خدمتِ خلق/شاہد محمود

محسن انسانیت ہمارے پیارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابو القاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے سنہری اسوہ حسنہ سے ہمیں اپنے ساتھی انسانوں سے حسن سلوک، محبت و الفت شفقت و پیار کے ساتھ پیش آنے اور حاجت مند و ضرورت مند انسانوں کی مدد کرنے کا درس ملتا ہے۔ پیارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابو القاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ کی پیروی عبادت و سعادت ہے۔ اللہ کریم نے مختلف انسانوں کو مختلف صلاحیتیں اور وسائل عطاء فرمائے ہیں۔ اور یہی فرق و تفاوت اس کائناتِ ہستی کا حسن و جمال ہے بھی ہے اور ہماری آزمائش بھی ۔ ۔ ۔ آزمائش اس طرح کہ کیا ہم اللہ کریم کی عطاء کردہ صلاحیتوں اور وسائل کو دوسروں کی خدمت اور معاشرے کی بہتری کے لئے استعمال کرتے ہیں یا نہیں ۔۔۔۔ درخت کا پھل پھول پتے لکڑی اور جو آکسیجن درخت سے خارج ہوتی ہے وہ بلاامتیاز سب مخلوق استعمال کرتی ہے، یہی حال سورج کی روشنی و حرارت و شمسی توانائی و بارش و دریاؤں ندی نالوں کے پانی کا ہے جو سب مخلوق استعمال کرتی ہے ۔۔۔۔ انسان کو عطاء کردہ وسائل اور صلاحیتیں انسان کے ارادے کے تابع ہیں اور اسی لئے آزمائش ہیں ۔۔۔ اگر تو انسان کی صلاحیتیں اور وسائل بھی مخلوق خدا کی خدمت کے لئے وقف ہوں تو بیڑا پار ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو انسان کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔۔۔۔۔۔

خدمت خلق ایسی نیکی ہے جو معاشرے میں امن و سکون اور انس و الفت کے پھول بکھیرتی ہوئی جہاں معاشرے کو جنت نظیر بنا دیتی ہے وہیں انسان کی تسکین قلب کا بہترین سامان بھی یہی ہے۔

ایک حدیث میں بڑے خوبصورت و پیارے انداز میں خدمت خلق کا ذکر آیا ہے کہ کیسے اللہ کریم کو اپنی مخلوق عزیز ہے اور کیسے اللہ کریم ہم انسانوں کو خدمت خلق کی ترغیب و تربیت دیتا ہے۔ امام مسلم رحمت اللہ علیہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہمارے پیارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابو القاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا:
اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تھا تو تُو نے میری عیادت نہیں کی۔
بندہ کہے گا: میرے اللہ! تُو تو رب العالمین ہے میں کیسے تیری عیادت کرتا؟
اللہ کریم فرمائے گا : میرا فلاں بندہ بیمار تھا تو تُو نے اس کی عیادت نہیں کی۔ اگر تُو اس کی مزاج پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس ہی پاتا۔

اے آدم کے بیٹے ! میں نے تجھے کھانے کو دیا تھا لیکن میں بھوکا تھا تُو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔
بندہ کہے گا: پروردگار! تُو تو رب العالمین ہے میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا؟
اللہ کریم فرمائے گا: میرا فلاں بندہ بھوکا تھا، تُو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا۔ اگر تُو اسے کھانا کھلاتا تو مجھے اس کے پاس ہی پاتا۔

اے آدم کے بیٹے ! میں نے تجھے پانی دیا لیکن میں پیاسا تھا، تُو نے مجھے پانی نہیں پلایا۔
بندہ کہے گا: تُو رب العالمین ہے میں کیسے تجھے پانی پلاتا؟
اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرا فلاں بندہ پیاسا تھا، اگر تُو اسے پانی پلاتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔

ہمارے پیارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابو القاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ؛
“خیر الناس من ینفع الناس”
’’تم میں بہترین انسان وہ ہے جس سے دوسرے انسان کو فائدہ پہنچے۔‘‘
کنزالعمال، ج:8، حدیث نمبر:42154)

سیلاب جیسی قدرتی آفت نے کورونا وائرس کے بعد ہمارے بیشمار ساتھی انسانوں کی جانیں لے لی ہیں اور جو بچ گئے ہیں ان کی حالت انتہائی ابتر ہے کے گھروں کے گھر اور بستیوں کی بستیاں، فصلیں اور مویشی سیلاب برد ہو گئے ہیں۔
خدمت خلق، ہر وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس وقت یہ ضرورت دو چند ہو چکی ہے۔ انسانوں کے دکھ درد بانٹنا حصولِ جنت کا ذریعہ ہے۔ کسی دکھی دل پہ محبت و شفقت کا مرہم رکھنا اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے۔
سیلاب زدگان، مصیبت زدہ، آفات و بلیات و بیماریوں کا شکار انسانوں کی مدد کرنا، کسی بے گھر کا گھر بنانے میں تعاون کرنا، کسی کا علاج کرانا، کسی کو کھانا کھلانا، لباس پہنانا، کسی کا قرض اتارنا اور سب سے بڑھ کر کسی کو تعلیم و تربیت دلوانا اور ہنر سکھا کر برسر روزگار ہونے میں مدد دینا اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کو حاصل کرنے کا نسخہ کیمیاء ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہمارے پیارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابو القاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جو شخص اپنے کسی بھائی کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے اور پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے (دوزخ کی) آگ سے سات خندق جتنے فاصلے کی دُوری پر کردے گا اور دو خندق کے درمیان پانچ سو (500) سال کا فاصلہ ہے‘‘۔

حاکم المستدرک علی الصحیحین، ج:2، حدیث:7172

دوسروں کو نفع پہنچانا اسلام کی روح اور ایمان کا تقاضا ہے۔ ایک اچھے مسلمان کی یہ خوبی ہے کہ وہ ایسے کام کرتا ہے جو دوسرے انسانوں کے لئے فائدہ مند ہوں۔ اس لئے صلہ رحمی، عفو و درگزر، شفقت و محبت، رحم و کرم، خوش اخلاقی، غمخواری و غمگساری خیر و بھلائی، ہمدردی، حسن سلوک، امداد و اعانت اور خدمت خلق یہ سب ایک بہترین مسلمان کی وہ اعلیٰ صفات ہیں جن کی بدولت وہ دنیا و آخرت میں اللہ کریم کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔

خدمت خلق کی چند مثالیں:-

1: کسی کو اچھا و نیک مشورہ دینا جس سے مشورہ کرنے والے کا بھلا ہو۔

2: کسی بیمار کا علاج کرا دینا۔

3: کسی بھوکے پیاسے کو کھانا کھلا دینا و پانی پلا دینا۔

4: کسی غریب, یتیم، مسکین، لاچار بچے کی تعلیم و تربیت کا انتظام و انصرام اور اسے کوئی ہنر سکھا کر برسر روزگار ہونے میں مدد دینا.

5: یتیم و غریب بچیوں کی شادی کرا دینا۔

6: کسی لاچار کا خرچ اٹھا لینا اس کو زندگی کے اسباب فراہم کر دینا ۔

7: کسی حاجت مند کو بنا سود کے قرض دینا۔

8: کوئی سامان کچھ مدت کے لیے ادھار دینا۔

9: درخت اور پودے لگا دینا جن سے انسان و حیوان فائدہ اٹھائیں۔

10: کسی زخمی کی مدد کر دینا۔

11: کسی مسافر یا بھولے بھٹکے کو راستہ بتا دینا، مدد کر دینا۔

12: کسی کی جائز سفارش کے ذریعہ کوئی مسئلہ حل کرا دینا۔

13: پانی کی کمی کا شکار علاقوں میں پانی کے اسباب فراہم کرنا۔ نلکہ، کنواں، فلٹر پلانٹ وغیرہ لگوانا یا گرمیوں میں پینے کے ٹھنڈے پانی کا انتظام کر دینا۔

14: اپنے کام کے ساتھ ہمسایوں یا کسی دوسرے کا بھی کام کر دینا۔ مثلا اپنا سامان خریدنے گئے تو ہمسایہ یا کسی دوسرے ساتھی سے پوچھ کر اس کا سامان بھی لا دینا۔

15: کسی مظلوم کا حق دلا دینا۔

16: راستہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا

17: پیار و محبت کے ساتھ احسن انداز میں بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔

18: کسی مریض کو ضرورت پڑنے پہ خون کا عطیہ دینا۔

19: دوسروں کو ان کا حق بن مانگے خوشی سے دینا اور اپنے فرائض کی ادائیگی و دوسروں کے ساتھ معاملات میں خوش اسلوبی، وسعت قلبی، ایثار و احسان کا مظاہرہ کرنا۔

غرض خدمت خلق کی ان گنت طریقے ہیں۔ اور یہ بھی اہم نکتہ ہے کہ خدمت خلق صرف مال و دولت کے ذریعے نہیں بلکہ خدا داد صلاحیتوں کے ذریعے بھی کی جا سکتی ہے جیسے کسی کو پڑھا دینا، اپنا ہنر سکھا دینا، راہنمائی کر دینا، کسی کو راستہ دکھا دینا، کسی بیمار کی تیمارداری کرنا، کسی کے ساتھ جا کر کوئی کام کرا دینا وغیرہ۔ جہاں مال و دولت خرچ کرنے کی ضرورت ہو وہاں مال خرچ کرنا افضل ہے۔

احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ہمارے پیارے اللّہ کریم کے پیارے حبیب اور ہمارے پیارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابو القاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن مجلس میں صحابہ کرام سے سوالات کئے۔

آپ ﷺ نے پوچھا: آج کس نے جنازے میں شرکت کی؟ّ
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی: میں نے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: آج کس نے بھوکے کو کھانا کھلایا؟
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: میں نے ۔

آپ ﷺ نے پھر سوال کیا: آج کس نے اللہ کی رضا کے لئے روزہ رکھا؟
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرما یا: میں نے ۔

آپ ﷺ نے ایک بار پھر پوچھا: آج کس نے بیمار کی عیادت کی؟
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے۔

ہمارے پیارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابو القاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی میں یہ چار باتیں جمع ہو جائیں وہ جنتی ہے۔ (سبحان اللہ)

اللہ اس شخص کو پسند فرماتا ہے جو انسانوں کے لیئے نفع بخش ہو۔
خدمت خلق کے باعث انسان برے اخلاق اور شیطان کے دامن فریب سے بچ سکتا ہے. کبر و نخوت، ظلم و ستم، جبر و تشدد، بے راہ روی، بیروزگاری، آوارہ گردی جیسی خطرناک معاشرتی بیماریوں کا علاج خدمت خلق کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔

اور تحریر کے آخر میں خدمت خلق میں مصروف و مشغول رہنے والوں کے لئے عظیم خوشخبری:-
اللہ کریم خدمت خلق میں مصروف رہنے والوں کی مدد خود فر ما تا ہے۔ *’’ وﷲفی عون العبد ما کان العبد في عون اخیه ‘‘*
“اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے‘‘۔
(صحیح ابن ماجہ للالبانی: ۱۸۴)

Advertisements
julia rana solicitors

دعا گو، طالب دعا شاہد محمود
#شاہد_محمود

Facebook Comments

شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply