پہلا مجرم۔۔اُسامہ ریاض

شہر کی ہواؤں میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ وہ شہرکے ہنگاموں سے دور ، ایک الگ تھلگ پرسکون علاقے میں بھاگنا چاہ رہا تھا، مگر سڑک پر موجود سبھی لوگ اور روبوٹ اُسے عجیب و غریب نظروں سے دیکھ رہے تھے، جیسے وہ اُسے کھا جائیں گے۔ ڈر کے مارے اُس کے اوسان خطا ہو رہے تھے۔

سڑک پر بیٹھے بھکاریوں سے لے کر مہنگی گاڑیوں میں امیرزادوں کے ساتھ بیٹھے کتوں تک ہر کوئی اُسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ کوئی خونی لٹیرا ہو۔

شہر میں سبھی لوگوں نے چھتریاں پکڑی ہوئی تھیں مگر اُس کی چھتری نجانے کہاں کھو گئی تھی۔ اُس نے اُسے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی، کباڑ  خانوں میں، شہر کی سبھی ویران جگہوں پر اور کوڑے دانوں میں، مگر اُسے اپنی چھتری کہیں نہیں ملی، چھتری کے بارے اُسے سوچتے سوچتے یاد آیا کہ اُس نے تو خود اپنی چھتری پھینک دی تھی مگر کہاں پھینکی تھی یہ اُسے یاد نہیں تھا۔

وہ انہی  سوچوں میں گُم  تھا کہ شہر میں موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ سبھی لوگ، چرندپرند اپنے گھروں اور گھونسلوں میں گھس گئے مگر وہ آج زندگی میں پہلی بار آزادی سے بارش میں نہا رہا تھا۔

وہ بارش کی بوچھاڑکے ساتھ  بھیگنا  چاہتا تھا۔ اُڑنا چاہتا تھا۔ اُسے زندگی میں اتنی خوشی پہلے کبھی نہیں ملی تھی۔ بارش کچھ دیر بعد تھم گئی تھی اور بھیگے لباس سے اُس کا سارا جسم نظر آ رہا تھا اور لوگ اُسے عجیب وحشیانہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ وہ ڈر کے مارے اپنے گھر کی جانب بھاگا۔ اپنے کمرے کے آئینہ کے سامنے کھڑے اُس نے اپنے اندر ہونے والی تبدیلوں پر پہلی بار نظر ڈالی اور اُسے راحت محسوس ہوئی ۔

باقی شہر کی مانند اُس کا سر، دماغ، کان، آنکھیں اور ہاتھ کچھ بڑے ہو چکے تھے۔ اِس احساس کو محسوس کرتے ہوئے اُس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ رہی تھی۔ وہ زندگی میں پہلی بار اتنا خوش تھا کہ تبھی اُس کے دروازے پر زور زور سے دستک ہونے لگی۔ دروازہ کھولنے پر باہر کالے چشمے اور سیاہ چھتریاں پکڑے کچھ سپاہی کھڑے تھے۔ انہوں نے اُسے بولنے کا ایک موقع بھی نہیں دیا اور گربیان سے پکڑ کر جیپ میں ڈال دیا۔ منہ اور آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ دی گئی۔

آنکھ کھلی تو روشن دان سے چھن چھن کر آتی روشنی میں پایا کہ وہ کسی کوٹھڑی میں بند ہے ۔ ابھی وہ صورتِ حال کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ تبھی کوٹھڑی کا دروازہ کھلا اور ایک گندے کپڑوں میں ملبوس بوڑھا اندر آیا اور اُس نے اُسے قیدیوں کا لباس مہیا گیا۔ معذرت خواہانہ لہجے میں اُس نے اپنا جرم پوچھنے کے لیے زبان کھولی تو بوڑھے نے اُس کی طرف کاعذ بڑھا دیا ،جس پر اُس کا نام اور جرم لکھا تھا۔

کاعذ پر لکھا تھا ’’ یہ غلامی کی چھتری کو توڑنے اور شہر میں سوچنے والا پہلا مجرم ہے ‘‘۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *