بچوں کو اپنا دفاع کرنا سکھائیے۔۔۔۔۔اسامہ ریاض

پانچوں میں تھا جب پہلی بار جنسی طور پر ہراساں ہوا تھا، وہ انسان مجھے اور اپنی سگی بیٹی کو ایک ساتھ جنسی ہراساں کیا کرتا تھا ۔ ( وہ کون تھا یہ نہیں لکھوں گا کیونکہ سکول کے کچھ دوست ایڈ ہیں تو وہ کردار تک آسانی سے پہنچ جائیں گے، وہ شخص شہر چھوڑ کر عرصہ پہلے جا چکا ہے )۔ تب یہ نہیں معلوم تھا کہ ہو کیا رہا ہے، لیکن صرف اتنا معلوم پڑ رہا تھا کہ یہ غلط ہو رہا ہے لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کا جواب کیا دینا ہے۔ ردعمل کیا ہونا چاہیے کیونکہ یہ کوئی دس، بارہ سال پرانی بات ہے تب نہ سوشل میڈیا اتنا مضبوط تھا اور نہ ہی کبھی بتایا گیا تھا کہ کچھ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ اُس واقعہ کے کچھ دنوں بعد ہی سکول تبدیل ہو گیا ۔ آٹھویں میں جا کر پتا چلا کہ وہ جو تین سال پہلے مجھے ہراساں کیا گیا تھا۔ لیکن ایسے لوگوں کو اور ایسے حالات میں ردعمل کیا ہونا چاہیے، اپنے آپ کو بچانا کیسے ہے، یہ سب ابھی بھی معلوم نہیں تھا۔

میٹرک کے بعد ایف ایس سی کے لیے ہوسٹل میں آیا تو گھر سے پہلی دفعہ اکیلے ٹرین اور بس میں سفر کرنا شروع کیا ۔ٹرین میں اکیلا سفر کر رہا تھا تو رش حد سے زیادہ تھا ۔ دوسری دفعہ جنسی ہراساں کرنے والا شخص لگ بھگ ساٹھ سال کے بابا جی، سر پر ٹوپی، ہاتھ میں لمبی سی تسبیح پکڑی ہوئی تھی۔ درد کی اُس کیفیت کو جب کوئی آپ کے جسم کو آپ کی مرضی کے بغیر چھو رہا ہو، میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ ٹوبہ سے لے کر شورکوٹ تک کا سفر تیس منٹ کا ہے اور وہ تیس منٹ تیس صدیاں تھیں۔ لیکن تب بھی مجھے معلوم نہیں تھا کہ جواب کیسے دینا ہے، اس انسان کو روکوں کیسے کیونکہ اندر ایک ڈرا سہما بچہ تھا جس کو یہ ڈر تھا کہ پتا نہیں کیا ہو جائے گا۔ اُن تیس منٹوں کے ایک ایک سیکنڈ کو میں نے محسوس کیا تھا ۔ گھر آیا، اکیلے بیٹھ کر جی بھر کر رویا ۔ اُس واقعہ کو دوبارہ ذہن میں دہرایا اور جواب سوچنے شروع کیا کہ میں یہ بول سکتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ اور سوچ لیا اگلی دفعہ کسی نے ایسے ہاتھ لگایا تو یہ بولوں گا۔

کچھ ہی مہینوں بعد تیسری دفعہ مجھے جنسی طور پر ہراساں ہونے کا سامنا کرنا پڑا ۔ لیکن اب کی دفعہ کہانی مختلف ہو چکی تھی تو وہ جو سارے جواب ذہن میں تھے وہ غائب ہو گئے۔ اور ایک دفعہ پھر میں ہار گیا ۔ ہوسٹل پہنچا، پھر واقعہ کو دہرایا اور نئے جواب سوچے۔
چوتھی دفعہ کہانی پھر بدل گئی اور میں ایک بار پھر ہار گیا۔ لیکن اب کی دفعہ اندر سہمے ہوئے بچہ میں تھوڑی ہمت آ چکی تھی اور میں نے اپنا دفاع کیا لیکن  ویسا دفاع نہیں کر سکا جیسے اکیلے بیٹھ کر سوچا کرتا تھا۔ ایک سال بعد پھر فیصل آباد سے گھر کے لیے بس میں بیٹھا ہوا ساتھ سیٹھ پر جو شخص آ کر بیٹھا، اُس نے اپنا جال ابھی پھینکنا ہی تھا کہ میں سمجھ گیا کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ اس سے پہلے میرے ذہن میں پورا ہوم ورک تیار تھا۔ ہزار طرح کے جواب ہزار  طرح کی جگہ کے لیے موجود تھے۔ اور وہ اندر کا آتش فشاں پھٹ گیا۔ اخلاقیات کی سبھی حدیں پار کر دیں میں نے۔ میرے ذہن میں جو جو گالی آئی وہ میں  نے نکال دی۔ وہ شخص میرے سامنے دو منٹ نہیں ٹک پایا۔ اور اپنا سامان اُٹھا کر بھاگ گیا۔

یہ لوگ اندر سے آپ سے زیادہ بزدل ہوتے ہیں بس آپ کو تھوڑی ہمت دکھانی پڑتی ہے۔ ساتھ سیٹ پر ایک بابا جی اپنی کسی نواسی یا چھوٹی بچی کے ساتھ بیٹھے تھے ۔ بولے ’’ پتر کیا ہوا۔ شکل سے تو بڑا شریف لگ رہا تھا وہ ‘‘ ۔ ابھی آتش فشاں جل رہا تھا اور باقی کی گالیاں وہ بابا جی پر نکل گئیں۔ مجھے بعد میں بہت افسوس ہوا کہ بابا جی کو ایسے نہیں کہنا چاہیے تھا لیکن اُس وقت میں اپنا ہوش کھو  بیٹھا تھا۔ سات سال کی frustration وہاں نکال دی میں نے۔ اُس دن اندر کے سہمے ہوئے بچہ کو نکال کر باہر پھینک دیا میں نے اور اُس دن کے بعد کسی مائی کے لال کی ہمت نہیں ہوئی دوبارہ ہاتھ لگانے کی۔
سوچتا ہوں میں تو ہر دفعہ بچ گیا تھا۔ کسی نے میرا ریپ نہیں کیا۔ کچھ ایسا غلط نہیں ہوا میرے تھا۔ لیکن وہ ہزاروں جنہیں اپنا دفاع نہیں کرنا آتا تھا وہ موت کے گھاٹ اُتار دئیے گئے، کس دردناک کیفیت سے گزرے ہوں گے وہ۔ کسی اور کے ہاتھ پر اپنے جسم پر ہونے پر درد صرف وہی برداشت کر سکتا ہے جو خود یہاں سے گزرا ہو۔۔

وہ پہلا شخص جس نے مجھے ہراساں کیا تھا وہ بارہ سال بعد بھی یاد ہے مجھے۔ وہ اپنی بیٹی کو بھی اپنی ہوس کا نشانہ بناتا تھا۔ سوچتا ہوں مجھے یاد ہے بس تو اُس کی بیٹی کو بھی تو یاد ہو گیا نا۔ وہ زندگی کیسے گزار رہی ہو گئی اور وہ جو باقی سبھی تھے وہ کسی نہ کسی کے چچا، ماموں، خالو، تایا، باپ تھے۔ اور پتا نہیں کتنوں کو انہوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا ہو گا۔ کتنے اُن کی ہوس کی بھینٹ چڑ گئے ہوں گے۔ یہ سوچتے ہی رونکھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسی دردناک کہانیاں یہاں بکھری پڑی ہیں۔ برسوں لگے ہیں مجھے یہ سب لکھنے میں۔ صدیوں کے درد کے بعد یہ لکھ سکا ہوں۔
خدارا اپنی نسلوں کو محفوظ کیجئے۔ انہیں یہ لازمی بتائیں کہ ایسے درندوں سے بچنا کیسے ہیں۔ تاکہ کوئی اور زیب، کائنات، فاطمہ ہوس کا نشانہ نہ بنے۔
اور اگر یہ سب پڑھ کر آپ کی ہنسی نکلتی ہے تو آپ کو مر جانا چاہیے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *