خط کے جواب میں جنید حفیظ کا فرضی جواب۔۔اُسامہ ریاض

SHOPPING

اماں کی گود میں سر رکھے اُن سے بچپن کی کہانیاں سن رہا تھا کہ تبھی خمدار بوڑھے سنتری نے سلاخوں سے میرے منہ پر تمہارا خط مارا اور مجھے یاد آیا ،میں تو یہاں قیدِ زنداں میں پڑا ہوں۔ بڑی مشکل سے خشک گلے سے چند الفاظ نکال کر میں نے وقت کا پوچھا تو سنتری نے کرخت لہجے میں بتایا کہ دو بجے ہیں۔ دو دن کے یا رات کے وہ یہ نہیں بتا کر گیا۔ دن کے ہوں یا رات کے ان سے میرا کیا لینا دینا۔ مگر لگتا ہے یہ رات کے دو ہوں گے۔ تمہارا خط پڑھتے سمے کہیں دور سے بارش کے برسنے کی آواز میری سماعتوں تک پہنچ رہی تھی۔ مگر اب وہ رُک چکی ہے ،جیسے بچپن میں سکول جانے سے بس تھوڑی دیر پہلے رات بھر برستی بارش تھم جایا کرتی تھی مگر مجھے افسوس نہیں ہوتا تھا۔ سکول اور کتابوں سے مجھے کبھی الجھن نہیں ہوئی تھی۔ میرے بہت دوست تھے۔

ہاں وہ میں تمہیں بارش کا بتا رہا تھا۔ بارش کے پانی میں اپنا عکس دیکھتے میرے تحت الشعور کے پردے میں چھپے سوال ہلچل مچا دیا کرتے تھے، جیسے وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہوں مگر میرے اوسان کو سنبھلنے کا موقع  نہ ملتا اور میرے احساسات میں نمی  اور میرے قوی کی ڈھلتی ہوئی صدا کسی کو سنائی نہ دیتی۔اب بھی باہر لکھی رم جھم ہو رہی ہے مگر میں موسلا دھار بارش میں بھیگنا چاہتا ہوں۔ اپنی افسردہ سلگتی شام کی پیوندکاری کرنا چاہتا ہوں۔ دور سے آتی اس آواز کے سرور  سے محظوظ تو ہو رہا ہوں مگر میری بستی کو میرے اندر کی تلوار ہی کسی آفاتِ  یزداں کی طرح  اجاڑ رہی ہے۔

یہاں بھی میں نے تین دوست بنا لیے ہیں۔ ایک جنید، دوسرا کمرے کے وسط میں لٹکا بلب جو کبھی کبھی بےوفائی برتنے لگتا ہے مگر کچھ لمحے ناراض رہنے کے بعد پھر روشن ہو جاتا ہے اور تیسرا کونے میں بنے سوراخ میں بسنے والا میرا دوست ،چوہا۔ میں نے تینوں کو تمہارا خط پڑھ کر سنایا۔ تین دوست ! نہیں نہیں دو ۔ جنید تو میں ہی ہوں۔ بھول جانے کے مرض میں مبتلا ہو چُکا ہوں۔ بہت پہلے امریکہ کی یونیورسٹی میں تھیٹر میں کام کرتا تھا تو مجھے اپنے وجود اور کردار کو الگ رکھنا پڑتا تھا اور مجھے اس میں کمال مہارت  حاصل تھی۔ اب بھی اپنے کرداروں سے باتیں کرتے وقت جنید کو باہر نکال کر رکھ دیتا ہوں۔ وہ اور میرا دوست چوہا، دل کھول کر داد دیتے ہیں مگر میرے کردار دم توڑ رہے ہیں۔ ابّا ہر ہفتے مجھے کتابیں دے کر جاتے ہیں مگر ان سے جنم لیتی خیالات کی کہکشاں اوجھل ہوتی جا رہی ہے۔ کتاب نے مجھے محبوبہ کی باہوں سے زیادہ لطف دیا مگر اب منطقیت ختم ہو رہی ہے۔ مجھے جتنی باتیں آتی تھیں وہ میں خود سے کر چُکا ہوں۔ اب باتیں ختم ہونے کے قریب ہیں۔ آنکھیں بند کرتا ہوں تو سوال سولی پر لٹکے بانجھ ہو رہے ہیں۔ میں اب وحشیانہ خواب دیکھنے لگا  ہوں ،جہاں اُجڑے شہر کے وسط میں دیوار سے اُلٹالٹکا میں اپنی میت پر سینہ کوبی کر رہا ہوں۔

یہ سب چھوڑو، میں تمہیں تمہارے خط کا بتا رہا تھا۔ میں نے پڑھنا شروع کیا تو لگا ہمارا صدیوں سے یارانہ ہے۔ میں نے اپنے یارِ  غار کو تمہارا خط پڑھ کر سنانا شروع کیا۔ یارغار ! وہی اپنا دوست چوہا۔ وہ پہلے ڈرا سہما بیٹھا رہا مگر میرے سمجھانے پر اب وہ تمہارا خط سن رہا ہے مگر اپنی سرحد سے باہر نہیں آ رہا۔ ہم دونوں نے اپنی سرحدیں بنا رکھی ہیں اور ایک دوسرے کی  سرحد میں دخل نہیں دیتے۔ میں انسان ہوں کبھی غلطی کر بیٹھتا ہوں۔ خوشی میں ٹانگیں پھیلا کر لیٹ جاؤ ں تو غلطی سے اُس کی سرحد پار کر جاتا ہوں۔ سزا کے طور پر کوٹھڑی کی کرخت دیواروں نے کئی بار میرے پیروں کو چھلنی کر دیا ہے۔

ہاں ہم کہاں تھے ! ہاں یاد آیا ۔ تمہارے خط پر ۔۔ خط سے یوں لگا کہ مرے علاوہ کوئی اور بھی زنجیروں میں جکڑا قید بامشقت کاٹ رہا ہو۔ یوں لگا جیسے کوئی اور بھی بےڈھنگے الفاظ میں چیخ رہا ہو اور ایسے لاعلاج مرض میں مبتلا ہو کہ کوئی دعا یا دوا اُس کے حق میں کارگر نہیں ہو گی۔ تپتے ریگستان میں بےہنگم بھاگے جا رہا ہو اور تھک ہار کر اپنے ہی خون سے پیاس بجھانے پر مجبور کر دیا گیا ہو۔ ہماری آہیں اور سسکیاں ایک سی ہیں، ہم اپنی اپنی جگہ لامحدود تنہائی کا شکار ہیں۔ ہم دونوں اس دہر آشوب میں مجرم ٹھہرے، ہمارا جرم پوچھے بنا آسماں سے ہمارے سروں پر بم مارے گئے جو یہ فرق کرنے سے قاصر تھے کہ ہم مجرم ہیں بھی یا نہیں ۔۔

ہم بیابانِ تمنا میں اُگائے ہوئے لوگ ہیں۔ ہم جلد ہی یہاں سے کوچ کر جائیں گے اور اس بانجھ زمیں سے کہیں دور چائے کی میزوں پر کافکا کے ’’میٹامارفوسس‘‘ پر بحث کریں گے مگر اس روز تک ہمیں اپنی جنگیں لڑنی ہیں۔ ہم گُلدستہ پکڑنے والوں کے ہاتھوں میں بندوقیں تھما دی گئی ہیں مگر ان بندوقوں  کی نوک سے بھی محبت کی سو نظمیں لکھیں گے۔ ہم وہ صبح ضرور دیکھیں گے کہ جس کا وعدہ تھا ۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

تمہارا مخلص دوست
جنید حفیظ!

SHOPPING

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *