اے فراز اے فراز۔۔۔رفعت علوی/قسط 1

اور میرے ہاتھ کے طوطے اڑ گئے!
“رفعت بھائی انھوں نےلفافہ ہمارے منہ پہ مار دیا” اور کہا کہ ” یہ پیسے چیریٹی میں دیدو” انتظامیہ کے ایک رکن نےنہایت ناخوشگوار لہجے میں مجھے اطلاع دی۔۔
لیکن  ذرا ٹھہریں، میں نے بھی کہاں درمیاں سے یہ داستاں چھیڑ دی، یہ طوطے کا قصہ اور چیریٹی کی باتیں تو بہت بعد کا واقعہ ہے۔

ہوا یوں کہ ہم اک مشاعرہ کر رہے تھے مہمان شعراء میں جہاں دلاور فگار، صہبااختر ، جمیل الدین عالی اور تابش دہلوی صاحب جیسے جید شعراء شامل تھے وہیں “سید احمد شاہ” بھی مدعو کیے گئے تھے۔
یہ شاہ صاحب نام کا شاعرکوئی غیر نہیں تھا، اردو شاعری میں رومان اور مزاحمت کا شاعر ، ٹین ایجرز کی آنکھوں کا تارا، مصحف رخ سے وصل و فراق کی فال نکالنے والا خوبصورت جذبوں کا خالق “احمد فراز” تھا جی ہاں اپنے پیارے فراز صاحب۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ فراز کی نئی کتاب “نایافت” ابھی ابھی بازار میں آئی تھی اور یونیورسٹی کے کئی دوست تو فیشن میں اور کچھ لڑکے “فراز پرستی” میں اس کتاب کو اپنے ساتھ لئے پھرتے تھے۔آرٹس ڈیپارٹمنٹ کے طویل  برآمدوں  میں کھڑے کھڑے دنیا جہاں  کی باتیں بھی ہوتیں ،سیاست ادب اور حالات حاضرہ پر بحثیں بھی ہوتیں، شعر بھی پڑھے جاتے اور اگر کوئی لڑکی قریب سے گزرنے لگتی تو کوئی شریر لڑکا بلند آواز میں” اب کے ہم  بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملے” گنگنانے لگتا۔
غرض کہ فراز کا جادو تھا کہ سر چڑھ کے بول رہا  تھا۔ وہ نوجوان نسل کا پسندیدہ شاعر تھا، لڑکیوں کا محبوب تھا، وہ کالجوں کی لیکچرار اور اسکولوں کی لیڈی ٹیچرز میں یکساں مقبول تھا۔ مہدی حسن کی گائی ہوئی فراز کی غزلیں گھر گھر مقبولیت کے نئے نئے ریکارڈ بنا رہی تھیں۔

ایسے ماحول میں اک دن میری ملاقات سلو بھائی سے ہوئی۔ سلو بھائی ہمارے خاندان کے سب لڑکوں سے عمر میں بڑے تھے اور دانشور سمجھے جاتے تھے۔ شاعری ادب حالات حاضرہ اور سیاست پر انکی معلومات بہت وسیع تھیں۔۔۔
باتوں باتوں میں فراز پر بات چل نکلی تو انھوں نے اپنا اسٹیٹ فارورڈ کمنٹ دیا۔۔
“اسکے کریڈٹ پہ صرف دو غزلیں ہیں رفعت، میں تو اس کو بڑا شاعر نہیں  مانتا”۔
“کوئی وجہ بھی تو ہو” میں جذب ہو کر بولا۔
“اس نے اپنی دو غزلوں   کے علاوہ اب تک کہا ہی کیا ہے”
میں نے اپنی پشت پر چھپائی ہوئی “نایافت” ان کے زانوں پہ رکھی اور ان سے اجازت چاہی۔۔
ہمارے سلو بھائی(سلمان علوی سابق چیف انجینئر نیشنل شپنگ) آجکل دوبئی میں ہی قیام پذیر ہیں کسی دن ان سے ملاقات ہوئی تو اب فراز کے بارے میں ان کی رائے پوچھوں گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں دوبئی ائرپورٹ  ذرا تاخیر سے پہنچا۔۔ جہاز لینڈ کر چکا تھا، مہمان شعراء باہر آکر منتظمین کے گھیرے میں تھے، گلدستے پیش کیے  جا رہے  تھے، تصاویر بنوائی جا رہی تھیں اور میرے سارے دوست بہت پرجوش تھے۔
“کیا فراز صاحب نہیں  آئے؟” میں نے ادھر ادھر دیکھ کر استقبالیہ کمیٹی کے دوستوں سے پوچھا
آئے بھی وہ اور گئے بھی وہ، ایک دوست نے اطلاع دی
کیا مطلب؟ میں نے تفصیل جاننا چاہی
یار ان کے کوئی دوست آئے تھے وہ ان کو اپنے ساتھ لے گئے
پھر۔۔۔۔اب ان کو آتا پتا کیسے چلے گا
پھر کیا! وہ ہوٹل میں نہیں ٹھہریں گے اپنے دوست کے گھر میں ہی انکا قیام و طعام رہے  گا۔ ایک ٹیلی فون نمبر دے گئے ہیں، ہماری استقبالیہ ٹیم کے انچارج فراز صاحب کے اس attitude  سے کافی خفا نظر آتے تھے..
میں نے ان کو فراز صاحب کا مرتبہ اور انکے ذاتی مشاغل یاد دلائے مگر ساری ٹیم ممبران فراز کے غیر دوستانہ رویئے پہ سخت ناخوش تھے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی شب مہمان شعراء کے اعزاز میں میں نے اپنے غریب خانے پہ ویلکم ڈنر کا انعقاد کیا تھا ، ائیرپورٹ پر  ہی سارے مہمان شعراء کو تین دن کے پروگرام کا سارا لکھا  ہوا شیڈول تقسیم کردیا گیا تھا اس میں خاص طور پہ واضح کیا گیا تھا کہ شعراء اپنی ذاتی سرگرمیوں کے سلسلے میں  آزاد ہیں سوائے ان اوقات کے جو شیڈول میں درج ہیں۔
سارے مہمان آ چکے تھے محفل میں شریک احباب میں ایک “تھرل”سا تھا، خواتین خاص طور پہ فراز صاحب کی آمد  کی منتظر تھیں۔۔ جب تاخیر زیادہ ہو ئی اور بھوکے مہمانوں میں بے چینی بڑھنے لگی تو میں نے فراز صاحب کے ان دوست کا ٹیلی فون  نمبر ملایا جو ان کو ائیرپورٹ پر لینے آئے تھے۔۔۔

جاری ہے!

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *