مسجد عمربن خطاب، اسلامی تاریخ کی پہلی مینار والی مسجد

انسانی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ میناروں کی تعمیر کا مقصد جہازوں، قافلوں اور بیڑوں کے لیے راستہ دکھانے کے لیے اور عبادت گاہوں کی پہچان اور منادی کے لئے، اور آباد شہر کی پہچان کو ظاہر کرتا تھا، اسلامی ادوار میں بھی مسجد کے ساتھ مینار کی تعمیر دراصل اسی تصور سے کی گئی تھی کہ کسی بلند مقام سے لوگوں کو نماز کے لیے اذان کے ذریعے بلایا جا سکے۔ علاوہ ازیں اوقات کار کا تعین مینار کے سائے کےذریعے کیا جاتا تھا، حالیہ ادوار میں مینار سے اذان کی منادی کا رواج تقریبا ًختم ہو چکا ہے۔

اسلام کی تاریخ میں عبادت کی منادی کے لئے چودہ سو سال قبل نبی صلى الله عليه وسلم کے دور میں مدینہ منورہ میں پہلی مرتبہ اذان دی تھی۔ ابتدا میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ مسجد نبوی کے قریب ترین گھر کی اونچی چھت پر چڑھ کر اذان دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ اموی خلیفہ الوليد بن عبد الملك کا دور میں انہوں نے مدینہ منورہ کے لیے اپنے گورنر عمر بن عبدالعزیز ؒ کو ہدایت کی کہ مسجد نبوی کی توسیع کا کام کیا جائے۔
اس توسیع کے دوران ہی مسجد نبوی میں پہلی بار 4 میناروں کی تعمیر ہوئی، جو مسجد کے ہر ایک کونے میں تھے۔ یہ مسجد نبوی کے لیے تعمیر ہونے والے پہلے مینار تھے۔ آج کے دور میں مینار ہر مساجد کی پہچان ہیں۔

مگر اسلام کی تاریخ میں مسجد نبوی وہ پہلی مسجد نہیں تھی جس میں مینار بنا تھا بلکہ اسلامی تاریخ کا پہلا مینار خلیفہ دوئم سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر آج سے قریب چودہ سو سال قبل سرزمین حجاز (حالیہ سعودی عرب) کی الجوف کے علاقے دومۃ الجندل میں ایک مسجد کی تعمیر میں بنایا گیا تھا۔ اس مسجد کا شمار اسلام کی تاریخی مساجد میں ہوتا ہے، اور یہ مسجد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے ہی منسوب ہے، اسے مسجد دومتہ الجندل بھی کہا جاتا ہے، جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ بیت المقدس کے سفر کی روانگی یا فتح ہوجانے کے بعد وہاں سے واپس آ رہے تهے تو اس مقام پر انہوں نے قیام کیا تھا اور اس مسجد کی تعمیر شروع کروائی تھی۔

تاریخ کی  روایات میں اختلاف ہے کہ یہ مسجد حضرت عمر کے بیت المقدس کے سفر پر روانہ ہونے کے وقت یا واپسی پر بنائی گئی تھی۔ مگر یہ تاریخ اسلام کی پہلی مسجد تھی جس میں پہلی بار مینار بنایا گیا تھا اور دومۃ الجندل میں قائم یہ مینار اسلام کی اولین یادگاروں کے ساتھ ساتھ اس دور کے عرب فن تعمیر کا ایک شاہکار بھی ہے۔

اس مسجد کا مینار جنوب مغربی سمت میں قائم کیا گیا جو دیوار قبلہ کی طرف تھوڑا سا مڑا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔ مینار کی بنیاد مربع شکل میں ہے جس کے اضلاع کی لمبائی تین میٹر ہے۔ اس کی دیواریں پتھر کی ہیں۔ زمین سے بلندی کی طرف یہ مخروطی شکل میں ہے اور اس کی بلندی 13 میٹر ہے۔ مسجد دومۃ الجندل اور مینار کی تعمیر میں چونکہ الجندل پتھر استعمال کیے گئے تھے۔ یہ پتھر قدرتی طور پر  نہایت سخت ہیں۔ مینار میں مجموعی طور پر پانچ سطحیں بنائی گئی ہیں۔ مسجد کے اندر چار منزلیں ہیں۔ یہ مینار مسجد کی چھت سے باہر نکلنے کے راستے پر بنایا گیا۔ گزرتے وقت کے ساتھ مینار کے اندر سے پتھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے ہیں۔ اس لیے آج اس مینار کے اندر سے اوپر چڑھنا مشکل ہے۔

مسجد دومۃ الجندل اور مینار کا ڈیزائن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی فن تعمیر کی  طرز پر ہے۔ الجوف کی مسجد عمر بن خطاب مدینہ منورہ میں تعمیر کی گئی پہلی مسجد کی طرز پر ہی ہے۔ مسجد کی تعمیر کے لیے ایک جنگی درخت اور نالی دار لکڑی کے علاوہ کھجور کے تنے بھی استعمال کیے گئے تھے، اور چھت پر مٹی کا گارا ڈالا گیا تھا، عہد نبوی میں عرب میں مساجد اور گھروں کی   اسی طرح تعمیر  کی جاتی تھی۔

مسجد دومۃ الجندل مستطیل شکل میں بنائی گئی جس کی شرق اور غرب کی لمبائی 32.5 میٹر اور چوڑائی 18 میٹر تھی۔ اندر سے یہ قبلہ کی گیلری کے ڈیزائن کے مطابق ہے جس کا ایک محراب اور منبر، صحن، مسجد کا صحن اور نمازگاہ، مسجد کا عقبی حصہ شدید سردی میں تنہائی میں عبادت اور نماز کے لیے مختص کیا جاتا تھا۔ مسجد کی تعمیر میں پتهروں کو تراش کر استعمال کیا گیا ہے خطبہ جمعہ کے لیے امام کے مصلے کے ساتھ ہی منبر بنایا گیا تھا جبکہ اس کے داخلی دروازے پہ آج بھی وہ قدیمی تختی موجود ہے جس پر مسجد کا نام تحریر ہے۔

سعودی ماہر آثار قدیمہ اور الجوف کے قومی ورثہ اور سیاحت کے مطابق 1404ھ سے مسجد دومۃ الجندل اور اس سے ملحقہ مینار قومی ورثے کا حصہ ہیں۔ محکمہ سیاحت اور قومی ورثے کا حصہ بننے کے بعد مسجد دومۃ الجندل کی صفائی اور مرمت کا کام زیادہ بہتر طریقے سے کیا گیا ہے۔ اس مسجد میں آج بھی نماز ادا کی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں محکمہ سیاحت کے چیئرمین شہزادہ سلطان بن سلمان کےحکم پر مسجد کی چھت کی مرمت کی گئی تھی، اس کی پرانی طرز تعمیر کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے آج کے دور میں نماز کے قابل بنایا گیا ہے۔ اس مسجد کا شمار سعودی عرب کی قدیم ترین مساجد میں ہوتا ہے۔ یہ اسلامی تاریخ کی پہلی مسجد ہے جس میں مینار قائم کیا گیا تھا۔

دومۃ الجندل مدینہ منورہ اور اردن کی سرحد کے درمیان میں واقع ہے۔ دومتہ الجندل کی شہرت کی وجہ وہاں کا مشہور قلعہ مارد بھی ہے، جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں وہاں کے مسیحی حاکم اکیدر نے مدینے پرحملہ کرنے کے لیے ایک لشکر تیار کیا تھا۔ اس کی اطلاع ملنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہزار مسلمانوں کے ساتھ دومۃ الجندل سے ایک دن کی مسافت پر پہنچے تو پتا چلا کہ دشمن کی چراگاہ یہاں سے قریب ہے۔ حضور اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت سے مسلمانوں نے مویشیوں پر قبضہ کر لیا۔ جب یہ خبر حاکم دومۃ الجندل کو پہنچی تو وہ گھبرا کرفرار ہو گیا۔ اس طرح یہ معرکہ بغیر لڑائی کے ہی فتح سے ہمکنار ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں چند دن و قیام کے بعد مدینے واپس تشریف لے آئے بعد میں یہ سفر غزوہ دومۃ الجندل کے نام سے مشہور ہوا تھا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *