دیواروں سے باتیں کرنا۔۔۔شکور پٹھان

گڈو کے ہونٹ لٹکے ہوئے اور آنکھوں میں یہ موٹے موٹے آنسو تھے لیکن دادی ماں کے چہرے کی سختی میں ذرا بھی کمی نہ ہوتی تھی۔
گڈو غریب کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ دودن پہلے جو کام وہ اور ببلو مل کر بڑے مزے سے کرتے تھے آج اتنا برا کیوں ہوگیا اور وہی دادی ماں جو پرسوں تک اس کی ماں کو ڈانٹتی تھیں ۔۔” اے ہے دلہن اِتّا سا تو ہے۔ اسے کیا سمجھ، کرنے دو اسے ، پہلے ہی کون سے گل بوٹے کم ہیں تمہاری دیوار پر جو اس غریب کو منع کررہی ہو”
اور آج جب وہ رنگین پنسل لے کر دیوار کی طرف بڑھا تو یہ دادی ماں تھیں جنہوں نے انہیں جھٹکے سے کھینچ کر پرے دھکیل دیا” اے دیوانہ ہوا ہے۔۔ اِتّابڑا ہوگیا، عقل ہے کہ نہیں ؟ بھلا کوئی دیوار پہ لکھے ہے۔ اے دلہن تمہارے لونڈے کو عقل کب آئے گی؟ ”
گڈو بچارے کی سمجھ نہیں آتا کہ پرسوں سے اب تک وہ اتنا بڑا کیسے ہوگیا۔

بات یہ تھی کہ کل ہی گھر کی دیواروں پر سفیدی ہوئی تھی۔ آج سامان اور فرنیچر وغیرہ بھی اپنی اپنی جگہ لگ گیا تھا اور دیواریں جگمگانے لگی تھیں کہ ڈھائی سالہ گڈو حسب عادت رنگین پنسل لے کر دیوار پر لکیریں کھینچنے بڑھا تھا، یہ وہ مشغلہ تھا جو وہ اور ببلو مل کر روز انجام دیتے اور کوئی انہیں کچھ نہ کہتا کہ دیوار پر سالہا سال سے سفیدی نہیں ہوئی تھی۔ لیکن آج تو دادی ماں نے جیسے آنکھیں سر پر رکھ لی تھیں۔ گڈو ایک طرف پڑا بسورتا رہا لیکن دادی ماں کا نہ اماں کا دل پسیجا۔

اللہ بڑا کارساز ہے ۔ ایسے سارے گڈو، ببلو، منی اور چندا جنہیں بچپن میں دیواروں پر لکھنے کا شوق تھا، ان کے لئے ایک ایسی دیوار بنادی جس پر کیا چھوٹے کیا بڑے، بچے ،بوڑھے ، غریب،امیر، فرزانے، دیوانے سب صبح شام لکھتے رہتے ہیں اور کوئی دادی ماں اور کوئی اماں انہیں کچھ نہیں کہتیں۔
دیوارِ چین سے بھی شاید لمبی اس دیوار پر کہتے ہیں کہ ڈھائی ارب کے قریب مرد وزن اس دیوار سے لگے کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے ہیں۔ وہ صبح شام یاجوج اور ماجوج کی طرح اس دیوار کو چاٹتے رہتے ہیں اور اگلی صبح وہ دیوار وہیں کی وہیں موجود رہتی ہے۔

اور نجانے کس ستم ظریف نے اسے چہرہ کتاب یا “فیس بک “کا نام دے دیا ہے۔ یہ دیوار گریہ بھی ہے تو کسی کے لئے دیوار مناجات ہے۔کسی کے لئے یہ دیوار مہربانی ہے تو کوئی اسے گوبر یا اپلے تھاپنے والی دیوار بنائے رکھتا ہے۔ لوگ باگ اس کے سائے میں پناہ بھی لیتے ہیں تو اسی کی آڑ لے کر غیبت ودشنام کا بازار بھی بپا کئے رہتے ہیں۔
آپ کو دو تین سال قبل کی اپنی عدالت عظمی کی دیوار یاد ہوگی جہاں بچوں کے پوتڑے اور بڑوں کی شلواریں ٹنگی نظر آرہی تھیں۔ ہماری اس دیوار کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ یار لوگ یہاں بھی اپنے میلے کپڑے لٹکانے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔
کہتے ہیں کہ انسان سماجی جانور ہے۔ سماجی رابطےاور ابلاغ ( سوشل میڈیا) کی آج کل بے شمار شکلیں نکل آئی ہیں۔ وہ جو اپنے پڑوسی کو نہیں جانتے، محلے میں کسی کو سلام کرنا گناہ سمجھتے ہیں، اپنی گھروالی سے سیدھے منہ بات نہیں کرتے اور بچوں کے سوال کرنے پر انہیں جھڑکتے رہتے ہیں ، وہی واٹس اپ، ٹویٹر، انسٹا گرام اور فیس بک وغیرہ پر بڑے ملنسار بنے ہزاروں میل دور بسے کسی انجانے دوست سے رازونیاز کرتے نظر آئیں گے۔
مجھے سوشل میڈیا کے دوسرے ذرائع کا تو نہیں پتہ کہ میں صرف ‘ فیس بک ، کا ڈسا ہوا ہوں اور میری خواری اور بربادی کے لئے یہی کافی ہے۔ شروع شروع میں دوست اس لئے بنائے کہ دور دراز بیٹھے ہوئے ہم خیال لوگ میسر آگئے لیکن اب ہر روز ایسے لوگوں کے دوستی کی درخواستیں ملتی ہیں جنہیں دوسرے دوستوں کے حلقے میں شامل دیکھ کر اپنے دوستوں میں شامل تو کرلیتا ہوں لیکن یہ بس ایسے ہی ہیں جیسے ڈاک کے ٹکٹ   یا سکے جمع کرنا۔ بس دنیا کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ دیکھو اتنے سارے لوگ مجھے جانتے ہیں۔
پہلے کبھی یوں تھا کہ چلو ذرا اس دیوار کے سائے میں کچھ فرصت کے پل گذار لو اور اب ایسا ہے کہ اس دیوار کے پار اس جیتی جاگتی دنیا کو دیکھنے اور دنیا کے کام کرنے کو وقت نہیں ملتا۔ ایسے بھی دیکھے کہ صبح دفتر آئے، انٹرنیٹ آن کیا، ای میل دیکھے، فیس بک پر تبصرے کئے، اپنی جانب سے کچھ نئے ارشادات کئے اور گھڑی دیکھی تو پتہ چلا کہ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوچلا ہے۔

اور یہ فیس بیک دوستیاں جہاں رشتے بڑے مضبوط نظر آتے ہیں ،بہت سے جھوٹے اپنی ہی باتوں کو سچ سمجھنے لگتے ہیں، ہر کوئی بہترین زندگی جیتا نظر آتا ہے، لیکن چونکہ کوئی آپ کے لہجے کو ‘ سنتا’ نہیں ہے بعض اوقات سیدھی سی بات کا بتنگڑ بنتے بھی دیر نہیں لگتی کہ ہر کوئی ہر بات کو اپنے اپنے طریقے پر ہی سمجھتا ہے۔
فیس بک پر کسی کی عمر نظر نہیں آتی اور ایسے ایسے بد لحاظ لوگ بھی ملیں گے جو دوسرے کی عمر اور مرتبہ کو جانے بغیر بدزبانی کرتے نظر آئیں گے، لیکن ایسے بھی ہیں جو اپنے سفید بالوں کو دیکھے بغیرہرایرے غیرےبسے سینگ پھنسائے ملیں گے اور حسب توفیق بے عزت ہوتے ہیں۔ اس آو کھلی میں سر دیا تو یہ موسلے ان کا مقدر بجا طور پر بنتے ہیں۔

ہم فیس بکیوں نے یہ فرض جان رکھا ہے کہ دنیا کو ہر بات سے آگاہ رکھنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ آج کتنے بجے اٹھے، غسلخانے میں کتنی دیر لگائی، ناشتے میں کیا کھایا، بچّے نہ آج کون سی نئی بات کی ( یا کون سی نئی بدتمیزی کی) غرض ہر وہ بات جس سے کسی اور کو کوئی مطلب نہ ہو وہ دنیا کو بتانا فرض سمجھتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ کوئی خاتون بڑے چاؤ سے گھر کی بدنما ہانڈی کی تصویر لگائیں کہ آج ٹینڈے کا سالن پکایا، میری ماں بناتی تھیں ۔ بس پھر کیا ہے، سب سے پہلے مرد حضرات ٹینڈے کے بارے میں رطب اللسان ہونگے۔ خواتین اتنی آسانی سے دوسری خاتون کی تعریف ہضم نہیں کرپاتیں ، فورا دو سری خاتون کا تبصرہ آئے گا ہمارے ہاں اس میں کھیرے بھی پڑتے ہیں۔ اب کہیں دور دراز بیٹھے کوئی بزرگ بتائیں گے کہ ان کے ہاں کھیروں کی کھیر بڑی زبردست بنتی ہے۔ بس پھر چل سو چل صبح سے شام تک ٹینڈوں اور کھیروں پر مناظرہ جاری رہے گا۔
اب تو یوں ہے کہ اگر کوئی محترمہ زچگی سے فارغ ہوئی ہیں اور نرس نومولود کو نہلا دھلا کر اور تولیے میں لپیٹ کر ماں کو دکھانےلائے تو ماں پہلے بچے کی تصویر لے کر فیس بک پر ” اپ لوڈ” کرے گی پھر بچے کو دیکھے گی۔ خدا وہ دن نہ لائے کہ زچگی کے عمل کو بھی اپ لوڈ کرنے کی نوبت آجائے۔
اور وہ بیچارے جنہیں نہ اب ان کی بیوی پوچھتی ہے، نہ بچے منہ لگاتے ہیں فیس بک سے چمٹے اپنے شاعرانہ ذوق اور رومان پروری کی تشہیر کرتے نظر آئیں گے۔ ادھر کسی خاتون نے اپنی نئی تصویر لگائی ، ادھر انہوں نے کوئی بیاض کھولی اور اس تصویر کے کسی خاص رخ یعنی، آنکھوں، ہونٹوں، بالوں یا لباس پر کوئی شعر دے مارا۔ ہم نے تو یہ بھی دیکھا کہ پوتی کی عمر کی کسی بچی نے بڑے چاؤ سے اپنی نئی نیل پالش، بالوں کے نئے اسٹائل یا میاں کے دلائے ہوئے نئے سوٹ کی تصویر لگائی ادھر ان کے دادا کی عمر کے بڑے میاں تیار بیٹھے ہونگے کہ کوئی پھڑکتا ہوا جملہ کہیں۔
وہ جن کی گھر والی پیار بھرے دو بولوں کے لئے مدتوں سے ترستی ہے کسی اور کی گھروالی کے بارے میں فلمی ہیرو کے سے جملے بولتے ملیں گے۔ اور میرا تجربہ ہے ان میں سے اکثریت ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے بوڑھوں کی ملے گی۔ اور یہ آگ یک طرفہ نہیں لگی ہوتی۔ دوسری طرف سے بھی کچھ ایسی ہی لگاوٹ والے جواب ملتے ہیں پھر یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور یار لوگ لیلی مجنوں کے اس راز ونیاز سے بقدر لطف اندوز ہوتے ہیں۔

جس طرح لندن کے ہائیڈ پارک میں ایک گوشہ ہے جہاں کوئی بھی جاکر بر سرعام کسی بھی موضوع پر اپنی بھڑاس نکال سکتا ہے، فیس بک پر بھی لوگ باگ اپنے اپنے نظریات، مقاصد، اور اعمال وافکار کا پرچار کرتے ملیں گے۔ کوئی حضرت آپ کی آخرت سدھارنے کا ذمہ لیں گے اور کچھ نصیحتیں، دعائیں اور اقوال لکھ کر آپ کو قسم دینگے کہ اگر سچے مسلمان ہیں تو اسے مزید آگے پھیلائیں ورنہ تمہارا حشر شیطان کے ساتھ ہوگا۔
ادھر کوئی صاحب یا صاحبہ دنیا بھر کے ٹوٹکے اور نسخے بانٹتے ملیں گہ اس دعوے کہ ساتھ کہ یہ فلاں موذی بیماری کا شرطیہ علاج ہے۔ گوکہ دنیا بھر میں مختلف طبّی خدمات کے لئے خاص قابلیت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اجازت نامہ یا لائسنس کے بغیر کوئی طبی مشورہ دینا غیر قانونی سمجھا جاتا ہے، فیس بک کے مطب پر بلا روک ٹوک یہ سلسلہ رفاہ عامہ کے لئے جاری رہتا ہے۔
کچھ لوگ ہوں گے جو آپ کی زبان و بیان کی اصلاح کے درپے ہونگے۔ ان کے نزدیک موضوع کی اہمیت ہرگز نہیں ہوگی اور صرف اتنی فکر رہے گی کہ جو کچھ کہا ہے اس میں شین قاف کی غلطی کہاں سے پکڑی جاسکتی ہے۔ایسے لوگوں کے لئے انگریزی میں ایک اصطلاح ہے ” پارٹی اسپائلر” یعنی پارٹی خراب کرنے والے یا اسے ہماری پنجابی میں کہتے ہیں چاچا خوامخواہ ۔
مثلاً آپ نے بڑی محنت، دل سوزی اور تحقیق کے بعد ملک میں آبی ذخائر کی کمی کے بارے میں کوئی مضمون لکھا ہے اور غلطی سے ایک جملہ لکھ گئے کہ ” اب اگر اس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو خشک سالی کا اژدہا ہماری زراعت کو نگل لے گا”.
لوگ باگ آپ کی محنت کی داد دے رہے ہونگے یا اس مسئلے پر سنجیدگی سے اپنی رائے دے رہےہونگے۔ لیکن ہمارے فیس بکی بزرجمہر کا تبصرہ کچھ یوں آئے گا۔ ” اژدہا غلط ہے اصل لفظ ازدہا ہے” ادھر دوسرے کوئی صاحب اس بات کو لے اڑیں گے کہ ہماری طرف اسے اجگر کہتے ہیں ، تیسرے صاحب فرمائیں گے کہ میرے پاس فیروز اللغات میں یہ لفظ اژگر ہے۔ اور یہ فارغ البال اصلاح کار دودن اس پر الجھے رہیں گے کہ اصل لفظ کیا اور اس دوران آپ کی محنت اور تحقیق کی ایسی کی تیسی ہوچکی ہوگی اور کسی کو یاد نہیں رہے گا کہ اصل موضوع کیا تھا۔

فیس بکیوں یا سوشل میڈیا کے رسیا لوگوں کی اپنی ایک خیالی Make believe دنیا ہوتی ہے۔ لوگوں کے تبصرے، انگوٹھوں کے خیر مقدمی نشان اور دوستوں کی تعداد انہیں ان کی مقبولیت اور محبوبیت کا یقین دلاتی ہے۔ ایسے ہی ہمارے ایک خودساختہ جلاوطن رہنما کے دوستوں کی تعداد ایک ملئین سے تجاوز کر گئی تو انہوں نے وطن واپسی کا یہ سوچ کر ارادہ کیا کہ جب وہ ملک پہنچیں گے تو عوام کا جم غفیر ان کے استقبال کو ہوائی اڈے پر موجود ہوگا۔ لیکن ان کا پانی یوں اترا کہ ائرپورٹ پر کام کرنے والے عملے، ان کے اپنے گھر والے اور دس پندرہ قریبی دوستوں کے سوا کوئی نظر نہیں آیا۔
کسی کی پوسٹ پر اظہار پسندیدگی کے لئے کچھ اشارے ہیں جنہیں عام طور پر بدتمیزی جانا جاتا ہے لیکن فیس بک پر اس سے احباب کی پسندیدگی یا ناپسندیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اگر بہت سارے انگوٹھے آسمان کی جانب رخ کئے ہوں تو یہ پسندیدگی کی علامت ہے۔ سرخ دل کا نشان بنا ہے تو محبوبیت کی نشانی ہے۔ مرد حضرات عموماً اس سے محروم رہتے ہیں یہ زیادہ تر صنف نازک کے حصے میں آتا ہے۔ ایک نشان قہقہے لگاتا ہوئے چہرے کا ہے جس سے بعض اوقات سمجھ نہیں آتا کہ آپ کی بات سے محظوظ ہوئے ہیں یا آپ کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ ایک نشان حیرت ظاہر کرتی شکل کا ہوتاہے، جس قدر یہ نشان لگانے والا غیر یقینی کا شکار ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ یہ نشان وصول کرنے والا پریشان ہوتا ہے کہ اس میں حیرت کی ایسی کیا بات تھی۔
کچھ لوگ انگوٹھا دکھا کر گویا کہ رسید دیتے ہیں کہ ہم نے  اسے دیکھ لیا ہے لیکن یہ نشان جسے کہ پسندیدگی کی علامت سمجھا جاتا ہے اس وقت ایک مخمصے کا شکار کردیتا ہے جب آپ کوئی بری خبر شئیر کرتے ہیں۔ مثلاً آپ خبر لگاتے ہیں کہ مشہور مذہبی اسکالر صابر صداقت حسین انتقال کر گئے تو بے شمار انگوٹھوں کے نشان سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ اس خبر پر پسندیدگی کا اظہار ہوا ہے یا یہ بطور رسید ہے۔
کچھ چیزیں جو ہم فیس بک پر کرتے ہیں اگر عام زندگی میں کریں تو لوگ ہماری ذہنی صحت پر شک کریں، مثلاً کہیں چار آدمی جنہیں آپ بالکل نہیں جانتے کوئی بات کررہے ہیں اور آپ ان کے درمیان پہنچ کر کسی کی بات سن کر انگوٹھا دکھا کر تعریف کریں تو وہ اسے حیرت سے دیکھیں گے لیکن ہم دن رات فیس بک پر اجنبیوں کو انگوٹھے دکھاتے رہتے ہیں ۔
بہرحال یہ فیس بک یا دیگر سماجی ذرائع ابلاغ Social Media کی ہجو ہرگز نہیں۔ یہ واقعی دنیا کو قریب لاتا ہے، مجھ سے بے زبانوں کو زبان دیتا ہے، دل کی بھڑاس نکالنے یا اپنے دکھوں کا رونا رونے کے لئے کندھا فراہم کرتا ہے۔ بس یہ ایک ایسا چولہا ہے جس پر ایک ذائقہ دار ہانڈی بھی پکائی جاسکتی ہے تو بد مزہ کھانا بھی پکایا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے سائنس کی ترقی سے جو مثبت نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں ہم اس میں سے اکثر کو فضولیات کے لئے استعمال کرتے ہیں، واٹس اپ، ٹویٹر اور فیس بک کے لامتناہی فوائد ہیں یہ اور بات ہے کہ ہم اسے دوسروں کا جی جلانے، مذاق بنانے، لطیفے اور نصیحتیں کرنے کے علاوہ کم ہی برتتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ میری بات پر کتنے انگوٹھے اور دل نظر آتے ہیں۔

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *