یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے۔۔شکور پٹھان

ـــــــــــــــــــــوہ دونوں سب سے نچلی سیڑھی پر بیٹھی تھیں ۔ مجھے قریب سے گزرتا دیکھ کر ذرا سا ترچھا ہوگئیں لیکن اپنی باتوں میں مگن رہیں۔
پتہ ہے؟ پہلی والی نے تھوک نگلتے ہوئے بڑے معتبر انہ انداز میں دوسری سے کہا۔
پتہ ہے؟۔اس نے دہرایا
“ ہماری امی کہتی ہیں ۔۔اللہ ۔ محمد۔۔قائداعظم”۔۔ یہ کہہ کر اس نے گود میں لی ہوئی گڑیا کو سینے سے بھینچ کر دونوں انگلیاں چوم کر آنکھوں سے لگائیں ۔
“ آمین” دوسری نے بھی انگلیاں چوم کر آنکھوں سے لگائیں۔۔گویا کہہ رہی تھی کہ مجھے بھی پتہ ہے کہ ایسے موقع پر کیا کرتے ہیں۔
میرے لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ آئی لیکن میں ان کے پاس سے گزر کر سڑک پار کرنے پر متوجہ تھا۔ سڑک پار کرکے میری نظر ایک بار پھر ان کی جانب مڑ گئی۔ پہلی نے ایک پھولدار فراک پہنا ہوا اور دوسری شلوار قمیض میں تھی۔ دونوں کی عمر شاید چار یا پانچ ، یا شاید چھ سال تھی۔
مجھے ایسی چھوٹی، ننھی سی گڑیا ئیں بہت پسند ہیں۔ بچے سارے ہی خدا کی رحمت ہوتے ہیں لیکن گھر میں رونق بیٹیوں سے ہی ہوتی ہے۔ بچیوں کے لیے میرے دل میں بہت سا پیار امڈ آیا، ساتھ ہی ان کی باتیں یاد آئیں۔
“ اللہ۔۔محمد۔۔قائداعظم”
“ اللہ ۔ محمد۔۔قائد اعظم”
بظاہر بے معنی اور بے ربط سی بات تھی۔ بچی کے دل میں پتہ نہیں کیا چل رہا تھا۔ اگر کسی بڑے نے ایسی بات کہی ہوتی تو شاید اس پر توہین کا الزام لگ جاتا۔۔ بھلا خالق کائنات اور کائنات کی عظیم ترین ہستی کے ساتھ مٹی کے بنے، گوشت پوست والے انسان کا کیا ذکر؟

گلی کے نکڑ سے مڑ کر اب میں بازار کی جانب چل رہا تھا۔ بچیاں کب کی نظر سے اوجھل ہوچکی تھیں۔ بچیوں کے ننھے سے ذہن میں تقدیس کا جو تصور تھا ، جن ہستیوں کا احترام انہیں سکھایا گیا ہوگا ان میں قائداعظم کا نام یقیناً کہیں نہیں ہوگا۔ میں سوچتا چلا جارہا تھا۔

یہ بچیاں شاید ابھی “ پکی پہلی” میں آئی ہونگی۔ انہوں نے کون سا “ مطالعہ پاکستان “ پڑھا ہوگا۔ انہیں کیا پتہ کہ قائد اعظم نے کس طرح پاکستان حاصل کیا ہوگا۔ ان بچیوں کو کو کیا، مجھے بھی اور میرے جیسے بہت سوں کو نہیں علم کہ بابائے قوم نے کیا کچھ ہمارے لیے کیا ہوگا !۔ وہ تو بس ریڈیو اور ٹی وی پر بابا کا نام سنتی ہونگی، تصویر دیکھتی ہوں گی۔ اخبارات اور کتابوں میں بابائے قوم کی تصویریں ان کی نظروں کے آگے پیچھے ہوتی ہوں گی۔ لیکن ایک بات یقینی ہے کہ کسی نے زبردستی انہیں پکڑ کر قائد کا احترام اور محبت زبردستی ان کے دل میں نہیں بٹھائی ہوگی۔
اور یہ بچیاں ہی نہیں ، بہت سے بڑے بھی شاید قائد اعظم کا نام نہیں جانتے ہونگے۔ ان کے نزدیک ان کا نام ہی قائداعظم ہے۔ قائداعظم ٹرافی، نشان قائداعظم ، شاہراہ قائداعظم، قائد اعظم میڈل۔۔

قائداعظم، مادر ملت، شہید ملت اور اس طرح کے القابات کسی نے زبردستی مسلط نہیں کیے۔ فاطمہ جناح کو صرف فاطمہ جناح پکارنے سے یوں لگتا ہے کہ اپنے کسی بزرگ کو نام سے پکار رہے ہیں۔ مادر ملت، یا محترمہ فاطمہ جناح پکارتے ہوئے ذہن میں ایک پاکیزہ ، متبرک سا رشتہ ابھرتا ہے۔ اسی طرح ایک عام پاکستانی کبھی محمد علی جناح کا نام قائد اعظم کے سابقہ کے بغیر نہیں لیتا۔ البتہ ان بونے دانشوروں کی بات اور ہے جو “ جناح نے یہ کیا، جناح نے یہ کہا، “ کہہ کر اپنا قد بڑھانے کی کوشش میں مزید چھوٹے اور پست ہوجاتے ہیں۔

بابائے قوم سے یہ عقیدت ، یہ محبت کیوں اور کیسے ان پاکستانیوں کے دل میں پیدا ہوئی جو کہ انتہا درجے کے قدامت پسند، راسخ العقیدہ، سادہ سے مسلمان ہیں ۔ مغربی شعائر ، انگریزی طرز زندگی جن کے نزدیک عموماً ناپسندیدہ ہوتی ہے۔ وہ پاکستانی جو سوٹ بوٹ ، ٹائی اور ہیٹ پہننے والوں کو کہتے ہیں کہ تم تو پورے کرشٹان ہوگیے ہو۔ ایک ایسے شخص کو جو نہ تو ڈھنگ سے ان کی زبان بول پاتا تھا، نہ ان جیسے کپڑے پہنتا تھا نہ جس کا رہن سہن طرز زندگی ایک عام پاکستانی ( اس وقت کا عام ہندوستانی مسلمان) کی طرح کا تھا۔

یہ رشتہ ، یہ الفت، یہ احترام قائد کا ہمارے دلوں میں کیوں اور کیسے پیدا ہوا ہوگا؟۔ میں اس سوال پر غور کرتا چلا جارہا تھا۔ قائد کی شبیہ میرے دل و دماغ میں گردش کررہی تھی۔ قائد کی باتیں ، خطابات، اقوال ذہن میں یہاں وہاں گونج رہے تھے۔ سوال کا جواب تو نہیں مل رہا تھا لیکن ایک بات سمجھ آرہی تھی کہ مسلمانان ہند کا قائد پر بے پناہ اعتماد کس سبب تھا۔

اور وہ یہ تھا کہ یہ شخص اپنے موقف میں بالکل بے ریا اور سچا ہے۔ اس کی بات میں کوئی کھوٹ نہیں۔ یہ ان سکہ بند سیاستدانوں کی طرح نہیں جو جھوٹے خواب دکھاتے ہیں۔ جن کا اپنا رہن سہن شاہانہ ہوتا ہے لیکن غریب کے سامنے مگرمچھ کے آنسو بہا کر ان سے ہمدردی جتلاتے ہیں۔ جنہوں نے اپنے آپ کو عوامی دکھانے کے لئے اپنا سوٹ بوٹ ترک کرکے دھوتی، لنگوٹی، پاجامہ کرتا اور شلوار اور اچکن اپنا لی۔ میرے بابا کا ظاہر و باطن ایک جیسا تھا۔ منافقت، ڈرامے بازی، ریا کاری ان سے کوسوں دور تھی۔

اور کیا ہی عجیب بات کہ ایک نحیف ونزار، منحنی اور دھان پان سے شخص میں قوم کو ہمالیہ سے بلند ارادہ اور لوہے جیسی سختی نظر آتی تھی۔ انہیں یقین تھا کہ عزم وہمت کا یہ کوہ گراں ان کی جدوجہد ان کی آرزؤوں اور امیدوں کا پاسبان ہے اور وہی انہیں راستہ دکھائے گا اور وہی منزل مقصود تک پہنچائے گا۔ اور اس نے یہ سب کر دکھایا۔

قائد کو دو محاذوں پر لڑنا تھا۔ انگریز سے آزادی لینی تھی اور ہندوؤں سے الگ وطن لینا تھا۔ ایک طرف انگریز جیسے گرگ باراں دیدہ، دوسری طرف گاندھی جیسا ذہین اور مقبول لیڈر۔ گاندھی جی کو تو نہرو، آزاد اور پٹیل جیسے قدوقامت کے ساتھی میسر تھے، قائد کے ساتھ تو ان کی قامت کا کوئی بھی لیڈر نہیں تھا۔ لیاقت علی خان، سردار نشتر، راجہ صاحب محمود آباد یہ سب بہت بڑے رہنما تھے لیکن عوام میں ان کی جڑیں اور مقام اس طرح نہیں تھا جس طرح مولانا آزاد اور پنڈت نہرو کا تھا۔

اور میں قائد کے بارے میں کیا بتاؤں ایسی کون سی بات ہے جو کتابوں میں نہیں لکھی یا ایسی کون سی بات ہے جو مجھے معلوم ہے اور آپ کو نہ معلوم ہو۔ میں تو صرف اس سحر کی بات کرنا چاہتا ہوں کہ جو کہ قائد کی تصویر دیکھ کر، ان کی تقریر سن کر، ان کی تاریخ پڑھ کر مجھ پر طاری ہوجاتا ہے۔ قائد کے بارے میں تو میرا ایسا کوئی مطالعہ بھی نہیں نہ ہی تحریک آزادی کا مجھے پوری طرح علم ہے۔ مجھے تو بس اس دبلے پتلے انسان کی پروقار شخصیت مرعوب کردیتی ہے۔

شیروانی کے بارے میں ہمیشہ کہتا ہوں   کہ ہر شخص پر جچتی ہے ۔ لیکن شیروانی میں جس قدر جاذب نظر میرے قائد نظر آتے تھے لگتا ہے شیروانی ایجاد ہی ان کے لیے ہوئی تھی۔ اور شیروانی ہی کیا، قائد کی کوئی تصویر شیروانی یا سوٹ کے بغیر نہیں دیکھی۔ جامہ زیبی میرے قائد پر ختم تھی۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ قائد ہمیشہ شاندار سوٹ، قیمتی جوتوں، بہترین ٹائیوں میں ہوتے۔ قائد نے کبھی دوسرے لیڈروں کی طرح صرف عوام کو دکھانے کے لئے لنگوٹ یا شلوار قمیض نہیں پہنے۔

میں تو ان کی ہر ہر ادا پر مرتا ہوں ۔ان کے ہونٹوں میں دبا سگار، ان کا سگریٹ پینے کا انداز، ان کے آکسفورڈ شوز، علیحدہ سے کالر لگانے والی قمیضیں، ان کا مشہور عالم “اکا” ( ایک آنکھ کا چشمہ) قیمتی کاریں، رہائش گاہیں جن کی ایک ایک اینٹ ان کی اپنی محنت اور ذہانت کی کمائی سے لگی تھی۔ اپنے سعودی عرب کا قیام کے دوران میں نے قائد کی نقل میں ان کا پسندیدہ “ کریون اے” سگریٹ پینا شروع کیا۔ لیکن قائد بننا اتنا آسان بھی نہیں ۔ کچھ دنوں میں ہی چھوڑنا پڑا کہ ایک تو وہ کچھ زیادہ سخت، دوسرے سگریٹوں سے مہنگا اور کم یاب تھا اور ہر جگہ ملتا بھی نہیں تھا۔ پھر یار دوست ایک غیر مانوس برانڈ دیکھ کر “ ذرا دکھانا” کہہ کر سارے سگریٹ ختم کردیتے۔

قائد کی وہ تصویر آپ نے دیکھی ہوگی ، منہ میں سگار لئے بلیئرڈ اسٹک لیے گیند پر نشانہ لگاتے ہوئے۔ سنا ہے کہ وہ گیند پر ٹھوکر لگانے سے پہلے دائیں بائیں گھوم کر ہرزاویے سے جائزہ لیتے پھر سوچ سمجھ کر نپے تلے انداز میں گیند کو ضرب لگاتے۔ اور یہی انداز ان کی سیاست میں تھا۔ معاملے کے ہر پہلو کو اچھی طرح چھان پھٹک کر، اس کے عواقب پر غور کرکے، اچھی طرح مطمئن ہونے کے بعد کوئی رائے اپناتے اور پھر اس پر سختی سے قائم رہتے۔ ان کا ہر جملہ ایک مکمل قول ہوتا۔

اور یہ سگریٹ ہی تھی جو قائد کی زندگی کے خاتمے کا باعث بنی۔ بقول شخصے، قائد کی زندگی پانی کے بلبلے کی طرح تھی لیکن دنیا کے سامنے وہ بھنور بن کر جیتے تھے۔ کسی کو ان کی بیماری کا علم نہیں تھا۔ ماؤنٹ بیٹن ہاتھ ملتا ہی رہ گیا کہ کاش اسے قائد کی بیماری کا علم ہوتا تو وہ ان کے مرنے کا انتظار کرلیتا اور ہندوستان تقسیم ہونے کی نوبت نہ آتی۔ لیکن قائد نے اپنا کام پورا ہونے تک کسی کو اپنی کیفیت کی بھنک بھی نہ پڑنے دی۔

قائد کی شخصیت کو سمجھنا ہو تو نہ تو اسٹینلے وولپرٹ کو پڑھیں نہ صفدر محمود کو۔۔اصلی جناح کو جاننا ہو تو ان کے ڈرائیور اداکار آزاد کی نظروں سے دیکھو۔ منٹو نے جس طرح آزاد کی زبانی میرے قائد کا نقشہ کھینچا ہے وہ بار بار پڑھ کر بھی جی نہیں بھرتا۔ منٹو جیسا اکل کھرا اور منہ پھٹ ادیب بھی قائد کا دیوانہ نظر آتا ہے۔

قائد کی زندگی ایک لگی بندھی، با اصول اور ڈسپلن کی پابند زندگی تھی۔ وہ اسراف پسند نہیں تھے لیکن روز کے گھر خرچ کے لیے وہ سو روپے آزاد کے حوالے کرتے جن میں سے کبھی پچاس خرچ ہوتے تو کبھی چالیس تو کبھی ساٹھ ، لیکن قائد نے کبھی بقیہ پیسے واپس نہیں مانگے۔ نوکروں کے ساتھ ان کا رویہ انتہائی شفیق ہوتا اور ان کا یہی انسانی پہلو ہے جو مجھے ان کا گرویدہ بنائے رکھتا ہے۔ ان کی ایک ہمشیرہ “ رحمت جناح” کے مالی حالات اچھے نہیں تھے۔ قائد اکثر ان کے گھر جاتے ساتھ ہی ایک پیکٹ میں نئے کپڑے اور ضرورت کی چیزیں لے جاتے۔ باقاعدگی سے ہر ماہ ایک رقم بند لفافے میں آزاد کے ہاتھ سے رحمت بائی کے گھر بھیجتے۔ یہ وہ شخص تھا جو دنیا کی نظر میں سخت گیر اور انگریز نما شخص تھا۔

ہمارے لیے تو پاکستان جیسی نعمت چھوڑ گئے اور اپنی ذاتی جائیداد سے علیگڑھ یونیورسٹی، اسلامیہ کالج پشاور، انجمن اسلام اسکول بمبئی اور سندھ مدرستہ السلام کراچی کے لیے تر کہ چھوڑ گئے۔ جاتے جاتے بھی بابا کو قوم کی تعمیر اور اس کے بچوں تربیت کی فکر تھی۔
مجھے یاد ہے کہ کراچی کے کچھ سینماؤں میں فلم شروع ہونے اور قومی ترانہ بجنے سے پہلے اشتہارات وغیرہ ختم ہونے پر قائد کی تصویر دکھائی جاتی جس کے نیچے شعر لکھا ہوتا
نورِ حق شمع الہٰی کو بجھا سکتا ہے کون۔
جسکا حامی ہو خدا اسے مٹا سکتا ہے کون

وہ تماشائی جو قومی ترانے پر کبھی کھڑے ہوتے اور کبھی کھڑے نہ ہوتے، قائد کی تصویر دیکھ کر بے اختیار تالیاں بجاتے۔ قومی ترانے کے لیے تو عبدالماجد کی آواز میں تلقین سنائی دیتی
“ اب آپ اپنا قومی ترانہ سنئیے۔ آپ سے التماس ہے کہ ترانے کے احترام میں خاموش اور با ادب کھڑے رہیں “۔
لیکن قائد کی تصویر کے لئے ایسی کوئی تلقین نہ کی جاتی۔ یہ رشتہ ، یہ محبت، یہ احترام وہی تھا جو سیڑھی پر بیٹھی ان بچیوں کے دل میں تھا۔ جنہوں نے نے بڑے احترام سے انگلیاں چوم کر آنکھوں سے لگائی تھیں۔

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *