جانے کس منزل کی جانب آج کل جاتے ہیں لوگ۔۔۔شکور پٹھان

ٹھیک سے یاد نہیں کہ میں چوتھی جماعت میں تھا یا پانچویں میں۔ ہمارے گھر میں ریڈیو نہیں تھا۔ اور ہمارے ہی کیا گلی بھر میں بھی صرف ایک ہی گھر میں ٹرانسسٹر ریڈیو تھا۔ اور ریڈیو کے لیے کونسا گھر میں ہونا ضروری ہے۔ ہوا کی لہریں تو سب کی سانجھی ہیں۔ اور پاس پڑوس میں جانا ویسے بھی کونسا مشکل تھا ۔ سارے گھروں کے دروازے کھلے ہوتے اور ہم بلا دھڑک کسی بھی گھر میں گھس جاتے ، کھیلتے کودتے، اودھم مچاتے، ڈانٹ کھاتے، خاموش ہوجاتے اور کچھ دیر بعد پھر وہی اچھل کود شروع ہوجاتی۔

انہی دنوں ایک گانا سننے کو ملتا ” تجھ کو معلوم نہیں ، تجھ کو بھلا کیا معلوم” ۔ شاعری واعری کی سمجھ اب بھی نہیں آتی ہے تو تب کیا آتی جب نیکریں پہنے گھومتے اور ہتھیلی کی پشت سے ناک پونچھتے تھے۔
ایسے ہی ایک دن پڑوس کے ہاں کھیلتے ہوئے گانے کے بول سنائی دئیے

شاعر ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ
ٹھوکریں کھاکر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ

اور سمجھ نہیں آیا شاعر سے کیا مراد ہے۔ کیا کوئی شاعروں کے بارے میں کچھ کہہ رہا ہے یا شاعر کو کچھ کہہ رہا ہے۔
اور جب ریڈیو پر بتاتے کہ “ابھی آپ نورجہاں کو سن رہے تھے، نغمہ نگار تھے حمایت علی شاعر، موسیقار تھے۔۔۔۔۔۔ ” تو حمایت علی شاعر، حبیب جالب، تنویر نقوی، قتیل شفائی، عبید اللہ علیم ، احمد راہی، محسن بھوپالی جیسے نام کوئی  خاص اثر نہیں ڈالتے نہ یہ پتہ ہوتا کہ کون کتنا بڑا شاعر ہے کہ فلمی گیتوں میں  بھی ایسے ہی بڑے نام سنائی دیتے۔ جیسے ” ہوا سے موتی برس رہے ہیں۔”۔جوش ملیح آبادی،  مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ۔۔۔فیض احمد فیض ۔۔یا۔۔اک بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو۔۔۔منیر نیازی۔۔

پھر ایک دن اداکار محمد علی کے بارے میں ایک مضمون پڑھ رہا تھا۔ علی صاحب فلموں میں آنے سے پہلے حیدرآباد ریڈیو سے منسلک تھے۔ حیدرآباد ریڈیو کے ساتھ حمایت علی شاعر اور مصطفٰی قریشی کا بھی ذکر تھا۔۔۔
ٹیلی ویژن تو ان دنوں نیا نیا آیا تھا۔ ریڈیو ہی تفریح کا مقبول ترین ذریعہ تھا یا فلمیں تھیں۔ فلمی رسالے پڑھ پڑھ کر فلموں کی معلومات تو پوری ہوتیں لیکن فلم کبھی کبھار ہی دیکھنے کو  ملتی کہ یہ پیسے کا کام تھا اور یہاں چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں۔ روز کا ایک آنہ ملتا تھا اور فلم کا کم سے کم ٹکٹ چھ آنے تھا۔۔ لیکن چھ آنے والے تماشائیوں کا ذکر کچھ زیادہ عزت سے نہیں کیا جاتا تھا۔

تو انہی فلمی رسالوں میں ایک فلم کا ذکر شروع ہوا جسے ‘ حمایت علی شاعر’ بنارہے تھے۔ اور یہ شاید پہلی بار سننے میں آرہا تھا کہ کوئی شاعر فلم بنا رہا ہے۔ اور شاعر بھی وہ جس کا تخلص ہی شاعر ہے۔
پھر وہ فلم آبھی گئی لیکن ہم اپنی غربت کے مارے اسے دیکھ نہیں سکے۔۔ دوتین سال بعد یہ فلم ٹی وی پر دکھائی گئی۔۔تب میں اپنی دادی اور چچا کے پاس رہتا تھا جنہوں نے میرے کھلنڈرے پن پر نکیل ڈال رکھی تھی۔۔اور شو مئی قسمت کہ جس دن یہ فلم ٹی وی پر آئی اگلے دن میرا امتحان تھا اور دادی کی کڑی ہدایت تھی کہ خبردار جو ٹی وی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ ہوا کہ لہریں تو سانجھی ہوتی ہیں۔ ٹی وی پر فلم آرہی ہو تو بھلا آواز آہستہ کون رکھتا تھا۔ کانوں میں آواز آتی
” خداوندا یہ کیسی آگ سی جلتی ہے سینے میں”

اور یہاں میرے سینے میں آگ سی لگ جاتی ۔۔اور جب لوری کے بول سنائی دئیے” چندا کے ہنڈولے میں ، اُڑن کھٹولے میں ، امی کا دلارا سوئے، نندیا جھلائے تجھے جھولا” تو میں نے رٹا لگاتے ہوئے کتاب ایک طرف پھینکی اور ٹی وی والے کمرے کی طرف دوڑا۔
” یہاں کیوں آئے ہو” ایک ڈپٹتی ہوئی لیکن کمزور سی آواز آئی کہ کمرے میں سب کے چہرے ستے ہوئے تھے اور آنکھیں نم تھیں۔
حمایت صاحب کی فلم ” لوری” اور اس کی لوری بلکہ لوریاں بہت مقبول ہوئیں۔۔حمایت علی شاعر کو اب عوامی مقبولیت حاصل ہوگئی تھی لیکن اب بھی ان کا سب سے بڑا حوالہ فلم ہی تھا۔

اور پھر نو مارچ ۱۹۷۴ کو کراچی کے، کے جی اے گراؤنڈ میں شاید پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مشاعرہ ہوا جس میں صرف تین بڑے نام ، فیض صاحب، عالی جی اور احمد فراز موجود نہیں تھے۔ ان کے علاوہ اس دور کا ہرا بڑا شاعر وہاں تھا جن میں جوش صاحب، حفیظ جالندھری، احسان دانش،صوفی تبسم، ماہر القادری، احمد ندیم قاسمی، سلیم احمد، اقبال عظیم، محشر بدایونی، محسن بھوپالی غرض آپ کوئی سا بھی نام لیں سب موجود تھے۔ ہم چار دوست کورنگی سے یہ مشاعرہ سننے آئے ۔ ان دنوں مجھے آٹوگراف لینے کا شوق چرایا ہوا تھا۔ صدر میں اتر کر مجھے یاد آیا کہ میں اپنی آٹوگراف بک گھر بھول آیا ہوں ۔ ایک جنرل اسٹور سے آٹھ آنے یا روپیہ کی ایک چھوٹی سی جیبی ڈائری خریدی۔ آٹوگراف تو بمشکل چند شاعروں کے ملے البتہ مشاعرے کے اشعار نوٹ کرنے میں آسانی ہوگئی اور آج پینتالیس سال بعد بھی وہ ڈائری میرے پاس موجود ہے جس کے دو صفحات کی تصویر یہاں لگی ہے۔

اور وہاں شاعر حضرات ویسے ہی تھے جیسے کہ ہوتے ہیں یعنی زیادہ تر کرتا پاجامہ، واسکٹ، شیروانی،میں تھے، لمبے بکھرے بال، یا گنجے سروں والے، اکثر کے منہ میں پان، اور بہت سے کیف وسرور کے عالم میں۔
ہمیں جو شعر اچھا لگتا، یا یوں کہیے کہ جو شعر سمجھ آتا اسے لکھ لیتے۔ سمجھ نہ آتا یا بور ہونے لگتے تو ڈائری کو جیب میں ڈال لیتے۔ اتنے میں ایک سوٹڈ بوٹڈ اور خوبصورت سے شاعر اپنا کلام پیش کرنے آئے۔ ان کی آواز بھی پاٹ دار تھی اور دوسروں سے خاصی مختلف۔ لیکن یہ ان کے اشعار تھے جس نے مجھے ڈائری جیب سے نکالنے پر مجبور کیا۔
مجھے اشعار مشکل سے ہی یاد رہتے ہیں لیکن حمایت صاحب کا یہ شعر آج بھی یاد ہے اور موقع بموقع اسے استعمال بھی کرتا ہوں کہ یہ ایسا ہی سچا شعر ہے۔

الزام اپنی موت کا موسم پہ کیوں دھروں
میرے بدن میں میرے لہو کا فساد تھا

اور پھر ایک دن ایسابھی آیا کہ میں حمایت علی شاعر صاحب کے روبرو بیٹھا تھا۔

میرا کالج کا آخری امتحان ہوچکا تھا کہ کالج سے ایک پوسٹ کارڈ موصول ہوا جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ فلاں دن ریڈیو پاکستان کراچی پہنچ کر کوئز مقابلے میں کالج کی نمائندگی کرو۔
یہاں ہمارا یعنی گورنمنٹ کامرس کالج کا مقابلہ ڈی جے کالج سے تھا جس کی ٹیم کی قیادت ہم سب کے آج کے قابل دوست اور اردوڈکشنری بورڈ کے ڈائریکٹر، شاعر، ادیب اور محقق جناب عقیل عباس جعفری کررہے تھے۔ کوئز ماسٹر تھے اپنے وقت کے نہایت قابل احترام اور مقبول استاد جناب حشمت لودھی اور منصفین تھے انشاء جی اور حمایت علی شاعر۔
مقابلہ ختم ہوا۔ وہ بہت اچھےدن تھے ۔ باہمی رواداری اور اخلاق ، مسابقت اور مقابلے کے باوجود قائم رہتے۔ دونوں ٹیمیں آپس میں گھل مل گئیں اور اپنے معزز استاد اور مُنصفین کو گھیر کر بیٹھ گئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم سب کی توجہ کا مرکز انشا جی تھے کہ بطور کالم نگار تو وہ مقبول تھے ہی لیکن ان دنوں “کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا” کی دھوم تھی اور حمایت علی شاعر صاحب سے کم ہی گفتگو ہوئی۔ اور شاید حمایت صاحب بھی یہ سب سمجھتے تھے اور خوش دلی سے محفل میں شریک تھے۔
اور پھر کچھ عرصہ بعد غم ِروزگار نے شعرو ادب، کھیل کود، تفریح ، محفل آرائی سب کچھ بھلا دیا۔ پہلے بحرین پھر سعودی عرب سے ہوتا ہوا میں دوبئی چلا آیا۔

دوبئی میں کچھ عرصہ بعد پتہ چلا کہ یہاں بھی ادبی سرگرمیاں ہوتی ہیں اور سچ بتاؤں جس پائے کے مشاعرے یہاں دیکھے جو جامع کراچی کے سابق طلباء کی انجمن کے زیر اہتمام ہوتے، جس کے منتظم سلیم جعفری مرحوم تھے ، ایسے بہت کم دیکھنے میں آئے۔

ان مشاعروں کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں پاک وہند کے مستند اور معروف شعراء شرکت کرتے۔ ایک سال کسی سینئر شاعر کا جشن منایا جاتا جو اگر ہندوستان کا ہوتا تو صدارت کوئی بڑے پاکستانی شاعر کرتے اور اگلے سال پاکستانی شاعر کا جشن ہوتا تو صدارت ہندوستانی شاعر کرتے۔
نوے کی دہائی کے ابتدائی سال تھے مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کس شاعر کا جشن منایا جارہا تھا۔ یہاں حمایت صاحب کو اٹھارہ بیس سال بعد دیکھا۔ ویسے ہی خوبصورت، خوش لباس، آواز میں ویسی ہی کھنک اور کھرج، بس چہرے کی جھریاں کچھ زیادہ گہری ہوگئی تھیں، سر کے درمیانی بال بھی کم ہوگئے تھے اور کنپٹیوں پر سفید بال پہلے سے زیادہ اور واضح نظر آرہے تھے۔
اپنے مخصوص انداز میں گویا ہوئے۔

مدت کے بعد تم سے ملا ہوں تو یہ کُھلا
یہ وقت اور فاصلہ دھوکہ نظر کا تھا

مجھے یوں لگا جیسے مجھ سے مخاطب ہیں ۔ لیکن بھلا میں کہاں وہ کہاں ۔ وہ اسٹیج پر تھے اور میں سامعین کی آخری صفوں میں بیٹھا انہیں سن رہا تھا۔ اتفاق سے دوچار دن کے بعد کسی سے ملنے دوبئی کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم اندر داخل ہورہے تھے اور حمایت صاحب سلیم جعفری کے ساتھ باہر آرہے تھے۔۔جتنی دیر میں انہیں پہچانا وہ دور جاچکے تھے۔

شاید دودن پہلے فیس بک پر ان کی تصویر دیکھی۔ وہ اپنی سالگرہ کا کیک کاٹ رہے تھے۔ نجانے یہ تصویر اب کی تھی یا پرانی ؟ ایک اطمینان سا ہوا کہ شعر وادب کا ایک اتنا بڑا نام ہم میں اب تک موجود ہے۔ اور آج صبح عقیل عباس جعفری صاحب نے حمایت صاحب کے بیٹے اوج کمال کے حوالے سے خبر دی کہ حمایت علی شاعر اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

اُف یہ دنیا کتنی تیزی سے بڑے لوگوں سے خالی ہوتی جارہی ہے۔

اپنے سائے سائے سر نیہوڑہائےآہستہ خرام
جانے کس منزل کی جانب آج کل جاتے ہیں لوگ

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *