ولایت۔۔۔اسامہ ریاض

اُس کا اضطراب بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ نظریں اِدھر سے اُدھر گھما رہی تھی۔ پھر اپنے پرانے ٹوٹے ہوئے چشمے کو ٹھیک کرتی گھڑی کی طرف دیکھنے لگ جاتی۔ اُسے وقت گھڑی کی سوئیوں کا کچھ علم نہیں تھا لیکن پھر بھی بےچینی سے وہ باربار گھڑی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ سورج اپنی منزل کی طرف جا رہا تھا۔ موسم میں سردی کی لہر ابھرتی جا رہی تھی۔ وہ پرانے کپڑے اور ٹوٹی سی جوتی پہنے گھنٹوں سے وہاں بیٹھی تھی۔
گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ اُس پر مایوسی کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ وہ بےچینی سے کرسی پر کبھی بیٹھتی کبھی کھڑی ہو جاتی۔ صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں تھا اور اب بھوک بھی شدت سے ستا رہی تھی۔ لیکن وہ اُسی کرسی پر جمی بیٹھی تھی۔ تھکاوٹ سے جسم چور چور ہو رہا تھا۔تبھی وہاں صفائی کا کام کرنے والا ملازم آ گیا۔
وہ غصہ سے اُس پر چلا کر بولا ’’بی بی یہ جگہ چرس اور نشہ کرنے والوں کے لیے نہیں ہے۔ جاو اپنے گھر جاو ‘‘
اُس نے ایک اُداس آہ کے ساتھ اُسے جواب دیا ’’پتر میرا کوئی گھر نہیں ہے اب۔ گھر تو بیچ آئی ہوں۔ اب تو ولایت جا رہی ہوں بیٹے کے ساتھ‘‘
آخری جملے بولتے وقت وہ خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی۔
ملازم اُس کی بات سن کر ہنسے لگ گیا ’’کیا کہا بی بی ؟ ولایت اور تم ؟ حُلیہ دیکھا ہے تم نے اپنا۔ تم تو مجھے یہاں کام کرنے والی لگتی ہو بی بی ‘‘
وہ نظریں جھکا کر بولی ’’ میں سچ بول رہی ہوں پتر۔ میرا بیٹا ولایت سے مجھے لینے آیا تھا ‘‘
ملازم نے اُسے  نظر انداز کرتے ہوئے کہا ’’ تو بی بی ابھی کہاں ہے تمہارا بیٹا ؟ ‘‘
پریشانی سے اِدھر اُدھر نظریں گھوما  کر وہ آہستہ سے بولی ’’ پتا نہیں۔ یہیں بٹھا کر گیا تھا مجھے تو۔ وہ مجھے ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتا تھا۔ جائیداد بھی بیچ دی کیونکہ اب ہمیشہ کے لیے بیٹے کے ساتھ ولایت جا رہی ہوں  کہہ کر گیا تھا ابھی آتا ہوں۔ پتا نہیں کدھر ہے تب سے ‘‘
ملازم کو بی بی کی آنکھوں میں سچ کی ایک جھلک دکھائی دی۔ اُس نے تشویش سے پوچھا ’’آپ کو جانا کس ملک تھا، نام پتا ہے آپ کو ؟ ‘‘
یاداشت پر روز دیتے ہوئے بی بی بولیں ’’ بیٹا انگلینڈ بول رہا تھا ‘‘
ملازم بولا ’’ لیکن انگلینڈ کا آخری جہاز تو کب کا جا چُکا ہے ‘‘

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *