• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ہندی سینما کا ارتقا (ایک تجزیاتی مطالعہ)۔۔۔قسط5/ذوالفقار علی زلفی

ہندی سینما کا ارتقا (ایک تجزیاتی مطالعہ)۔۔۔قسط5/ذوالفقار علی زلفی

ما بعد آزادی

اگست 1947 میں ہندوستان کی تقسیم ہر لحاظ سے ایک ڈراؤنا واقعہ تھا۔قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوا، عصمتیں لٹیں، انسانوں کو جانوروں کے ریوڑ کی طرح ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف زبردستی دھکیلا گیا۔ مذہب خوف ناک ہتھیار بناـ مسلمان راتوں رات مشکوک بن گئےـ انہیں بیرونی حملہ آوروں کی اولاد سمجھا گیا۔ ہندو ازم ہندُتوا کی شکل لینے لگا۔ ہندی سینما جس کا مرکز ممبئی تھا اس سیاہ ترین دور سے محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً ڈر گیا۔ اس ڈر کو آر ایس ایس کی ہندو قوم پرستی اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی پالیسیوں نے مزید بڑھاوا دیاـ رہی سہی کسر آزادی کے چند مہینوں بعد گاندھی کے الم ناک قتل نے پوری کردی۔ ایک انتہا پسند ہندو کے ہاتھوں اتنے بڑے رہنما کے قتل نے فلم سازوں کو سیلف سینسر شپ پر مجبور کردیا۔

سردار ولبھ بھائی پٹیل انتہا پسند ہندو نہ تھے لیکن ان کے قومی نظریات بے لچک اور عدم رواداری کے قریب تھے۔ وہ آزاد ہندوستان کے وزیرِ داخلہ بھی تھے اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کے سربراہ بھی۔ گوکہ کانگریس کا رویہ سیکولر اور روادارانہ تھا لیکن پٹیل کا رعب و دبدبہ اور ان کے ہم خیال افراد بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتے تھے۔غیر یقینی کی فضا چہار سو طاری تھی ـ ہندی سینما نے کسی تنازع سے بچنے کے لیے درمیانی راستہ اختیار کرنے کو ہی بہتر سمجھا ـ

آزادی کے بعد تحریکِ آزادی، رومانس اور ہندو فلسفے کو ہی مرکزی مقام حاصل رہا ہے۔ آر ایس ایس کے تصورِ دھرتی ماتا کو بھی سینما نے مکمل طور پر اپنا لیا۔ ہندوستان کی فیوڈل تہذیب و ثقافت جو بنیادی طور پر بالائی طبقے کی میراث تھی، وہ بھی ہندی سینما کے ساتھ کسی جونک کی طرح چمٹ گئی ـ

تحریکِ آزادی پر رامیش سہگل کی “شہید”، گیان مکھرجی کی “سنگرام” اور وی شانتا رام کی “اپنا دیش” قابل ذکر ہیں جو 1948 سے 1950 کے دوران رلیز ہوئیں، ان میں سے “شہید” کو زبردست پزیرائی ملی۔ وطن دوستی اور تحریکِ آزادی پر مبنی فلموں میں پٹیل کی سیاسی سوچ کے مماثل قوم پرستانہ جذبات دکھائے گئے۔ تحریکِ آزادی سے مسلم کردار کو دانستہ غائب رکھا گیا۔

ہندوستانی نیشنلزم کی ولبھ بھائی پٹیل انداز کی صورت گری کے دوران البتہ اس امر کا پورا پورا خیال رکھا گیا کہ فلم کی نظریاتی بُنت میں مسلم مخالفت یا پاکستان دشمنی کا تاثر نہ ابھرے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے مابعد آزادی کے خوف ناک دور میں بھی ہندی سینما نے اکثریتی سوچ سے دامن بچائے رکھا۔ اس احتراز کے محرکات میں بہرکیف متوسط طبقے کے مسلم فلم بینوں کا بھی کردار تھا جن کی ناراضی فلمی مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کرنے کی بھرپور قوت رکھتی تھی۔

بعض فلم سازوں نے سیاسی و سماجی جھمیلوں سے خود کو دور رکھنے کے لیے ہندو فلاسفی کو جمالیاتی انداز میں دکھانے پر توجہ مرکوز کردی ـ ان میں کمال امروہی کی “محل”، کیدار ناتھ شرما کی “جوگن” اور راج کپور کی “آگ” قابلِ ذکر ہیں۔ان فلموں میں عقیدہِ آواگون، فلسفہِ تزکیہ نفس اور فلسفہِ جمالیات پر روشنی ڈالی گئی۔ یہ فلمیں نظریاتی لحاظ سے آر ایس ایس کی مدد تو کرتی ہیں لیکن تقسیم کی وجہ سے ہندی سینما جس دباؤ کا شکار تھا وہ نسبتاً کم ہوا ـ

آر ایس ایس اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کے دباؤ کی وجہ سے 47 سے 50 تک ہندی سینما گومگو کی کیفیت میں رہی۔ سماجی تضادات، تقسیم کے اثرات اور تلنگانہ میں جاری کسان تحریک، کشمیر پر پاکستان بھارت رسہ کشی وغیرہ کو چھیڑنے سے ہر ممکن احتراز برتا گیا۔

ان چار سالوں میں عشق و محبت کی داستانوں میں بھی سماجی تضادات سے پہلو تہی کی گئی۔ حالانکہ چالیس کی دہائی کی رومانی فلموں میں سماجی تقسیم کو ایک اہم محرک کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ جیسے محبوب خان کی “انمول گھڑی”، “انوکھی ادا” یا شوکت رضوی کی “جگنو” وغیرہ مگر آزادی کے بعد کے چار سالوں میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ہلکی پھلکی کہانیوں پر ہی اکتفا کیا گیا۔

آزادی کے بعد کی ہلکی پھلکی رومانی فلمیں فنی لحاظ سے اعلٰی ہیں جیسے راج کپور کی “برسات” ، کشور ساہو کی “ندیا کے پار” کیدار شرما کی “سہاگ رات” وغیرہ لیکن ان فلموں میں سماجی معاملات پر بحث کرنے کی شعوری کوشش نہیں کی گئی۔

26 جنوری 1950 کو بھارت کا نیا آئین نافذ کیا گیا۔ سیکولر جمہوریت کو ریاست کی بنیاد مان کر اقلیتوں کو آئینی تحفظ دینے کا اعلان کیا گیا۔پنڈت جواہر لعل نہرو ایک روادار قیادت کی صورت ابھرے۔ پنڈت نہرو نے ایک ایسی ریاست کا تصور پیش کیا جو کسی مخصوص رنگ، نسل، مذہب، صنف کی حمایت نہیں کرتی بلکہ ہر شہری کے یکساں حقوق کی غیر مشروط ضمانت دیتی ہے۔

نفاذِ آئین کے بعد ہندی سینما میں ایک زبردست ابھار آیا۔ نہرو عہد کا آغاز ہوا اور ہندی سینما تبدیلی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگئی۔

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے۔۔۔۔۔

Facebook Comments

ذوالفقارزلفی
ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply