میدان عرفات، مجاہد مرزا

آج حجاج میدان عرفات میں ہیں، تو آئیے میدان عرفات چلتے ہیں دعائیں منظور کرانے کی خاطر!

اگلے روز گرمی زیادہ تھی اس لیے مجھے ناپسندیدہ جگہ پر نہانا ہی پڑا تھا۔ نماز ظہر سے پہلے بسیں آ گئی تھیں اور ہم تلبیہ کہتے ہوئے جانب عرفات روانہ ہو گئے تھے۔ میں نے چونکہ تصویروں میں ایک پہاڑی ہی دیکھی ہوئی تھی جس کے اوپر ایک ستون دکھائی دیتا ہے اور جس کے پتھروں پر احرام میں ملبوس لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے چنانچہ میرا خیال تھا کہ ہم وہیں جائیں گے۔ درحقیقت عرفات ایک پوری وادی کا نام ہے اور جو پہاڑی تصویروں میں دیکھی تھی اس کو “جبل رحمہ” کہتے ہیں۔ ہم جہاں لے جائے گئے تھے وہ پتھروں کی سلیبس سے بنے ایک چوڑے راستے کے ایک جانب شروع کا حصہ تھا۔ جس کے اندر قالین بچھے ہوئے تھے۔ قناتیں تنی ہوئی تھیں اور سائبان تھے۔ تھوڑی سی دور ایک تاروں کی باڑ تھی جس کے اس جانب ایک سڑک تھی اور سڑک کی دوسری طرف ایک ہورڈنگ پہ انگریزی اور عربی میں تحریر تھا “عرفات یہاں تمام ہوتا ہے”۔ یہ ایک اتفاق تھا کہ منٰی میں جہاں ہمارے خیمے تھے اس کے باہر بھی اسی طرح کے ایک ہورڈنگ پہ درج تھا، “منٰی یہاں تمام ہوتا ہے”۔ درمیان والے راستے پر بیسیوں کولر رکھے ہوئے تھے جن میں لوگ برف ڈال رہے تھے۔ ہم جب سائبان تلے پہنچے تھے تو رشیت حضرت اور کچھ اور لوگوں نے پانی کی بوتلیں اور ٹھنڈے جوس کے ڈبے لا کر ہم سب کو دیے تھے۔ ہمیں غروب آفتاب تک یہاں قیام کرنا تھا۔ نماز کے علاوہ دعائیں مانگنی تھیں۔ پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد نماز ظہر باجماعت پڑھی تھی۔ اس کے بعد کچھ لوگ استراحت کی خاطر لیٹ گئے تھے۔ یہاں خدماتی انجمنوں نے اچھے انتظامات کیے ہوئے تھے۔ سڑک پہ رکھے کولروں میں مینگو، گوآوا یعنی امرود اور ملٹی فروٹ جوس کے ڈبے اور پانی کی بوتلیں تھیں، جہاں سے جا کر کوئی بھی لے سکتا تھا۔ کھانے کے سامان کے ڈبے بھی بانٹے گئے تھے، جن میں پھل اور کیک وغیرہ تھے۔

اس اثناء میں ایک بوڑھا شخص احرام باندھے اور لاٹھی پکڑے داخل ہو کر بھیک مانگنے لگا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ بھیک اردو زبان میں مانگ رہا تھا جب کہ ان سب لوگوں میں اس زبان کو سمجھنے والا میں تھا یا کسی حد تک جمشید صافی۔ یہ فقیر ظاہر ہے پاکستانی ہی تھا۔ احرام باندھنے کا مطلب تھا کہ وہ میدان عرفات میں حاجی کی حیثیت سے داخل ہوا ہے۔ مجھے یہ روپ بہروپ دیکھ کر تکلیف ہوئی تھی اور باقی لوگوں سے شرمندگی کیونکہ ایک دو افراد نے یہی کہا تھا کہ اپنے ہم وطن کو آواز دے کر بلاؤ تاکہ ہم اسے خیرات دیں۔

تھوڑی دیر کے بعد بارہ ترہ سال کے ایک بچے کو ہمراہ لیے احرام باندھے ہوئے تیس بتیس سال کا ایک اور جوان اور ہٹا کٹا پاکستانی فقیر داخل ہوا تھا۔ یہ فنکاری میں پہلے “باباجی فقیر” سے کہیں آگے تھا۔ یہ ‘قال قال یا رسول اللہ‘ کہہ کر کر عربی زبان میں شاید احادیث سنا کر ہاتھ پھیلا رہا تھا۔ کسی سوالی کو دھتکارنے کی اسلام میں اجازت نہیں ہے اور دوران حج تو ویسے ہی صبر کی تلقین ہے اس لیے باوجود شدید رنج کے اسے کچھ کہنے کی بجائے خاموش ہی رہا تھا لیکن دل میں بہت رنج تھا کہ ہمارے لوگ کہاں کہاں اپنے ملک کا نام “روشن” نہیں کر رہے۔
جس نے عرفات میں قیام نہ کیا اس کا حج نہ ہوا” (حدیث) خدائے لم یزل کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ عرفات میں قیام رہا۔ کولروں میں برف ڈالنے اور محنت کے دیگر کام کرنے والے نوجوان سندھ کے دیہاتوں سے تھے۔ میں نے جاتے ہی جبل الرحمۃ پہنچنے کا طریقہ اور فاصلہ ان سے پوچھ لیا تھا پھر ایک دو افراد کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ چلو وہاں ہو آتے ہیں، ہم ڈیڑھ نہیں تو دو گھنٹوں میں لوٹ ہی آئیں گے لیکن کسی کا دل نہ بندھا تھا۔ میں بھی یہ سوچ کر چپ ہو رہا تھا کہ سندھی سرائیکی دیہاتیوں کا کیا ہے۔ ان سے فاصلہ پوچھو تو وہ ڈیجیٹل ٹکنالوجی کے عہد میں بھی یہی کہیں گے کہ “لیلے باک” ہے یعنی جہاں تک مینڈھے یا بکرے کی آواز پہنچتی ہے۔ جب اس لیلے باک پہ چلنا شروع کرو تو وہ نزدیک دکھائی دینے والے بہت دور واقع پہاڑ تک کا فاصلہ ثابت ہوتا ہے۔

جہاں میدان عرفات کے ختم ہونے کا بورڈ لگا ہوا تھا وادی اس سے کہیں دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ میں نے نزدیک سائبان کو سہارنے والے ایک بانس کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے عارف شامی سے پوچھا تھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا کہ جغرافیائی طور پر یہیں ختم ہوتی ہوگی۔ وادی دو پہاڑوں یا پہاڑی سلسلوں کے درمیاں مسطح زمین کو کہا جاتا ہے، میں نے اسے بتایا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے کسی سے پوچھ کر بتایا تھا کہ آگے کے حصے میں وادی کا نام اور ہے۔ میرے لیے یہ نئی بات تھی کہ ایک ہی وادی کے دو یا زیادہ نام بھی ہو سکتے ہیں۔ کیا معلوم عرب قبیلوں نے کسی دور میں وادی کو آپس میں تقسیم کر لیا ہو اور اس حصے کا علیحدہ نام رکھ دیا ہو۔

میدان عرفات میں قیام کے دوران دعائیں کی جاتی ہیں۔ نماز عصر کے تھوڑی دیر بعد ایک صاحب نے دعا کروانا شروع کی تھی۔ ہم آٹھ دس افراد ان کی دعا میں شامل ہو گئے تھے۔ وہ اللہ کے ننانوے اسماء میں سے کچھ نام بار بار پکارتے تھے۔ انکا لہجہ عربوں کا سا تھا بعض اوقات ان پہ رقّت بھی طاری ہو جاتی تھی۔ ان کے ساتھ دو ایک اور افراد بھی گریاں باری کرنے لگتے تھے۔ وہ جب اللہ کا ایک نام “یا غوثا، یا غوثا” کہہ کر پکارتے تھے تو مجھے اپنے ایک پرانے دوست کی یاد آتی تھی۔ جس کا نام محمد غوث تھا اور اسے ہم غوثا کہا کرتے تھے۔ پتہ نہیں اب غوثا کہاں ہوگا؟ دعا کروانے والے صاحب کا نام مولانا سعید مشہدی تھا۔ وہ شام کے رہنے والے تھے اورایک عرصے سے ماسکو میں مقیم ہیں۔ یہیں بیاہ کیا ہے۔ مجھے یاد آگیا تھا کہ کوئی سات آٹھ برس پیشتر میں اور میرا ایک دوست جوّاد ستائیس رمضان المبارک کی رات شب بیداری کی خاطر ماسکو کی جامع مسجد میں گئے تھے اور یہی مولانا سعید تھے، جنہوں نے ہمیں ساری رات مختلف طرح کی نمازیں اور نفلیں باجماعت پڑھائی تھیں اور صبح کی سنتیں ادا کرنے کے بعد جب بڑے امام کو آنے میں دیر تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ “سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم” ایک سو مرتبہ پڑھو ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی سنتوں کے بعد یہی پڑھا کرتے تھے۔ تب سے آج تک میں ایسا ہی کرتا چلا آ رہا ہوں۔ اب ان سے براہ راست شناسائی ہو گئی تھی۔

عرفات کا یہ قیام باوجود اس کے کہ موسم زیادہ خوشگوار نہیں تھا بلکہ بعض اوقات سائبان کی ریخوں سے چھنتی سورج کی کرنوں کی حدت بھی محسوس ہوتی تھی، بہت بھلا اور تسکین آور تھا۔ ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ حج کی تکمیل بارے تسلی ہو رہی تھی اور دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ممکن ہے اللہ تعالٰی میرے قلب کو پرسکون کر رہا ہو۔ ہمیں سورج غروب ہونے سے پہلے یہاں سے نکلنا تھا۔ بسیں آ گئی تھیں اور ہم جو سب سے پہلے جانے کے لیے اٹھے تھے ایک بار پھر کمپنی “سلوٹس” کے اہلکاروں کی نا اہلی کے باعث سب سے آخر میں بس میں سوار ہو کر مزدلفہ کے لیے روانہ ہو سکے تھے۔

مزدلفہ میں پہاڑیوں کی تلہٹی کے نزدیک مسطح قطعات میں ماسوائے باتھ رومز کے اور کوئی سہولت نہیں تھی۔ وہاں پہنچ کر سب سے پہلے ہم نے مغرب اور عشاء کے فرض باجماعت ادا کیے تھے۔ ہمارا گروہ مولانا رشیت کی امامت میں خواتین کے باتھ رومز کی عمارت کے گرد بنے چبوترے پہ نماز پڑھ رہا تھا، جب کہ میدان میں بہت زیادہ لوگ کسی اور امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ مجھے میرے ساتھ کمرے میں رہنے والے ماگومید نے کہا تھا کہ یہیں چبوترے پہ سو جاتے ہیں لیکن میں نے انکار کر دیا تھا کیونکہ تھوڑی ہی دور باتھ رومز کے عقبی روشندان واقع تھے۔

یہ تو شکر ہوا کہ میں نے منٰی کی دکانوں سے چین میں بنی پلاسٹک کی ایک صف خرید لی تھی، جو سکول کے بستے کی مانند تہہ ہو جاتی تھی ورنہ آج کنکروں پہ لیٹنا پڑ جاتا۔ احرام ویسے ہی میلا ہونے لگا تھا۔ میں نے تو نماز سے پہلے ہی میدان میں جا کر اغیار کے ساتھ اپنی صف سیدھی کر دی تھی۔ نماز کے بعد اس پہ جا بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک جانب سے قربان بھی آ نکلا تھا۔ قربان وہ نوجوان تھا جو مکہ پہنچتے ہی دوسرے روز عمرے کی خاطر کیے گئے طواف میں مولانا رشید کے کندھے پہ ہاتھ رکھے رمل کر رہا تھا اور جس کی اہلیہ آنسو بہا رہی تھی۔ منٰی کے خیمے میں اس کا بستر میرے ساتھ تھا اس لیے اس سے یاداللہ ہو گئی تھی۔ اس کی بیوی کا نام عنائقہ تھا جو بہت خوش پوش اور سنجیدہ لڑکی تھی۔ قربان مجھ سے بیوی کے گلے کرکے اپنی بھڑاس نکال لیتا تھا۔ قربان نے بھی ساتھ ہی صف بچھا لی تھی۔ مردوں سے بیس پچیس گز کے فاصلے پر عورتوں نے سونے کے لیے میدان سنبھالا ہوا تھا جہاں رونق تھی۔ ہمیں صبح “بڑے شیطان” کو مارنے کی خاطر یہاں سے کنکر چننے تھے۔

مجموعی طور پہ ستّر کنکر چننے تھے تاکہ آئندہ دنوں میں جمرات صغیرہ، جمرات وسطٰی اور جمرات کبیرہ پہ سات سات کنکر روز برسائے جا سکیں۔ میں اور قربان کنکر چننے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ ایک بہت بلند کھنبے پر چار سرچ لائٹسں جگمگا رہی تھیں اس لیے ہر طرف روشنی تھی۔ ایک نہر نما گہرائی میں اتر کر میں نے کچھ ہی دیر میں ستّر بہتر کنکر بوتل میں جمع کر لیے تھے۔ بوتل صف کے پاس رکھی تھی اور دور وضو کی تونٹی سے ہاتھ دھو کر صف پہ آ بیٹھا تھا۔ قربان بھی پہنج گیا تھا۔ ہم نے عرفات میں ملی کھانے کی چیزیں، رات کے کھانے کے طور پر کھائی تھیں۔ چائے کی بہت طلب ہو رہی تھی لیکن گرم پانی میسّر نہیں تھا۔ اتنے میں عنائقہ بھی آ کر کھڑی ہو کر قربان سے باتیں کرنے لگی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ قربان عورتوں کی جانب گرم پانی ہوگا۔ قربان نے کہا تھا کہ عورتیں تو ہر جگہ ہر چیز کا اہتمام کر لیتی ہیں۔ یہ کہہ کر وہ عنائقہ کے ہمراہ میرے لیے ابلا ہوا پانی لینے عورتوں کے جھنڈ کی جانب چلا گیا تھا۔ کوئی آدھے گھنٹے بعد لوٹا تھا لیکن خالی ہاتھ۔ اس کا کہنا تھا کہ وہاں گرم پانی لینے کے لیے عورتوں کا اس قدر ہجوم ہے کہ باری آتی نہیں لگتی۔ صبر کرنا پڑا تھا۔

روشنی اس قدر تھی کہ سونا ممکن نہیں تھا۔ پھر ہر کروٹ پہ صف کے نیچے چھپا کوئی کنکر چبھ جاتا تھا جسے نکالنا پڑتا۔ میں نے قربان کو تجویز دی تھی کہ چلو قربان پہاڑی پہ چڑھتے ہیں اور اس کے عقب میں جا کر کہیں سوتے ہیں جہاں اس قدر روشنی نہ ہو۔ وہ جب باتیں کرتا تھا تو بہت معصوم لگتا تھا۔ بولا وہاں تو زہریلے سانپ بھی ہو سکتے ہیں۔ بھائی سانپ تو یہاں بھی ہو سکتے ہیں۔ بولا کہ ہم تک پہنچتے پہنچتے ہم سے پہلے لیٹے لوگوں کو کاٹ کر سانپ کا زہر ختم ہو چکا ہوگا۔ مجھے ہنسی آ گئی تھی۔ لوگوں کی اکثریت سو گئی تھی۔ کچھ کروٹیں بدل رہے تھے۔ میری طرح چند ایک اور بھی بے چین افراد تھے جو کبھی لیٹ جاتے اور کبھی اٹھ بیٹھتے۔ بالآخر آنکھ لگ گئی تھی۔ فجر کے لیے بلند ہوئے تھے اور سورج طلوع ہونے کے بعد بسیں آنا شروع ہو گئی تھیں۔ قطاروں میں لگ کر بسوں میں سوار ہوئے تھے اور ایک بار پھر منٰی پہنچ گئے تھے۔

مجاہد مرزا
مجاہد مرزا
ڈاکٹر مجاہد مرزا معروف مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ وائس آف رشیا اور روس کی بین الاقوامی اطلاعاتی ایجنسی "سپتنک" سے وابستہ رہے۔ سماج اور تاریخ آپکے پسندیدہ موضوع ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *