شکور پٹھان کی تحاریر
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

شہر گریہ(تیسری،آخری قسط)۔۔شکور پٹھان

‏وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا ‏کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا شہر کی بربادی کے ذمہ دار وہ نہیں جنہوں نے اس شہر کو لوٹا یا وہ جن کی نالائقی اور نااہلی کے سبب شہر اس حال←  مزید پڑھیے

جو ہے فرق تجھ میں مجھ میں۔۔شکور پٹھان

“ابے یار تم لوگ الگ ہی لگتے ہو” وہ بڑی دلچسپی سے سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ “ کیا مطلب؟ کیسے الگ لگتے ہیں؟” میں نے کچھ کچھ سمجھتے ہوئے بھی پوچھ لیا۔ “ تم لوگ سالے ایک دم چِکنے←  مزید پڑھیے

بڑے میاں دیوانے۔۔شکور پٹھان

شیکسپئر  کہتا ہے۔۔ویسے زیادہ تر شیکسپئر ہی کہتا ہے۔ جو کچھ کوئی اور نہیں کہتا وہ شیکسپئر ہی کہتا ہے۔ کسی کی بات اگر کوئی نہیں سنتا تو وہ اسے شیکسپئر کے منہ سےکہلوا دیتا ہے پھر ہر کوئی اس←  مزید پڑھیے

شہرِ گریہ(قسط1)۔۔۔شکور پٹھان

“ یہ مچھر دانی کہاں لئے جارہے ہو” امی نے حیرت پوچھا۔ “ باہر چارپائی پر لگاؤں گا” “ اتنی اچھی ہوا چل رہی ہے، مچھر کہاں ہیں “ “ اسی لیے تو لے جارہا ہوں۔ ہوا سے ٹھنڈ لگتی←  مزید پڑھیے

یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے۔۔شکور پٹھان

ـــــــــــــــــــــوہ دونوں سب سے نچلی سیڑھی پر بیٹھی تھیں ۔ مجھے قریب سے گزرتا دیکھ کر ذرا سا ترچھا ہوگئیں لیکن اپنی باتوں میں مگن رہیں۔ پتہ ہے؟ پہلی والی نے تھوک نگلتے ہوئے بڑے معتبر انہ انداز میں دوسری←  مزید پڑھیے

برکھا برسے چھت پر۔۔شکور پٹھان

“فلم دیکھی رات کو؟” “ ہاں تھوڑی سی دیکھی، پر سمجھ نہیں آئی” “ کیا سمجھ نہیں آیا” “ ویسے تو پوری فلم سمجھ نہیں آئی لیکن اس سے پہلے بھی دو تین ہندی فلموں میں دیکھا کہ بارش ہوتے←  مزید پڑھیے

گر تو بُر ا نہ مانے/جن سے منصفی چاہیں۔۔۔۔۔شکور پٹھان

میں اور آپ مزے سے زندگی گزارتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ زندگی کی بساط پر لوڈو کھیل رہے ہوتے ہیں، دانے پھینکتے ہیں اور گوٹیں آگے پیچھے بڑھاتے ہیں کہ کہیں کوئی نزاعی کیفیت آ پڑتی ہے۔ کھیل کے←  مزید پڑھیے

میں بھی کبھو کسُو کا سرِ پُر غرور تھا۔۔۔شکور پٹھان

وَالْعَصْرِ (1) إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ قسم ہے زمانے کی۔۔یقیناً انسان خسارے میں ہے ربِّ کائنات نے اپنی بات پر گواہ بنایا تو سب سے زیادہ معتبر چیز کو۔ بھلا وقت سے زیادہ کون گواہ ہوگا، انسان کے عروج و←  مزید پڑھیے

جانے کس منزل کی جانب آج کل جاتے ہیں لوگ۔۔۔شکور پٹھان

ٹھیک سے یاد نہیں کہ میں چوتھی جماعت میں تھا یا پانچویں میں۔ ہمارے گھر میں ریڈیو نہیں تھا۔ اور ہمارے ہی کیا گلی بھر میں بھی صرف ایک ہی گھر میں ٹرانسسٹر ریڈیو تھا۔ اور ریڈیو کے لیے کونسا←  مزید پڑھیے

فرشتوں کا لکھا۔۔۔۔شکور پٹھان

میری بس فریر روڈ پر لڑکیوں کے  کالج کے سامنے کھڑی تھی۔ سامنے کالج کی دیوا پر لکھا ہوا تھا۔۔۔۔ معاف کیجیے۔۔وہاں تو بہت کچھ لکھا ہوا تھا البتہ کچھ نئے الفاظ تھے جو  سپرے مشین سے لکھے گئے تھے۔←  مزید پڑھیے

مسکرائیے ! آپ شارجہ میں ہیں۔۔۔۔شکور پٹھان

چراغ تلے اندھیرا۔۔۔گھر کی مرغی دال برابر۔۔۔بچہ بغل میں ڈھنڈورا شہر میں۔۔ سمندر کنارے نئی تعمیر شدہ مسجد سے نکل کر شاید میں نے پہلی بار شارجہ کو دیکھا جہاں میں پچھلے پچیس سال سے رہتا چلا آیا ہوں اور←  مزید پڑھیے

بلبل ہند۔۔۔شکور پٹھان

مجھے نجانے کس حکیم نے لکھنے کا مشورہ دیا تھا اور اگر لکھنے کا ایسا ہی ہو کا تھا تو اپنی اوقات میں رہ کر لکھتا۔کچھ دوستوں کا یہ بھی خیال ہے کہ بھلا ایسے لوگوں کے بارے میں لکھنے←  مزید پڑھیے

ابو چاچا۔۔۔شکور پٹھان

یہ زندگی، یہ دنیا، اپنے بھید بھاؤ کچھ عجب ہی انداز میں کھولتی ہے۔ انسان جاننا کچھ چاہتا ہے، گیان کسی اور ہی چیز کا ملتا ہے، کرنا کچھ چاہتا ہے ، ہو کچھ اور جاتا ہے۔ آگ لینے جاتا←  مزید پڑھیے

چھوٹی۔۔۔شکور پٹھان

ابوووو۔!!؟؟ چھوٹی مسکرا رہی تھی لیکن آنکھوں میں شکایت، ملامت اور شرارت سبھی کچھ تھا۔جیسے کہہ رہی ہو ابو آپ بھی؟ ابو کو اس نے بہت اونچے استھان پر بٹھا رکھا تھا اور ابو کے منہ سے اتنی چھوٹی، اتنی←  مزید پڑھیے

یہ میرا چمن ہے میرا چمن۔۔۔۔۔شکور پٹھان

خالد کے کمرے میں یہ خوش باش، ہنستے مسکراتے روشن چہرے والے لڑکے فرش پر سر جوڑے بیٹھے باآواز بلند گا رہے ہیں۔ یہ کسی ترانے کی ریہرسل ہے۔ ان سب کی ہم آہنگی کمال کی ہے اور کیوں نہ←  مزید پڑھیے

بوجھ۔۔۔۔شکور پٹھان

بوجھ؟ یا میرے مولا! یہ کیا ماجرا ہے۔ آج کے دن کے لئے تو مہینوں سے ہنگامہ بپا تھا۔ اماں ہفتوں بولائی بولائی پھر رہی تھیں۔ خدا خدا کرکے خیر سے اچھی جگہ نسبت طے ہوئی۔ مناسب مہلت بھی ملی←  مزید پڑھیے

یہ جہاں والے/ہیلو فرینڈز۔۔۔شکور پٹھان

پیلی ٹی شرٹ اور جینز میں ملبوس یہ لڑکی شاید سترہ یا اٹھارہ برس کی ہو لیکن قریب سے دیکھنے پر یہ صرف 13،14 سال کی نظر آتی ہے یعنی میری نواسی سے چار سال بڑی۔ اس کے چہرے پر←  مزید پڑھیے

شاہی سواری۔۔۔۔شکور پٹھان

خوبصورت سے بازار میں زیادہ تر پھلوں اور سبزیوں کی دکانیں تھیں اور سارے پھل اور سبزیاں بے حد خوشنما۔ ساتھ ہی قہوہ خانے اور چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں جن میں نوادرات اور مقامی دستکاریاں اور سجاوٹ کے سامان کے←  مزید پڑھیے

دیواروں سے باتیں کرنا۔۔۔شکور پٹھان

گڈو کے ہونٹ لٹکے ہوئے اور آنکھوں میں یہ موٹے موٹے آنسو تھے لیکن دادی ماں کے چہرے کی سختی میں ذرا بھی کمی نہ ہوتی تھی۔ گڈو غریب کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ دودن پہلے جو کام وہ←  مزید پڑھیے

عوامی قلمکار،ابن صفی۔۔ابراہیم جلیس/شکور پٹھان

مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں وقلیلا”ماتشکرون۔۔۔۔۔۔اور تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو! یہ شکوۂ ایام نہیں،میرے مولا و مالک کا شکر ہے۔ آج جب دنیا جہان کی ساری نعمتیں صرف ایک خواہش کی دوری پر ہیں←  مزید پڑھیے