میں بھی کبھو کسُو کا سرِ پُر غرور تھا۔۔۔شکور پٹھان

وَالْعَصْرِ (1) إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ

قسم ہے زمانے کی۔۔یقیناً انسان خسارے میں ہے

ربِّ کائنات نے اپنی بات پر گواہ بنایا تو سب سے زیادہ معتبر چیز کو۔ بھلا وقت سے زیادہ کون گواہ ہوگا، انسان کے عروج و زوال کا۔ وقت جس نے انسان کو، قوموں کو بنتے، عروج پاتے اور پھر بگڑتے دیکھا۔

انسان ، جو بھول جاتا ہے کہ اللہ نے انسان کو کس چیز سے پیدا کیا؟ انسان ، جو یہ بھول جاتا ہے کہ اس پر ایک وقت ایسا بھی تھا کہ وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا۔ اور انسان، خالق نے جسے ایک ذرا سی بوند سے پیدا کیا اور دیکھتے دیکھتے صریحاً وہ ایک جھگڑالو ہستی بن گیا۔

کوئی جاندار ہستی اپنی اوقات ایسے نہیں بھولتی جیسے انسان بھول جاتا ہے۔ پھر وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ ہر چیز کو فنا ہے، وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اسے بھی موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ وہ انجام سے بے خبر ہوجاتا ہے کہ قبر کے گھپ اندھیرے میں حقیر ترین کیڑے مکوڑوں کی غذا بنے گا۔

اور یہ غرور، یہ تکبّر اور یہ رعونت تب زیادہ ہی سر چڑھ جاتی ہے، جب قدرت اسے طاقت، اختیار اور اقتدار بخشتی ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ یہ مالک کی امانت ہے، وہ بھول جاتا ہے کہ جن کے رتبے ہیں سوا ،ان کی سوا مشکل ہے۔ وہ اس اقتدار اور اختیار کو اپنا کمال اور اپنا افتخار سمجھتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو زمین پر خدا سمجھتا ہے۔ اپنا آغاز اسے یاد نہیں رہتا، نہ اسے انجام کی فکر رہتی ہے۔

اسی دنیا میں فرعون بھی تھا جو سمجھتا تھا کہ دریائے نیل اس کے حکم سے بہتا ہے۔ اور یہ بھی کوئی دریا یا سمندر ہی تھا جس نے فرعون اور اس کے لشکر کو ڈبویا۔اسی دنیا میں شدّاد بھی گزرا ہے، جسے اپنی بنائی جنت میں قدم بھی رکھنے  کو نہ ملا۔ اور اسی دنیا میں نمرود بھی تھا جس کا سر پُرغرور ایک حقیر سے مچّھر نے جھکا دیا۔ اسی دنیا میں ہٹلر بھی تھا، مسولیںنی بھی تھا۔ اور نجانے کون کون تھا جسے اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقین تھا۔

اور یہ تو تاریخ کی باتیں ہیں۔ کون جانے کتںی سچی اور کتنی جھوٹی ہیں۔ لیکن اسی دنیا میں ہمارے تمہارے سامنے شہنشاہ ایران بھی تھا۔ رضا شاہ پہلوی، لاکھوں کروڑوں کی تقدیر کا مالک جو خود کو سمجھتا تھا۔ ایک عظیم سلطنت کے سیاہ وسفید کا مالک۔ اور پھر یہی شہنشاہ ایران دربدر خوار ہوتا رہا، جینے کے لیے نہیں، مرنے کے لیے۔ اسے مرنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔ امریکہ جس نے اسے دودھ پلا کر پالا تھا اسے ہُش ہُش، دُر ، دُر کرتا رہا کہ خبر دار میری طرف آیا۔ اور اسے مرنے اور دفن ہونے کے لیے زمین ملی تو کہاں، مصر میں۔ وہ مصر جس کا وہ کبھی دشمن تھا، جس کے صدر ناصر کی تذلیل کا کوئی موقع وہ ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا۔
اور یہیں فرڈیننڈ مارکوس بھی تھا، فلپائن کا مرد آہن، جس کی دولت کا کوئی شمار نہ تھا، جس کی بیوی کے پاس جوتے ہی اتنی مالیت تھے کہ بڑے بڑےخزانے شرما جائیں۔ اور پھر یہی مارکوس ایک کمزور سی عورت کے ہاتھوں ذلیل ہوتا ہے۔ مرجاتا ہے تو دفن ہونے کے لیے ڈھائی ماہ بعد زمین ملتی ہے۔

اور اسی دنیا نے صدام حسین کو بھی دیکھا۔ جس نے اپنی پناہ گاہوں میں لوہے کی ایسی دیواریں بنائی تھیں جن پر ایٹم بم بھی اثر نہ کرتا اور جو ایک کنویں نما غار سے پکڑا گیا اور لاکھوں کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والا معمولی سے فوجی اہلکاروں کے فیصلے کے نتیجے میں دار پر جُھلا دیا گیا۔
اور پھر ہم نے قذافی کو بھی دیکھا۔ اپنی زندگی کی حفاظت کے لیے جس نے ایسے ایسے انتظام کیے تھے ،دنیا حیران ہوتی تھی۔اور جسے موت آئی تو گٹر یا پانی کے پائپوں میں چھپتے ہوئے۔

اور یہ تو ،باہر ملکوں، کی باتیں ہیں۔ گوروں کی پھیلائی ہوئی، اللہ جانے کتنی سچ اور کتنی جھوٹ۔۔ ہمیں تو اپنے گھر کو دیکھنا ہے۔

ہمارے گھر میں ہوش سنبھالا تو سب سے پہلے ایوب خان کو دیکھا۔ پہلے وہ جنّرل ایوب تھے، آخر میں فیلڈ مارشل بھی بن گئے۔ پاکستان پر ایک دو نہیں پورے دس سال حکومت کی۔ ان کے ہوتے نہیں لگتا تھا کہ ہم اپنی یا ان کی زندگی میں کوئی دوسرا صدر بھی دیکھیں گے۔ لیکن پھر ایک دن وہ آیا کہ صدر ایوب کو اپنا بوریا بستر سمیٹ کر اپنے گاؤں ریحانہ کی راہ لینی پڑی۔ اور تخت سے ہٹنے کے کچھ عرصہ بعد جب کسی نے پوچھا کہ سیاست میں کیوں نہیں آتے تو بڑی بے چارگی سے کہا “ ایوب کتّا اب بوڑھا ہوگیا ہے” ۔

لیکن نہ سیکھنے والے بھلا کب سبق سیکھتے ہیں۔ پھر ایک بھٹو صاحب آئے۔ بلا کے ذہین اور قائد اعظم کے بعد عوامی مقبولیت میں سب سے آگے۔ لیکن کرسی پر بیٹھ کر جس چیز کو قابو کرنا سب سے مشکل ہے، وہ ہے دماغ۔ اور دماغ میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ “ یہ میری کرسی سب سے مضبوط ہے”۔ مخالفین کو نت نئے نام دینا، ہر مخالف آواز چاہے اخبار کی ہو یا انسان کی، دبا دینا۔ لاکھوں کے جلسے پر اپنی خطابت کا سحر طاری کردینا۔۔ اسے فکس کردوں گا۔ اسے یوں کر دوں گا۔اسے ووں کردوں گا۔ اور انجام یہ کہ گڑھی خدا بخش کی ایک کوٹھڑی میں نماز جنازہ کے لیے بمشکل پندرہ  بیس آدمی، اور وہ بھی خاندانی نوکر چاکر۔

اور بھٹو کو اس انجام سے دو چار کرنے والا ضیاءالحق۔۔ پاکستان پر سب سے طویل عرصے حکومت کرنے والا۔ جب ایک عالم دین اپنی فہم دین کے مطابق مرد اور عورت کے آزادانہ اختلاط کی مخالفت کرتا ہے تو اسلامی نفاذ قائم کرنے کا دعویٰ کرنے والا یہ آمر کہتا ہے “ وہ کون ہوتے ہیں کچھ کہنے والے ؟ فائنل اتھارٹی میں ہوں”۔ اور بھول جاتا ہے کہ فائنل اتھارٹی اللہ اور اس کا قانون ہے۔ اور اس فائنل اتھارٹی کا یہ حشر ہے کہ میت کے تابوت میں صرف ایک دانت ہے جسے اس کی میت سمجھ لیا گیا ہے۔

لیکن یہ نشہ ہی ایسا ہے کہ ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ جو اختیار اسے ملا ہے وہ قبر تک ساتھ رہے گا۔ ضیاء کے بعد ایک اور آمر مشرف آتا ہے، جو ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہے۔ پچاس لوگوں کی موت پر ہوا میں مکے لہرا کر اپنی کامیابی کا اعلان کرتا ہے۔ اور کسی سے نہ ڈرنے والے کا حال یہ ہے کہ ڈر کے مارے عدالت جانے کی بجائے ہسپتال جا گھستا ہے، جسے اس کے پیٹی بھائی بچا کر ملک سے باہر لے جاتے ہیں اور آج وہ دوبئی کے ہسپتال میں حسرت ویاس کی تصویر بنا موت کا انتظار کررہا ہے۔

اور اس مشرف کے تابوت میں پہلی کیل ٹھونکنے والا جسٹس افتخار چوہدری، عوامی تائید سے اپنے منصب پر واپس آنے والا اور پھر اپنی اوقات بھول جانے والا۔ پورا پاکستان کبھی جس کے پیچھے تھا، آج کوئی اس کا نام بھی نہیں لیتا۔
اور اس مطلق العنان منصف سے کوئی سبق نہ سیکھتے ہوئے ایک اور منصف اپنے آپ کو خدائی کے عہدے پر فائز کردیتا ہے۔ ہر کسی کی پگڑی اچھالنا، انصاف سے پہلے ملزم کی توہین کرنا جس کا معمول تھا جو منصف کی بجائے فریق بن جاتا تھا۔ حسین نقی جیسے معمر حرّیت پسند کی تضحیک کرنے والا، ایک چھوٹے درجے کے منصف کی بھری عدالت میں تذلیل کرکے اس کا موبائل فون رعونت سے دور پھینکنے والا۔۔ آج اپنے منصب پر نہیں ہے تو طعن و تشنیع کا نشانہ ہے اور اسے جواب دینے کا یارا بھی نہیں۔پتہ نہیں کہاں منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔

اور ایک نام نہاد عالم دین ہے۔ نجانے کس کے اشارے پر سیاست نہیں ریاست کا نعرہ لے کر دور دیش سے آتا ہے۔ عالیشان اور مزئین کنٹینر پر چڑھ کر حکام کو ہدایات جاری کرتا ہے۔ آدھے گھنٹے میں یہ کردو۔ دس گھنٹے دیتا ہوں، یہ ہوجانا چاہیے۔ کسی کو اسمبلی میں نہ جانے دو۔ ٹی وی پر قبضہ کرلو۔۔۔اور اب یہ حال کہ اپنی اوقات سمجھ آگئی اور خود ہی کنارہ کرلیا۔

تکبر اور رعونت کا یہ حشر ہم دن رات دیکھتے ہیں لیکن طاقت کا نشہ آنکھوں پر پردے ڈال دیتا ہے۔ دور کیوں جائیں ، ابھی کل تک ہماری پیاری حکومت کے ترجمان اپنے مقابل کی تذلیل، بدتمیزی، بد تہذیبی کو اپنا سرمایہ افتخار جانتے تھے۔ اپنے ہوں یا پرائے، کسی کی عزت ان کی زبان سے محفوظ نہیں تھی اور ہمارے سامنے ہی اونچا اونچا بولنے والے فواد چوہدری، فیاض اعوان اور شہباز گل قصہ پارینہ بن گئے۔

اور ہمارا پیارا ، لاڈلا وزیراعظم، جس کی حکومت چند ابن الوقت، لالچی اور مفاد پرست سیاستدانوں کی بیساکھی پر قائم ہے، جنہیں نوٹ دکھا کر اُن  کا موڈ بنایا گیا ہے لیکن کرسی پر بیٹھ کر مقابل کو “ میں یہ کردوں گا، رُلادوں گا، چیخیں نکلوادوں گا، “ قسم کی بڑھکیں ہانکتے ہوئے بھول جاتا ہے کہ ایک شخص ذوالفقار علی بھٹو تم سے کہیں زیادہ پڑھا لکھا، ذہین، زیرک، مقبول اور محبوب تھا۔ جو تمہاری ہی طرح یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ اس کرسی سے اسے کوئی نہیں اتار سکتا۔لیکن اسی “ میں “ نے اسے تختہ دار پر پہنچایا اور چارپائی پر پڑی جس کی میت کی نماز صرف پندرہ لوگوں نے پڑھی تھی۔

فاعتبروا يا أولي الألباب

فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصار

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *