بھوک۔۔شاہین کمال

ایمپریس مارکیٹ سے چرچ کی طرف جاتی کو رائٹ ہینڈ کو اوزار والا گلی میں مڑنا مانگتا اور پھر فوراً ہی کھبے ہاتھ کو مڑنے کا۔ یہاں ایک لین میں دس بارہ چھوٹے چھوٹے کواٹر ہوتے اور ان میں جو سب سے اچھا والا کواٹر ہے نا، وہی نیلے درواجے والا وہ کالا صاحب کا ہاؤس ہوتا۔

کالا صاحب یعنی پیٹر فرانس کا ماں باپ گوا سے ادھر ئیچ کراچی آیا تھا۔ پیڑ ان کا ایکو ایک ہی بیٹا ہے۔ باپ پال فرانسس صدر میں لڑکا لوگ کا مشنری اسکول میں منشی تھا۔ وہ اکھا جندگی ادھر ئیچ کام کیا اور ادھر سے ہی ریٹائر ہوا۔ پیٹر بھی اسی اسکول میں پڑھا اور پھر کالج سے ڈگری لے کوں کے۔ ڈی۔ اے میں بابو بھرتی ہوا اور کھوب سارا مال پانی بنایا۔
ماں مارتھا تو جب پیڑ انٹر میں تھا تب ئیچ ہی ہیون میں چلا گیا تھا۔ بس پھر پال اکھا شام د ارو پی کر ٹن رہتا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

ایک دم ہی بیوڑا ہو گیا تھا رے۔
پھر کیا !!
پھر تو اسے مرنا ئیچ تھا۔ جگر مگر خراب ہو گیا۔ دیسی ٹھرا اس کا اکھا جگر کھا گیا۔
کیا بولتا ڈاگڈر لوگ سیروسس نہ جانے کیا ؟
ایسا کچھ موٹے موٹے لفظوں والا بیماری ہوا اور پال لڑھک گیا۔ فینس، کھلاص۔
دیکھ لالی میں تیرے کو دوبارا بولتیئو کہ پیٹر کے گھر کام نئی  کرنے کا ماں۔ سالا نمبری خنس ہے۔ کھالی پیلی میں گسہ کرتا اور ایک بھی چھٹی کرو تو پگار میں سے پیسہ کاٹ لیتا۔ گھر میں کام بولے تو جاستی نہیں پر ہولی مدر دوسرے مرد کا گالی کائی کوں سنو؟
سالا گھر میں بھی تین ٹائم خصم سے گالی سنو اور باہر کام پہ بھی۔
نئی ماں میرے کوں یہ نئی مانگتا۔
ایگنس مئی کیا کروں رے ناس مارا کرشنا سارا پیسہ چھین کوں اپنے نشے پانی میں اڑا دیتا ہےاور گھر میں تین بچہ لوگ بھوک سے ریں ریں کرتا ۔ میرے کو بملا بولیچ کہ کالا صاحب روج کا روج پیسہ دیتا ہے ۔ مئی اس واسطے ئیچ اس کے گھر کا کام پکڑنا مانگتی کے کام سے وآپسی پر میں کچھ سبزی ترکاری تو جوڑ لوں ورنہ کرشنا تو میرے سےایک ایک پائی جھڑوا لیتا ہے اور گالی کا کیا ہے رے ایگنس!

گالی تو اپن کا مکدر میں جنما جمنی سے لکھے لا ہے۔
جھٹکے سے گرنے سے بچنے کے لیے ایگنس نے بس کا ڈنڈا پکرے پکڑے کالا صاحب کا اکھا لائف ہسٹری سنا دیا تھا میرے کو۔
ہم دونوں کا کھولی ساتھ ساتھ تھا۔ کھولی کیا گریب لوگ کا لائف بھی ایک جیسا اور دکھ درد بھی سیم ٹو سیم۔
نہ ماں باپ کے گھر کبھی پیٹ بھر کر روٹی کھایا نہ خصم کے گھر۔ خصم کے گھر کھانے کو مگر لات مکا بہت۔ کبھی کبھی تو میرا دل کرتا کہ سڑک کے بیچ کھڑا ہو جاؤ تاکہ روج روج کےمرنے سے تو مکتی ملے پر مر بھی نہیں سکتی کہ پھر بچہ لوگ کا کیا ہونگا. کرشنا کا کیا بھروسہ پڑیا کے بدلے بچہ بھی بیچ دے وے تو؟

ایمپریس مارکیٹ میں ہم دونوں جنے اتر کے اپنے اپنے کام پر چلا ۔ ادھر میرا تین گھر تھا جدھر مئی جھاڑو پونچا اور کپڑے دھوتیؤ ہوں۔ بملا میرے کو کالا صاحب کے گھر کا بولا دیکھو کیا ئیچ ہوتا۔
رام بھلی کرے۔
مئی تین بجے تینوں گھر سے کام کھلاس کر کے کالا صاحب کے گھر گئی۔ کالا صاحب میرے کو کام سمجھائے۔
بولے چھٹی نہیں کرنے کا،
ٹیم پہ آنے کا اور اگر چھ دن بغیر چھٹی کے کام کیا تو سنڈے کا دہاڑی بھی دے گا۔
کام بس جھاڑو پونچا اور باتھ روم دھونے کا۔
میں آج کے آج سے ہئ کام شروع کر دی۔ گھر بولے تو گندا تھا مگر اتنا بھی نہیں۔ مئی ایک گھنٹے میں گھر کو شیشہ کا مافک چمکا دی۔

صاحب بولا تو کچھ نہیں مگر خوش لگتا تھا۔
میرے کو دہاڑی سے دس روپیہ جاستی دیا۔
میں جلدی سے ایمپریس مارکیٹ کے فٹ پاتھ سے سبزی لے کوں بس میں بیٹھی۔ دل ہی دل میں ڈرتیچ بھی تھی کہ جانے آج کرشنا میرا کیا درگت بنائے گا کہ بہت دیری ہو گیا تھا ۔ بچہ لوگ کا بھی کھیال تھا۔ چمپا میری بڑی بیٹی اس دیوالی میں نو سال کا ہو گیا وہ متھن اور مرلی کا خیال کرتا ہے پر اب میرے کو چمپا کا فکر جاستی ہے کہ پاڑے میں سوب طرح کا غندہ موالی اور نشئی لوگ بھرے لا۔
سارے پاڑے والا اماں بنتو کا آبھاری کہ وہ سارا لڑکی لوگ پر نظر رکھتا۔ سارا دن متھن اور مرلی گلی میں مرغیوں کا مافک مارا چلتا۔ کوئی ٹاٹ اسکول بھی تو نئی جہاں کچھ دیری بیٹھ کر کچھ پڑھ لے وے۔ نشئی باپ کی وجہ سے گیراج والا بھی متھن کو کام پر نہیں رکھتا۔

مئی  شام پڑے کھولی پہنچی کرشنا باہر ہیچ بیٹھا تھا میرے کو دیکھتے ہی لپکا اور اس سے پہلے کہ مئی سنبھلتی میرا بال نوچتا ہوا میرے ہاتھ سے سبزی کا شاپر اچھال کر پھینک دیا اور گالی دیتے ہوئے مارنے لگا۔ آدھی سبزیاں گٹر میں گری اور باقی کیچڑ میں بکھر گئی۔ میں بال ٹوٹنے کی تکلیف بھول کر سبزیاں جھپٹنے کوں لکپی۔ یہ میرے بچہ لوگ کا کھانا تھا۔ اس مورکھ کو ایک دھکا مار کر راستے سے ہٹایا دل تو تھا کہ کالی ماتا کی طرح اس کا خون ہی پی لوں۔ نہ کمبخت مرتا ہے نہ جان چھوڑتا ہے۔
چمپا نے جلدی سے لوکی کا ڈنٹھل پکڑ کر گٹر سے نکالا اور کمیٹی کے نل پر دھویا۔
آج بہت دن بعد ہم سب نے پیٹ بھر کوں کھانا کھایا تھا بھات، دال اور سبزی۔
پیٹ بھر جائے تو جندگی کتنا شانت لگتا ہے۔ کسی سے بھی کوئی کرود کوئی شکایت نہیں رہتا جیسے اب میرے کوں افسوس ہو رہا تھا کہ مئی کرشنا کو دھکا کائے کوں ماری۔ جانے اب مرن جوگا کہاں سکڑا سمیٹا مرے زندہ کے بیچ پڑا ہوں گا۔

کالے صاحب کے گھر کام کرتے ہوئے چوتھا مہینہ تھا اور اس کے گھر کام کرنے سے یہ ہوا کہ ہم سب ایک ٹیم کا کھانا پیٹ بھر کرئیچ کھانے لگا تھا اور تھوڑا پئیسہ اوپر سے بھی بن جاتا تھا کہ مئی اس کے گھر کی دارو کی کھالی بوتل کباڑیے کو بیچ دیتی تھی۔ دارو کی کھالی بوتل کا اچھا پئیسہ ملتا۔
سردی شروع ہو گئی تھی اور دو دن سے کرشنا گھر نہیں آیا تھا۔ جو مئی سچ بولوں تو میرے کو اس کی ذرا ئیچ فکر نئی تھی۔ میں شانتی سے تھی کہ کون اپنے آپ کو روج روج بھبھنوڑ وائے ۔ آج شام مئی کام سے لوٹی تو کھولی کے جھری ٹاٹ کے پردے کے پاس نالی کے اوپر بنے تھڑے پر ایگنس اور اس کا گھر والا سیمیول بیٹھا تھا۔ ایگنس میرے کو دیکھتی میرے سے لپٹ کے رونا شروع کر دی۔

سیمیول میرے کوں بولا کہ کرشنا کا دوست ملا تھا مارکیٹ میں اور وہ بولا کہ کرشنا ٹرین سے کٹ گیا ہے اور اس کا لاش ایدھی میں پڑا ہے۔ میرے ساتھ چلو اور ایدھی سے لاش لےکوں آؤ۔
مئی  تھوڑی دیر چپ رہی پھر بولی کہ اگر مئی  لاش نئی  لی تو وہ لوگ کرشنا کا کیا کرے گا؟
سیمیول بولا کرے گا کیا کرشنا کو لاوارث بول کوں دفن کر دے گا۔
تو لاش کو ایدھی والوں کو ہی دفن ئیچ کرنے دیو۔ میرے پاس اتنا پئیسہ کدھر کے کریا کرم کے لیے منوں کے حساب سے لکڑی مول لوں، گھی لوں اور پنڈت کی میٹھی چانپی بھی کروں۔
اس کو ایدھی قبر تو دے دے گا نا ؟
اتنا ئیچ کافی ہے !
مٹی مٹی میں مل جاوے اور کیا مانگتا؟۔
مردہ کو جلا کے پیسے میں آگ لگانوں سے بہتر یہ نئی کہ میرا بچہ لوگ پیٹ بھر کر روٹی کھا لیوے؟ اب تو کرشنا مر گیا۔ اب لاش کو جلاو، دفناؤ کہ ڈوباؤ لاش کو کیا ئیچ فرق پڑے گا؟

آدمی مر گیا کھلاص.
فکر تو ان کا کرنا مانگتا جو جندہ ہے مگر جینے کو ایڑیاں رگڑتا۔ جو بھوک کے کارن مرنے والا ہوتا۔
نہیں بھائی سیمیول مئی کرشنا کا لاش وصول نہیں کرے گی۔

جندگی چلتا رہتا ہے۔ کوئی مرنے والے کے ساتھ نہیں مرتا پھر کرشنا تو ہم لوگ کا واسطے کب سے مر گیا تھا۔ بھگوان جانے وہ نرک میں تھا کہ سورگ میں مگر مئی اور بچہ لوگ اب ضرور نرک سے بچ گیا تھا۔ اس ہتھیارے کے مرنے سے مئی روج روج کی جوتم لاتی سے بچ گئی تھی۔
مئی جب کرشنا سے شادی بنائی تھی تو بہت کھوش تھی۔ کم کھا کوں بھی کھوش مگر چمپا کے جنم کے بعد سے مرن جوگے نے جب سفید پاؤڈر اور گانجا شروع کیا تو مانو دھواں کا مافک پریم پیار سب ہوا میں اڑ گیا۔
محبت بھی تب ئیچ اچھی لگتی ہے جب پیٹ
میں روٹی ہو۔ بولے تو پیٹ بڑا پاپی ہے رے!

یہ جالم بھوکا ہو تو سوب کچھ ہی کھا جاندا ہے بھلے سے وہ لاگ پریم ہو یا جنم جنمانی کا رشتہ۔ جب روٹی کی جوکھم پڑی ہو تو کچھ اچھا نئی لگتا چاند بھی روٹی ئیچ دکھتا ۔

آج کل کالا صاحب بات بے بات بوت گسہ کرنے لگا ہے۔ کبھی کبھی تو مئی سوچتی کہ اس کے گھر کا کام ئیچ چھوڑ دوں پھر کھیال آتا کہ میرے بچہ لوگ کو روٹی اس کے ہی گھر سے ملا تھا ۔ اس کے گھر جب مئی کام پکڑی تو ہم لوگ ایک ٹیم پیٹ بھر کوں کھانا کھانے لگا تھا۔ روٹی کا لاج تو کتا بھی رکھتا میں تو فر بھی آدمی ئیچ ہوں۔
کل میرے کو ایگنس کیسا عجیب بات سنائی۔ ایگنس بولی کے کالا صاحب کی جورو بہت سندر ناری تھی اور کالا صاحب اس سے بہت پیار کرتا تھا اس کا بہت سمان اور آدر بھی کرتا مگر جبان سے اس کی سندرتا کا جاستی تعریف نہیں کرتا تھا تو اس کارن وہ کالا صاحب کو ٹھینگا دیکھا

کوں کسی بڑے ٹھیکے دار کے ساتھ بھاگ گئی۔
ہے رام !!
پیٹ بھر کر تین ٹائم کھانا ملے جندگی میں اس سے بڑا عیاشی اور کیا ہو گا؟
اس پر بھی وہ کمینی کالا صاحب کو چھوڑ کر چلی گئی۔ اننیائے ہے شد اننیائے۔
مئی کلے پیٹتے ہوئے بولی۔
“ہاں رے سیمیول بولتا کہ بھوک بھی قسم قسم کا ہوتا ہے۔”
ایگنس نے آنکھیں نچاتے ہوئے بولا۔
کرپا ہے رام کی کہ ہم لوگ بس پیٹ ہی کا بھوک جانتا۔
کرم جلی کوئی جھلی ہیئچ ہوگی؟
پیٹ بھر کر کھانے کوں ملتا، سر پر اپنا چھت ہوتا کوئی کھولی کا کرایا مانگنے کو درواجے پر نئی کھڑا ہوتا، دکھ بیماری میں بوروبر علاج بھی ہوتا ۔ جندگی میں کوئی لفڑا نہی آدمی کو اور کیا ئیچ مانگتا رے؟
یہ سوب پیٹ بھرے کا چونچلا ئیچ ہے۔ جب پیٹ بھرے لا ہو تو دیماگ میں دس بات بھی سوجھتی۔ اپن لوگ کا تو اکھا جندگی روٹی روٹی کرتے ہی گجرے لا.

آج میرے کو کالا صاحب کے گھر کام پر پہچنے میں بہت دیری ہو گیا کہ میڈم کے گھر میں رات کو دعوت ہے تو میڈم نے سیٹنگ چینج کروایا اور بہت سا دوسرا کام بھی کروایا اس واسطے میرے کو کالا صاحب کے گھر پہچنے میں دیری ہو گیا آج تو وہ بہت ہی گھسہ کرے گا۔ ویسے بھی آج کل اس کا مگج پھرے لا ہے۔

جب مئی درواجا کھول کوں اندر گئ تو اندر کا سین پاٹ دیکھ کوں تو میرا آنکھاں ئیچ فٹ گیا۔
کالا صاحب ایک لمبی سی تکیہ کوں زنانہ کپڑا اور وگ پہنا کوں دنیا سے بےکھبر اسکے ساتھ ڈانس کرتا تھا۔ اس کی آنکھاں بند تھی اور چہرے پر شانتی ہی شانتی تھا اور اکھا کمرے میں میوزک کا تیج آواج تھا اور کمرے کے کونےمیں دو تین وہسکی کا کھالی بوتل پڑے لا تھا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

ہے رام !!
کیا بالکل ای مگج پھرے لا کالا صاحب کا؟

  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply