گھروندا ریت کا(قسط31)۔۔۔سلمیٰ اعوان

SHOPPING
SHOPPING

سلور گرے بالوں والے اُس اجنبی ٹیکسی ڈرائیور نے یہ قطعاً جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اُڑی اُڑی رنگت والی وہ لڑکی جو حددرجہ ہراساں اور خوف زدہ سی نظر آتی ہے جس کا پہناوا اُسے برصغیر کے کسی ملک کا ظاہر کرتا ہے اس کی مدد کی محتاج تو نہیں۔
سینٹ جانز ورڈ۔
اُس نے کہا۔اور شیشے سے باہر دیکھنے لگا۔
آواز میں بے نیازی اور انتہائی لاتعلقی کا سا عنصر نمایاں تھا۔شیشے سے باہر دیکھنے کی حرکت بھی اِسی احساس کی غمازّ تھی۔
اُس کی آنکھوں میں پانی اُتر آیا تھا۔بیگ کو ہاتھ میں پکڑتے ہوئے اس نے دروازہ کھولا۔اس کا شکریہ ادا کیا۔بل کی ادائیگی کی اور سڑک پر آگئی۔
صبح صادق کا اُجالا پھیل رہا تھا۔آسمان صاف تھا اور ستارے چمک رہے تھے۔یہ لندن سے اُس کی پہلی ملاقات تھی۔وہ دُھند کہراور بادلوں میں ڈوبا ہوا نظر نہیں آیا تھا۔
راستے میں جابجا کھلے خوبصورت پھُولوں نے اِک ذرا اُس کی توجہ کوکھینچا تھا۔آنکھوں میں کھُلنے والے رنگوں کے پھُول جن کے نام اُسے نہیں آتے تھے پر جو بے اختیارنظروں کو لُبھا رہے تھے۔ عالیشان فلیٹ جن کے رنگ وروغن راہگیروں کو متوجہ کرتے تھے۔
کشادہ اور خوبصورت سڑک پر چلتی گئی۔اپنی دھُن میں آگے بڑھتی گئی۔سوچوں میں کھوئی ہوئی۔ کسی سے رُک کر کچھ پُوچھنے کی ضرورت مند بھی نہ ہوئی۔ چال میں شکستگی تھی اور جیسے وہ اپنا وُجود گھسیٹ سی رہی ہے بڑا واضح تھا۔
اخبار بیچتے نوعمر لڑکے بھاگے جارہے تھے۔دودھ تقسیم کرتی گاڑی بھی زن سے اس کے پاس سے گذرگئی۔دھوئیں کے بگولوں کا نہ اڑنا اُس کے لئے تعجب کا باعث تھا۔ایسی خوشبوؤں کو سونگھنے کی بچپن سے عادت جو تھی۔
روشنی خاصی پھیل گئی تھی۔تھکاوٹ بھی بہت زیادہ محسوس ہونے لگی تھی۔ایک ریسٹوران میں بیٹھے ایک بُوڑھے کو اُس نے ایڈریس دکھایا۔ایڈریس پڑھ کر وہ بولا۔
آپ تو آگے آگئی ہیں۔مطلوبہ جگہ پیچھے ہے۔
اور وہ پھر چلی.جائے مقام آئی۔لفٹ میں داخل ہوئی۔چوتھی منزل کے لئے بٹن دبایا۔باہر نکلی۔ایک خوبصورت راہداری جس کی اگلی طرف بالکونی تھی پر نظر پڑی۔مختلف فلیٹز کے دروازے بند تھے۔
بائیں ہاتھ اُس کی بہن کے نام کی تختی تھی۔ڈاکٹر تہمینہ شمشیرعلی۔اُس نے زیر لب پڑھا۔اُس کی دواور ساتھیوں کے نام تھے۔
میری بہن جس کے سامنے میں اعتراف جُرم کرنے حاضر ہورہی ہوں۔وہ ساکت کھڑی تھی۔خود سے پوچھتی تھی۔
“کیا میں اعتراف جُرم کرنے حاضر ہوئی ہوں؟یا قلبی سکون حاصل کرنامیرا مقصد ہے۔لیکن اتنا میں جان گئی ہوں کہ یہ مجھے یہاں بھی نہیں ملے گا۔”
اُس کے دائیں ہاتھ کی پہلی دواُنگلیاں حُروف پر پھرنے لگیں۔ہاتھ پھیلتا گیا۔پھر اُس نے کال بیل کو اپنے حلقے میں لے لیا۔اُس کا سردروازے سے ٹکا ہو تھا۔آنکھیں بند تھیں۔تین دن سے اناج کا ایک دانہ اس کے اندر نہیں گیا تھا۔سفر میں بھی وہ نڈھال گردن لڑھکائے سیٹ پر نیم دراز رہی۔خوشکل سیٹورڈ اور خوبصورت ایرہوسٹس بھی آتے جاتے اِس پژمردہ سی لڑکی کا نوٹس لئے بغیر نہ رہ سکے تھے۔دونوں نے ایک دوسرے سے کہا تھا۔
“کیسی پیاری لڑکی ہے؟پتہ نہیں کیا بات ہے؟کیوں اتنی پریشان ہے؟
دونوں نے اُس پر خصوصی توجہ دی تھی۔ناشتہ اور کھانا اُس کے سامنے سے ویسے ہی اٹھانا پڑا تھا۔بس وہ وقفوں سے اُسے انناس کا رس پلاتے رہے۔ساتھ بیٹھی سوئس خاتون فکر مندرہی۔تھوڑی تھوڑی دیر بعد اُس کا احوال پُوچھنانہ بھولتی۔کبھی کبھی اس کے ماتھے اور رخساروں پر بھی ہاتھ پھیرتی۔
جہاز بیروت اور جینوا کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر ٹھہرا۔یونان کے تاریخی شہر ایتھنز اور سوئزرلینڈ کی خوبصورت وادیوں اور پہاڑیوں کو لوگوں نے خوش ہو کر دیکھااور گو وہ کھڑکی کے ساتھ بیٹھی تھی پر بلندی سے ان نظاروں کی ایک ہلکی سی جھلک دیکھنے کے لئے بھی اُس نے سر سیدھا نہ کیا۔
اور لندن ایرپورٹ پر جہاز سے اُترنے والی وہ آخری مسافر تھی۔ایرہوسٹس نے ایک بار پھرکہا۔
“ہمیں افسوس ہے کہ ہم آپ کی پریشانی نہ جان سکے اور نہ اسے کم کرنے میں آپ کے مددگار ثابت ہوئے۔پر آپ کو اتنا غمگین اور افسردہ دیکھ کر ہم خود بھی پریشان رہے۔
اُس کے ہونٹوں پر بیمار سی مسکراہٹ دوڑی تھی۔اُس نے اُس کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے صرف اتنا کہا۔
”کچھ غم صرف اپنے لئے ہوتے ہیں۔“
اور پھر کال بیل بجی۔گاؤن میں لپٹی لمبے بالوں کو پشت پر بکھیرے اُس کی بہن نے دروازہ کھولا۔اُس پر نظر پڑتے ہی اُس کی آنکھیں پھٹاؤ کی حد تک پھیل گئی تھیں۔
”نجمی تم۔“
ہکلاتے ہوئے بس اتنا ہی تو کہ سکی۔
پھر اُس کے دونوں بازو پھیلے اور ان بازوؤں میں وہ سمائی۔اُس کے سینے سے اس کا چمٹاؤ کچھ ایسا تھا جیسے کوئی بچھڑا ہوا بچہ اپنی ماں کے گلے لگتاہے۔اُس کے ہاتھوں نے اُس کی کمر کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا اور وہ زار زار روتی تھی۔
اُس کا وُجود ہچکیوں سے لرز رہا تھا۔اُس کی اپنی آنکھیں آنسو بہارہی تھیں۔وہ اس کے رخساروں پر بالوں پر بوسوں کی بوچھاڑ کر رہی تھی۔
پھر اُسے اپنی بانہوں میں سمیٹے وہ اندر لے آئی۔بیڈروم میں اُسے بستر پر لٹاتے اور اُس پر کمبل ڈالتے ہوئے اُس نے اُس کے آنسووں کو صاف کیا۔اُس کا ماتھا پھر چوما۔اُس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ دوقطرے پھرگرے جواُس کے سینے پر پھیلے گاؤن میں ہی کہیں جذب ہوگئے۔
”آرام کرو۔میں تمہارے لئے ناشتہ بنالاؤں۔“
پورٹر دودھ کی بوتلیں جانے کہاں رکھ گیا تھا۔وہ اُس سے بہت تنگ تھی۔ روز کوئی نئی جگہ ڈھونڈھ لیتا۔فون کیا۔تھوڑی سی ڈانٹ دی اور کچن میں چلی گئی۔
”کم عمری میں اسے گھر سے دُور بھیج کر ہم نے غلطی کی۔“
مگر جب وہ سینکے ہوئے تو سوں کو پلیٹ میں رکھ رہی تھی۔اُس نے اپنے آپ سے کہا تھا۔
”ہم لوگ بھی تو کنوئیں کے مینڈکوں کی طرح پرورش پاتے ہیں۔کھُلی ہوا میں سانس لیتے ہی حالت غیر ہوجاتی ہے۔“
اور جب وہ اس کے لئے کافی بنارہی تھی۔اُس کے چہرے پر فکر مندی کی علامات محسوس ہو رہی تھیں۔اُس نے ایک بار پھر اپنے آپ سے پوچھا تھا۔
یہ کیسے آئی ہے؟اپنی غلطی پر شرمسار ہے۔میرے خط نے اُسے احساس دلایا ہے۔خود وہ اُلجھ سی گئی تھی۔کوئی بھی اندازہ لگانا اُس وقت ممکن نہ تھا۔
اُس نے زبردستی اُسے ناشتہ کروایا۔پھر آرام کرنے کا کہتی ہوئی وہ خود تیار ہونے کے لئے چلی گئی۔آج اُس کا اپریشن ڈے تھا۔وہ اسپتال سے غیر حاضر نہیں ہوسکتی تھی۔
اور ایسی ابتر حالت میں بھی اُس نے بڑی بہن کو سر سے پاؤں تک دیکھا تھا۔وہ عین اس کی نظروں کے سامنے کھڑی تھی۔تنگ مہری کی گرم شلوار کوٹ اور گرم سکارف میں لپٹی۔
”یہ لندن میں رہ کر بھی گنوار ہی ہے۔کوئی نفاست اور دیدہ زیبی ہے اس کے لباس میں۔“
اُسے ایسا ضرور سوچنا اور خود سے کہنا چاہیے تھا کہ جس زندگی سے وہ روشناس ہوئی تھی۔اس میں فیشن اور کپڑے کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔اور یہ دونوں اُس کی کمزوری تھیں۔رحمان نے نے دنیا جہاں کے بہترین ملبوسات اُس کے سامنے ڈھیر کردیئے تھے۔اعلیٰ درجے کے کاسمیٹکس سے میزیں بھر دیں تھیں۔مہنگی اور نفیس جیولری سے اُس کو سجا دیا تھا۔ڈاکٹر تہمینہ شمشیر علی جیسی سادھو یہ سب کیا جانے۔لاکھ بھی وہ گذشتہ تین سالوں سے لندن میں رہ رہی تھی۔
وہ اس کے پاس بیٹھ گئی تھی۔اس کے لہجے میں ممتا کی مٹھاس تھی۔اُس نے کہا تھا۔
”سو جانا۔سفر کی تھکاوٹ دُور ہوجائے گی۔ضرورت پڑے تو مجھے فون کر لینا۔میں تمہاری خیریت دریافت کرتی رہوں گی۔دل اُکتائے تو بالکونی میں کھڑی ہوجانا۔وہاں کھڑے ہونا اور لوگوں کو دیکھنا لُطف دیتا ہے۔انسان کچھ دیر کے لئے سب کچھ بھول جاتا ہے۔ہرقسم کی پریشانی اور تفکّر سے آزاد ہو جاتا ہے۔آج تو یوں بھی بڑا مبارک دن ہے۔موسم خوشگوار اور نکھرا ہوا ہے۔ایسے دن تو لندن کی زندگی میں عید جیسی گہماگہمی اور خوشی لیکر آتے ہیں۔“
ہاں اگر کچھ کھانے کو جی چاہے تو کچن میں چلی جانا۔سبھی کچھ موجود ہے۔
پھر وہ اس پر جُھکی اس نے اُس کی پیشانی پر پیار کیا اور بولی۔
میں آج چھٹی کر لیتی پر میرا آپریشن ڈے ہے۔
آج کل جینٹ اور مارتھا دونوں سکاٹ لینڈ گئی ہوئی ہیں۔ وہ ہوتیں تو تم انکی کمپنی یقینا انجوائے کرتیں۔
وہ چُپ چاپ بہن کی باتیں سُنتی رہی۔اس کے چلے جانے کے بعد اس نے آنکھیں موند لیں اور اپنے آپ سے بڑبڑائی۔
”سو جاؤں۔اللہ کیسے سوجاؤں؟پُر سکون اور گہری نیندیں میرے مقدر سے کب کی خارج ہوگئی ہیں؟میں ذہنی الجھنوں کے ایسے بھنوروں میں پھنس گئی ہوں جن سے جیتے جی نکلنانا ممکن ہوگیا ہے۔“
وہ دیر تک کروٹ لئے لیٹی رہی۔غنودگی کا ہلکا سا غبار اُس پرچھا گیا اس نے رحمان کو دیکھا۔دونوں بچے دیکھے جواُس کے گلے میں بانہیں ڈالے اُسے اپنے درمیان ہونے والے جھگڑوں کی تفصیل بتا کر انصاف چاہ رہے تھے۔گھرکاغربی برآمدہ بھی دکھائی دیا جہاں نوکر شام کی چائے کے لئے سامان سجا رہا تھا۔
وہ تڑپ کر یوں اٹھی جیسے بچھو ڈنگ ماردے۔دو آنسو ٹپ سے گود میں رکھے ہاتھوں پر گرے اور پھر ہتھیلی کی بیرونی سطح بھیگتی چلی گئی۔
”پرودگار میں نے کونسا جُرم کیا تھا۔جس کی سزا تو مجھے اس انداز میں دے رہا ہے۔میری آنکھوں سے آنسو خشک نہیں ہوتے اور میرے دل سے دردنہیں ختم ہوتا۔“
وہ اٹھ کر باہر آگئی۔کمرہ اُسے کاٹ کھانے لگا تھا۔ریلنگ کے سہارے کھڑے ہوکر اُس نے دیکھا تھا۔
”دنیا آباد ہے اپنے اپنے روز مرہ کے کاموں میں اُلجھی ہوئی ہے۔سامنے فلیٹ میں دو بچے کھیل رہے تھے۔اُس کے بچوں کی عمر جتنے،من موہنی سی ایک عورت ماتھے پر بندیا سجائے کاہی رنگی ساڑھی میں لپٹی انہیں بلانے آئی تھی۔ایسے ہی جیسے وہ اپنے خوبصورت سے گھر میں یونہی بنی سنوری کبھی کبھی انہیں بلانے کے لئے لان میں آیا کرتی تھی۔
دفعتاً عورت کی نگاہ اوپر اٹھی۔بالکونی میں ایک اجنبی شکل پر نظر پڑتے ہی اُس نے دونوں ہاتھوں کو جوڑ دیا تھا۔ جواباً اس نے بھی ویساہی کیا اور ہلکی سی ہنسی اپنے لبوں پر بکھیر دی۔
“بہت خوش اخلاق اور ملنسار معلوم ہوتی ہے۔وگرنہ مصروف شہروں خاص کر لندن جیسے بڑے شہرکے لوگوں کو اتنی فرصت کہاں کہ وہ اتنی انسان دوستی کا مظاہرہ کرتے پھریں۔
نیچے سرخ رنگ کی ایک ڈبل ڈیکر سکون سے گذررہی تھی۔تنگ مہری کی پتلونیں اور چمڑے کی جیکٹوں میں نوخیز لڑکیاں تیز تیز قدم اٹھاتی سڑک پار کررہی تھیں۔سینٹ میری اسکول کی بس ایک فلیٹ کے سامنے رُکی اور اُس میں سے تین خوبصورت گل گوتھنے سے بچے اُترے۔
بچے،گھر اُس نے آنکھیں بند کر کے سر ریلنگ سے ٹکا لیا۔
”میرا ماضی میرے سائے کی طرح تعاقب میں رہے گا۔راستے بدل لوں اندھیروں سے روشنیوں میں آجاؤں مگر جہاں بھی جاؤں گی یہ میرے ساتھ چلے گا۔روشنیاں خود بخود اندھیروں میں بدلتی جائیں گی اور میں اُن میں بھٹکتی رہ جاؤں گی۔a
”رحمان تم سے بچھڑ کر میں جی سکوں گی کیا؟“
وقتی نفرت اور رنجش اور غلط فہمیوں کا وہ آتش فشاں جوکو اولڈ ڈھاکہ والیوں کی باتوں سے لاوے کی طرح پھٹ پڑا تھا۔اِس دُوری نے اُس پر برف کی سلیں رکھ دیں۔اب پچھتاوا شروع ہوچکا تھا۔اِس نکھری سنہری دُھوپ میں سینٹ جانزورڈ کے اس فلیٹ کی بالکونی میں کھڑے اُس نے اپنے گھر کو یاد کیا تھا۔وہ گھر جس کی وہ رانی تھی۔خوبصورت بچوں کو دیکھ کراُسے وہ بچے یاد آئے تھے۔جنہیں اُس نے جنا تو نہیں تھا پر جنہیں اُس نے ماں جیسا پیار دیا تھا۔سڑک پر چلتے پھرتے مردوں نے اُسے رحمان کی یاد دلائی تھی وہ رحمان جس نے اُسے ٹوٹ کر پیار کیا تھا۔
اور اُس کے دل ودماغ نے بیک وقت یہ کہا تھا۔
”رحمان ایسی گھناؤنی حرکت کا مرتکب کبھی نہیں ہوسکتا۔یہ سب اولڈ ڈھاکہ والیوں کی سازش ہے۔“
وہ کمرے میں دوبارہ آکر لیٹ گئی۔اُس کا اندر کٹنے لگا تھا۔یوں جیسے کوئی تیز دھار کے آلے سے اُنکی بوٹیاں کر رہا ہو۔
”اللہ میں کہاں جاؤں،کیا کروں۔تونے وقت کے کِس مضطرب لمحے میں مجھے تخلیق کیا تھا۔“
ٹھیک دوبجے اُس کی بہن آگئی۔آتے ہی اُس نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔کچھ کھایا؟نیند آئی۔طبیعت کیسی ہے؟
یہ جاننے پر کہ نہ اُس نے کچھ کھایا اور نہ وہ سوئی۔اُس نے فکر مندی سے اُسے دیکھتے ہوئے صرف اتنا کہا۔
”پریشانیوں کو یوں اعصاب پر سوار نہیں کرتے۔چلو اٹھو نماز پڑھو۔خدا سے سکون قلب مانگو۔“
مگر اس کی طبیعت عجیب سی ہو رہی تھی۔اس نے کہا۔
”دو دن سے سفر میں ہوں۔نہا دھو کر پڑھوں گی۔“
مزید کچھ کہنے کی بجائے وہ ظہر کی نمازکی ادائیگی میں مصروف ہوگئی۔اسے یوں خضوع وخشوع سے عبادت کرتے دیکھ کر اُس نے اپنے آپ سے کہاتھا۔
”میرا اتنا بڑا جرم اِس کی نظروں میں قابل معافی کیونکر ہوسکتا ہے؟جبکہ یہ راہبوں جیسی زندگی گذرارہی ہے۔میں اسے لاکھ سمجھانے کی کوشش کروں پر یہ کہاں سمجھے گی؟
اور جب وہ نماز سے فارغ ہوئی اُس نے کہا۔
آؤ نجمی کھانے کے لئے چلیں۔

دونوں بہنیں گاڑی میں بیٹھیں اور قریبی ریستوارن میں آگئیں اور جب ویٹر نے ان کے سامنے کافی رکھی۔ڈاکٹر تہمینہ نے کپ اٹھا کر کہا۔۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING
SALE OFFER

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *