Salma Awan کی تحاریر

بلتستان کی آئینی حیثیت اور پھول شہزادی۔۔سلمیٰ اعوان

یہ روٹی اتنی کالی اور بے ذائقہ سی۔کیوں؟یہ آٹا کہاں سے آرہا ہے۔بہو بولی شاید روسی یا یوکرائنی گندم ہے۔مجھے تو اِن دنوں کاموں کے اژدہام میں اخبارات کے مطالعہ کی بھی مہلت نہ ملی تھی۔”ہائیں“ آنکھیں پھٹیں۔اِس زرعی ملک←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(آخری قسط34)۔۔۔سلمیٰ اعوان

امریکہ کے اِس بڑے اور صنعتی شہر شکاگو کے لوگوں نے مقامی اخبارات میں چھپی چوتھے درجے کی اِس سرخی پر سرسری سی نظر ڈالی ہوگی اور پھر دوسری خبروں کی طرف متوجہ ہوگئے ہوں گے کہ طیاروں کا کریش←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط33)۔۔۔سلمیٰ اعوان

”کِس سے ملنا ہے آپ کو؟“ کہنا پُوچھنا تو یہی تھا۔پر دروازے کے پٹ کو ہاتھوں میں پکڑے اور اُسے دیکھتے اُس کی زبان جیسے کچھ بولنے سے انکاری ہوگئی تھی۔ہاں البتہ آنکھوں نے کُھل کُھلا کر اس کا اظہار←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط32)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ماں نے غسل خانے سے چلّا کر کہا تھا۔ ”ڈوری ہوگئی ہوکیا؟کب سے شور مچا رہی ہوں کہ کپڑے دے جاؤ پر تمہارے حواس جانے کہاں ٹکے ہیں۔بات کی کوئی سُنوائی ہی نہیں۔ وہ گھبرائی ہوئی، پھولتے ہاتھ پاؤں سے←  مزید پڑھیے

ناگورنو کراباخNagorno Karabakh کی حسین شہزادی کیا کہتی ہے۔۔ سلمیٰ اعوان

چیختی دھاڑتی ناگورنو کراباخNagorno Karabakh پر حملے کی خبر نے جیسے مجھے آناً فاناً کچھ یاد دلایا تھا۔ہوش اڑا دینے والا وہ حسین چہرہ جس نے مجھے مبہوت کردیا تھا اور جو لمحہ یاداشتوں میں ہمیشہ کے لیے قید ہوگیا←  مزید پڑھیے

شارلٹ برونٹے = اے آر خاتون۔۔۔سلمیٰ اعوان

شارلٹ برونٹے = اے آر خاتون جین آئیر،شرلی، ویلیٹ=شمع،تصویر،افشاں شارلٹ برونٹے کے ناول بے شک جین آئیرہو،شرلی یا ویلیٹ ہوں سب انگریزی ادب میں کلاسیک کاجو مقام حاصل کرچکے ہیں۔اُس سے انگریزی ادب پڑھنے والا کوئی فردانکار نہیں کرسکتا۔شارلٹ برونٹے←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط31)۔۔۔سلمیٰ اعوان

سلور گرے بالوں والے اُس اجنبی ٹیکسی ڈرائیور نے یہ قطعاً جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اُڑی اُڑی رنگت والی وہ لڑکی جو حددرجہ ہراساں اور خوف زدہ سی نظر آتی ہے جس کا پہناوا اُسے برصغیر کے کسی←  مزید پڑھیے

راجند ر سنگھ بیدی کے آخری ماہ وسال۔۔سلمیٰ اعوان

راجندر سنگھ بیدی اُردو ادب کا ایک بے مثال نام جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسا حقیقت پسند افسانہ نگار ہے جس کے ہاں قوت مشاہدہ اور قوت متخیلہ دونوں جواہر اپنی بھرپور توانائی اور←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط30)۔۔۔سلمیٰ اعوان

دونوں وقت ملتے تھے جب وہ برآمد ے میں آئی اور کُرسی پر بیٹھی۔ا ُس وقت پروائی ہوائیں اُس کے لان میں اُگے کیلوں اور پپیتے کے پتوں پر دھیرے دھیرے بہہ رہی تھیں۔نیلا شفاف آسمان قدرے سیاہی مائل نظر←  مزید پڑھیے

اور اگر میں تب ریپ ہوجاتی تو۔۔سلمیٰ اعوان

موٹر وے گینگ ریپ حادثے کو ہفتہ بھر سے زیادہ ہونے کو آیا ہے پر دل سے ویرانی اور طبیعت پرچھایا ڈپریشن ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔تین بچوں کی ماں جو فرانس جیسے آزاد اور ترقی یافتہ ماحول میں←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط29)۔۔۔سلمیٰ اعوان

میں یہ شادی ضرور ایٹنڈ کروں گی۔ اُس نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ آرام کرسُی میں دھنسے رحمان نے اُسے مسکرا کر دیکھا اور کہا۔ اگر میں اجازت نہ دوں تو……… اُس نے نٹنگ مشین روک کر بڑی شوخی←  مزید پڑھیے

میرے درد کا کوئی درماں ہو۔۔سلمیٰ اعوان

بیل بجی تھی۔40 کے پیٹے میں ایک سنجیدہ سی لڑکی نما خاتون نے دروازہ کھولا۔ دروازے پر ادھیڑ عمر کے ایک اے ایس آئی کے ساتھ ہیڈ کا نسٹیبل کو کھڑے دیکھ کر گبھرا ئے ہوئے تاثر اور سوالیہ نظروں←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط28)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ایک ڈر پوک دبّو اور سہمے سہمے چہرے والی بیوی کی خواہش کبھی کبھار اُس کے سینے میں اُس وقت مچلتی تھی جب طاہرہ زندہ تھی اور کلب میں برج کھیلتے۔پینے پلانے یا اپنی کسی گرل فرینڈکے ساتھ کسی ہوٹل←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط27)۔۔۔سلمیٰ اعوان

بچوں نے اُس کا ناک میں دم کردیا تھا۔جناح ایونیو کی دُکانوں سے ڈھیر سارے کھلونے خرید کر بھی وہ مطمین نہیں ہوئے تھے۔ اب وہ بیت المکرم کی طرف جانا چاہتے تھے۔خوقان وہاں سے ماؤتھ آرگن خریدنا چاہتا تھا۔وہ←  مزید پڑھیے

بی بی زینب کے حضور حاضری اور میرے رونے۔۔سلمیٰ اعوان

دمشق میں پہلا دن، پہلا کام، پہلا نشہ مزار اقدس بی بی زینب پر حاضری کے سوا کیا ہو سکتا تھا۔ہوٹل سے نکلتے ہی طلائی گنبدوں کی چمک نے آنکھوں کو خیرہ کیا۔ روضہ مبارک میں داخل ہونے سے قبل←  مزید پڑھیے

فلسطینیوں کے گھائل کرتے لفظ۔۔ سلمیٰ اعوان

کیسا ستم ہے یہ بھی کہ جب غیروں سے کچھ دلاسا اوراشک شوئی کی امید پیدا ہوئی تو اپنوں نے تیر برسانے شروع کردیئے۔یہ وقت بھی آیا کہ یورپی یونین اسرائیل کو تنبیہ کرتی ہے۔رک جاؤ بس اب بہت ہوگیا۔بہتیرا←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط26)۔۔۔سلمیٰ اعوان

رحمان کے دونوں بچے چھٹیاں گذارنے گھر آرہے تھے۔رات کو کھانا کھاتے ہوئے اُس نے کہا۔ ”بی ہومز کی پرنسپل کا خط آج آفس آیا تھا۔بچے درگا پُوجا کی چھٹیاں گذارنے کل دو بجے آرہے ہیں۔لیکن ایک مسئلہ درمیان میں←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط25)۔۔۔سلمیٰ اعوان

چیزوں میں جاذبیت اور کشش شایداس وقت تک رہتی ہے۔جب تک کہ اُنکا حصول دسترس سے باہر ہوتا ہے۔پر جونہی وہ مل جائیں۔روزمرہ زندگی میں اُنکا عمل دخل شروع ہوجائے۔توپھر اُن کی کشش ختم ہوجاتی ہے۔اہمیت کم ہو جاتی ہے۔سب←  مزید پڑھیے

بورس، اوسپ مینڈل اور سٹالن کی ہجو۔۔سلمیٰ اعوان

انتونینا روسی جرنلسٹ پاکستانی نژاد انجنیئر منصور کی بیوی ہے۔ ماسکو جاتے ہوئے منصور مجھے جہاز میں ملا تھا۔دونوں میاں بیوی سے دوستی ہوگئی۔انتونینا پاکستان کو اپنا دوسرا گھر مانتے ہوئے اس کے کلچر اور لوگوں سے لے کر اس←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط24)۔۔۔سلمیٰ اعوان

شاید تمہیں یادہو، شاید کیا یقیناً یاد ہوگا۔ آپا مختاراں کی شادی میں دیہاتی عورتیں لوک گیت گا رہی تھیں۔ سفید سوت کے بان سے بنی ہوئی چارپائی پر بیٹھی میں یہ لوک گیت سنتے ہوئے سوچ رہی تھی اور←  مزید پڑھیے