فرشتوں کا لکھا۔۔۔۔شکور پٹھان

میری بس فریر روڈ پر لڑکیوں کے  کالج کے سامنے کھڑی تھی۔ سامنے کالج کی دیوا پر لکھا ہوا تھا۔۔۔۔
معاف کیجیے۔۔وہاں تو بہت کچھ لکھا ہوا تھا البتہ کچھ نئے الفاظ تھے جو  سپرے مشین سے لکھے گئے تھے۔
۳۱۵+ پچھلی گلی والا، جماعتی، پھینٹی

اگلے دن وہاں کچھ نئی چیزیں تھیں

بھوتنی کا۔۔۔ شمائلہ۔۔۔ڈرامے باز۔۔۔چالو

جب کبھی بس وہاں رکتی میں دیوار پر لکھے الفاظ اور جملے ضرور پڑھتا۔ کبھی کبھار ہی کوئی مکمل جملہ ہوتا۔ اکثر بے معنی سے الفاظ ہوتے جن کا کچھ سر پیر نہ ہوتا۔
وہ کون تھے جو یہ لکھا کرتے تھے۔ میں نے تو کبھی کہیں کسی کو دیوار پر لکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ہاں  سکول کے دنوں میں جب ہم نے آپس میں چندہ کرکے بلیڈر اور فیتے والی فٹبال خریدی اور ‘ فٹبال کلب، بنانے کا فیصلہ کیا تو کومپنی کی مشہوری کے لئے نام اور پتہ محلے اور علاقے کی دیواروں پر لکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ دوسرے محلوں کی ٹیموں سے میچ   بدا  جاسکے۔
اب ایک اور چندہ کرکے رنگ کا ایک ڈبہ خریدا اور کورنگی کی مرکزی سڑک کے ساتھ گزرتے ہوئے نالے کی دیواروں پر لکھنا شروع کیا۔۔۔
” نیو ملت فٹبال کلب۔۔کپتان غضنفر علی۔۔۔میچ رکھنے کا پتہ ۲۱۲ ٹی ایریا دو نمبر کورنگی۔۔
ڈھائی نمبر کورنگی تک ہم یہ سب دیوار پر لکھتے رہے اور ہمیں کسی نے کچھ نہ کہا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ یہاں کوئی آبادی نہ تھی۔ قریب سے گزرتی بسوں کے مسافر ہمیں دیکھتے اور کچھ ناقابل فہم قسم کی باتیں کرتے گزر جاتے۔

اب ہم نے اپنا دائرہ کار اندرونی محلوں کی گلیوں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ ابھی پہلی دیوار جس پر لکھا تھا ” نصرت کو ووٹ دو۔۔نشان گھوڑا” اور ہم نے گھوڑے کے نچلے حصے میں جہاں بہت جگہ خالی تھی لکھنا شروع ہی کیا تھا ” نیو ملت فٹبال کلب” کہ ساتھ والے گھر سے تہبند باندھے ایک موٹا سا شخص گالیاں بکتا ہماری طرف بڑھا ہم  نے رنگ  کا  ڈبہ  وہیں چھوڑ کر دوڑ لگائی۔ ” ابے ڈبہ  تو لے ” غضنفر نے یاد دلایا۔۔۔
پلٹ کر دیکھا تو تہبند والا شخص ڈبہ اٹھائے گھر میں داخل ہورہا تھا۔۔۔
کلب کی مشہوری کا تو اب کوئی امکان نہ تھا۔ کچھ دنوں بعد بلیڈر والی فٹبال بھی پھٹ گئی اور ساتھ ہی ہمارا ‘ کلب’ بھی ختم ہوگیا۔

اور میں آج تک اس ادھیڑ بن میں ہوں کہ وہ کون سی ہستیاں ہوتی ہوں گی جو دیواروں پر لکھتی ہوں گی۔ گرلز کالج کی دیوار پر لکھے جانے والے الفاظ کے بارے میں کسی نے بتایا کہ سٹے کے نمبروں کے بارے میں اشارے ہوتے ہیں۔ کسی نے کہا  کہ نہیں یہ ریس کے گھوڑوں کے بارے میں اطلاعات ہوتی ہیں۔ ایک سیانے نے کہا کہ یہ کسی خفیہ تنظیم کے اشارے ہیں جو صرف ان کے ہی ارکان سمجھ سکتے ہیں۔

لیکن مجھے ان پیغامات کی کوئی پروا نہیں تھی۔ مجھے تو کرید اس بات کی تھی اور آج بھی ہے کہ وہ کون سی مخلوق ہے جو دیواروں پر لکھتی ہے اور آج تک کسی نے اسے نہیں دیکھا۔ یقیناً یہ کوئی ہوائی مخلوق ہوگی۔  فرشتے  ہوں یا شاید جنات ہوں۔ ویسے بھی ہماری قوم کی تقدیر بھی   کوئی خلائی مخلوق ہی لکھتی ہے۔ لوگ باگ اپنے اپنے تکے لگاتے ہیں کہ کاتب تقدیر کون ہوسکتا ہے۔ امریکہ بہادر، بوٹوں والے بھائی، پڑوسی ممالک یا برادر اسلامی ممالک۔

خیر یہ آج ہمارا موضوع نہیں۔ ہم تو بات کررہے ہیں دیواروں پر لکھے ان ارشادات عالیہ کی جن کے بارے میں کسی کو خبر نہیں کہ کون اور کب یہ سب کچھ لکھ جاتا ہے۔ آج کی دنیا  ذرائع ابلاغ کے نئے نئے طریقے ایجاد کرنے میں ہلکان ہوئی جارہی ہے۔ اخبارات اور رسائل کے بعد برقی میڈیا اور اب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا اور نہ جانے کیا کیا۔ لیکن ہماری مملکت خداداد ان چونچلوں سے آزاد ہے۔ ہماری دیواروں پر ہر قسم کی اطلاعات، مشورے، نصیحتیں، علاج معالجہ، خبریں، اقوال زریں اور کیا کچھ زمانے میں ہے جو ہماری دیواروں پر نہیں۔ ” موت کو مت بھولو” ” نماز آخرت کی کنجی ہے ” سے لیکر نا امید مریضوں کی آخری امید، مرادآباد میں مردہ زندہ ہوگیا” ” گل خان چالو ہے” ” گلی گلی میں شور ہے ‘ فلاں چوہدری چور ہے” فلاں کا چکر فلاں  سے چل ریا ہے” اور فلاں کو رہا کرو،مگر فلاں کو پھانسی دو۔ کس چیز کی کمی ہے مولا میری دیوار پہ۔

لیکن دیواری تحاریر میں شاہکار وہ ہیں جو بیت الخلا کی دیواروں پر نظرآتی ہیں اور اس میں بھی وہ جو اسکول کالج یا پھر مسجدوں کے طہارت خانوں میں ہوتی ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ میں چوتھی میں مخلوط اسکول میں پڑھتا تھا۔لڑکوں کے حصے میں دو طرح کے غسلخانے تھے ایک وہ جن میں فرشی نشست ہوتی تھی اور دروازہ ہوتا تھا اور اندر سے کنڈی لگائی جاسکتی تھی۔ دوسرے وہ جہاں کھڑے کھڑے فراغت حاصل کی جاتی تھی اور یہاں دیواریں نسبتا صاف ہوتی تھیں۔ البتہ کچھ اطلاعات یہاں بھی مل جاتی تھیں جیسے ” حساب کے ماشٹر کا چکر ڈرائنگ والی استانی سے ہے” ۔۔ یہ دونوں ہم طلبہ کے غیر پسندیدہ معلم تھے۔

اصل شاہکار ہمیں بند دروازوں والے بیت الخلا میں ملتے۔ میں جب پہلی بار وہاں گیا اور کنڈی چڑھا کر بیٹھا ہی تھا کہ  سامنے دروازے پر لکھا نظر آیا” دائیں دیکھو” ۔۔۔میری نظر بے ساختہ دائیں جانب گئی جہاں لکھا تھا ‘ بائیں دیکھو” میں نے گردن بائیں جانب موڑی جہاں لکھا تھا’ یہاں وہاں کیا دیکھ رہا ہے۔۔۔اپنا کام کر”
کچھ جملے ناگفتنی ہوتے تو کچھ کے بارے میں سمجھ نہیں آتا کہ یہ کسی طالبعلم نے لکھا ہے یا استاد نے۔ مثلاً مجھے یہ جملہ سمجھ نہیں آیا” آپ کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے” یہ بڑی اچھی نصیحت تھی اور ہوسکتا  ہے کسی شفیق استاد نے لکھی ہو۔

مسجدوں کے طہارت خانوں میں نہ صرف نصیحتیں بلکہ مسائل بھی درج ہوتے ہیں۔ ایک مسجد کے بیت الخلا میں لکھا تھا ‘ صفائی نصف ایمان ہے’ اپنے ایمان کی حفاظت کریں’۔۔۔۔
ایسے ہی ایک مسجد کے طہارت خانے میں دیکھا کہ ایک باریش بزرگ ایک ہاتھ سے ازاربند تھامے اندر جارہے ہیں اور دوسرے ہاتھ میں چاک کے ٹکڑے ہیں۔ کچھ سمجھ نہ آیا کہ یہ چاک کے ٹکڑے بغرض تبلیغ لے جارہے ہیں یا برائے استنجا؟

قصور ان بڑے میاں کا نہیں میری ناقص عقل کا ہے۔ میرے خاندان کے بزرگوں کا میری کم عقلی کے بارے میں اجماع ہے اور میں نے بھی اپنے بزرگوں کو کبھی غلط ثابت نہیں کیا۔ میری بے وقوفی کی ایک مثال وہ نشانات ہیں جو مجھے مشکل سے ہی سمجھ آتے ہیں۔ مثال کے طور پرعوامی جگہوں پر یا ہوٹلوں، ریستورانوں اور ہسپتالوں میں بیت الخلاء کی نشاندہی کے لئے جو نشانات آویزاں کیے  جاتے ہیں وہ مجھے اتنی آسانی سے سمجھ نہیں آتے۔ ایک عام سا نشان ہوتا ہے جس میں ایک سر اور نیچے دو سیدھی ٹانگوں کے درمیان ایک قمیص یا فراک سے مرد وزن کی تفریق کی جاتی ہے ۔ مردوں کے بیت الخلاء میں قمیض  اور عورتوں کے غسلخانوں کے باہر گردن کے نیچے ایک تکونی سی  فراک ہوتی ہے۔ اب اگر یہ دونوں نشانات ساتھ ساتھ ہوں تو باآسانی سمجھ آجاتے ہیں لیکن علیحدہ ہوں تو مجھ موٹی عقل والے کو کچھ دیر دماغ پر زور دینا پڑتا ہے۔ استنبول کے پرنسسز آئی لینڈ کے ایک غسل خانے نے میری مشکل یوں آسان کی کہ مردوں کے غسلخانے کے باہر تمباکو نوشی کے ‘ پائپ’ کی تصویر تھی جب کہ مستورات کے غسل خانے کے باہر خواتین کی اونچی ہیل کی سینڈل کی تصویر تھی۔۔۔جس کا  ایک مقصد شاید  یہ بھی واضح کرنا تھا کہ غلطی کی صورت میں سینڈل سے تواضع ہوسکتی ہے۔

اور جیسا میں نے عرض کیا کہ میری کم عقلی کے سبب ایسی نوبت آنے کے امکانات بہت زیادہ رہتے ہیں۔ مثلاً ایک بار دوبئی کے ایرپورٹ پر کچھ مسئلہ پیش آگیا اور اس دوران رفع حاجت کے لئے میں شدید پریشانی اور غصے میں ایک غسلخانے میں داخل ہوا۔ واپسی میں دروازے سے باہر آتے ہوئے ایک خاتون سے مڈبھیڑ ہوئی۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ مردانہ ہے۔ خاتون کچھ جھجکی اور وہاں سے پلٹ گئیں۔ میں نے کچھ آگے جاکر یونہی مڑ کر دیکھا تو وہ ‘ زنانہ’ غسلخانہ تھا۔۔ اب میری کوشش تھی کہ جلد از جلد اس جگہ سے دور ہوجاؤں مبادا کوئی اونچی ہیل کی سینڈل حرکت میں نہ آجائے۔
ایک اور ایسا ہی مزے کا قصہ ہے لیکن ہم بات دیواروں پر لکھنے کی کررہے ہیں۔

دیواروں پر لکھی بہت سی باتیں قابل فہم نہیں بھی ہوتی ہیں ۔۔جیسے کہ جگہ جگہ شرطیہ مردانہ کمزوری کا علاج کرنے والے بنگالی بابا، حکیم، ہومیوپیتھک  ڈاکٹر، سانڈے کے تیل والے پروفیسر، جرمن انڈونیشی، یونانی اور چینی طریقوں سے علاج کرنے والے، وغیرہ وغیرہ۔۔لیکن ذرا بڑھتی ہوئی بے ہنگم آبادی پر نظر ڈالیں ، کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ اس قوم میں ایک بھی ایسا شخص ہے جسے کوئی مردانہ کمزور ی لاحق ہے۔

اگر کوئی محقق چاہے تو دیواروں  پر  لکھے نعروں کی مدد سے پوری سیاسی تاریخ مرتب کرسکتا ہے۔ جام ساقی، حبیب جالب اور معراج محمد خان کے قبیل کے سیاستدانوں کو میں نے جلسہ گاہوں میں کم اور دیواروں پر زیادہ دیکھا جہاں ان کی رہائی کے مطالبے درج ہوتے تھے۔

میں چار سال بہادر آباد میں رہا۔ وہاں ایک صاحب نے اپنے بنگلے کے  باہر کی دیواروں پر تازہ تازہ سفیدی کروائی تھی کہ اگلے دن وہاں خط شکستہ میں لکھا نظر آیا ” معراج محمد خان کو رہا کرو” ۔۔دل جلے مکان مالک نے وہاں لکھوا دیا ” معراج محمد خان یہاں بند نہیں ہے سالو!
سیاسی مذہبی جماعتیں بھی ان دیواروں کے  ذریعے قوم کی سیاسی تربیت کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتیں۔۔ ‘ چلو چلو نشتر پارک چلو!اس جمعہ حضرت میر جعفر کا تاریخی خطاب۔۔۔ آیا آیا قاضی آیا’ اسلام زندہ باد، فلاں کافر ہے، فلاں کو رہا کردو، فلاں کو پھانسی دو!

اور یہ ‘فلاں ‘ ضروری نہیں کہ پاکستانی ہو۔یہ دنیا کے کسی بھی ملک کا ہوسکتا ہے اور ہمارے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کاقوی خیال ہے کہ ان نعروں سے امریکہ، اسرائیل اور بھارت جیسے کافروں کے ایوانوں کے کنگورے ہل جائیں گے۔
سائٹ ایریا کی ایک تنگ سی گلی کے بعد ایک جگہ ایک کچرا کنڈی پر جہاں برائے اتمام حجت ایک کچرے کا ڈرم دھرا تھا جس کے چاروں طرف کچرا تھا ۔ُاس ڈرم پر جلی حرفوں میں کسی کاتب نے لکھا تھ” امریکی کتّو!! عراق سے نکل جاؤ! ۔۔
اگر امریکی کتّا واشنگٹن ڈی سی کراچی آکر سائٹ ایریا کی اس تنگ گلی کے اختتام پر اس کچرا کنڈلی تک پہنچ جائے تو یقیناً پہلی فرصت میں عراق خالی کردے گا کہ ایسی ذلیل جگہ نام آنے پر امریکہ کو ڈوب مرجانا چاہیے۔

آپ نے وہ شاہکار تحریر ضرور دیکھی ہوگی جہاں لکھا ہے ” پاکستان کا مطلب کیا؟۔۔۔ حسینہ بیوٹی پارلر۔۔۔دیواروں پر تو خیر دنیا بھر میں لکھا جاتا ہے لیکن جو خیال آرائی اور معنی آفرینی اپنے ہاں پائی جاتی ہے اس کا ساری دنیا میں کوئی جوڑ نہیں۔ ایک ہی دیوار پر لکھا ہوگا ” گنجے پن کا شرطیہ علاج” ساتھ ہی کسی ” بالصفا پاؤڈر” کا اشتہار ہوگا۔ گویا ایک کی حسرت تو دوسرے کی مصیبت ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ اسی طرح بھانت بھانت کی ہدایات اور وارننگ بھی ان دیواروں کی زینت بنتی ہیں۔

صدر کی اس دیوار پر لکھا ہے” حدود نظامت بلدیہ کراچی میں ہارن بجانا منع ہے” عین اس دیوار کے ساتھ کھڑی بس پر لکھا ہے ” ہارن دے کر پاس کرو” اس سے آگے ایک ٹرک گزر رہا ہے جس کے پیچھے لکھا ہے ” پاس کر یا برداشت کر” ۔
بسوں اور ٹرکوں پر جو اشعار ، اقوال اور ہدایات لکھی ہوتی ہیں اس پر تو ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے لیکن آج صرف دیواروں کی ہی بات کرتے ہیں۔ ہاں ایک چھوٹی سی بات یاد آئی۔ اکثر رکشہ اور ٹیکسیوں پر لکھا ہوتا ہے ” ماں کی دعا” ۔۔اور میں اس ماں کو تصور میں لانے کی کوشش کرتا ہوں جو اپنے لاڈلے کو گود میں کھلاتے ہوئے دعا کررہی ہو کہ رہّا! میرے پتر نوں رکشہ ڈرائیور بنائیو۔

دیواروں پر لکھے کسی کسی اشتہار میں کچھ اس طرح کی وارننگ ہوتی ہے۔۔” یہاں پیشاب کرنے والا یاد رکھے۔۔۔کوئی دیکھے یا نہ دیکھے۔۔شبّیر تو دیکھے گا۔۔۔بحکم شّبیر
یا پھر ہوٹلوں میں ” ادھار مانگ کر شرمندہ نہ ہوں ” ایک ٹکی یا پانچ روپے کے پکوڑے کے  ساتھ چٹنی نہیں ملے گی”۔ میرے گھر کے پاس کراچی کی ایک بہت بڑی مسجد ہے کس کی پوری دیوار پر احادیث اور اقوال زریں لکھے ہیں۔۔اور ایک جگہ لکھا ہے ” مسجد کی دیوار پر لکھنا غیر قانونی ہے” ۔

کون کہتا ہے کہ میرے ملک میں پڑھے لکھے لوگ نہیں۔۔پڑھے ہوئے تو نہ جانے کتنے ہیں لیکن لکھے ہوئے تو ان گنت ہیں۔ اور آدمی ہمارا کوئی دم تحریر نہیں کہ ہم نے کبھی کسی کو لکھتے ہوئے نہیں دیکھا یہ ضرور بالضرور کسی ہوائی مخلوق کا لکھا نظر آتا ہے۔۔تب ہی تو ایسی الہامی تحریروں وجود میں آتی ہیں۔

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *