Usama Riaz کی تحاریر

پہلی محبت۔۔۔اسامہ ریاض

جب میں نے اُسے پہلی بار دیکھا تو مجھے اُس سے پیار ہو گیا۔ ہاں وہی پیار جس کا ذکر فلموں میں ہوتا ہے، پہلی نظر والا پیار۔ اُس کی دلکش ادائیں اور چاند کی روشنی کو ماند کر دینے←  مزید پڑھیے

ولایت۔۔۔اسامہ ریاض

اُس کا اضطراب بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ نظریں اِدھر سے اُدھر گھما رہی تھی۔ پھر اپنے پرانے ٹوٹے ہوئے چشمے کو ٹھیک کرتی گھڑی کی طرف دیکھنے لگ جاتی۔ اُسے وقت گھڑی کی سوئیوں کا کچھ علم نہیں تھا←  مزید پڑھیے

انسانوں کی جنت۔۔۔۔اسامہ ریاض

بھیڑیا چلایا ’’یہ گستاخ ہے۔ یہ ہمارے مذہب پر سوال کرتا ہے‘‘ دوسرا چلایا ’’ اِس نے جنگل سے غداری کی ہے۔ اِسے یہاں سے نکال دیا جائے ‘‘ تیسرا چلایا ’’ یہ اب سوال کرنے لگ گیا ہے۔ سوچنے←  مزید پڑھیے

کال کوٹھڑی۔۔۔۔اسامہ ریاض

بارش کی بوندیں اب زیادہ شور برپا کر رہی تھیں۔مجھے بچپن سے ہی بارش سے محبت رہی تھی اور اب تو آسمان دیکھے بھی مہینوں ہو گئے تھے۔ آج شدت سے دل چاہ رہا تھا کہ اِن دیواروں کو توڑ←  مزید پڑھیے

ادھوری ذات۔۔۔۔اسامہ ریاض

رات کی تاریکی سے کہیں زیادہ اُس کے اندر کی تاریکی بڑھتی جا رہی تھی۔ سوالوں کا ایک طوفان اُس کی روح کو تارتار کر رہا تھا۔ آج پھر ایک تقریب میں اُس کی عزت کے پرخچے اُڑا دئیے گئے←  مزید پڑھیے

جائیداد۔۔۔۔اسامہ ریاض

آج بڑے خوش لگ رہے ہو حمید خیریت تو ہے نا ۔ ہاں ہاں۔۔ یہ لو پہلے میٹھائی کھاؤ  پھر بتاتا ہوں۔ بڑے بھائی اور بھابی کا تو تمہیں پتا ہی ہے، کمبخت کہیں کے۔ ساری جائیدار اپنے نام کروانا←  مزید پڑھیے

کوٹھے کی سیڑھیاں۔۔۔۔۔اسامہ ریاض

فائزہ کوٹھے کی سب سے خوبصورت طوائف تھی۔ اُس کے انگ انگ میں بلا کا جادو تھا۔ اپنے  نازنخروں سے وہ دیکھنے والوں پر سحر طاری کر دیا کرتی تھی۔۔طاہر بھی اسی سحر میں مبتلا تھا۔ دن بھر کی کمائی←  مزید پڑھیے

میں ہجڑا ہوں۔۔۔۔اسامہ ریاض

وہ آوارہ تھا۔۔ ہر وقت گلیوں میں گھومتا  رہتا۔ کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ رات رات بھر گھر نہیں آتا تھا۔ کبھی کبھی شراب بھی پیتا تھا لیکن جب پیتا تب بےانتہا پیتا تھا۔ اگر دو گھڑی کسی کے ساتھ←  مزید پڑھیے

شہر کے معزز۔ اسامہ ریاض

چاندنی رات میں ویران راستے پر چلتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی کہ اُسے سب سے زیادہ چاند اور ستارے ہی تو جانتے ہیں کیونکہ ان سے ہمکلام ہوتے ہوئے وہ اپنی تہیں تک کھول دیتی تھی۔ایک چاند اور ستارے←  مزید پڑھیے