گر تو بُر ا نہ مانے/جن سے منصفی چاہیں۔۔۔۔۔شکور پٹھان

میں اور آپ مزے سے زندگی گزارتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ زندگی کی بساط پر لوڈو کھیل رہے ہوتے ہیں، دانے پھینکتے ہیں اور گوٹیں آگے پیچھے بڑھاتے ہیں کہ کہیں کوئی نزاعی کیفیت آ پڑتی ہے۔ کھیل کے قاعدے قانون پر بحث ہوتی ہے لیکن کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچتے۔ ایسے میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے ڈبے پر باریک حرفوں میں لکھی شرائط وضوابط حرف بہ حرف پڑھے ہوتے ہیں وہ ہوتے ہیں جو اس جھگڑے کا حل بتاتے ہیں۔

اللہ کی یہ نیک اور برگزیدہ ہستیاں جو ہمیں اس ظالم دنیا میں انصاف دلاتی ہیں۔ عرف عام میں انہیں وکیل کہا جاتا ہے لیکن ہم احتیاطا ًانہیں قانون دان بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن برا ہو اس مطلبی دنیا کا جو ان بندگان خدا کے بارے میں عجیب بے پر کی اڑاتے رہتے ہیں۔ خود ان ہی کی برادری کا ایک آدمی جس کا نام اکبر الہ آبادی تھا ، کہہ گیا کہ جس روز وہ یعنی وکیل پیدا ہوا تو شیطان نے کہا کہ لو آج میں بھی صاحب اولاد ہوگیا۔ حالانکہ جس نے اس خوشی کا اظہار کیا اس کا نام کبھی عزازیل ہوا کرتا تھا اور آدم کی تخلیق سے قبل اس نے کائنات کے چپے چپے پر عبادت کی ہوئی تھی۔ وہ تو ایک غلطی کی بناء پر راندہ درگاہ ہوا، اور غلطی کس سے نہیں ہوتی۔

اور پھر یہ کہ اگر دنیا میں بُرے لوگ نہ ہوتے اور برائی بھی نہ ہوتی تو بھلا وکیل بھی کیوں ہوتے۔ اس کا یہ مطلب تو نہیں کی وکیلوں اور برائی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ حاسدوں نے ان نیک لوگوں کے بارے میں نجانے کیا کچھ بے پر کی اُڑائی ہوئی ہے۔یہ بہت زیادتی ہے کہ ان کے بارے میں تمام جھوٹی اور غلط باتوں کو سچ مان لیا جائے، ان میں سے بہت سی باتیں غلط بھی ہوتی ہیں۔ لیکن اچھے برے لوگ کہاں نہیں ہوتے، وکالت بہت اعلا پیشہ ہے لیکن کم بخت ننانوے فیصد نے بقیہ سب کو بدنام کیا ہوا ہے۔
یہ تو بے چارے وہ ہوتے ہیں کہ ہماری مدد کے لیے آخری حد تک چلے جاتے ہیں ، حتٰی کہ بعض اوقات انہیں سچ بھی بولنا پڑجاتا ہے۔ وکیل کا کمال یہ ہے کہ عدالت کو مطمئن نہ کرسکے تو مشتبہ ضرور کردے۔ اللہ نے اس پیشے میں کچھ ایسی برکت ڈالی ہے کہ مقدمہ کوئی بھی فریق جیتے، دونوں جانب کے وکیل نہیں ہارتے، انہیں اپنی حق حلال کی محنت کی پوری فیس ملتی ہے۔

یہ قانون دان کو زے کو دریا میں بند کرنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ بعضے کم عقل دوسروں کو لکھ پتی سے کروڑ پتی اور کروڑ پتی سے ارب، کھرب پتی ہوتے دیکھ کر حیران ہوتے ہیں حالانکہ اس حیران ہونے کی ایسی کوئی بات نہیں۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے وکیلوں کو کروڑ پتی کو لکھ پتی بناتے کئی بار دیکھا ہے۔

ایسے ہی وکیلوں کا کمال ہوتا ہے کہ جس مقدمہ کا فریقین کی بے وقوفی سے باہمی بات چیت سے منٹو ں میں فیصلہ ہوسکتا ہے اسے مناسب تاریخیں ڈلوا کر مقدمے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر کئی پیشیوں کے بعد انجام تک پہنچاتے ہیں لیکن کچھ اناڑی اور” نوسیکھیے” ان باتوں کو نہیں سمجھتے۔

مثلاً ہمارے ایک دوست کا لائق بیٹا اپنے ابا کو دیکھ کر وکیل بن گیا اور اپنے پہلے ہی مقدمے میں ناچتا لہراتا گھر آیا ۔ اپنے لائق فرزند کو دیکھ کر گھر والے بہت خوش ہوئے۔ پوچھا کہ بیٹا کیا کارنامہ انجام دے آئے ہو۔
“ ابا وہ مقدمہ جو آپ دس سال سے لڑ رہے تھے، میں نے آج پہلی ہی پیشی میں اس کا فیصلہ کروا دیا” بیٹا خوشی سے جھومتے ہوئے تفصیل بتانا ہی چاہتا تھا کہ ،تڑاک ، کی آواز آئی۔ یہ وہ تھپڑ تھا جو ابا جی نے اپنے لال کے منہ پر جڑا تھا۔
“ ابے کم بخت اسی مقدمے سے تو میں نے تجھے وکیل بنایا، گھر کا دانا پانی اسی سے پورا ہورہا تھا۔ گدھا کہیں کا۔”

ایک اچھا وکیل وہ ہے جو آپ کو سچ پر یقین کرنا سکھاتا ہے ، لیکن اس سے بڑا وکیل وہ ہے جو جھوٹ پر بھی یقین لانے پر مجبور کردے۔ کسی عدالت سے اچھا فیصلہ تجربے کی بناء پر آتا ہے، اور تجربہ برے فیصلوں سے آتا ہے۔ جس طرح ماہرین طبیعات کسی تھیوری پر متفق نہیں ہوتے۔ جب بھی کوئی ماہر ایک خیال پیش کرتا ہے دوسرا فوراً اس کا رد کردیتا ہے، اسی طرح کوئی کتنی بھی اچھی بات اور کتنی بھی حقیقت پر مبنی ہو، دو مخالف وکیل کبھی اس ہر متفق نہیں ہوسکتے۔

یاد آیا کہ ایک بار کمرہ عدالت میں ایک گواہ کو حیران و پریشان دیکھ کر مہربان جج نے کہا کہ میاں کیا مسئلہ ہے؟ آپ کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں۔
“ جناب والا میں نے اس کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہوئے قسم کھائی تھی کہ سچ کہوں گا اور سچ کے سوا کچھ نہ کہوں گا۔ لیکن میں جیسے ہی سچ بولنے لگتا ہوں کوئی نہ کوئی وکیل اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور ٹوکنے لگتا ہے۔” گواہ رونی سی صورت بناتے ہوئے بولا۔
دراصل وکیلوں کی طاقت بھی قانون کے کمزور اور غیر یقینی ہونے میں ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ وکیل کا کام قانون کی گنجائش کے مطابق اپنے موکل کے لئے آسانی پیدا کرنا ہے۔ اچھا وکیل قانون اور اس میں ہونے والے تبدیلیوں سے واقفیت رکھتا ہے، لیکن کامیاب وکیل قانون کے علاوہ جج سے بھی واقفیت رکھتا ہے۔ کمزور وکیل چلا کر بولتا ہے، لیکن اس سے اس کی دلیل مضبوط نہیں ہوتی۔ ہمارے ملک پنجاب میں بہرحال وکیل اس پر یقین نہیں رکھتے، وہ نہ قانون پر یقین رکھتے ہیں نہ دلیل پر، وہ اپنی قوت بازو پر بھروسہ رکھتے ہیں اور فیصلہ حق میں نہ آئے تو جج کو ہی اٹھا لے جاتے ہیں۔

میرے بہت سے دوست وکیل ہیں، میں ان سے کم ہی بحث کرتا ہوں کہ ان میں سے کچھ کا حال اس جانور کی طرح ہوتا ہے جو کیچڑ میں کشتی لڑنے کا شوقین ہوتا ہے۔ جلد یا بدیر اندازہ ہوجاتا ہے کہ انہیں تو اس کشتی میں مزہ آرہا ہے۔ آپ ہتھیار ڈال دیں لیکن وہ اپنے وار جاری رکھیں گے۔

کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت ہوتی ہے ۔ اس میں یہ اضافہ کرلیں کہ ہر کامیاب عورت میں ایک وکیل ہوتی ہے۔ ۔ اگر کسی خاتون کے بارے میں کہا جائے کہ وہ خوبصورت، ذہین اور اسمارٹ ہے تو وہ یقیناً قانون داں ہوگی، چاہے پریکٹس نہ کرتی ہو۔ بہرحال یہ وہ مقام ہے جہاں مجھ جیسے کمزور مدعی کے پر جلتے ہیں کہ خاتون وکیل مرد وکیل سے زیادہ وکیل ہوتی ہے۔ میرے اس تھوڑے کہے کو بہت جانیں ۔ بس ایک مثل یاد آتی ہے کہ چت بھی میری پٹ بھی میری۔ اس لئے بحث سے اجتناب ہی بہتر ہے۔

وکیلوں سے بحث کرنا ہرگز مشکل نہیں، نہ بحث کرنا البتہ بہت مشکل ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ اپنے ڈاکٹر اور وکیل سے کبھی اپنی کوئی بات نہ چھپائیں۔ وہ آپ کے بارے میں وہ بات بھی جان جائیں گے جس کا آپ کو بھی علم نہ ہوگا۔اگر کبھی کوئی ایسی تحریر پڑھیں جسے بالکل نہ سمجھ سکیں تو جان جائیے کہ وہ کسی وکیل کی لکھی ہوگی ، جسے وہی سمجھ سکتا ہے اور سمجھا سکتا ہے۔ وکیل ، رنگ ساز کی مانند بھی ہوتا ہے کہ سفیدکو سیاہ کرنے کا کمال صرف رنگ ساز اور وکیل ہی کرسکتے ہیں۔

وکیل امن پسند اور قانون کے پابند لوگ ہوتے ہیں۔ سو بدمعاش پستول دکھا کر جتنا مال چھین سکتے ہیں، وکیل تنہا اپنے بریف کیس کی مدد سے اس سے زیادہ اکٹھا کرلیتا ہے، لوگ باگ بعض اوقات فیصلہ نہیں کرپاتے کہ حق کا ساتھ دینا ہے یا باطل کا۔ وکیل کا ذہن ہمیشہ یکسو ہوتا ہے، وہ صرف اپنے موکل کا ساتھ دیتا ہے اور اسے ہی حق ثابت کرسکتا ہے۔ وکیلوں کی ہمسائیگی سے البتہ گریز ہی بہتر ہے کہ وہ کچرا آپ کے گھر کے سامنے پھینک کر آپ کو ہی قصوروار بھی ثابت کرسکتا ہے کیونکہ وہ قاعدے قانون کی وہ بین السطور شقوں سے واقف ہوتا ہے جنہیں آپ ساری زندگی پڑھنے کی ہمت نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ کسی نے غلط اڑائی ہے کہ وہ جھوٹ کو سچ بناتا ہے اور یہ کہ Lawyer اور Liar میں فرق صرف املا کا ہوتا ہے۔ جی نہیں یہ اس کی اس صلاحیت کی بناء پر ہوتا ہے جہاں میں اور آپ ہار مان لیتے ہیں۔

قارئین شاید اس مضمون کو وکالت پڑھنے کی جانب مائل کرنے کا کوئی اشتہار سمجھ رہے ہوں۔ وہ اتنے غلط بھی نہیں۔ بھلا ایسا کون سا پیشہ ہوگا جس میں

گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں
فیس دونوں صورتوں میں کھری ۔۔

بہت سے دوستوں کو یہ گماں گذر رہا ہوگا کہ حسب معمول یہاں وہاں سے لطیفے جوڑ کر میں نے یہ سب کچھ لکھا ہے۔ میں ایسا کرنے کی جرات کبھی نہیں کرسکتا کہ کبھی بھی کسی مخلوط محفل میں جہاں وکیل اور غیر وکیل حاضرین میں شامل ہوں ، میں نے کبھی وکیلوں سے متعلق کوئی ہنسی مذاق کی بات کی تو وکیل دوستوں کو اس میں ہنسنے والی ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی۔ غیر وکیل دوستوں کو بھی نہیں نظر آئی۔ وہ ان باتوں کو سچ ہی سمجھتے ہیں۔

اللہ میرے وکیل دوستوں کو پھلتا پھولتا رکھے۔۔اور مجھے اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین

اپنے بہت پیارے وکیل دوستوں نجمہ نسیم اور انعام رانا کے نام۔۔جو نا صرف بہت اچھے وکیل بلکہ بہت اچھے انسان بھی ہیں۔

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *