انتظار۔۔۔اسامہ ریاض

بولنے اور آواز اُٹھانے کے جرم میں لاپتہ کر دیے گئے سبھی سرفروشوں کے نام۔۔

کھونٹی پر لٹکی ہوئی تمہاری وہ زنگ آلودہ تصویر
سے آج بھی محبت کی مہک آتی ہے۔
برسوں بعد بھی جب اُسے میں چومتی ہوں تو یوں
لگتا ہے جیسے ابھی تم میرے پاس ہی بیٹھے تھے۔
تصویر میں چیختی تمہاری آنکھوں کو دیکھتی ہوں تو یوں لگتا ہے
تم آج بھی میرے پاس بیٹھے محبت، امن، اور آزادی کی باتیں کر رہے ہو۔۔۔
میرے سہرانے آج بھی وہ فائل پڑی ہے جس کے
پہلے ہی صفحے کے اوپر ، دائیں طرف تمہاری تصویر چسپاں ہے
ہاں وہی فائل جسے اُٹھائے تین دہائیوں سے میں عدالتوں کے چکر لگا رہی ہوں۔
وہ  وعدے جو تم نے مجھ سے کیے تھے، اُن کی تکمیل کے لیے
تمہاری تصویر کو تھامے برسوں سے چوراہوں پر
تمہارے آزادی کی بھیک مانگ رہی ہوں
بولنے اور آواز اُٹھانے کا حق مانگ رہی ہوں
برسوں سے ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہوں۔
نہ کبھی ڈری ہوں، نہ کبھی پیچھے ہٹی ہوں۔
جب وہ ظالم ہم نہتوں پر بولنے کے جرم میں لاٹھیاں برساتے ہیں
تو میرے دل سے فقط اک دعا نکلتی ہے،
کاش تمہارے بال و پر محفوظ ہوں۔۔۔
مجھے یاد آتا ہے کہ تم اپنی چیزیں رکھ کر بھول جاتے تھے۔۔
تو سوچتی ہوں کہ اُس کال کوٹھری میں تم اپنی چیزوں کی حفاظت کیسے کرتے ہو گے۔
تم پر غداری کا الزام لگانے والوں سے میں نے پوچھنا تھا
مگر میں اُن سے کچھ نہ پوچھ سکی ،
اُن کو مرے بھی دہائی ہو چُکی ہے۔
نومبر کی ٹھنڈی شام میں انصاف کے ٹھیکے داروں کی عمارت کے سامنے
تمہاری تصویر لے کر کھڑی ہوں
اِس سے آج بھی محبت کی مہک آ رہی ہے

نوٹ : اِس تصویر کا ان الفاظ سے کوئی ذاتی تعلق نہیں ہے۔ یہ فقط میرے خیالات اور الفاظ ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *