند قوم پرست آوازیں ہیں ـ میں نے ہزارہ علاقوں کا کئی بار دورہ کیا ہے اور دیکھا ہے کہ جلیلہ حیدر اور طاہر ہزارہ جیسی آوازوں کو بے سروسامانی کا سامنا ہے جبکہ ان کے مدمقابل پاکستانی اسٹبلشمنٹ نواز ، ایران نواز اور موقع  پرستوں کے پاس کافی وسائل اور پیسہ ہے جس کا یہ مقابلہ نہیں کرسکتے ـ۔

 ذوالفقار علی زلفی: کوئٹہ میں سردار اختر مینگل اور محمود خان اچکزئی کا اچھا خاصا اثر ہے لیکن تکفیری دہشتگردی کے سامنے یہ دونوں بھی بے بس نظر آرہے ہیں ـ اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟ ـ
 محمد عامر حسینی: اصل میں مینگل اور اچکزئی نے کوشش کی ہے اور میرے نزدیک بہترین حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ جلیلہ حیدر اور طاہرہ ہزارہ جیسے کارکن کوشش کریں کہ ہزارہ علاقوں میں کم از کم مینگل، بزنجو، اچکزئی، بلاول بھٹو، مریم نواز اور دیگر کی آمد ممکن بنائیں ـ یہاں مری آباد اور ہزارہ ٹاؤن میں ان جماعتوں کے دفاتر بنیں اور سیاسی سرگرمیاں شروع ہوں تو کافی فرق پڑ جائے گا ـ

 ذوالفقار علی زلفی: جی یہ شاید درست راستہ ہو ـ ہزارہ کی سیاسی و سماجی تنہائی بلاشبہ سمِ قاتل ہے ـ
 محمد عامر حسینی: ہزارہ آبادی مین سٹریم اپوزیشن پارٹیوں کی سیاست میں شمولیت اختیار کریں اور اس سے اُن کی سیاسی تنہائی ختم ہوگی اور اسٹیبلشمنٹ کا منصوبہ بھی ناکام ہوگا ـ اس میں پی ڈی ایم کو چاہیے وہ ایک جلسہ مری آباد میں رکھ دے اور پی ڈی ایم کی ساری قیادت وہاں ہزارہ برادری سے اظہار یک جہتی کرے ـ پی ڈی ایم میں شامل بڑی جماعتیں اپنے دفاتر وہاں کھولیں اور پی ڈی ایم سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن مری آباد میں اپنی آمد و رفت بڑھائیں اور بڑے دل کے ساتھ جائیں نامناسب اور کڑوی کسیلی بات کو بھی برداشت کریں ـ

ذوالفقار علی زلفی: حالیہ دھرنا کوئی اثر مرتب کرسکتی ہے؟ ـ
 محمد عامر حسینی: بالکل، اب بھی اگر بلوچ، پشتون اور ہزارہ مل کر کم از کم نسلی-مذھبی شناخت کی بنیاد پر قتل و غارت گری کے خلاف مشترکہ جرگہ بناکر حکومت کے سامنے تکفیری نیٹ ورک اور اس کی بنیادی شخصیات کی گرفتاری کی شرط رکھیں تو جلد اسٹبلشمنٹ گھٹنے ٹیک دے گی ـ

Advertisements
merkit.pk

ذوالفقار علی زلفی: بہت بہت شکریہ عامر بھائی ـ
محمد عامر حسینی : آپ کا بھی شکریہ برادر ـ انسانیت زندہ باد! ـ

  • merkit.pk
  • merkit.pk

ذوالفقارزلفی
ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply