وقت اور ہم۔۔۔سلمان امین/اختصاریہ

احمد اور میں ایک دن لاہور شاہی قلعہ دیکھنے گئے ۔  جسے  دیکھ کر  دل  اداس ہوگیا۔۔ قلعے کے درودیوار اک بربادی کا سماء لیے بیٹھے تھے۔ میں اور احمد بھی اک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ  گئے ۔ پتہ ہی نہیں چلا کہ کب میں تاریخ کے دریا میں غوطہ زن ہوگیا۔ اُس وقت  جب یہاں پہ  بادشاہت تھی ،نوکر چاکر تھے، چاروں طرف زندگی اپنے رنگ بکھیر رہی تھی۔ ایک تہذیب لہلہا رہی تھی۔ بادشاہ کے ایک حکم پہ پورا قلعہ کانپ جاتا تھا ۔

میں نے انہی  سوچوں میں گُم احمد سے پوچھا کہ کیا ہے یہ زندگی ،یہ وقت ،انسان کو اور اک تہذیب کو پکڑ کے دفن کر دیتا ہے اور ایک نئی زندگی اور تہذیب کو جنم دیتا ہے ۔

احمد کہنے لگا کہ زندگی اک فٹبال کی  طرح ہے، جس کو وقت ِکک لگاتا ہے تو ماضی سے مستقبل میں  پھینک دیتا ہے۔ حالات پکڑ کے پاس کرواتے ہیں ،تو پریشانیوں کے چُنگل میں دے دیتے ہیں۔ آخر میں موت آتی ہے تو گول کر کے بلکہ سب گول کرکے چلی جاتی ہے۔  مگر انسان ہے کہ زندگی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا یا پھر سمجھنے  کے باوجود ناسمجھ  بنا رہتا ہے دولت،شہرت جیسی چیزوں کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے اور اصل مقصد سے ہٹ جاتا ہے۔ مگر وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہوتا ہے اور انسان کو خبر تک نہیں ہوتی جب انسان کی آنکھ کھلتی ہے تو وقت گزر چکا ہوتا ہے، وقت کی یہ بھی اک خوبصورتی ہے کہ یہ گزر جاتا ہے اک جگہ پہ ٹکتا نہیں ہے۔ پھر جب انسان اپنے ماضی کے اوراق کو پلٹ کر دیکھتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ اس نے اس نامراد دولت و شہرت کو حاصل کرنے  کی خاطر کیا کچھ گنوا دیا ہے ،رشتے،خاندان، دوست اور نہ جانے کیا کیا کچھ،  وقت کا یہ بے رحم دریا چلتا جاتا ہے اور اک تہذیب کو، اک دور کو دفن کرکے اک نئے جہاں کو آباد کردیتا ہے۔

سلمان امین
سلمان امین
اقبال و فیض کا ہمسایہ ہونے کے ناطے ہلکا پھلکا ادب سے لگاؤ رکھتا ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *