ابو چاچا۔۔۔شکور پٹھان

یہ زندگی، یہ دنیا، اپنے بھید بھاؤ کچھ عجب ہی انداز میں کھولتی ہے۔ انسان جاننا کچھ چاہتا ہے، گیان کسی اور ہی چیز کا ملتا ہے، کرنا کچھ چاہتا ہے ، ہو کچھ اور جاتا ہے۔ آگ لینے جاتا ہے اور لوٹتا ہے پیمبری لے کر۔ کھوجنے کوئی اور ملک جاتا ہے، ڈھونڈ کوئی اور ہی دنیا لیتا ہے۔ ایک عمل، ایک مشاہدہ ہزار بار ہوتا ہے، کوئی دھیان نہیں دیتا۔ وہی عمل کسی کو چونکا دیتا ہے سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے، درخت سے پھل سوبار گرتا ہے کسی کو اچنبھا نہیں ہوتا، اور کوئی اسی فکر میں پڑ جاتا ہےکہ یہ نیچے ہی کیوں گرا۔
اس دنیا کے ہزار رنگ ہیں، ہزار روپ ہیں، اسکی پرتیں کھولتے جاؤ، نئے نئے رنگ، نئے نئے روپ سامنے آتے ہیں۔ میں بھی کچھ یونہی زندگی گذارتا رہا، آدھی صدی سے زیادہ عمر بیت گئی، ہزار ہا لوگوں کو دیکھا لیکن کبھی نہ سوچا کہ کون کیا ہے۔آس پاس بسنے والوں میں کون کتنا بڑا ہے اور کتنے بڑے بڑوں میں کتنے چھوٹے سے لوگ چھپے ہیں۔
جب میں نے یہ لکھنے لکھانے کا سلسلہ شروع کیا تو گو کہ میں لکھتا اپنے شہر کے بارے میں تھا لیکن اصل موضوع اس شہر کے بسنے والے، یعنی انسان ، ہی تھے۔ پھر جب دوسرے موضوعات پر لکھا تو وہ بھی اپنے آس پاس بسنے والے کرداروں کے بارے میں ہی تھا۔ یہیں مجھے ایک عجب حیرت نے آگھیرا۔
میں ایک معمولی سا مزدور پیشہ انسان ہوں ۔ میرا گذر بڑے اور مشہور لوگوں کی محفلوں میں نہیں ہے، لیکن اپنی مختلف ملازمتوں اور پردیس کی رہائش کی بدولت اور کچھ دوسروں کے زریعے کبھی کبھار کچھ بڑے اور مشہور لوگوں کی زندگی کی کچھ جھلکیاں ضرور دیکھنے ملیں۔
کسی کی شخصیت کے وزن اور قد اور کاٹھ کا اندازہ کرنے کے میرے اپنے ہی پیمانے ہیں۔ جس طرح جانوروں میں حس ہوتی ہے کہ وہ سونگھ کر دوست اور دشمن کو پہچان لیتے ہیں، اسی طرح مجھے اکثر ایک جملے سے ہی کسی کے قدوقامت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ میں نے کچھ بہت ہی بڑے اور مشہور لوگوں میں بہت ہی چھوٹی اور نیچی باتیں دیکھیں
، بہت سے بڑے لوگوں میں چھپے سادے سے انسانوں کو بھی دیکھا۔ کبھی فرصت ملی تو اپنے تجربے بیان کروں گا۔ لیکن ایک چیز جس پر میں نے پہلے کبھی غور نہیں کیا تھا وہ یہ کہ بعض خاک نشینوں میں کتنے بڑے بڑے لوگ چھپے ہوتے ہیں یا ان میں وہ کچھ ہوتا ہے جو بڑے بڑوں کو نصیب نہیں۔
اس زندگی میں ایسے کئی کردار ہماری زندگی کا حصہ ہوتے ہیں، ہم نے کبھی دھیان ہی نہیں دیا ہوتا کہ وہ کس طرح ہماری زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ایسے ہی لوگ جب یاد آئے تو مجھے، منو بھائی اور چھوٹی کے کردار یاد آئے۔ مجھے وہ ہر وقت مسکرانے والا پولیس کا سپاہی یاد آیا جو شدید گرمی میں بھی اپنی مسکراہٹ کی دھنک بکھیرتا رہتا تھا۔ جب ذرا سوچا، غور کیا تو جانا کہ اس دنیا کی خوبصورتی انہی چھوٹے چھوٹے لوگوں سے ہے۔
آج ایسے ہی ایک معمولی سے انسان سے آپ کو ملواتا ہوں جنھیں میں کبھی چاچا کہتا تھا۔
چاچا بھی منو بھائی اور چھوٹی کی طرح حقیقی کردار ہیں، لیکن منو بھائی اور چھوٹی کے نام میں نے نہیں بدلے، چاچا کا نام لیکن ان کے خاندان کی سفید پوشی کا پردہ رکھنے کے لئے تھوڑا سا بدل دیا ہے۔
میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے آپ کو کراچی کے پسماندہ ترین علاقے لیاری کی ایک عسرت زدہ بستی ” بہار کالونی” میں پایا۔ میں پہلے بھی کئی بار عرض کر کا ہوں کہ بہار کالونی غریبوں کی بستی ضرور تھی لیکن جتنے بڑے لوگوں کو میں نے یہاں دیکھا ، اس کے بعد جب میری رہائش سوسائٹی جیسے پوش علاقوں، نارتھ ناظم آباد جیسے متوسط طبقے کی آبادی اور لانڈھی کورنگی کے مزدور طبقے والے علاقوں بھی رہی، بہار کالونی جیسے بڑے لوگ ، اتنے سارے ، اور ایک جگہ نظر نہیں آئے۔
تقسیم کے بعد جب میرے دادا، دادی اپنے تین بیٹوں، دو بیٹیوں اور ایک بہو یعنی میری ماں کے ساتھ یہاں آئے تو زندگی اتنی آسان نہ تھی۔ یہ ایک صبر آزما دور تھا۔ میری ماں مجھے ہنس ہنس کر بتاتی تھیں کہ ہم جب پاکستان چوک پر رہتے تھے تو بڑے مزے سے سارا دن کھڑکی میں بیٹھے باہر سڑک کی رونق دیکھتے رہتے، کہ گھر میں کرنے کے لئے کچھ تھا ہی نہیں۔ نہ کھانا پکانے کا جھنجھٹ ، نہ صفائی وغیرہ کا ٹنٹا۔ نہ پکانے کے لئے کچھ ہوتا تھا اور ایک کمرے کے فلیٹ میں فرنیچر نام کی کوئی چیز ہی نہیں تھی۔ کئی کئی دن صرف چنے کھا کراور پانی پر کر گذارا ہوتا تھا۔ بس ایک چھوٹے چچا کے لئے جو صغر سنی میں تھے، دودھ کا انتظام کردیا جاتا، باقی اللہ اللہ خیر سلا۔
امی ہی سے معلوم ہوا کہ اس سے پہلے ہم بوہرہ پیر اور بہاؤالدین کمپاؤنڈ میں رہتے تھے۔ بہاؤالدین کمپاؤنڈ میں ہی میرے دادا کا انتقال ہوا اور ابا نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر گھر کی ذمہ داری سنبھال لی۔ میری پیدائش کے وقت شاید ہم پاکستان چوک میں رہتے تھے۔ امی بتاتی ہیں کہ میں خاصا صحتمند اور گول مول تھا۔ بلڈنگ کے نیچے ایک پان اور سوڈے والے کا کھوکھا تھا۔ مجھے اس کھوکھے والے کے پاس چھوڑ دیا جاتا جہاں پان والا اور آنے جانے والے مجھ سے کھیلتے رہتے۔ یہاں تک کہ فقیر بھی آکر مجھ سے کھیلتے۔ ( شاید میری طبیعت میں انہی فقرا کا اثر ہے ، جسے بہت سے دوست نچلے طبقے کی صحبت کہتے ہیں )
خیر یہ تو یونہی ایک بات درمیان میں آگئی۔ پاکستان چوک سے ہم بہار کالونی آگئے۔ یہ علاقہ ہندوستان سے آئے لٹے پٹے مہاجروں کی پناہ گاہ تھا۔ یہاں زیادہ تر مکانات کا نقشہ ایک سا تھا یعنی ایک بڑا سا کمرہ، ایک دالان اور ایک صحن۔
اس بہار کالونی میں ہماری کوکنی برادری کے بھی دو چار گھر تھے۔ ابو چاچا کا گھر بھی وہیں تھا۔
ٹینری روڈ سے مسان روڈ کو ملانے والی سڑک شاید الفلاح روڈ کہلاتی تھی۔ اس کی ایک جانب بہار کالونی کی جامع مسجد اور مشہور فٹبال گراؤنڈ تھا اور دوسری جانب گورنمنٹ گرلز اسکول تھا، جس سے کچھ ہٹ کر “مخزن ادب” لائبریری اور ریڈنگ روم تھا۔ ہمار ا گھر اسکول والی جانب اور ابو چاچا کا گھر دوسری جانب تھا۔
ابو چاچا اپنی بہت ہی ضعیف ماں کے ساتھ رہتے تھے۔ وہ امی کے دور پار کے رشتہ دار تھے۔ ابو چچا نے اپنی بہن کے بیٹے کو اپنے ساتھ رکھا تھا کہ ان کی غیر موجودگی میں وہ اپنی نانی کی دیکھ بھال کرسکے۔ ان کا یہ بھانجا میرا ہم عمر تھا اور اس کی بڑی بہن بہت آگے چل کر میری بہت قریبی سسرالی رشتہ دار بنیں۔
مجھے اور ان کے بھانجے کو ایک ساتھ گورنمنٹ اسکول بہار کالونی کی ‘ کچی پہلی” میں داخل کیا گیا تھا جہاں ہم ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ دوسری کلاس سے البتہ ہمیں بھی بنچ اور ڈیسک میسر آگئے تھے۔
ابو چاچا میرے ابا کے ساتھ بہار کالونی کے مشہور ‘ کوئلہ گودام’ میں کام کرتے تھے۔ ابا وہاں کے حسابات دیکھتے تھے اور ابو چاچا شاید کلرک تھے۔ وہ میرے ابا سے چھوٹے لیکن میرے بڑے چچا سے کچھ بڑے تھے۔ مجھے اتوار کے وہ دن یاد ہیں جب ابو چاچا اور میرے چچا، چٹائی پر نیم دراز، نیلے صفحے والا جنگ اخبار پڑھتے ہوئے گپ شپ کرتے رہتے اور سارا دن چائے اور سگریٹ چلتی رہتی۔ اور مجھے یہ سب بہت اچھا لگتا کیونکہ چچا جب مجھ سے سگریٹ منگواتے تو کبھی بھی بقیہ پیسے واپس نہیں لیتے۔ میں بچپن سے اپنے بڑے چچا کا لاڈلا رہا ہوں، اور اللہ انہیں عمر خضر عطا فرمائے اور ان کا سایہ تادیر میرے سر پر قائم رکھے، میں آج جو کچھ بھی ہوں ان کی بدولت ہوں کہ میری تعلیم، ملازمت اور بیرون ملک آمد سب ان ہی کی مرہون منت ہے۔
خیر بات ہورہی تھی ابو چچا کی۔ ان کا بھانجا کچھ دنوں بعد واپس چلا گیا تو پھر میری ڈیوٹی لگی کہ اسکول سے آکر شام تک ، یعنی ابو چچا کی واپسی تک میں دادی کی دیکھ بھال کروں۔ دادی انتہائی نحیف اور اکثر بیمار رہتی تھیں۔
ایک بات کا مجھے یقین ہے کہ دعائیں کبھی ضائع نہیں جاتیں، اسی طرح بد دعائیں بھی آپ کو نہیں چھوڑتیں۔ مجھے زندگی میں ایسے ایسے مسائل پیش آئے کہ جانو سامنے دیوار ہے اب کوئی راستہ نہیں ہے لیکن اللہ کا کرم ہے کہ ہر بار کوئی نہ کوئی راستہ نکل آتا ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ یہ ان دو چار بزرگوں کی ہی دعائیں ہیں جن سے میرا لڑکپن میں واسطہ رہا۔
اور یہ شاید سن ساٹھ یا اکسٹھ کی بات ہے۔ مجھے نہیں علم کہ میرے کتنے دوستوں کو یہ بات یاد ہے۔ میرے خاندان میں اب صرف میں، میرے چچا اور میری بڑی ہمشیرہ کو بہار کالونی کا وہ سیلاب یاد ہے جب لیاری ندی کا بند ٹوٹ گیا تھا۔ مجھے وثوق سے نہیں یاد کہ رات کا کونسا پہر تھا، لیکن میری آنکھ کھلی تو برابر کی چھت سے اذان کی آواز آرہی تھی۔ کچھ دیر بعد اپنے گھر کے صحن سے ابا کی آواز سنائی دی، وہ اذان دے رہے تھی۔ ہم کرائے کے مکان میں رہتے تھے اور ہمارا گھر واحد گھر تھا جو پہلی منزل پر تھا۔ ہمارے مکان مالک جو دو بھائی تھے، انکے اپنے دو گھروں کے علاوہ دو اور گھر تھے جو کرائے پر اٹھائے ہوئے تھے۔ ان چار گھروں کی چھت مشترک تھی۔ ہمارے گھر سے اس چھت پر جانے کا راستہ تھا۔
میں نے اپنی کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو ہمارے گھر کے نچلے حصے والے کرایہ دار جو کہ پنجابی تھے اور ان کے شوہر شاید نیوی میں ملازم تھے، ان کے گھر کی چھت سے دو ایک فٹ نیچے تک پانی تھا اور ایک چارپائی تیر رہی تھی۔ وہ اپنی بیگم اور بچی کو لیکر ہماری سیڑھیاں چڑھتے اوپر آرہے تھے۔ اور پھر وہ، میرے ابا اور چچا نیچے مکان مالک کے گھروں میں چلے گئے، کچھ دیر بعد دیکھا کہ ابا اور چچا کندھوں پر بچوں کو اٹھائے آرہے ہیں ، ساتھ مالک مکان بھی دوسرے بچوں کو کاندھوں پر لئے ہوئے ہیں، انکی خواتین کے ہاتھ میں ایک آدھ برتن یا آٹے کے ڈبے وغیرہ ہیں۔ ہمارے اس ایک کمرے میں جہاں میرے امی ابا کے علاوہ، ہم چار بہن بھائی، جس میں میرا شیر خوار بھائی بھی شامل تھا، ہماری دادی اور دوچچا رہتے تھے، اب اس کمرے میں، نیچے کے چار گھروں کی خواتین اور بچے بھی جمع ہوگئے تھے۔ مرد اور لڑکے بالے ہمارے گھر سے ملحقہ چھت پر چلے گئے تھے۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ گھر کی ضروریات کا سودا روز کے روز لایا جاتا تھا۔ آٹا چینی راشن شاپ سے مخصوص مقدار میں ملتا تھا۔ دودھ والا فجر کے وقت آتا لیکن اس سیلاب میں تو وہ بھی کہیں اپنی جان بچانے کی تگ و دوکر رہا ہوگا۔ ہمارے گھر میں تھوڑے سے ” گول پاپے ” تھے ۔ بغیر دودھ کی چائے کے ساتھ یہ پاپے آدھے آدھے توڑ کر بچوں کو دئے گئے۔ بڑوں نے شاید بغیر دودھ کی چائے گڑ کے ساتھ پی تھی، مجھے اس بارے میں زیادہ یاد نہیں۔
صبح ذرا روشن ہوئی اور کچھ دیر بعد دن چڑھا تو چھت سے دیکھا کہ نیچے سمندر کا سا سماں ہے، کتے بلیاں، مرغیاں اور بطخیں پانی میں بہے چلے جارہے ہیں۔ لوگوں کے گھروں کا سامان بھی نظر آرہا تھا۔ سب سے زیادہ نمایاں وہ کوئلہ تھا جو گودام سے نکل کر سارے بہار کالونی میں بہتا جارہا تھا۔
دوپہر شاید ظہر کا وقت تھا کہ دیکھا ابو چاچا اپنی ماں کو کندھے پر اٹھائے پانی سے لڑتے چلے آرہے ہیں۔ ۔
اب سارے مرد سر جوڑے بیٹھے تھے کہ کیا کیا جائے۔ مجھے اوروں کا تو یاد نہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ کہیں تیسرے پہر پانی کا زور کچھ ٹوٹا۔ چچا اور ابو چاچا نہ جانے کہاں سے ایک بڑی سی گدھا گاڑی ڈھونڈ لائے جو دور الفلاح روڈ پر کھڑی تھی جو ذرا اونچائی پر تھا۔ ہمارا گھر خاصی نشیب میں تھا۔ چچا اور ابو چاچا نے نے پہلے میری دادی اور ابو چاچا کی دادی کو کندھوں پر اٹھا کر فلاح روڈ تک پہنچایا۔ کچھ دیر بعد ہم سب بھی چند ایک کپڑوں کی گھڑیاں لے کر نکلے۔ میں ابو چاچا کے کندھوں پر سوار تھا اور مجھے ان کا پانی میں چھپاک چھپاک چلنا بڑا لطف دے رہا تھا۔ مجھے یہ ساری صورتحال بڑی دلچسپ لگ رہی تھی اور مزہ آرہا تھا۔
ہم سب گدھا گاڑی پر سوار بہار کالونی سے سوسائٹی، شہید ملت روڈ کے لئے روانہ ہوئے۔ شاید لی مارکیٹ کے پاس گدھا گاڑی والے نے ہمیں اتار دیا اور مزید لوگوں کو لینے واپس چلا گیا۔ یہاں سے مجھے اوروں کا تو یاد نہیں البتہ ہم بہن بھائی، امی اور دادی ایک سائیکل رکشہ میں سوار ہوکر سوسائٹی کے لئے روانہ ہوئے۔
کوکن سوسائٹی پہنچ کر ہمارا ٹبر تو ہماری پھوپھی کے گھر جا ٹھہرا۔ ابو چاچا اور انکی ماں شرف آباد میں اپنی بہن کے ہاں چلے گئے جو حیدر علی روڈ سے زیادہ دور نہیں تھا۔ پھوپھی کا گھرانہ ایک مشترکہ خاندان تھا جہاں پھوپھا کے والدین سمیت انکے دو بڑے بھائیوں کے خاندان بھی آباد تھے۔ اس گھر میں میں تقریباً سترہ اٹھارہ لوگ رہتے تھے۔ ہم آٹھ افراد مزید پہنچ گئے اور وہ بھی غیر معینہ مدت کے لیئے۔ لیکن وہ دن کچھ اور ہی طرح کے تھے۔ لوگوں کے گھر چھوٹے لیکن دل بہت بڑے ہوتے تھے۔ ہم جب کبھی کسی شادی بیاہ، یا سوگ وغیرہ کے موقع پر جب یہاں آتے تھے تو پھوپھا کے گھر والے واپس نہ جانے دیتے اور کچھ دن اور ٹھہرنے پر اصرار کرتے۔
خیر کچھ دن بعد جب سنا کہ بہار کالونی کے نشیبی علاقوں سے پانی اتر گیا ہے تو ہم نے واپسی کی راہ پکڑی۔ بہار کالونی جو کبھی غریب لیکن تعلیمیافتہ لوگوں کی بستی تھی، اب ایک کوڑا خانہ کا منظر پیش کر رہی تھی۔ بہار کالونی کا بیشتر علاقہ سمندر کی سطح سے نیچے ہے اور زیادہ تر زمین سیم زدہ ہے۔ یہاں دو چار فٹ گہرا گڑھا کھوڑو تو زمین سے پانی نکل آتا تھا۔ نشیبی علاقوں میں سیلاب کا پانی جذب ہی نہیں ہو پاتا تھا۔ بلدیہ کراچی نے اس کا حل یہ نکالا کہ شہر بھر کا کوڑا لا کر گلیوں میں بکھیر دیا تاکہ گلیاں چلنے پھرنے کے قابل ہوجائیں اور پانی سے نجات ملے۔ اب یہ علاقہ ایک متعفن گٹر بن چکا تھا۔ گلیوں میں چلتے ہوئے محسوس ہوتا کہ پیروں کی نیچے اسپنچ ہے اور قدموں سے پچک پچک کی سی آوازیں آتیں۔
بہرحال زندگی کا پہیہ کبھی نہیں رکتا، آہستہ آہستہ زندگی معمول پر آتی گئی۔ گھروں میں چھتوں سے دو تین فٹ نیچے دیواروں پر مٹیالے پانی کے نشان ثبت ہوگئے تھے۔ کئی کچے مکانوں کی دیواریں ڈھے گئی تھیں۔ گورنمنٹ بوائز اسکول جو کہ لیاری ندی کے عین مقابل تھا، اسکی ساری چار دیواری گر چکی تھی۔
ابو چاچا کے لئے بوڑھی ماں کی دیکھ بھال مسئلہ بنتی جارہی تھی، یوں بھی ان کی شادی کی عمر تھی لیکن غم روزگار نے انہیں اس بارے میں سوچنے ہی نہ دیا۔ وہیں بہار کالونی میں ایک اور گھرانہ بھی تھا ہماری برادری کا، میری امی کی کوششوں سے ابو چاچا کا وہاں رشتہ ہوگیا۔ اور اب ابو چاچا کی زندگی ایک نئے ڈھب سے چلنے لگی۔
انہی دنوں ہندوستان میں ہمارے سب سے چھوٹے ماموں کی شادی نکل آئی، اور امی نے ہم چاروں بہن بھائیوں کو لیکر “ایس ایس دوارکا” میں سوار ہوکر ، بمبئی کی راہ لی۔ پاکستان ہجرت کے بعد امی دوسری بار اپنے مائیکے آئیں تھیں۔ ہماری حیثیت ایسی نہیں تھی کہ بار بار ہندوستان کا سفر کرتے چنانچہ ہم جی بھر کے یعنی چھ ماہ ہندوستان میں رہے۔
واپس آئے تو ابا نے ہمارے لئے بہار کالونی سے بہت دور بلکہ کراچی کے دوسرے کونے یعنی کورنگی میں کرائے پر کوارٹر لے لیا تھا۔ کورنگی اب بھی آباد ہورہی تھی اور نئے نئے سیکٹر زیر تعمیر تھے۔ ابا نے اب کوئلہ گودام کی نوکری چھوڑ کر اپنے بچپن کے دوست جو سرکاری ٹھیکیدار تھے، انکے ہاں کام شروع کردیا۔ ان کے پاس بھی کورنگی کے کچھ علاقوں کی تعمیر کا کام تھا۔ ایسے ہی ایک علاقے کے کام کی نگرانی کے لئے ابو چاچا کو منتخب کیا گیا اور وہ بھی کورنگی آگئے، لیکن وہ ہم سے خاصےدور تھے۔ ابو چاچا کی ماں اب اس دنیا میں نہیں تھیں اور وہ شاید ایک یا دو بیٹیوں کے باپ بن چکے تھے۔
اس کے بعد ایک یا دوبار ابو چاچا ہمارے ہاں آئے۔ پھر وہاں کا کام مکمل ہوگیا اور ساتھ ہی ابو چاچا کی ملازمت بھی ختم ہوگئی۔ ابو چاچا بھی بیوی بچوں کو لیکر شہر کی طرف چلے گئےاور شاید لالو کھیت میں کہیں کرائے پر رہنے لگے۔ ۔ پھر سننے میں آیا کہ وہ بہت عرصہ بے روزگار رہے۔ بیوی بچوں کے ساتھ یہ پیمبری وقت کیسے کٹتا۔ چنانچہ ابو چاچا نے ایک دن بازار سے رائٹنگ پیڈ، ایگل کا قلم اور ڈالر انک کی ایک بوتل خریدی اور گھر سے ایک بوریا لے کر لالو کھیت ڈاک خانے کےسامنے خطوط نویسی کا کام شروع کردیا۔ لیکن یہ کوئی ایسا مستقل کام تو تھا نہیں، چنانچہ شام کو آس پاس کے چند بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھانے لگے۔ ان دنوں ، آج کی طرح ٹیوشن کی فیس ہزاروں میں نہیں ہوتی تھی۔ ٹیوشن پڑھوانے والے بھی غریب غرباء ہی ہوتے تھے اور فیس دو چار روپے سے زیادہ نہ ہوتی تھی۔ انکی بیگم کچھ سلائی کڑھائی کا کام لے آیا کرتیں لیکن یہ سب بھی زندگی کو اتنا آسان نہ بنا پاتا۔
اپنی خوشدلی اور خوش اخلاقی کے سبب ڈاک خانے کے ملازمین سے بھی تعلقات استوار ہوگئے تھے۔ چنانچہ پوسٹ ماسٹر صاحب نے ابو چاچا کو ڈاکئے کے طور پر ملازم رکھنے کی پیشکش کی۔ ابو چاچا میٹرک پاس تھے اور اس زمانے میں کلرک کی ملازمت کے لئے یہ قابلیت خاصی تھی۔ ڈاکئے کی ملازمت ہرگز ان کے شایان شان نہیں تھی، لیکن ذمہ داریوں کا پہاڑ سا بوجھ اور غیر مستقل زریعہ آمدنی کے مقابل یہ مستقل اور ‘سرکاری’ ملازمت بہرحال ایک نعمت غیر مترقبہ تھی۔ کئی سال تک یہی کام کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ سے کچھ عرصہ قبل انہیں ڈاک بابو یعنی کلرک کی نوکری بھی مل گئی۔
میں اپنی تعلیم مکمل کرکے ملک سے باہر چلا گیا۔ زندگی اپنے ڈھب پر چلتی رہی، مجھے یاد بھی نہیں کہ میں انہیں کب بھولا۔ وقت کا پہیہ یونہی چلتا رہتا ہے، نجانے کتنے لوگ زندگی سے نکل جاتے ہیں اور کتنے نئے لوگ آپکی زندگی میں داخل ہوتے رہتے ہیں۔
میری شادی ہوگئی۔ میری ایک قریبی سسرالی عزیزہ، ابو چاچا کی بھانجی تھیں۔ ان سے ایک آدھ بار ابو چاچا کے بارے میں بات ہوئی۔ ابو چاچا کی پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا، بیگم نے داغ مفارقت دے دیا تھا۔ اپنی اس قلیل سی آمدنی سے انہوں نے اپنے تمام بچوں کو بہترین تعلیم دلوائی۔ لیکن اصل چیز وہ تربیت تھی جو ابو چاچا نے اپنے بچوں کی کچھ ایسے انداز میں کی کہ جو دیکھے رشک کرے۔ اب پانچوں بیٹیاں شادی کے قابل تھیں۔ بیٹا بہت ذہین تھا اور کسی سرکاری ادارے میں ملازم تھا اور اپنی محنت اور ذہانت کی بدولت بہت جلد ترقی کے مدارج طے کر رہا تھا۔
اور اب میں آپ کو وہ قصہ سناؤں جس کی وجہ سے ابو چاچا مجھے یاد آئی۔
میں چھٹی پر آیا ہوا تھا اور چھٹیا قریب الختم تھیں کہ مجھے ایک سسرالی بزرگ نے اپنے ساتھ ابو چاچا کے ہاں چلنے کی دعوت دی۔ تقریب ملاقات یہ تھی کہ میرے سسرالی عزیزوں میں ایک لڑکے کے لئے رشتہ درکار تھا۔ لڑکے کے والدین انتقال کر چکے تھے، انٹر میڈیٹ تک تعلیم حاصل کی تھی کہ والد کے انتقال کے بعد گھر کی ذمہ داریوں کی وجہ سے مل میں ملازمت اختیار کرلی اور اب پرائیوٹ بی اے کر رہا تھا۔ مل کی نوکری میں کسی حادثے میں اس کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی تھی جس کی جگہ ڈاکٹروں نے پتھر کی آنکھ لگادی دی تھی۔ نوجوان ویسے خوش شکل اور خوش اطوار اور محنتی تھا۔ میں اسے ذاتی طور پر بھی جانتا تھا اور اس کی شرافت اور وضع داری کا گواہ تھا۔
بڑا داماد ہونے کے سبب مجھے بھی ساتھ چلنے کے لئے کہا گیا ۔۔ میرے لئے اس اعزاز سے بڑھ کر ابو چاچا سے سالہا سالہا کی بعد ملاقات کی خوشی زیادہ اہم تھی۔ ٹھیک سے یاد نہیں لیکن شائد، لیاقت آباد یا عزیز آباد کا کوئی دو کمروں کا فلیٹ تھا جس کی ہم نے گھنٹی بجائے۔
“اسلام علیکم، زہے نصیب، آج تو غریب خانے کی قسمت جاگ اٹھی”
یہ الفاظ ابو چاچا کی سب سے بڑی بیٹی کے تھے۔ یاد رہے رشتہ اس کی کسی چھوٹی بہن کے لئے تھا۔ بڑی بیٹی کی نسبت بھی کہیں طے ہوچکی تھی۔
یہ الفاظ کانوں کو خوش گوار لیکن اجنبی سے محسوس ہوئے۔ دراصل یہ انداز گفتگو ہم بمبئی والوں کے ہاں کچھ زیادہ مستعمل نہیں تھا۔ یہ زبان ہمارے ہاں صرف وہی بول سکتے تھے جن کی تربیت ہماری برادری سے دور کہیں بہت اچھے اور نستعلیق ماحول میں ہوئی ہو۔
یہ ایک سادہ سا گھر تھا، گھر کی ہر چیز سے سادگی اور نفاست عیاں تھی۔ ابو چا چا نے مجھے گلے لگایا اور بہت دیر میرے ابا کے ساتھ گذرے دنوں کی بات کرتے رہے۔ میرے چچاؤں کی خیریت دریافت کی اور جب میں نے اپنے سب سے چھو ٹے چچا کے انتقال کے بارے میں بتایا تو گلو گیر ہوگئے۔ کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔ پھر میرے سسرالی بزرگ نے وہ بات شروع کی جس مقصد کے لئے ہم آئے تھے۔
اور اب یہ ٹیپ کا وہ بند ہے جس کے لئے میں نے یہ اتنی لمبی چوڑی رام کہانی چھیڑ رکھی ہے۔ ابو چاچا نے جو کچھ کہا وہ کوئی شیکسپئیر یا نطشے یا ابوالکلام آزاد کے نہیں بلکہ اس شخص کے ہیں جو کبھی ایک معمولی ڈاکیہ تھا اور جس کے سینے پر پانچ بیٹیوں کا پہاڑ سا بوجھ تھا۔ وہ بوجھ جسے صرف بیٹیوں والے ہی جان سکتے ہیں ۔
” دیکھئے بھائی صاحب” ابو چاچا ٹھہرے ہوئے لیکن صاف لہجے میں گویا ہوئے۔
” آپ میرے گھر آئے، میری عزت افزائی کی، میری بیٹیوں کی فکر کی، جس کے لئے میں اللہ سے آپ کے لئے جزائے خیر طلب کرتا ہوں۔ آپ نے بچے کے بارے میں بتایا کہ ایک آنکھ کھو چکا ہے، تو یہ تو اللہ کے کام ہیں ، اس غریب کا کیا قصور، یہ تو شادی کے بعد بھی ہوسکتا تھا۔ لیکن اصل بات میں جو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میرے نزدیک وہ گھر بدنصیب ہے جس میں زر نہیں، لیکن اس سے بد نصیب وہ گھر ہے جہاں علم نہیں، اور وہ بدنصیب ترین گھر ہے جس میں نہ زر ہے نہ علم۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر وہ شخص خوش نصیب ہے جو چاہے دن میں ایک لقمہ کھائے، لیکن وہ لقمہ رزق حلال کا ہو۔”
مجھے آپ کی نیک نیتی اور خلوص کا یقین ہے۔ اگر وہ بچہ اس معیار پرپورا اترتا ہے تو ہماری طرف سے سو بسم اللہ۔ ہاں میں اپنی بیٹی کی رضامندی البتہ ضرور لوں گا۔”
میں مبہوت بیٹھا ان ابو چاچا کی باتیں سن رہا تھا جنھیں مفلسی نے بڑی سفاکی سے برتا تھا۔ کون کہتا تھا کہ بھوک آداب کے سانچے میں ڈھل نہیں سکتی۔ یہ باتیں تو میں نے یونیورسٹیوں کے پروفیسروں سے بھی نہیں سنی تھیں۔
مجھے علم نہیں کہ اس رشتے کا کیا ہوا۔ دوبار دن بعد میری واپسی تھی، مجھے تو اس کے بعد تو یہ ملاقات بھی یاد نہ رہی۔ کچھ سالوں کے بعد جب میں چھٹیوں پر آیا تو کہیں برسبیل تذکرہ مجھے کسی نے بتایا کہ ابو چاچا اب نہیں رہے۔ میں نے بھی سرسری سا سنا اور روایتی سی دعائے مغفرت کی۔ میری زندگی میں اب اور بہت سی چیزیں تھیں، میری دنیا میں اب بہت سے نئے لوگ داخل ہوچکے تھے۔
اور آج نہ جانے کیوں ابو چاچا کی یاد آئی تو ان کی باتیں یاد آئیں۔ زندگی نے انہیں کانٹے دئیے لیکن دنیا کو انہوں نے پھول لوٹائے۔ میں سوچتا ہوں ایسوں کا آخری وقت کتنا آسان ہوتا ہوگا۔ وہ کون سا مال و منال ہے جس کا ان سے حساب لیا جائے گا۔ ہاں کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ کو قرض دیتے ہیں، اور اچھا قرض ۔ شاید یہی وہ ہیں جن کیلئے کتاب کہتی ہے،
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ﴿٢٧﴾ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ﴿٢٨﴾ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ﴿٢٩﴾ وَادْخُلِي جَنَّتِي ﴿٣٠﴾
اے اطمینان والی روح، تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل، اس طرح کہ تو اس سے راضی، وہ تجھ سے خوش۔ پس میرے خاص بندوں
میں داخل ہوجا اور میری جنت میں چلی جا۔

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *