یہ میرا چمن ہے میرا چمن۔۔۔۔۔شکور پٹھان

خالد کے کمرے میں یہ خوش باش، ہنستے مسکراتے روشن چہرے والے لڑکے فرش پر سر جوڑے بیٹھے باآواز بلند گا رہے ہیں۔ یہ کسی ترانے کی ریہرسل ہے۔ ان سب کی ہم آہنگی کمال کی ہے اور کیوں نہ ہو۔ نجانے کس زمانے سے وہ یہ گیت گاتے آرہے ہیں۔

یہ میرا چمن ہے میرا چمن میں اپنے چمن کا بلبل ہوں۔

ان لڑکوں کا جوش وخروش اب انتہا کو پہنچ رہا ہے ترانہ اپنے اختتامی بولوں پر ہے

جو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گا
ہر جوئے رواں پر برسے گا، ہر کوہ گراں پر برسے گا
ہر سروسمن پر برسے گا، ہر دشت ودمن پر برسے گا
یہ ابر ہمیشہ برسے گا، یہ ابر ہمیشہ برسے گا، یہ ابر ہمیشہ برسے گا، برسے گا، برسے گا، برسے گا۔

مجھے اپنے ہاتھوں کا رواں کھڑا ہوتا محسوس ہورہا ہے۔ پہلی بار یہ ترانہ سن رہاہوں لیکن ترانے کے بول اور گانے والوں کا جذبہ ایک عجیب سی کیفیت پیدا کررہے ہیں۔ترانہ ختم ہوا اور اب ایک دوسرے سے پوچھا جارہا ہے کہ شیروانی تیار ہے؟ تمہارے پاس ترکی ٹوپی ہے؟ ۔ ان لڑکوں کا جنوں دیدنی ہے۔ یہ سترہ اکتوبر کی تیاری کررہے ہیں جب یہ دوبئی کے کسی ہوٹل میں جمع ہونگے اور سر سید ڈے منائیں گے۔


سر سید ڈے ان کے لئے عید سے کم نہیں۔ یہاں نہ صرف علی گڑھ بلکہ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طالبعلم جمع ہوں گے۔ ان میں سے بہت سے ایک دوسرے کو نہیں جانتے ہوں گے۔ کسی نے ایک دوسال پہلے ہی تعلیم ختم کی ہوگی تو کوئی پچاس سال پہلے کے فارغ التحصیل ہوں گے۔ لیکن ان میں کوئی اجنبیت نہیں ہوگی۔ ان کی باتیں، ان کے لطیفے، ان کی شرارتیں ایک جیسی ہونگی ۔ یہ سب علی گڑھ کی روایت سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ روایات جو برس ہا برس سے قائم ہیں اور علی گڑھ والوں کی پہچان ہیں۔
علیگی روایات یا علیگڑھ اسپرٹ سے یہ میرا پہلا تعارف تھا۔

خالد خان مجھ سے کئی سال چھوٹا ہے۔ یہ دس سال کے بعد کوئی مسلمان ملازم میری کمپنی میں آیا ہے۔ ایک تو مسلم دوسرے اردو بولنے والا، بھلا میں اس سے دور کیسے رہ سکتا تھا۔ اس دفتر میں اکثریت جنوبی ہند کے لوگوں کی ہےجو ملیالی یا تامل بولتے ہیں۔ ایک سردار جی ہے جس سے ہندی اور پنجابی میں دل کی باتیں ہوجاتی ہیں لیکن ایسا کوئی نہیں جو ہواؤں میں خوشبو گھول سکتا ہو، یعنی اردو بول سکتا ہو۔ اور اب یہ خالد آگیا ہے، خوب گذرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔
خالد علی گڑھ کا رہنے والا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا پڑھا ہوا ہے۔ خالد کی زبان سے مجھے اودھ اور دلی کی ہواؤں کی خوشبو آتی ہے۔ اتنی خوبصورت اور خالص اردو کراچی میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے کے باوجود میں نے پہلے نہیں سنی۔
” علی گڑھ میں آپ کو ٹھیلے والا، پان والا بھی گریجویٹ ملے گا” خالد بتاتا ہے اور مجھے یقین آجاتا ہے۔ میرے سامنے خالد خان جو موجود ہے۔ خالد کا گھر بھی میرے قریب ہی ہے اور ہمارا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانابھی ہے۔ مجھے خالد کے یہاں مزہ آتا ہے۔ اس کے علی گڑھ والے دوست بڑے مزے کی باتیں کرتے ہیں ۔ سب کے سب خوش مزاج، حاضرجواب، بذلہ سنج اور تمیز دار۔

خالد کی طبیعت میں ایک بے چینی سی رہتی ہے، کچھ کرنے کی، آگے بڑھنے کی۔ پھر یہی ہوا، پہلے تو خالد نے میری کمپنی چھوڑی پھر دوبئی ہی چھوڑ دیا اور امریکہ چلا گیا پڑھنے کے لئے۔ وہاں سے بہت سارا پڑھ کر واپس دوبئی آگیا۔ شادی بھی کرلی اور بچے بھی ہوگئے۔ لیکن اب میری اس کی ملاقات صرف فیس بک پر ہوتی ہے۔
اس بیچ چند اور علیگیوں سے ملاقات ہوئی۔ مجتبی علی خان، بھوپال کے رہنے والے لیکن علی گڑھ کے پڑھے ہوئے۔ ویسے ہی نستعلیق، شعرو ادب کا بہترین ذوق، برملا اور برجستہ اشعار کا خزینہ رکھنے والے۔ دوسرے جاوید خان، علی گڑھ کے ہی رہنے والے اور وہیں کے پڑھے ہوئے۔ بہترین دوست، صاف شفاف زبان بولنے والے اور لذیذ کھانوں سے دوستوں کی خاطر تواضع کرنے والے۔

اس سے پہلے کراچی میں علیگیوں کو بس دور سے ہی دیکھا تھا۔ جنگ اخبار میں اکثر انجمن طلبائے قدیم علی گڑھ یونیورسٹی کی خبریں چھپتیں۔ کے ڈی اے کے منتظم اعلیٰ زیڈ اے نظامی کے بارے میں سنتے کہ وہ بھی علیگ ہیں۔ پھر انہوں نے سر سید یونیورسٹی قائم کرکے اس بات کو ثابت بھی کیا کہ وہ علی گڑھ اور سر سید کی روایات کے امین ہیں۔ یا پھر کبھی کبھار اردو یا سیارہ ڈائجسٹ میں علی گڑھ والوں کے لطیفے اور واقعات سنتے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، مسلم قوم کے لئے سر سید کا تحفہ جاریہ ۔ جسے قائد اعظم نے مسلم لیگ کا اسلحہ خانہ Arsenal قرار دیا تھا۔ جون ایلیا نے غلط نہیں کہا تھا کہ پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت کا نتیجہ ہے۔ اگر شرارت ایسی ہوتی ہے تو ایسی شرارت پر سینکڑوں ہزاروں بار قربان۔ شرارت ، جس نے ایک قوم کو عظمت وشو کت کی راہ پر گامزن کیا۔

کیا ہوتا تو کیا ہوتا، اور کیا نہیں ہوتا تو کیا ہوتا، یہ تو اللہ ہی جانتا ہے، لیکن میرا دل کہتا ہے کہ علی گڑھ نہ ہوتا تو پاکستان نہ ہوتا۔ علی گڑھ نہ ہوتا تو میں آج فیس بک پر آپ سے باتیں نہ کررہا ہوتا۔ اور علی گڑھ نہ ہوتا تو آج پاک وہند کے مسلمان یوں سراونچا کرکے نہ جی رہے ہوتے۔ ذرا گھر سے نکل کر دیکھو۔۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کو دیکھو اور ہند وپاک کے مسلمانوں کو دیکھو۔ فرق صاف ظاہر ہوجائے گا۔
اور جب علی گڑھ والوں سے علی گڑھ کی باتیں سنو تو رشک و حسد کی عجیب سی کیفیت ہوتی ہے۔ شاید ہی ہندوستان اور پاکستان کے کسی تعلیمی ادارے کی ایسی شاندار روایات ہوں گی۔ وہی روایات جنہیں اسپرٹ آف علی گڑھ کہا جاتا ہے ۔ اور علی گڑھ کی اسپرٹ کیا ہے یہ وہیں کے استاد سر ضیاء الدین احمد نے اس خوبصورت جملے میں سمودیا یعنی Rising to the occasion .
اور یہی Rising to the occasion ہے جس نے تحریک پاکستان کو جلا بخشی، جس نے اپنے خون پسینے سے اس عظیم تحریک کی آبیاری کی۔ علی گڑھ پاکستان میں نہیں ہے لیکن پاکستان علی گڑھ کی ہی وجہ سے ہے۔
اور ذرا تصور کریں کہ کیا منظر ہوتا ہوگا۔ حیدرآباد دکن، دہلی، لکھنؤ، لاہور، پشاور، ملتان، بنگال یہاں تک کہ افغان نوجوان، سیاہ شیروانیوں۔ ترکی ٹوپی، قراقلی ٹوپی، کلاہ، پگڑی اور دستار میں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، جمع ہورہے ہوں ، مسلم قوم اور امت کی عظمت اور سربلندی کی کوششوں کے ساتھ ہی شعرو ادب کا چرچا ہورہا ہے،کرکٹ ہاکی ٹیم کے میچوں اور دوروں کی باتیں ہورہی ہیں، ڈرامے اور موسیقی کے پروگرام ہورہے ہیں۔ اور پھر سب سے بڑھ کر ان کی رنگ برنگی شرارتیں ، چھیڑخانیاں۔ اساتذہ کو یونیورسٹی کے ملازمین اور ساتھی طلباء کو نت نئے خطابات سے نوازنا۔ اور کہتے ہیں کہ نام رکھنے اور خطاب دینے کی روایت کا آغاز بھی سر سید نے ہی کیا جو اپنے پستہ قد گٹھے ہوئے جسم کے انتہائی محنتی رفیق کار منشی نجم الدین کواپنا ” ٹٹو” کہتے تھے۔
جس دن کچھ زیادہ ہی چوڑے پاجامے والے حسرت موہانی داخلے کے لئے بستر اور صندوق کے ساتھ سرخ غلاف میں ڈھکا پاندان لئے یکے سے اترے تو سنجیدہ طبیعت سجاد حیدر یلدرم بھی فقرہ چست کئے بنا نہ رہ سکے کہ دیکھو خالہ جان آرہی ہیں اور حسرت نے اس خطاب کا برا نہیں منایا کہ یہ علی گڑھ کی روایت تھی کی جو خطاب، جو لقب دیا جائے اسے دل جان سے قبول کیا جائے۔
بتانے والے بتاتے ہیں کہ یکہ علیگڑھ کی سرکاری official سواری تھی۔ جس دن کوئی طالبعلم چھٹیوں سے واپس ہوسٹل آتا تو اپنے ساتھ آٹھ دس دوستوں کے لئے طرح طرح کے کھانے بھی لاتا اور یکے سے اترتا تو ساتھی طالبعلم اپنے دوست کے بجائے کھانوں پر ٹوٹ پڑتے کہ خوش خوراکی بھی وہاں کی اعلی روایات میں سے ایک تھی۔
اور جو وہاں کی رہائشی زندگی ہے ، بقول شخصے روایتوں کے حسین پھولوں سے گندھا ہوا خوش رنگ ومعطر گجرا، جس کی ہر لڑی اپنی جگہ نکھری ہوتی ہے۔ اس رہائشی زندگی کا ایک اہم کردار ‘ دھوبی ” بھی ہے جس کا حال رشید احمد صدیقی نے خوب بیان کیا ہے۔
میرا دوست خالد کھیلوں کا شوقین ہے، علی گڑھ میں رائفل شوٹنگ، کشتی رانی وغیرہ میں تو حصہ لیتا ہی رہتا تھا، کرکٹ اور ٹیبل ٹینس کا بھی شوقین ہے اور میری بلڈنگ میں جو ٹیبل ٹینس کی ٹیبل کئی دنوں سے بے کار ایک کونے میں کھڑی ہے، اسے اغوا کرنے کے چکر میں ہے، اور اگر علی گڑھ ہوتا تو شاید یہ کام اب تک ہو بھی چکا ہوتا کہ آس پاس کے باغات سے پھل اڑا لینا بھی علی گڑھ کی روایات کا حصہ ہے۔
کھیل علی گڑھ کا اٹوٹ انگ ہیں۔ کہتے ہیں جب علی گڑھ کی ٹیم کرکٹ میچ کھیل رہی ہوتی تو سر سید میدان کنارے جاءنماز بچھائے لڑکوں کے کامیابی کی دعا کررہے ہوتے۔ کرکٹ اور ہاکی اور دیگر کھیلوں کے بڑے بڑےٹورنامنٹوں میں علی گڑھ بڑا نمایاں رہتا ہے۔


علی گڑھ اور ادب تو لازم وملزوم ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چھوٹے موٹے مشاعرے تو سارا سال چلتے رہتے ہیں لیکن آل انڈیا مشاعرہ تو یادگار ہے۔ ان مشاعروں میں یہیں کے فارغ ہوئے شعراء، حسرت، ظفرعلیخان، جوہر، فانی، مجاز، شکیل، اختر انصاری، راز مراد آبادی، صبا اکبر آبادی، علی سردار جعفری، اخترالایمان، ماہر القادری، جاں نثار اختر، راہی معصوم رضا، معین احسن جذبی، سلام مچھلی شہری ، کیفی اعظمی اور نجانے کتنے نام تھے جو ان مشاعروں کو رونق بخشتے۔
علی گڑھ مسلمانان ہند کی آرزؤں کا مرکز تھا تو مسلمانوں نے اس سے محبت بھی ویسی ہی ٹوٹ کر کی۔ نواب میر عثمان علی خان نے ان دنوں پانچ لاکھ کی خطیر رقم عطیہ کی تو گرلز کالج کے بورڈنگ ہاؤس کے لئے نواب سلطان جہاں بیگم آف بھوپال نے اپنی دولت نچھاور کردی۔
علی گڑھ سے جڑا ہر نام بہت بڑا ہے۔ پاکستان میں ہی صدر ایوب سے لے کر مختار مسعود، مشتاق احمد یوسفی، زیڈ اے نظامی اور کتنے ہی نام ہیں جو علیگ ہونے کو فخر سمجھتے تھے۔

اور یہ دیکھیں کہ کتنے بڑے بڑے نام علی گڑھ کے شیخ الجامعہ رہے۔ سرضیاءالدین احمد، ڈاکٹر ذاکر حسین، سر راس مسعود، سر محمد علی خان آف محمودآباد، نواب محمد اسمعیٰل خان، سر شاہ محمد سلیمان، سیدنا طاہر سیف الدین، بدرالدین طیب جی، یہ چند نام ہیں جن سے میں واقف ہوں۔مجاز کو علی گڑھ سے خاص الفت تھی جو ان کے تحریر کردہ ترانہ علی گڑھ میں نظر آتی ہے۔،

یہ دشت جنوں دیوانوں کا، یہ بزم وفا پروانوں کی
یہ شہر طرب رومانوں کا، یہ خلد بریں ارمانوں کی

علی گڑھ مادر علمی ہی نہیں، گھر آنگن بھی ہے جہاں سے علم کی روایتی سند کے علاوہ اخوت اور رواداری کی، عظمت کی سند بھی لیکر نکلتے ہیں۔علی گڑھ باپ کا سایہ، ماں کی آغوش، بھائی کا بازؤے شمشیر زن۔۔۔علی گڑھ ایک تہذیب ، ایک روایت ایک طرز زندگی ہے۔۔علی گڑھ ایک قوم کی عظمت کا نشان۔

جو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گا
ہر جوئے رواں پر برسے گا، ہرکوہ گراں پر برسے گا
ہر سروسمن پر برسے گا، ہر دشت ودمن پر برسے گا
خود اپنے چمن پر برسے گا، غیروں کے چمن پر برسے گا
یہ ابر ہمیشہ برسے گا، یہ ابر ہمیشہ برسے گا، یہ ابر ہمیشہ برسے گا۔
برسے گا، برسے گا، برسے گا۔

 

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *