لیاری۔۔۔ذوالفقار علی زلفی/قسط9

یحییٰ مارشل لا سراسر عوام کے ساتھ فراڈ تھاـ یحیی خان نے جلد انتخابات کرانے کا اعلان کیاـ عوامی لیگ، پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی (مولانا بھاشانی بیجنگ اور ولی خان ماسکو) سمیت تقریباً تمام دائیں و بائیں بازو کی جماعتوں نے اس اعلان کا خیر مقدم کر کے انقلابی ابال کو کم کرنے کی کامیاب کوشش کی ـ اگر اس وقت معروضی حالات کو درست موضوعیت میں ڈھالا جاتا تو شاید آج پاکستان کی تاریخ کچھ اور ہوتی ـ لیاری میں بھی موضوعی عنصر کی کمی کو شدت سے محسوس کیا گیاـ انقلابی موضوعیت کی عدم موجودگی اور نیپ کی مصلحت آمیز پالیسیوں کے باعث لیاری کی اکثریت نے بھٹو کو نجات دہندہ مان لیاـ

1970 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی نے ہارون خاندان کے دیرینہ رقیب گبول خاندان کے نوجوان چشم و چراغ عبدالستار گبول کو میدان میں اتاراـ نیپ کے بلوچ رہنماؤں کی مکمل توجہ بلوچستان پر مرکوز رہی انہوں نے لیاری کو بھٹو کے حوالے کردیاـ لینن گراڈ کے اراکین ایک دہائی سے لیاری میں جدوجہد کر رہے تھے انہوں نے بڑی محنت کر کے عوام کو منظم کیا تھاـ پارلیمانی سیاست کے ذریعے بلوچستان کے اقتدار میں حصہ وصول کرنے کی چاہت میں بلوچ رہنماؤں نے لیاری سے منہ پھیر لیا، یوں ان کی جدوجہد کا ثمر بھٹو لے اڑاـ نیپ کے بلوچ رہنماؤں کی کوتاہ فہمی اور انتظامی صوبہ بلوچستان کے اقتدار کو منزل مان لینے کی پالیسی نے لیاری میں بلوچ سیاست کے زریں اوراق گٹر میں بہا دیےـ

بلوچ لیگ کے ساتھ غداری، بی ایس او کی عاجلانہ تقسیم اور اب نیپ کی تنگ نظری نے لیاری سے بلوچ سیاست کا خاتمہ کردیاـ دانشورانہ سطح پر ادبی رشتے اور عوامی سطح پر ثقافتی رشتے برقرار رہے مگر سیاسی تعلق دھواں بن کر اُڑ گیاـ عوامی شعور نے پھر بھی بلوچستان کا دامن نہ چھوڑا لیکن انتخابی شعور نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بلوچستان کو خیر باد کہہ دیاـ اس کی تمام تر ذمہ داری بلوچستان کی بلوچ قیادت پر عائد ہوتی ہےـ

عبدالستار گبول، پیپلز پارٹی کے بانی رہنماؤں میں سے تھےـ ان کے والد خان بہادر اللہ بخش گبول کراچی کی سیاست میں نمایاں مقام رکھتے تھےـ بھٹو کا جوشیلا انداز اور گبول کی نیک نامی نے مل کر لیاری میں پیپلز پارٹی کو کامیاب کرادیاـ ویسے بھی پیپلزپارٹی کے سامنے کوئی مضبوط حریف نہ تھا، ایک نیپ ہی اس کو ٹکر دے سکتی تھی مگر نیپ کا مسئلہ کوئٹہ تھا، لیاری نہیں ـ نیپ کو مستقبل میں مصلحت آمیز اور سمجھوتہ باز سیاست کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑی ـ

انتخابات کے بعد بنگال میں خون ریز آپریشن ہوا جس کے نتیجے میں بنگال پاکستان سے علیحدہ ہوگیاـ بنگال کی علیحدگی نے پاکستانی لیفٹ کی کمر ہی توڑ دی ـ اس کے اثرات لیاری پر بھی مرتب ہوئےـ لیاری نے فٹبال اور ترقی پسند سیاست کے شعبوں میں اپنے بہترین دوست گنوا دیے ـ اب یہ بھٹو کا لیاری تھا ـ

بھٹو نے لیاری کو پیرس بنانے کا اعلان کرکے سندھ کابینہ کا اجلاس گبول پارک میں منعقد کروایا ـ وزرا سے علامتی جھاڑو بھی لگوایا گیا ـ اس زمانے میں بہت کم گھروں میں ٹی وی ہوتے تھے، ریڈیو ہی باہر کی دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ تھا ـ بھٹو نے گبول پارک میں ٹی وی نصب کرکے ہر خاص و عام کو ٹی وی تک رسائی دے دی ـ

گزشتہ سطور میں ذکر کیا جاچکا ہے کہ لیاری میں گھر چھن جانے کا خوف بدرجہِ اتم موجود تھاـ بھٹو نے اپنے وعدے پر عمل کر کے لیاری کے تمام گھروں کو لیز کروانے کا حکم دیاـ اس حکم نے لیاری بھر میں خوشی کی لہر دوڑا دی ـ تاریخ میں پہلی دفعہ لیاری کے مکین سرکاری طور پر اپنے گھروں کے مالک بن گئے ـ بھٹو نے یہاں پر بس نہ کیاـ انہوں نے سائنس کالج اور جنرل ہسپتال کی نہ صرف منظوری دی بلکہ وہ تعمیر بھی کر کے دکھا دیے ـ

عبدالستار گبول کو مرکز میں وزارتِ محنت و افرادی قوت کا قلمدان دیا گیاـ گبول، لیاری کے غریب علاقے کلاکوٹ میں گبول پارک کے بالمقابل رہتے تھےـ وفاقی وزیر سے ہر کس و ناکس کسی بھی وقت مل سکتا تھاـ انہوں نے لیاری کے نوجوانوں پر نوکریوں کے دروازے کھول دیےـ پی آئی اے، کے پی ٹی، کے ایم سی، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، گیس کمپنی الغرض ہر ادارے میں لیاری کے بے روزگار نوجوان کھپائے گئےـ جو سرکاری نوکریوں سے محروم رہے انہیں پاسپورٹ تھما کر خلیج بھجوانے کا بندوبست کیا گیاـ معاشی لحاظ سے یہ لیاری کا روشن ترین دور تھا ـ بھٹو کی معاشی پالیسیوں نے لیاری میں مڈل کلاس طبقے کو جنم دیاـ پچاس کی دہائی سے ہندوستانی مہاجرین کی مسلسل آمد نے لیاری کو سخت اقتصادی دباؤ کا شکار بنا دیا تھا ـ نوکریوں اور مزدوریوں پر انہیں سخت مقابلے کا سامنا تھا ـ پیپلز پارٹی نے لیاری کو اس دباؤ سے نکال دیاـ

بھٹو کی پالیسیوں کا ایک اور مثبت نتیجہ بھی برآمد ہواـ سکڑتی ہوئی معیشت کی وجہ سے بلوچوں اور مہاجروں کے درمیان تضاد بڑھتے جارہے تھے ـ یہ تضاد کسی بھی وقت بڑی تباہی مچا سکتے تھے ـ معاشی تنگ دستی سے گلوخلاصی نے بلوچ مہاجر تضاد تقریباً ختم کردیا ـ

مڈل کلاس طبقے نے اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے پر توجہ دینی شروع کردی ـ اس دور نے تعلیم یافتہ نسل پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ـ پیپلزپارٹی نے فٹ بال، باکسنگ، سائیکلنگ اور دیگر مقامی کھیلوں کی بھی بھرپور سرپرستی کی ـ فٹبال گراؤنڈز کی حالت بہتر ہوتی گئی ـ بنگال کی علیحدگی کے بعد لیاری کے فٹبال پر جو آسیب منڈلا رہا تھا وہ بھی دور ہوگیاـ

پیپلزپارٹی کا ایک کارنامہ محنت کش طبقے کو زبان دینا تھاـ پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے نچلے طبقے کے ان پڑھ افراد کو سب سے زیادہ اہمیت دی ـ سیاسی گویائی اور خود پر اعتماد کی وجہ سے اس طبقے کے نہ صرف مردوں بلکہ خواتین نے بھی سیاست میں پرجوش حصہ لیا ـ ضیا دور میں اسی طبقے کے مرد و خواتین نے بے نظیر کے ساتھ مل کر فوجی آمریت کو ناکوں چنے چبوائے ـ اس طبقے کو جاہل سمجھ کر لینن گراڈ کے اراکین و نیشنل عوامی پارٹی کے قوم پرستوں نے کبھی بھی کماحقہُ توجہ کے قابل نہ سمجھا جبکہ پیپلزپارٹی کے جیالوں نے اسی طبقے کو مزاحمتی راہ دکھائی ـ بھٹو کی پالیسیوں سے جنم لینے والے درمیانہ طبقے نے انتخابی میدان میں پیپلز پارٹی کو مضبوط سہارا دیا جبکہ نچلے طبقے نے فوجی آمریت اور پولیس سے لڑنے میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیاـ لیاری کی خاتون کارکن دس مردوں پر بھاری سمجھی جاتی تھی ـ یہ بلوچستان کی سیاست و طرزِ معاشرت سے الٹ صورتحال تھی ـ بلوچستان کی سیاست میں عورتوں کی شمولیت ایک خواب جیسا تھا جبکہ لیاری میں یہ حقیقت بنتی جارہی تھی ـ یادش بخیر، بلاول بھٹو کی باحفاظت پیدائش بھی انہی خواتین کے مرہونِ منت ہے جنہوں نے بے نظیر بھٹو کو حصار میں لے کر انہیں ماں کے منصب پر فائز کرنے میں بےلوث کردار نبھایاـ

ان عام، گھریلو مگر جری و نڈر خواتین نے سالوں بعد پروفیسر صبا دشتیاری کے بلوچی افسانوں میں جگہ پائی ـ صبا دشتیاری نے متعدد کہانیاں انہی سیاسی خواتین سے متاثر ہوکر لکھیں ـ بلوچستان کے سیاسی کارکن کے لئے یہ خواتین بلوچ غیرت پر طمانچے تھے ـ انہیں حیرت ہوتی تھی یہ کس قسم کی بلوچ عورتیں ہیں جو پی پی کے ترانوں پر ناچتی ہیں ، گلے پھاڑ کر نعرے لگاتی ہیں ، پولیس سے ہاتھا پائی کرتی ہیں ـ ان کے لئے بلوچ عورت کی اس شکل کو ماننا سوہانِ روح تھا ـ انہوں نے پھبتیاں کسیں، غیرت کے طعنے دیے مگر لیاری میں ایک نئے عوامی کلچر کی ابتدا ہوچکی تھی جس کے مرکز میں بلوچ عورت کھڑی تھی اور اس کلچر نے بلوچستان سے آنے والی صداؤں کو ان سُنا کردیا ـ

بلوچی میں کہاوت ہے “تاسے آپ ءَ سد سال وفا انت” ـ یعنی کوئی اگر کٹورا پانی پلائے تو سو سال تک اس کے وفادار رہو ـ لیاری اس کہاوت کی تمثیل بن گئی ـ لیاری نے بھٹو کی نوازشات کو کبھی فراموش نہ کیا ـ بھٹو حالانکہ بلوچستان میں ولن سمجھے جاتے تھے ، انہوں نے بلوچستان کو لہو میں نہلا دیا تھا لیکن لیاری میں اپنی پالیسیوں کی وجہ سے وہ ہیرو کی کرسی پر متمکن ہیں ـ انہوں نے “روٹی، کپڑا اور مکان” کے نعرے پر عمل کرکے دکھا دیا تھا ـ حاشیہ نشین بنتے بلوچ کو انہوں نے دوبارہ شہر کی معیشت ، ثقافت اور سیاست کا حصہ بنا دیا ـ خاص طور پر لیاری کی عام عورت کو انہوں نے بدل دیا تھا ـ عورت جو پیر کی جوتی سمجھی جاتی ہے وہ پیپلزپارٹی کراچی کی سیاست میں فیصلہ کن کردار بن گئی ـ بھٹو ، اسی لئے لیاری میں ابھی تک کسی نہ کسی سطح پر زندہ ہے ـ

1970 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو کراچی کی صرف دو سیٹوں پر کامیابی ملی ـ لیاری میں عبدالستار گبول جبکہ ملیر میں عبدالحفیظ پیرزادہ ـ یہ دونوں خطے بلوچ اکثریت کے حامل تھے ـ ان انتخابات نے کراچی کے بلوچوں اور پیپلزپارٹی کو لازم و ملزوم کردیا ـ کراچی کی سب سے بڑی لسانی اکثریت اردو بولنے والے مہاجرین مذہبی جماعتوں کے ساتھ رہے ـ بھٹو نے اردو محنت کشوں کے دل جیتنے کے لئے اپنی حکومت میں متعدد اقدام اٹھائے ـ لیاری کے بعض قوم پرستوں بالخصوص یوسف نسکندی کا خیال ہے بھٹو حکومت نے لیاری کے مقابلے میں سب سے زیادہ توجہ اردو اسپیکنگ علاقوں پر دی گوکہ معروضی حالات ان کے اس خیال کو سہارا نہیں دیتے لیکن یہ بھی سچ ہے بھٹو حکومت نے اردو بولنے والے افراد پر بھی خاص توجہ دی مگر نیشنلائزیشن کی بے سمت پالیسی اور اردو سندھی جھگڑے نے بھٹو کی محبوبیت کو ابھرنے سے پہلے ختم کردیا ـ نیشنلائزیشن کی بے سمت پالیسی نے کراچی میں سب سے زیادہ نقصان اردو نودولتیوں کو پہنچایا ـ اقتصادی خسارے نے ان کی اکثریت کو مشتعل کردیا اور انہوں نے اسے شہری دیہی اور اردو سندھی جنگ کا نام دیا ـ شہری دیہی کوٹہ سسٹم نے بھی اردو مڈل کلاس کی ناراضی کو جنم دیا ـ حالانکہ یہ مہاجرین قیامِ پاکستان سے قبل انہی بنیادوں پر ہندوستان میں ہندو مسلم کوٹہ سسٹم کا مطالبہ کرتے رہے تھے جس بنیاد پر پیپلزپارٹی نے کوٹہ سسٹم کا نفاذ کیا مگر چونکہ وہاں ان کو فائدہ تھا جبکہ یہاں سندھی کے مفادات پیوست تھے اس لئے اردو انٹلیجنشیا نے کوتاہ نظری کا مظاہرہ کرکے اسے لسانی تضاد بنا دیا ـ رہی سہی کسر سندھ میں سندھی زبان کے نفاذ کے اعلان نے پوری کردی ـ “اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے” جنگ اخبار کی یہ سرخی آج بھی گونجتی رہتی ہے ـ اردو انٹلیجنشیا شناخت کے بحران میں مبتلا ہوگئی ـ سندھی قومی شناخت کے سامنے انہوں نے خود کو بے شناخت محسوس کرنا شروع کردیا ـ

لیاری کو ان مناقشوں سے واسطہ نہ تھا اور نہ ہی لیاری کو کسی قسم کا خطرہ درپیش تھا ـ لیاری اس جھگڑے سے دور ہی رہا ـ اردو انٹلیجنشیا نے بھی لیاری کے خلاف کوئی محاذ کھولنے سے اجتناب برتا ـ مہاجرین کی بالائی پرت کو احساس تھا کہ لیاری شہر کا اٹوٹ اور اہم حصہ ہے اس لئے اس کے ساتھ محاذ آرائی چومکھی لڑائی ہی ہوگی ـ دوسری جانب لیاری میں بھی مہاجرین کے حوالے سے کوئی تضاد نہ تھا ـ افہام و تفہیم کی یہ فضا اکیسویں صدی کی پہلی دہائی تک ذوالفقار مرزا کی خوف ناک اور نفرت انگیز سیاست تک برقرار رہی ـ

(جاری ہے)

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *