دستاویزی فلم : Who killed Malcolm X۔۔۔۔ذوالفقار زلفی

21 فروری 1965، سیاہ فام رہنما مالکوم ایکس درجنوں افراد کی موجودگی میں قتل کردیے گئے ـ تین افراد گرفتار ہوئے ـ کیس چلا، تینوں جرم ثابت ہونے پر سزا کے مستحق قرار پائے ـ

اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے سڑکوں، اسکولوں اور پارکوں کے نام مالکوم ایکس رکھے گئے ـ عالمی شہرت یافتہ امریکی ہدایت کار اسپائک لی نے 1992 کو مالکوم ایکس کی زندگی پر زبردست فلم بنائی ـ خوب داد سمیٹی ـ قصہ ختم ـ بقولِ ایک سیاہ فام امریکی بزرگ “مالکوم ایکس اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں، وہ باب بند ہوچکا، اب ہمیں انہیں بھول کر آگے بڑھنا چاہیے” ـ

عبدالرحمان محمد ، ایک امریکی سیاہ فام مورخ ، تاریخ کے اوراق پلٹتا ہے ـ وہ ماننے کو تیار نہیں کہ قصہ ختم، باب بند اور اب آگے بڑھنا چاہیے ـ وہ 55 سال بعد بھی سوال اٹھاتا ہے “مالکوم ایکس کا قاتل کون؟” ـ انہوں نے مسلسل تیس سال تک تحقیق کرکے اس سوال کو زندہ رکھا ـ بالآخر 2020 کی فروری کو نیٹ فلیکس کے ذریعے اسے دستاویزی فلم کی صورت دنیا کے سامنے پیش کردیا ـ

عبدالرحمان محمد چھ اقساط کی ڈاکیومینٹری سیریز میں درجنوں دستاویزات، اخباری تراشوں ، انٹرویوز اور ویڈیوز کے ذریعے ثابت کرتے ہیں امریکی نظامِ انصاف نسل پرست اور کھوکھلا ہے ـ وہ ثابت کرتے ہیں قتل کی سزا پانے والے تین میں سے دو افراد درحقیقت قاتل تھے ہی نہیں ـ قاتل ایف بی آئی اور پولیس کے پیچھے چھپا رہا ـ

دستاویزی فلم متعدد نئے پہلو سامنے لاتی ہے ـ سیاہ فام شہری حقوق کی تحریک کے متعدد سرکردہ افراد ایف بی آئی کے پیرول پر تھے ـ تحریک کے درجنوں کارکن پولیس کے مخبر تھے ـ حتٰی کہ جس پبلک میٹنگ کے دوران مالکوم قتل کیے گئے اس میٹنگ میں بھی نو افراد ایف بی آئی کے مخبر ، ایک شخص انڈر کور آفیسر ، جبکہ پانچ افراد قاتل تھے ـ پھر بچا کون؟ ـ

جلسے میں سرکاری اہلکاروں و مخبروں کی موجودگی کے باوجود سیاہ فاموں کے سب سے بڑے رہنما کا نہ صرف آسانی سے قتل ہوگیا بلکہ حقیقی قاتل آرام سے نکل بھی گئے ـ پکڑے گئے وہ جو جلسے میں موجود ہی نہ تھے ـ

فلم صرف اس بات پر روشنی نہیں ڈالتی کہ ٹریگر پر کس کی انگلیاں تھیں بلکہ وہ یہ پتہ چلانے کی بھی کوشش کرتی ہے ان انگلیوں کے پسِ پشت کون تھے ـ نیشن آف اسلام کے سربراہ عالیجاہ محمد؟ ـ امریکہ کی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن؟ نیویارک پولیس؟ یا سب؟ ـ

مختلف حالات و واقعات کا تجزیہ اور تضادات کی نشاندہی کے بعد فلم واضح کردیتی ہے کہ: انصاف نہیں ہوا ـ 55 سالوں سے ریاستِ امریکہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتی آرہی ہے ـ

Avatar
ذوالفقارزلفی
ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *