خواجہ سرا کا خط بنام خدا۔۔۔اُسامہ ریاض

اے رحیم مولا !
تارکول کی سڑکوں پر ننگے پاؤں چلتے ہوئے وحشی اپنی اکڑی ہوئی گردنوں کو لیے مجھ پر جھپٹنے کو تیار کھڑے ہیں اور میں ان کے بیچ زندگی کی تہمت اپنے ناتواں کندھوں پر اُٹھائے تیرے عطا کردہ ادھورے وجود کو تلاش رہی ہوں۔ مگر اس سے پہلے کہ  میری میت پر حسن بازار کے پچھواڑے میں بنی جامع مسجد سے اُٹھنے والے فتوؤں کی زد میں تیرے سیوکوں کے ایمان کو خطرہ لاحق ہو، میں تجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔

چاہتا یا چاہتی کی بحث ابھی ہم یہیں چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ مسئلہ تیری عدالت کے منصف کی پہنچ سے بہت دور ہے۔ میری ذات کے ذرے قیدِزنداں میں بکھرتے جا رہے ہیں۔بڑھاپا دن کی روشنی میں دبے پاؤں میرے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ رات ہوتے ہی چراغ گل کر دیے جاتے ہیں کہ مایوسی کے لامحدود  احساسات میرے چہرے پر عیاں ہو رہے ہیں۔ درد اور مایوسی جنم لیتے ہی میرے جسم کا حصے تھے بالکل ویسے ہی جیسے اوروں کے حصے میں ہاتھ، پاؤں اور کان آئے۔ میں نے اداسی کے راگوں کو پاؤں کے پازیب اور دنیا کے غموں کو سینے میں سمیٹ کر ہزاروں سروں اور محبت کے نغموں کو جنم دیا ہے۔ میں نے طبلے کی دھن پر تیرے سیوکوں کا برسوں دل بہلایا ہے اور تخلیق کے اس دور سے گزرتے ہوئے تیرے چاہنے والوں نے اپنی بربریت کے نشان میرے جسم پر کندہ  کر دئیے مگر میں نے اُف تک نہیں کی۔ تیری عطا کردہ نیم مردہ چھاتیاں وحشیوں کے کرخت ہاتھوں کا عذاب سہتے سہتے اب  قصہ پارینہ  بن چکی ہیں۔ اب تو آئینہ بھی مجھے پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے اور میری آواز پھر عقوبت خانے میں بند کر دی جائے میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔

ذرا دو لمحے اپنی خدائی کے  تخت  سے اتر کر نیچے آ ! دیکھ کہ تیرا نائب اپنی تسکین کے لیے تیرا اور میرا استعمال کر رہا ہے۔ میں پوچھنا چاہتی ہوں کیا میرا شمار بھی اشرف المخلوقات میں ہوتا ہے۔ ذرا دو گھڑی میرے ساتھ چل کہ میں تجھ کو بتا سکوں تیرے عرش و فرش کی مٹی کتنی گرم ہے۔ مئے میں ڈوبی ہزاروں سال کی بوڑھی حوروں کو چھوڑ کر زمیں پر اتر اور ایک نظر میرے جسم پر پڑے زخموں پر ڈال، جہاں سے اگلتی آگ تیری جہنم کو سرد کر دے گی۔ لیلۃ القدر کی رات تیرا ملائک میرے کوچے سے منہ چھپا کر گزر جاتا ہے اور یہ داغِ تذلیل میرے مقدر میں بےوجہ آیا۔ بزم انجمن میں شاعروں نے مجھ پر قصیدے نہیں لکھے بلکہ وہاں بھی میرے زمرے میں ویرانی کے نشتر آئے۔ میں نے ان سجدوں کا کفارہ بھی ادا کیا جو مجھ پر فرض ہی نہیں تھے۔

اے میرے رحیم مولا ذرا دو گھڑی میرے پاس بیٹھ۔ اپنے مقدس صحیفوں کو کھول اور دِکھا میرے پتھر وجود پر تُو نے کہاں کُن لکھا ہے۔ دکھا کہاں تو مجھ سے ہمکلام ہوا۔ بتا کیا تو نے میری شہ رگ پر بھی ملائک بیٹھا رکھے ہیں اور کیا وہ کبھی میرے گھنگرو کی آواز پر نہیں تڑپے۔ تیرے علماء کی مجلسوں میں مرا مسئلہ کبھی قابل بحث سمجھا نہیں گیا اور اب تو سر جھکائے بیٹھا ہے۔ آنکھیں اوپر کر اور دیکھ میری طرف کہ میرا وجود فنا ہونے والا ہے۔
اے میرے رحیم مولا!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”خواجہ سرا کا خط بنام خدا۔۔۔اُسامہ ریاض

  1. اے اللہ کے بندے کیا تو نے اللہ کے حکموں کے مطابق زندگی بسر کی ہے؟
    اے اللہ کے بندے کیا تو نے فواحشات اور منکرات سے توبہ کی ہے یا پھر ساری زندگی آبادی میں فحاشی اور ہم جنسی پرستی پھیلانے میں لگا دی؟
    اے اللہ کے بندے کیا شادی کرنا بہت ہی ضروری ہے؟ کیا لوگ شادی کے بغیر اللہ کی اطاعت نہیں کرسکتے؟
    اے اللہ کے بندے اگر تو اللہ کے حکموں پر چلتا اور اس کے پیغمبر کی تعلیمات پر عمل کرتا تو بوقت وفات تجھے رحمت کے فرشتے لینے کیلئے لپکتے۔ مگر تو نے کیا کیا؟ ساری زندگی گناہوں میں کھپا دی۔ فحاشی پھیلاتا رہا اور اب اپنی جنس کے حوالے سے اللہ سے شکایت کررہاہے۔
    دیکھ کتنے ہی لوگ ہیں جن کے ہاتھ پیر نہیں ہیں۔ تیرے تو ہاتھ پیر سلامت ہیں۔ کتنے ہی لوگ اندھے بہرے اور گونگے ہیں مگر تو تو صحیح سالم ہے۔ تو نے ان احسانات کے بدلے میں اللہ کی کتنی شکرگزاری کی؟ اور ایک نعمت چھن گئی تو تو ناشکرا بن گیا۔ اب بھی وقت ہے۔ اللہ کے آگے جھک جا اور توبہ کرلے وہ بہت معاف کرنے والاہے۔
    سن وہ کیا کہتا ہے:
    ’’فرما دیجئے! اے میرے بندو! جو اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے، تمہیں اللہ کی رحمت سے کسی حال میں مایوس نہیں ہونا۔‘‘ (الزمر)

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *