گھروندا ریت کا(قسط24)۔۔۔سلمیٰ اعوان

SHOPPING
SHOPPING

شاید تمہیں یادہو، شاید کیا یقیناً یاد ہوگا۔ آپا مختاراں کی شادی میں دیہاتی عورتیں لوک گیت گا رہی تھیں۔ سفید سوت کے بان سے بنی ہوئی چارپائی پر بیٹھی میں یہ لوک گیت سنتے ہوئے سوچ رہی تھی اور اپنے آپ سے سوال کرتی جا رہی تھی۔
”اِن گیتوں میں سوز ہے یا گانے والیوں کی آواز غم انگیز ہے۔ دل کیسا ڈوبا جاتا ہے؟“
اُس وقت میرا یہ بھی دل چاہا تھا کہ میں اُن کے پاس جا کر اُن کی منّت کروں۔ کہوں کہ ازراہِ کرم وہ یہ گیت نہ گائیں۔ پر میں نے سوچا کہ میں یہ بات کیسے کہہ سکتی ہوں کہ وہاں موجود ڈھیر سارے لوگ جو کالے،سفید، سرخ اور نیلے سوت کی رنگین پایوں والی چارپائیوں پر بیٹھے اُن سے لطف اندوز ہو رہے ہیں کیا کہیں گے؟
بلکہ میں تو یہ بھی دیکھتی تھی کہ بعض معمر عورتیں جھُومتی ہوئیں اپنی بے سُری آوازوں کو اُن میں ملانے کی کوششوں میں جی جان سے مگن تھیں۔ تو پھر میرے لئیے یہ بہتر تھا کہ مجھے اگر کوئی چیز ناپسند ہے تو میں اُٹھ کر یہاں سے کہیں اور چلی جاؤں۔ پر میں چاہتے ہوئے بھی کہیں نہ جا سکی۔ وہیں بیٹھی اِسے سُنتی رہی۔
عین اُس وقت تم بھاگتی ہوئی میرے پاس آئی تھی اور تم نے پوچھا تھا۔
”آپا یہ کیا گا رہی ہیں؟“
”مجھے ابھی بھی یاد ہے کبھی تمہارے پیازی ہونٹوں پر اپنی اُنگلیاں پھیرتے ہوئے اور کبھی تمہاری سرخ اوڑھنی کو تمہارے سر پر سجاتے ہوئے میں نے تمہیں بتایا تھا کہ یہ کہتی ہیں۔“
”لعنت ہے اِن بیٹیوں پر اُن کے جنم پر، اُن کی پیدائش پر، جنہوں نے اپنے اُونچے والدین کا نام بدنام کیا اور سو بار آفرین ہے اُن پر اور اُن کے جنم پر، اُن کی پیدائش پر جنہوں نے اپنے غریب والدین کو بڑا بنایا۔
تم نے مجھ سے بہت سارے سوالات بھی کئے تھے۔ اِن سب کے جواب میں میں نے کہاتھا جیسے ہماری نجمی بہت لائق فائق ہو کر، بُہت اچھی بیٹی بن کر ابا کانام روشن کرے گی۔

تمہیں اُس گیت کے بول تو بھول چکے ہوں گے پر میں یاد دلاتی ہوں۔ لو سنو۔
نج جو منڈریاں نی جہناں خان نوائے
جم جم جمّن نی جنہاں خان سدائے
تمہارا خط مجھے پرسوں ملا تھا۔ دن تو خیر منحوس نہ تھا بلکہ اگر یہ کہوں کہ مقامی لوگوں کے بقول بُہت مُبارک تھا تو غلط نہ ہوگا۔ کئی دن کے گاڑھے بادلوں کے بعد کہیں دُھوپ نکلی تھی۔ میرا اُس دن اپریشن ڈے تھا۔ ہر آپریشن کے دن میں صبح صلوۃ التسبیح ضرور پڑھتی ہوں اور اللہ تعالیٰ سے خصوصی مدد کی دُعا مانگتی ہوں۔ تین خطرناک آپریشن کئے جو کامیاب رہے۔ سر فریڈرک اور دیگر سینئر ڈاکٹروں نے بڑی حوصلہ افزائی کی۔ ابا کا خط ہسپتال کے پتے پر ہی ملا۔ اُن کی خیریت کا پڑھ کر دل کو سکون ہوا اور جب میں ایک مصرُوف دن گذار کر ہوسٹل آئی تھی۔ میری پیار ی جاپانی دوست جینٹ ٹوٹوری Tottori جو کہ بحیرہ جاپان کا ایک ساحلی شہر ہے میں کوئی دوہفتے اپنے گھر گذار کر آئی تھی۔ بُہت خوش تھی۔ چہرے پر تازگی تھی۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔
”تو اماں کے پاس بیٹھ کر مزے مزے کے کھانے کھائے ہیں۔ تمہارا چہرہ سب بتا رہا ہے۔“ جینٹ کھِلکھلا کر ہنسی تھی۔
مجھے معلوم تھا۔ اُس کی بیوہ ماں ہماری ماؤں کی طرح اُس سے کتنی جُڑی ہوئی تھی۔ ہنستی ہوئی وہ مجھے اپنے کمرے میں لے گئی جہاں حسبِ عادت بولتے ہوئے ”تم تو بُہت مصرُوف رہی ہوگی۔ پڑھابھی خوب ہوگا۔ پڑھا کو توتم بُہت ہو۔ اپنی ما ں سے میں نے تمہارے بارے میں ڈھیروں ڈھیر باتیں کی ہیں۔ وہ بھی تمہاری دوست بن گئی ہے جیسے وہ میری ہے۔“
اُس نے وارڈ روب کھولی تھی۔ ایک پیکٹ نکالاتھا۔ اُسے میرے بازؤوں میں تھمایا۔میں نے تعجب سے بھری ہوئی ایک نظر پیکٹ اور دوسری اُس پر ڈالی تھی۔ وہ ہنستی آنکھوں کے ساتھ کہتی تھی کہ یہ تحفہ اُس کی ماں نے میرے لئے بھیجا ہے۔ میں بُہت خوش ہوئی تھی۔ اُس کا شکریہ ادا کیا۔ اپنے کمرے میں آئی۔ پیکٹ کھولا تو ایک قیمتی گاؤن اور جاپانی کمونو دیکھنے کو ملے۔ میں نے خود سے کہا تھا۔
”لو یہ تام جھام مجھے کہاں پسند ہیں؟ دفعتاً مجھے تمہارا خیال آیا سوچا کہ تمہیں بھیج دوں گی۔ تم ایسی چیزوں کی خاصی شوقین ہو۔“
اور اُسی دن مجھے تمہارا خط ملاتھا۔ ایک بار پڑھا۔ دماغ چکرایا۔ دوسری بار پڑھا۔
”ارے تم نے کہیں مجھے اپریل فول تو نہیں بنایا۔“ میں نے اپنے آپ سے کہا تھا۔
مگر یہ اپریل فول والے دن کب تھے؟ یہ دن تو ایشیا کے لوگوں کے لئے بڑے Realistic سے ہیں۔
میں اپنے کمرے سے نکل کر بالکونی میں آکھڑی ہوئی۔ دن بہت خوبصورت تھا۔ پر میرے لئے یہ خوبصورتی ایک ایسے کرب میں بدل گئی تھی کہ جس نے مجھے بے کل کر دیا تھا۔
یہ نہیں کہ میں تمہیں سمجھتی نہیں۔ تمہارے اندر اپنے ماحول سے متعلق باغیانہ خیالات اپنی غربت پر جلنے کڑھنے کے جذبات ہمیشہ سے میرے علم میں ہیں۔ میں نے اِسے ہمیشہ تمہارا بچپن،جذباتی پن،چھوٹی ہونے اور ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا جیسے احساسات کا حامل خیال کیا۔یہ سوچا کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ذہنی پختگی آتی جائے گی۔میں دقیانوسی بھی نہیں پر اپنی روایات سے ضرور جڑی ہوئی ہیں۔
اور یہ جڑنا مجھے پسند ہے۔
اِن دنوں ذہنی اذیت کی کِن کربناک سوچوں کے بھنور میں پھنسی ہوئی ہوں۔ اُن کی تیزی اور تندی کی ہلکی سی جھلک بھی تمہیں نہیں دکھا سکتی۔ بس ایک خواہش باربار میرے سینے میں مچلتی ہے کہ کاش تم میرے سامنے ہوتیں تو تم سے پوچھتی کہ تم نے، ایک بار سوچا کہ تمہارا بوڑھا باپ اولاد کا مسقبل سنوارنے کے لئے کتنے سالوں سے جسم پر فوجی وردی پہنے گھر سے دور پہاڑوں میں دھکے کھا رہا ہے۔ تمہیں اپنی ماں کے پیوند لگے کپڑوں سے لہسن اور پیاز کی بُو بھول گئی ہے یقیناََ۔ تم نے خوبصورت کپڑوں اور خوشبوؤں سے اپنی سوچوں کا سودا کر لیاہے نا۔ اُس کے چہر ے پر چھائے تفکرات کے بادل بھی تمہیں یاد نہ ہوں گے اور ہاں تم یہ بات بھی فراموش کر بیٹھی ہوں گی کہ وہ کام کرتے کرتے جب اپنے کُھردرے اور بد رنگے ہاتھوں کو اُٹھا کر کہتی ہے۔
اللہ تو میرے بچوں کو نیک رکھیو اور اُنہیں کامیاب کیجیؤ۔
تم مجھے بتاؤ کہ تم نے اُس عورت اور تیزی سے سفید ہوتے سرو الے اُس مرد کو اِس قابل چھوڑا کہ وہ برادری میں سر اُونچا کر سکیں۔ یہی سُنیں گے نا۔ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ لڑکیوں کوزیادہ پڑھانا اچھا نہیں۔ دیکھ لیا نا نتیجہ۔
کتنا اچھا ہوتا اگر تم گاؤں کے اُس چھپڑمیں جہاں تم اپنے بچپن میں ایک بار ڈوب گئی تھی اور تمہیں ڈیڑھ گھنٹے کی کوشش بسیار کے بعد نکالا گیا تھا۔ اُسی وقت مرجاتیں۔ تمہیں ہوا کیا؟ پہلے تعلیم تو مکمل ہونے دیتیں۔ ایک بچوں والا شخص جو یقینا عمر میں تم سے کہیں بڑا ہو گا۔ تم نے اپنی زندگی کو اتنا سستا اور ارزاں کر دیا۔
شادیاں تو ہونی ہیں۔ کنوار کوٹھے منزل پر پہنچ جائیں ایک کمرے میں زندگی گانے والوں کو ایک اچھا گھر اور مقام تو دے لیں۔اُس فرض سے عہدہ بر آتو ہوجائیں جو اچھی اور صالح اولاد کی صورت ہمارے کندھوں پر دھرا ہے۔
اُس کے جانے کے بعد اُس نے کھولا۔پڑھا اور آنسوؤں کے اِس سمندر میں گری جس میں غوطے کھاتے ہوئے اُسے رحمٰن نی شام کو آفس سے آنے کے بعد نکالا۔
تمہیں اپنی بہن کو کچھ لکھنے سے پہلے مجھ سے مشورہ کر نا چاہیے تھا۔دیکھو نجمی میں تمہارے کچھ بتائے بغیر جانتا ہوں کہ تم احساس جرم کی کِس آگ میں جل رہی ہو۔ تم نے میرے لئے جو کچھ کیا میں اُس کے لئے تمہار ااحسان مند ہوں۔ وہ خاموش ہوگیا تھا۔دیر بعد پھر بولا تھا۔
نجمی میں تو یہ جان ہی نہ سکا کہ تم کب میرے دل کی وہ دھڑکن بن گئی تھی جو اگر خاموش ہو جائے تو سانسوں کی زنجیر کا سلسلہ ٹو ٹ جاتا ہے۔

SHOPPING

جاری ہےsa

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *